مطلقه كي زيرپرورش بچوں كا كتنا نفقه والد پر لازم هوگا؟

بحث وتحقیق
سوال
طلاق كے بعد مطلقه كي زير پرورش بچوں كا نفقه اس كے والد پر كتنا لازم ہوگا ، واضح رہے كه اولاد ماں كے ساتھ سعودی عرب ميں ره رہي ہے ، جبكه والد ہندوستان ميں ہے ، وہاں ايك بچه پر ماہانه 500 ریال كا كم سے كم خرچ آرہا ہے  ، جبكه والد كي آمدنی اور اس كی مالی حالت كے لحاظ سے يه رقم بہت زياده ہے ، تو اس صورت ميں والد پر كتنا نفقه لازم كيا جائے گا ۔
جواب:
والد پر اولاد كا نفقه اتنا لازم ہوتا ہے جتنے سے ان كي ضرورتوں كي تكميل ہوجائے ،  علامه كاسانی عليه الرحمة لكھتے ہيں: وأما بيان مقدار الواجب من هذه النفقة فنفقة الأقارب مقدرة بالكفاية بلا خلاف (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : كتاب النفقة ، فصل في بيان مقدار الواجب)
ليكن اولا د كي ضرورت كي تكميل كے بقدر نفقه كے لزوم ميں يه بھی شرعا ملحوظ ہے كه نفقه والد كی مالی حالت كے مطابق ہی لازم ہوگا  ، اس سے زائد نہيں – چناں چه  الله عزوجل كا ارشاد ہے : وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ( سورة البقرة : 233 )
اس آيت ميں والد پر نفقه وغيره كے لزوم ميں معروف اور تكليف مالا يطاق كي قيد ہے ، اس كي وضاحت كرتے ہوئے علامه رازي عليه الرحمة لكھتے ہيں: المراد من الآية أن أب هذا الصبي لا يكلف الإنفاق عليه وعلى أمه ( في العدة ) إلا ما تتسع له قدرته –   ثم بين في النفقة أنها على قدر إمكان الرجل بقوله : { لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مّن سَعَتِهِ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا ءاتَاهُ الله لاَ يُكَلّفُ الله نَفْساً إِلاَّ مَا ءاتاها }
علامه خازن عليه الرحمة اس آيت كی تشريح ميں لكھتے ہيں : والمعنى أن أبا الولد لا يكلف في الإنفاق عليه وعلى أمه إلاّ قدر ما تتسع به مقدرته – ( تفسير لباب التاويل )
علامه ابن عربي عليه الرحمه لكھتے ہيں : قوله تعالى: {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف}: دليل على وجوب نفقة الولد على الوالد لعجزه وضعفه ؛ فجعل الله تعالى ذلك على يدي أبيه لقرابته منه وشفقته عليه ____  قوله تعالى: {بالمعروف}: يعني على قدر حال الأب من السعة والضيق، كما قال تعالى في سورة الطلاق: {لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله}
ان تفسيری عبارتوں سے معلوم ہوا كه طلاق كے بعد اولاد يا  دوران عدت اس كي مطلقه ماں كے نفقه ميں اولاد كے والد كي مالي حالت  اور اس كي آمدنی ہی كي رعايت كي جائے گي  ، اس كي والده كے معيار زندگي اور اس كے اخراجات وغيره كو اولاد كے نفقه كے تعين ميں معيار نهيں بنايا جائے گا ،  بلكه والد كي آمدني كے لحاظ سے بچوں كا جو اوسط خرچ ہوتا ہے وه اس پر لازم كيا جائے گا –  مثلا اتني آمدني والے لوگ  اپنے بچوں كي تعليم وتربيت ميں عموما جتنا خرچ كرتے هيں ، اتنا اس پر لاز م كيا جائے گا – اس سے زياده كا اس سے مطالبه قرآنی آيت كے خلاف  ہے اور اس مضرت ميں داخل ہے جس سے خود اس آيت ميں منع كيا گيا ہے ، الله عزوجل كا ارشاد ہے : لَاتُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ( سورة البقرة : 233 )
اس لئے نفقه كي ايسی مقدار متعين كرنا جو والد كي مالي حالت كے مطابق نه ہو شرعا ظلم اور غلط ہے  – واضح رہے كه اس ميں دادا يا والد كے ديگر نسبي رشته دار وں كي مالی آمدنی كو معيار نہيں بنايا جائے گا ، كيونكه نفقه كا تعلق والد سے ہے كسی اور سے نہيں –  اسی لئے قرآن ميں وعلي المولود له  كا لفظ استعمال كيا ہے-  والله اعلم وعلمه اتم
حررہ
محمد عارف باللہ القاسمی
Login Required to interact.