(دوسری قسط)
شمع فروزاں
فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی
صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
اس میں شبہ نہیں کہ ماضی قریب میں شام کے ملعون حکمرانوں حافظ الاسد اور پھر اس کے بیٹے بشارالاسد نے اہل سنت پر بڑاظلم ڈھایاہے؛لیکن اصل میں اس ظلم کا محرک سیاسی حریفوں کو دباناہے ،ورنہ شام کا یہ حکمراں خاندان فرقہ نصیریہ سے تعلق رکھتاہے ،جس کو خود اہل تشیع بھی کافر کہتے ہیں، اسی طرح شبہ نہیں کہ عراق میں بھی اہل سنت پر بڑے مظالم ہوئے ہیں؛لیکن صدام حسین نے- جو دراصل کمیونسٹ تھا-اہل تشیع پر اورخود مسلمانوں پر بڑے ستم ڈھائے ہیں، صدام حسین توایسا ظالم شخص تھا کہ وہ اپنے قریب ترین لوگوں کو بھی بخشنے کیلئے تیار نہیں ہوتاتھا؛اورانہیں ایسی اذیت ناک تکلیفیں دیتاتھا کہ جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتاہے، اس میں مسلکی اورنسلی تنگ نظری کا رنگ بھی شامل ہوجاتاتھا ؛لیکن حقیقت میں یہ اقتدار کی ہوس، فرماں روائوں کے مخالفین کو برداشت نہ کرنے کا مزاج،اورمسلسل فرماں روائی سے پیداہونے والے غرور کا نتیجہ ہوتاتھا؛اسی طرح شام میں ایران کے ذریعہ اہل سنت پر جو مظالم ہوئے،جس میں بڑی تعداد میں ان کا قتل ہواہے، خواتین کی عزت ریزی ہوئی ہےاور بڑی تعداد میں لوگوں کو ملک بدر کیاگیاہے ،یاملک بدر ہونے پر مجبور کیاگیا ہے ، وہ انتہائی قابل افسوس اورلائق ملامت ہے،اوراس کے پیچھے بھی امریکہ، اسرائیل اوراس کی درپردہ حمایت کارفرماتھی، شام میں جونئی حکومت آئی ہے اوراس کے بعد جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، خاص کر جیلوں کی جوصورت حال منظرعام پر آئی ہے، وہ حد درجہ تکلیف دہ اورناقابل بیان ہے، اوراس سے بشار الاسد حکومت کی اہل سنت سے دشمنی اور مسلمانوں پر ظلم وجور کی نہایت قبیح صورت سامنے آئی ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالم اسلام میں مسلکی رواداری کا فقدان ہے، جس کی بدترین صورت ایران میں اہل سنت کی عظیم الشان مکی مسجد کا انہدام ہے، یہی حال لبنان کاہے،جہاں اہل تشیع کی نمائندگی کرنے والی تنظیم حزب اللہ نے بزور طاقت ملک پر قبضہ کررکھاہے اور اہل سنت ان کے مظالم کا شکار ہیں،اوریہ بھی ایک حقیقت ہےکہ عراق، شام اورلبنان میں ہونے والے ان مظالم کے پیچھے ایران کا ہاتھ رہاہے؛لیکن بہرحال ایسے حکمرانوں کے ہاں پیش آنے والے واقعات کو امت میں تفریق کاذریعہ بنانا،اپنے نقصان میں اضافہ کرنا او رخود اپنے پائوں پر کلہاڑی مارناہے۔
موجودہ حالات میں ہماری سوچ اتحاد واتفاق کے لیے ایسے پلیٹ فارم قائم کرنے کی ہونی چاہیے جو تمام مسالک کو انصاف دے سکے،اوران کے جذبات کا لحاظ رکھے،ایران کو بھی چاہیے کہ اپنے رویہ کو درست کرے، اپنے پڑوسی مسلم ممالک کے عوامی مقامات ،سفر کے وسائل،معاشی وسائل، ضروریات زندگی سے متعلق وسائل پر حملہ کرنا یقینی طورپر ظلم اورناانصافی کی بات ہے، اس طرح یہ جنگ عرب اور اسرائیل کی ہونے کے بجائے اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ہوجائے گی، اسلام دشمن طاقتوں کو اس سے تقویت پہنچے گی اورمسلمانوں کے وسائل تباہ ہوں گے۔
مگر افسوس ہے کہ دونوں طبقوں کے بعض علماء اور مذہبی رہنما ہندوستان میں بھی اورپاکستان میں بھی اس اختلاف کی آگ کواپنے معاشرے میںگرم کرناچاہتے ہیں اور بے محل بیان دے کر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں(اللہ تعالیٰ ان کو عقل سلیم عطا فرمائے)رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک طبقہ منافقین کا تھا،جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہرکرتاتھا؛ لیکن حقیقت میں وہ مسلمان نہیں تھا، وہ یہودیوں اورمشرکین مکہ سے ملاہواتھا، اوران کےلیے جاسوسی بھی کرتاتھا؛لیکن جب تک ان کی طرف سے کھلے طورپر کفر کااظہار نہیں ہوا، آپ ﷺ نے ان کی طرف سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیااوراگرکسی منافق کے بارے میں صحابہؓ نے کارروائی کی درخواست کی توآپ ﷺ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا:لوگ سمجھیں گے کہ اب مسلمان اپنے ہی ساتھیوں کوقتل کررہے ہیں، موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اسی پہلو سے اپنی پالیسی بنانی چاہیے کہ ملت کے آپسی اختلافات کو اپنے حلقہ تک محدود رکھاجائے، دوسرے حلقہ کی دل آزاری سے بچاجائے، اوراعلانیہ اسلام دشمن طاقتوں سے مل جل کر مقابلہ کیاجائے، چاہے یہ مقابلہ زمینی میدان میں ہو، یا فکری میدان میں۔
عالم اسلام کا اس وقت اسرائیل جیسے دشمن سے سابقہ ہے، دنیا میں اس سے زیادہ بے شرم اور ظالم قوم کوئی اورنہیں ہے، اسرائیلی ترانہ ہی کو اگرمسلمان اپنے سامنے رکھیں تو ان کی شقاوت اوران کےناپاک عزائم کا اندازہ ہوجاتا ہے، یہ ترانہ حیبرو زبان میں ہے، جس کا اردو ترجمہ اس طرح کیاگیاہے:
جب تک دل میں یہودی روح ہے، تمنا کے ساتھ مشرق (خلیجی ممالک ) کی طرف بڑھتاہے،ہماری امید ابھی پوری نہیں ہوئی، اپنی سر زمین پر ایک ہزار سال کا خواب، اپنے خوابوں کی دنیا یروشلم ، ہمارے مشترکہ دشمن یہ سن کر ٹھٹھر جائیں ،مصر اورکنعان کے سب لوگ لڑکھڑا جائیں، بیبولون(بغداد)کے لوگ ٹھٹھر جائیں، اوران کے آسمانوںپر ہمارا خوف اور دہشت چھائی رہے، جب ہم اپنے نیزے ان کی چھاتیوں میں گاڑ دیں گے، اورہم ان کا خون بہتے ہوئے اوران کے سرکٹے ہوئے دیکھیں گے، تب ہم اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے جو وہ چاہتاہے۔
یعنی فلسطین سے عراق تک ان کے نشانہ پر ہیں، جس میں جزیرۃ العرب اور خلیجی ممالک کے اکثرعلاقے شامل ہیں ، افسوس کہ عرب حکمراں کمال بے غیرتی اور نافہمی سے اس ترانہ پر کھڑے ہوتے ہیں۔
مقام عبرت ہے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے درمیان اس درجہ مذہبی اختلاف ہے کہ شاید کسی اور قوم میںہو ، آریہ سماجی ایک خدا کو مانتے ہیں، برہما کماری بھی مورتی پوجا کے قائل نہیںہیں، مختلف علاقوں کی الگ الگ مورتیاں ہیں ، کہیں شیو کی پوجاہے، کہیں وشنو کی ،کہیں گنیش کی پوجاکی جاتی ہے، اورکہیں کرشن کی، پھر ذات پات کے اختلاف کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ خود ہندو قوم بھی ان کا ذکر کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے؛لیکن مسلمانوں کی عداوت نے ان کو متحد کررکھا ہے، یہودیوں کے کئی فرقے ہیں اورسب ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں، ان کے ظاہری شعار بھی الگ الگ ہیں، میں نے بیت المقدس اوربعض مغربی ممالک کے سفر میں اس بات کو دیکھا ، اور وہ اپنی آبادیاں بھی الگ الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، بیت المقدس کی زیارت کے موقع پر اس حقیر کو بیت اللحم جانے کا بھی موقع ملا، جس کو حضرت عیسی علیہ السلام کا مقام پیدائش قراردیاجاتاہے، وہاں میں نے خود دیکھاکہ ایک ہی جگہ قریبی فاصلہ سے تین چرچ بنے ہوئے ہیں، معلوم ہوا کہ یہ تینوں الگ الگ عیسائی فرقوں کے ہیں اور وہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں، یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے ایسے اہانت آمیزجملے استعمال کرتے ہیں کہ ہم لوگ توان کو نقل بھی نہیں کرسکتے، ان سب کے باوجود مختلف گروہوں کو جس چیز نے یکجاکررکھاہے، وہ ہے اسلام سے عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت، مقام افسوس ہے کہ ہمارے دشمن تو ہماری مخالفت کے لیے متحد ہوجائیں اوراہم ایسے نادان ثابت ہوں کہ ایسی صورت حال میں بھی اختلاف کو ہوادینے کاکام کرتے رہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اہل سنت اوراہل تشیع کے درمیان نظریاتی اختلاف کی جڑیں بہت گہری ہیں، ہم صحابہ کرام ؓ کو انبیاء کرام کے بعد امت کا سب سے بڑا محسن باور کرتے ہیں اور ہرصحابیؓ کو قابل احترام ،لائق تعظیم اور معتبر نمائندۂ اسلام تصور کرتے ہیں اوران کے درمیان جو اختلاف ہوا، اس کو اجتہادی اختلاف باور کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کو امت کی مقدس مائوں کا درجہ دیتے ہیں اورآپ کی آل وعیال کو بھی چشم محبت کا سرمہ بناتے ہیں، حضرت ابوبکرؓ ،حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی خلافت کو بھی مانتے ہیں اور حضرت علیؓکی خلافت کو بھی برحق تصور کرتے ہیں؛لیکن خلافت ہمارے یہاں انتخاب اوراختیار سے قائم ہوتی ہے نہ کہ موروثیت کی بناء پر ، جب کہ شیعہ حضرات خلافت وامامت کو ایک موروثی چیز سمجھتے ہیں، ہمارے یہاں امام معصوم نہیں ہوتا، صرف نبی معصوم ہوتاہے، اہل تشیع کے نزدیک تمام ائمہ معصوم ہیں،اس مرکزی اختلاف کی وجہ سےدونوں طبقے کے درمیان شدیداختلاف رائے ہے؛ لیکن ان دونوں طبقات میں مشترک عناصر اختلافی باتوں سے بڑھ کر ہیں، بیشتر اعتقادی مسائل، فقہی مسائل اور دین کی بنیادی تعلیمات کے سلسلے میں وہ ایک ساتھ ہیں۔
اس میں شبہ نہیں کہ بعض اہل سنت علماء نے روافض کے بارے میں کفر کا فتویٰ دیاہے ؛لیکن یہ مطلقاًتمام اثناعشری شیعہ کے بارے میں نہیں ہے، مشہور فقیہ علامہ شامیؒ نے لکھاہے:
جو شیعہ حضرت علیؓ کو خدا مانتاہو، یاکہتاہو کہ حضرت جبرئیلؑ وحی لے کر حضرت علیؓ کی طرف بھیجے گئے تھے اورغلطی سے حضور ﷺ کی طرف آگئے ،یاحضرت ابوبکر صدیق کے صحابی ہونے کا انکار کرتاہو، یاام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگاتاہو، تو وہ کافر ہے، اس کے برخلاف جو حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکر وعمر سے افضل قرار دیتاہو،یاصحابہ پر تنقید کرتاہو، وہ بدعتی تو ہے، کافر نہیں ہے۔(رد المحتار ، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات:۳؍۴۶)
فتاویٰ عالمگیری میں بھی یہی بات کہی گئی ہے(فتاوی عالمگیری،کتاب السیر)،علامہ ابن تیمیہؒ روافض کے بڑے ناقد ہیں، انہوں نے بھی لکھاہے کہ جو شیعہ حضرت علیؓ کو حضرت عثمان ؓ پر اورحضرت ابوبکر وعمرؓ پر فضیلت دیتے ہیں، وہ راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں ،اورفاسق ہیں؛لیکن ہم ان کو کافر نہیں کہہ سکتے ۔(مجموع الفتاویٰ:۲۸؍۵۰۰) یہی بات مشہور حنفی فقیہ علامہ ابن نجیم مصری نے البحرالرائق میں لکھی ہے(کتاب البغاۃ،:۵؍۲۰۹)ملاعلی قاریؒ جن کی کتاب ’’شرح الفقہ الاکبر‘‘ اہل سنت والجماعت کے عقائد وافکار کی ترجمان ہے، انہوں نے بھی لکھاہے کہ احناف اور شوافع نے ان شیعوں کی تکفیر نہیں کی ہے جو صحابہ ؓ کی ہتک شان کرتے ہیں، ان کو کافرنہیں کہاجائے گا، ہاں! ان پر فاسق ہونے کا حکم لگایاجائے گا۔
والجمھور من الحنفیۃ والشافعیۃ لم یکفروا الشیعۃ الذین یسبون الصحابۃ ،بل قالوا بفسقھم.(منح الروض الازھر فی شرح االفقہ الاکبر،ص:۲۴۹)
ہندوستان کے علماء میں روافض کے رد میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒکی خدمات بہت وسیع ہیں، جن کی کتاب ’’تحفہ اثناعشریہ‘‘مشہور ہے، یہ کتاب فارسی میں ہے، ان کی کتاب کے دواقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش ہیں:
اورپسندیدہ مذہب یہی ہے کہ اثنا عشریہ بدعتی ہیں کافر نہیں ہیں؛سوائے اس کے کہ وہ ضروریات دین میں کسی چیز کے منکر ہوں، صحابہؓ کو برابھلا کہنا کفر نہیں ہے ؛بلکہ فسق ہے اورلعنت کا سبب ہے(فتاوی ٰ عزیزی،ص:۱۶۱)
جانناچاہیے کہ فرقۂ زیدیہ اوروہ امامیہ جو غالی نہ ہوں، وہ اہل اسلام کے حکم میں ہیں، ان کے ساتھ مسلمانوں والا معاملہ کرناچاہیے۔ (تحفہ اثناعشریہ، باب اول)
اس وقت یہ موضوع زیر بحث نہیں ہے کہ روافض کو مسلمان ماناجائے یانہیں، یاشیعہ اہل سنت کو مسلمان تسلیم کریں یا نہیں ؟ بلکہ اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے کہ ان دونوں گروہوںکے درمیان شدید اعتقادی اختلافات ہیں،سوال یہ ہے کہ عالم اسلام میں اورخاص کرہمارے ملک ہندوستان میں مشترکہ مقاصد کے لیےکیا اتحاد نہیں ہوسکتا؟اور اتنے بڑے دشمن کے مقابلہ ہم آواز ہوکر بات نہیں کی جاسکتی؟اس پرسنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے،ہندوستان میں بھی فرقہ پرست طاقتیں، شیعہ سنی، مقلد غیرمقلد،دیوبندی، بریلوی اختلاف کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہیں، اوراس سے سیاسی فائدہ اٹھایاجاتاہے، مسلمانوں کا اختلاف اوران کی ناسمجھی مسلمانوں کو کمزور سے کمزور تر کرتی جارہی ہے، اوران کی بے وزنی ہر میدان میں بڑھتی جا رہی ہے،اس پر جذبات سے نہیں،عقل وشعور اور حکمت ودانائی سے غورکرنے کی ضرورت ہے۔ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ

