دشمنوں کی سازش کاشکار نہ ہوں!

شمع فروزاں

(پہلی قسط)

شمع فروزاں

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی

صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

 

اس وقت ایران اورامریکہ واسرائیل کے درمیان خون ریز جنگ جاری ہے، یہ پوری طرح امریکہ اور اسرائیل کے ظلم وبربریت ،جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے، دنیا میں نیوکلیر حملہ کے دوسنگین واقعات جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہوئے ہیں، جس میں لاکھوں لوگوں کی جان چلی گئی، بے شمار لوگ زخمی ہوئے، کئی شہر خاک وخون میں مل گئے،یہ امریکہ کا کارنامہ تھا، اس وقت بھی امریکہ کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ یا دوسرے نمبر پر نیوکلیر ہتھیار ہیں، جنگ ہی اس کے لیے سب سے بڑا ذریعہ معاش ہے،اس شرپسند ملک نے اب تک چارسو جنگیں لڑی ہیں، اس کی دو سواڑتالیس سالہ تاریخ میں بمشکل بیس سال ایسے گزرے ہیں، جس میں وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں تھا(کانگریشنل ریسرچ سروس کی تحقیق)،امریکہ جنگ کرنے کے ساتھ دوسروں کو آپس میں لڑانے اور ان کو ہتھیار بیچنے کاکام بھی بہت مستعدی سے کرتاہے، موجودہ دور میں اس کی خاص توجہ خلیجی ملکوں کی طرف ہے، کیونکہ ان ملکوں کی زمین میںبھی اورسمندر میں بھی دولت کا بے پناہ خزانہ موجود ہے، اوراس کے لیے اس نے اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کو استعمال کرنے کا بھرپور انتظام کیاہے،اس کے پیچھے ایک خفیہ جذبہ اسلام دشمنی کا بھی ہے، اگرچہ عام طورپر بہت ہی خفیہ سازش کے ساتھ مسلمانوں کےخلاف عمل کیاجاتاہے؛لیکن کبھی کبھی یہ سچائی ان کی زبان پر بھی آجاتی ہے۔

اس وقت امریکہ اوراسرائیل نے خود ایران پر حملہ کیاہے، انہوں نے سراسر بین اقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرکے یہ ظالمانہ قدم اٹھایاہے،یہ کھلاہوا راز ہے کہ اسرائیل نیوکلیر عزائم رکھتاہے، غیرمعلنہ نیوکلیر ترقی کے راستہ پر گامزن ہے، اس نے کبھی واضح طورپر یہ اعلان نہیں کیاکہ وہ نیو کلیر ہتھیار نہیں بنارہاہے، اورنہ اس نے اس سے دور رہنے کا وعدہ کیا؛لیکن اس پر امریکہ کی طرف سے کوئی دبائو نہیں؛بلکہ ہرطرح اس کی مدد کی جاتی ہے، ؛لیکن ایران جس نے نہ نیوکلیر تجربہ کیا، وہ صاف طورپر وعدہ کرتاہے کہ وہ جنگی مقاصد کے لیے نیوکلیر ہتھیار کا استعمال نہیں کرے گا؛بلکہ پرامن مقاصد کے لیے ان کا استعمال کرے گا، اس کو حملہ کا نشانہ بنایاجارہاہے، دنیا کے انصاف پسند لوگ ایران پر ہونے والی زیادتی کو محسوس کررہے ہیں؛مگر خوف اور لالچ نے ان کی زبانوں کو بند کررکھاہے۔

اس وقت ضرورت ہے کہ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام ایک زبان اور ایک دل ہوکر ایران کے ساتھ کھڑے ہوں اور امریکہ واسرائیل کی مخالفت کریں؛مگر اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں میں اورعالم اسلام میں اختلاف بھڑکانے کیلئے شیعہ سنی لڑائی پیداکرنے اور اس کو بڑھانے کی کوشش کی ہے، اورافسوس کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دینی علوم سےآراستہ لوگ بھی اس سازش کا شکار ہورہے ہیں، صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے دونوں گروہ اہل سنت اوراہل تشیع صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، بیشتر مسلم ممالک میں جہاں اہل سنت کی اکثریت ہے، وہیں ایک قابل لحاظ تعداد شیعہ حضرات کی بھی ہے،کہاجاتاہے کہ خود سعودی عرب میں بیس فیصد شیعہ آبادی ہے، مدینہ منورہ میں بھی شیعہ حضرات کی اچھی خاصی آبادی ہے، بعض ممالک جہاں شیعوں کی اکثریت ہے، وہاں بڑی تعداد میں اہل سنت بھی آباد ہیں، خود ایران کے صوبہ زاہدان میں غالب آبادی اہل سنت کی ہے، کہاجاتاہے کہ تہران میں بیس فیصد اہل سنت ہیں، عراق میں دونوں طبقوں کی آبادی قریب قریب برابر ہے، یمن میں اہل تشیع کے فرقہ زیدیہ بڑی تعداد میں ہیں، پڑوسی ملک پاکستان میں غالباً دس فیصد شیعہ ہیں، روس سے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں میں اہل سنت کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کی بڑی آبادی ہے، بلکہ آذربائیجان میں تو شیعہ اکثریت ہے،ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ دونوں گروہ ہمیشہ سے ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں، لکھنؤ اورحیدرآباد میں شیعہ بھائیوں کی آبادی اچھی خاصی ہے؛لیکن اکثرشہروں میں اہل سنت اکثریت کے ساتھ شیعہ اقلیت میں ہیں،حلقہ دیوبند کے سرخیل حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے وطن نانوتہ میں بھی شیعہ حضرات قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں، غرض کہ عالمی اور ملکی سطح پر بھی مغرب سے مشرق تک ہر جگہ اہل سنت اوراہل تشیع دونوں آباد ہیں، سیاسی ،تجارتی، اورسماجی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کررہتے ہیں ، ایک دوسرے کے قائم کیے ہوئے تعلیمی اداروں اور خدمت خلق کے مراکزسے استفادہ کرتے ہیں، حد تویہ ہے کہ شدت پسند افغانستان میں بھی جو علاقہ ایران سے متصل ہے، وہاں شیعہ حضرات کی اکثریت ہے، اور وہ اپنی پوری مسلکی پہچان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

اوریہ کوئی سودوسوسال کی بات نہیں ہے؛بلکہ زمانۂ قدیم سے ہی دونوں طبقے فکرو نظرکے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، اب یہی دیکھیے کہ بخاری شریف جو ہم اہل سنت کےنزدیک حدیث کا سب سے معتبر مجموعہ ہے، اس میں ستر کے قریب ایسے راوی ہیں، جن کے بارے میں شیعہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، ان میں بعض تو وہ ہیںکہ جن کو پکا شیعہ یاغالی شیعہ قراردیاگیاہے، جیسے:عبیداللہ بن موسی(سیر اعلام النبلاء ،۹،ص:۵۵۳)امام ابوحاتم ان کے بارے میں کہتے ہیں :وہ ثقہ تھے ؛مگر انتہائی پکے شیعہ(محترقا فی التشیع)تھے، اسی طرح عباد بن یعقوب ،امام بخاریؒ نے کتاب التوحید میں ان سے روایت لی ہے، ان کے بارے میں مشہور محدث ابن حبانؒ کا بیان ہے کہ وہ نہ صرف شیعہ تھے؛بلکہ شیعت کے داعی تھے(تہذیب التہذیب،۵؍۹۵)اہل سنت محدثین نے فطر بن خلیفہ سے روایت لی ہے، جن کو امام احمدؒ نے ثقہ قرار دیاہے، اورامام یحییٰ بن معین نے پکا شیعہ قراردیاہے،(میزان الاعتدال :۳؍۳۶۳) ایسے ہی عبدالملک کوفی کی روایت امام بخاری اورامام مسلم دونوں نے لی ہے، اہل سنت کے ایک بڑے امام فقہ سفیان ثوریؒنے ان کو شیعہ اورابن عدی نے پکا شیعہ قراردیاہے، (تقریب التہذیب، نمبر :۴۱۶۵) کوفہ کے ایک بڑے عالم عدی بن ثابت تھے جو کوفہ کی مسجد کے امام وخطیب بھی تھے، اہل سنت محدثین نے عام طورپر ان سے روایت کی ہے(سیر اعلام النبلاء:۵؍۱۰۵)

دوسری طرف اہل سنت کے بہت سے علما کی روایتیں شیعہ کتب میں لی گئی ہیں، جیسے قاضی حفص بن غیاث ،یہ ہارون رشید کے زمانہ میں کوفہ اور بغداد کے قاضی رہے، شیعہ اہل علم سے منقول ہے کہ ان سے ایک سو ستر سے زیادہ روایتیں کتب شیعہ میں نقل کی گئی ہیں(کتاب الفہرست ،ص:۱۱۶۹)طلحہ بن زید سنی عالم ہیں؛مگر ان کا شمار شیعہ کتب کے بڑے راویوں میں ہوتاہے، علامہ طوسی نے نقل کیاہے کہ ان کی کتاب معتبر ہے، اسی طرح بصرہ کے ایک بڑے عالم غیاث بن ابراہیم ہیں، ان کی روایت عام طورپر شیعہ مصنفین نے نقل کی ہے،شیعہ مسلک کے ایک بڑے عالم علامہ طوسی ہیں، انہوں نے بطور اصول یہ بات لکھی ہے کہ اگرکوئی راوی سنی ہے؛لیکن سچاہے تو اس کی حدیث قبول کی جائے گی۔(عدۃ الاصول:۱؍۱۴۹)

اس باہمی تعلق کا مظہر یہ ہے کہ کئی سنی علماء ومحدثین سے شیعہ علماء نے کسب فیض کیاہے، اورکئی شیعہ علماء سے اہل سنت کے علماء نے ، اسی طرح بعض اکابر اہل سنت ان بزرگوں کے شاگرد رہے ہیں، جن کو اہل تشیع اپناامام مانتے ہیں اور اہل سنت کے نزدیک وہ شیعہ نہیں تھے اوران کو بڑا اہم مقام حاصل تھا، جیسے امام جعفر صادق امام ابوحنیفہؒ اور امام سفیان ثوریؒان کے شاگردوں میں ہیں، مشہور شیعہ کتاب’’ الکافی‘‘ میں ان سے روایات لی گئی ہیں، شعبہ بن حجاج جو اہل سنت کے امیرالمومنین فی الحدیث کہلاتے ہیں، شیعہ کتب میں ان سے بھی روایتیں لی گئی ہیں، اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مسلکی اختلاف اور فکر ونظر میں دوریوں کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے ربط وتعلق رکھتے تھے، مذہبی معاملات میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی مذہبی شخصیتوں سے علمی ودینی مسائل میں استفادہ اور افادہ بہت ہی قلبی کشادگی اور وسعت ذہن کی بات ہے۔

اگراس اختلاف کو بڑھایاجائے اوراسے ہوادی جائے تو یہ امت کے لیے بے حد نقصان کا سبب ہوگا، اورپوری امت کو کمزور کردے گا، ہمارے ملک میں اس وقت فرقہ پرست طاقتیں اورنفرت پھیلانے والی تنظیمیں بام اقتدار پر پہنچ چکی ہیں،ان کے کارندے ملک کے چپہ چپہ پر شرپھیلانے کاکام کررہے ہیں، وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں شیعہ سنی کا کوئی فرق روانہیں رکھتے، اسی طرح غاصب اسرائیل شیعہ سنی کا فرق کیے بغیر تمام مسلم ممالک کو اپنے ظلم کا نشانہ بنارہاہے، ایسے مواقع پر اپنے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمانوں کو متحد ہوناچاہیے، ایک زمانہ میں کان پور میں شیعہ حضرات کے تعزیہ کے خلاف برادران وطن نے شورش برپاکرنی چاہی اورسوال یہ تھاکہ اس سلسلے میں اہل سنت کا کیا موقف ہو؟اس موقع پر حلقہ دیوبند کی نمایاں ترین شخصیت حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ نے تعزیہ کی تائید میں بیان دیا اور فرقہ پرست ہندوئوں کے مقابلہ میں شیعہ حضرات کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی، ان کے متوسلین نے دریافت کیاکہ آپ تو ہمیشہ تعزیت کی مخالفت کرتے تھے، اور اسے بدعت کہتے تھے، اب آپ اس کی موافقت کررہے ہیں، حضرت تھانویؒ نے فرمایا: یہاں اہل سنت واہل تشیع کا مقابلہ نہیں ہے؛بلکہ ایمان اور کفر کا مقابلہ ہے، فرقہ پرست لوگ تعزیہ کو اسلام کی علامت سمجھ کر اس کی مخالفت کررہے ہیں، تواب ضروری ہے کہ ہم فرقہ پرستوں کی مخالفت کریں ۔

مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی صفوں کو متحد رکھیں، عقل مندی کا تقاضایہی ہے اورعہدصحابہ سے مسلمانوں کا یہی طریقہ رہاہے ،جب خلیفہ برحق سیدناحضرت علی بن ابی طالبؓ کرم اللہ تعالیٰ وجھہ اورحضرت معاویہؓ کے درمیان اختلاف اپنے شباب پر تھا ،یہاں تک کہ ان کے درمیان صفین کے مقام پر جنگ بھی ہوچکی تھی، تورومی حکمرانوں نے اس سے فائدہ اٹھاناچاہا اور حضرت علیؓکے مقابلہ حضرت معاویہؓ سے تعاون کرنے کی پیشکش کی،حضرت معاویہؓ نے اس کے جواب میں لکھا:

روم کے کتے! اگرتونے ذرا بھی شرارت کی ،یاسرحد کی طرف قدم بڑھایا تویاد رکھ!میرے اورمیرے بھائی علیؓ کے درمیان صلح ہوجائے گی، اور پہلا لشکر جو تیری طرف بڑھے گا، اس کا سپہ سالار علی ہوگا اورمیں اس کے جھنڈے تلے سپاہی بن کر زمین کو باوجود وسعت کے تجھ پر تنگ کردوں  گا۔ (تاریخ ابن کثیر:۸؍۱۱۹)

(جاری)

Login Required to interact.