سائنس کی حقیقت اور سائنٹزم کا فکری مغالطہ
سائنس لاطینی لفظ Scientia سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے "جاننا”۔ اصطلاحی مفہوم میں سائنس فطرت کے مطالعے کا ایک مخصوص طریقہ کار (Methodology) ہے۔ سائنس کی بنیاد مشاہدے (Observation)، تجربے (Experiment) اور تکرار (Repetition) پر ہے۔ سائنس کا تعلق "طبعی کائنات” (Physical World) سے ہے۔ یہ مادی دنیا کے حقائق، قوانینِ فطرت اور "کیسے” (How) کے سوالات کا جواب دیتی ہے۔درحقیقت سائنس علم حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، یہ بذاتِ خود کوئی عقیدہ نہیں ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ پانی کا فارمولا کیا ہے یا کششِ ثقل کیسے کام کرتی ہے، وغیرہ وغیرہ
دوسری طرف "سائنٹزم” سائنس نہیں ہے، بلکہ سائنس کے بارے میں ایک فلسفیانہ دعویٰ ہے، یہ وہ نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ "حقیقی علم صرف وہی ہے جو سائنسی طریقے سے ثابت ہو سکے۔”سائنٹزم کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ سائنس ہی حقیقت تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے اور جو چیز سائنس کے دائرے (تجربہ گاہ) میں نہیں آ سکتی (جیسے اخلاقیات، جمالیات، مابعد الطبیعیات، یا خدا کا وجود)، وہ یا تو سرے سے موجود نہیں یا پھر وہ "علم” کہلانے کی مستحق نہیں۔
