آب زمزم کے فضائل واحکام

بحث وتحقیق
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
دنیا میں پانی تو بہت اقسام کے ہیں لیکن پانی کو بنانے والے اللہ رب العالمین نے ان تمام پر’’ آب زمزم‘‘ کو ایسی فوقیت وبرتری بخشی ہے جو کسی اور کو نہیں بخشی ،عام پانی کے پینے میں نہ کوئی خاص اہتمام کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی خاص برکت کی امید ہوتی ہے،لیکن آب زمزم کو برکت کی امید سے پیتے ہیں ،اسی طرح عام پانی کو اپنے ساتھ لانا اور لے جانا زحمت اور بارگراں سمجھاجاتا ہے لیکن آب زمزم کو عشق و وارفتگی کے ساتھ شہروں شہروں حجاج کرام اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں گویا اسے ایک بہترین ’’تحفہ حج‘‘ سمجھا جاتا ہے، حجاج کرام کا اپنے وطن یہ پانی لے جانا بھی درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی ہے کیونکہ آپ ﷺ بھی اپنے ہمراہ پانی لاتے تھے اور آپ کی پیروی میں صحابہ کرام بھی اسے اپنے ساتھ بابرکت تحفہ کے طور پر لاتے تھے اور اسے اپنے گھروں میں محفوظ رکھتے تھے اور بیماریوں میں اس کو شفا کی نیت سے پیتے تھے ؛ کیونکہ خود نبی اکرم ﷺ کو ان حضرات نے اس پانی کو اپنے ہمراہ لاتے اور اس کو محفوظ رکھ کر بیماریوں میں استعمال کرتے دیکھا تھاچناں چہ ایک روایت میں رسو ل اللہ ﷺ کے بارے میں یہ منقول ہے:
حمله رسول اللہ ﷺ فی الاداوی والقرب وکان یصب علی المرضی ویسقیهم (بیہقی:۵؍۲۰۲)
’’رسول اللہ ﷺ آب زمزم اپنے ساتھ برتنوں اور مٹکوں میں لے کر آئے اورآپ ﷺ اسے مریضوں پر ڈالتے تھے اور انہیں پلاتے تھے‘‘
نیز حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں:
ارسلنی النبی ﷺ وهو بالمدینة قبل ان یفتح مکة الی سهیل ابن عمر وان اهد لنا من ماء زمزم ولاتترک فبعث الیه بمزادتین (بیہقی:۵؍۲۰۲)
’’مجھے نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ سے پہلے سہیل ابن عمر کے پاس بھیجااور آپﷺ مدینہ ہی میں تھے اور سہیل ابن عمرکے پاس یہ اطلاع بھیجی کہ میرے لئے آب زمزم بھیجنا نہ بھولیں چناں چہ انہوں نے دو مزادہ آب زمزم بھیجا‘‘
اس پانی کی اتنی اہمیت وفضیلت اس لئے ہے کہ اس کے وجود میں شدت پیاس سے بیتابی پرحضرت اسماعیل علیہ السلام کے نکلے ہوئے آنسو اور حضرت ہاجرہ کی بے کلی اور اپنے لخت جگر کی بے تابی پرصفا اور مروہ کی چکر میں نکلے ہوئے عرق جبین شامل ہیں، یہ وہ پانی ہے کے اس کی حصولیابی کیلئے زمین کھودنے والا کوئی انسان نہیںہے بلکہ فرشتۂ مقرب حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اسے اپنے قدم یا اپنے پر سے کھودا ہے ،یہ وہ پانی ہے اس سے سب سے پہلے اپنی تشنگی بجھانے والے نبی ابن نبی اور حضرت محمد ﷺ کے جد امجد یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں مزید یہ کہ اس کا محل وقوع اس ارض مقدس سے صرف ۳۸؍ ہاتھ کے فاصلہ پر ہے جہاں ہر وقت اللہ کی رحمت برستی ہے ،شارح مسلم علامہ نووی ؒ لکھتے ہیں:
واما زمزم فهی البئر المشهورۃ فی المسجد الحرام بینها وبین الکعبة ثمان وثلثون ذراعا (شرح مسلم للنووی:۱؍۴۰۰)
’’زمزم وہ مشہور کنواں ہے جو مسجد حرام میں واقع ہے اسکے اور کعبہ کے مابین ۳۸؍ ہاتھ کا فاصلہ ہے‘‘
ذخیرہ ٔاحادیث کی متعددروایتوں میںاس کی متعدد فضیلتیں بیان کی گئی ہیں حضرت ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشا گرامی نقل کرتے ہیں:
خیر ماء علی وجه الارض ماء زمزم فیه طعام الطعم وشفاء السقم (جمع الفوائد:۳۶۸۱)
’’روئے زمین پر سب سے بہتر پانی آب زمزم ہے ، اس میں غذائیت اور بیماری کی شفاء ہے ‘‘
یعنی اس کے پینے سے بیماری ختم ہوتی ہے اور اس سے کھانے کی ضرورت بھی پوری ہوتی ہے اور اس کو پینے کے بعد بھوک ختم ہوجاتی ہے جبکہ یہ بات عام پانی میں نہیں ہوتی ہے چناں چہ حضرت ابوذر غفاری ؓکے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک مہینہ اس طرح مکہ میں مقیم رہے کہ وہ صرف زمز م پی کر ہی گزارا کرتے تھے، اسی طرح زمانہ جاہلیت میں اس سے لوگوں کی اس قدر رغبت بڑھ گئی تھی کہ جو لوگ کثیر العیال ہوتے وہ زمزم کے پاس ہی آکر رہ جاتے اور وہ سب اسی سے اپنا پیٹ بھرتے (الموسوعۃ الفقہیۃ،زمزم) اسی لئے زمانہ جاہلیت میں اس کو ’’شباعة‘‘ (سیراب کرنے والا) بھی کہا جاتا تھا جیساکہ حضرت عباسؓ  فرماتے ہیں: کنا نسمیها شباعة ’’ہم اسے’’ شباعت‘‘ (سیراب کرنے والا) کہتے تھے‘‘(جمع الفوائد:۳۶۸۲) اس کے علاوہ زمزم کو ان ناموں سے بھی موسوم کیا گیا ہے :
 سیدۃ : یعنی تمام پانیوں کا سردار ، روئے زمین پر اس سے افضل پانی نہیں ، اسلئے اس کا نام سیدہ بھی رکھاگیاہے ۔
نافعۃ : یعنی نفع مند ،اسکے پینے سے بہت سے منافع ہوتے ہیں اسلئے اس کانام نافعہ بھی رکھاگیاہے۔
طاہرۃ : یعنی پاک وصاف، یہ پاک وصاف پانی ہے اسکوبارہا ٹیسٹ کیا گیا ہے یہ تمام جراثیم سے پاک نکلااس میں کسی بھی قسم کے جراثیم نہیں پائے جاتے ، اس کا پانی باعث صحت وعافیت ہے۔
زمزم کی جامع افادیت کو بیان کرتے ہوئے ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے :
ماء زمزم لما شرب له ان شربته تستشفی شفاک اللہ وان شربته لشعبک اشبعک اللہ وان شربته لقطع ظمئک قطعه اللہ وهی ھزمة جبریل وسقیا اللہ اسماعیل (دار قطنی:۲؍۲۸۹)
’’آب زمزم ان تمام مقاصد کے لئے ہے جن کے لئے اسے پیا جائے ،اگر تم اسے بیماری کی شفاء کے لئے پیوگے تو اللہ تمہیں شفا ء نصیب فرمائیں گے ،اور اگر اسے شکم سیری کے لئے پیوگے تو اللہ شکم سیر کردیں گے اور اگر پیاس بجھانے کے لئے پیوگے تواللہ پیاس دور کردیں گے یہ کنواں حضرت جبرئیل علیہ السلام کا کھوداہوا ہے اوریہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے اللہ کی طرف سے سیرابی کا انتظام ہے،اگر تم اسے اللہ کی پناہ چاہنے کے لئے پیوگے تو اللہ پناہ نصیب کریں گے‘‘
اسی حدیث کی روشنی میں فقہاء نے یہ تصریح کی ہے کہ دنیوی یا اخروی مسائل کو حل کرنے کے لئے ’’آب زمزم‘‘ پینا مسنو ن ہے (الموسوعۃ الفقهیة:التبرک بماء زمزم ) اور اس کو پیتے وقت چونکہ دعا قبول ہوتی ہے اس لئے اس وقت دعا کرنی چاہئے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جب’’ آب زمزم‘‘ پیتے تو یہ دعا کرتے:
اللهم انی اسألک علما نافعا ورزقا واسعا وشفاء من کل داء(مستدرک حاکم:۱؍۶۴۶)
’’اے اللہ میں آپ سے نفع بخش علم ،وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفاء مانگتا ہوں‘‘
ابن المقري نے نشر الآس میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ماء زمزم پیا اور یوں کہا کہ اللّهم اشربه لظمأ یوم القیامة ،یعنی اے اللہ میں اسکو قیامت کے دن کی پیاس سے بچنے کی نیت سے پی رہاہوں ۔ (الجواہر المنظم ص ۴۲ بحوالہ فضل ماء زمزم )
حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ’’ آب زمزم‘‘ پیتے وقت یہ کہتے کہ اے اللہ مجھ سے مؤمل نے ابو الزبیر کے حوالے سے اور ابو الزبیر سے حضرت جابر ؓ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ’’ آب زمزم‘‘ ان تمام مقاصد کے لئے مفید ہے جن کے لئے اسے پیا جائے اس لئے اس حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے اے اللہ میں اسے قیامت کی پیاس بچھانے کے لئے پی رہا ہوں(فتح القدیر:باب الاحرام،فصل فی فضل ماء زمزم)
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے کہ عبد اللہ بن مسلم الدینوری رحمۃ اللہ علیہ یا انکے صاحبزادے احمد بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک جماعت کے ساتھ حج کیا اس جماعت کے ساتھ ایک مفلو ج آدمی تھا ،میں نے اسکو ایک دن دیکھا کہ وہ صحیح سالم ہے اور طواف کررہاہے اور اس پر فالج کے بالکل آثار نہیں ہیں ،میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا فالج کیسے ٹھیک ہوا ؟ اس نے جواب دیا کہ میں بئر زمزم پر آیا اور میں نے زمزم لیا اور اس زمزم کو اپنی دواۃ میں ڈالا اور اس دواۃ کی روشنائی سے میں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کے بعد سورۃ الحشر کی آخری تین آیات لکھیں اور سورۃ الإسراء کی آیت نمبر ۸۶ لکھی پھرمیں نے  بارگاہ رب العزت میں عرض کیا کہ اے اللہ آپ کے نبی محمد ﷺ نے فرمایاہے ‘‘ ماء زمزم لما شرب لہ ’’ کہ آب زمزم جس لئے پیاجائے وہ پورا ہوجاتاہے اور یہ قرآن آپکا کلام ہے پس مجھے شفاء دیدیجیے اپنی عافیت کے ساتھ ، پھرمیں نے اسکو آب زمزم سے گھولا اور پی لیا پس مجھے عافیت مل گئی اورفالج کے مرض سے بإذن اللہ نجات مل گئی۔ (سیر اعلام النبلاء :۱۱/۲۱۲)
امام تقی الدین فارسی رحمۃ اللہ علیہ نے شفاء الغرام میں لکھاہے کہ شیخ احمد بن عبد اللہ الشریفی نابینا ہوگئے تھے ، انہوں نے ماء زمزم بینائی واپس آجانے کی نیت سے پیا پس (بفضل اللہ تعالی)بنائی واپس لوٹ آئی ۔(شفاء الغرام)
علامہ ابن قیم کا بیان ہے کہ میں نے آب زمزم کئی امراض سے نجات حاصل ہونے کی نیت سے پیا سواللہ تعالی نے مجھے اپنے حکم سے ان امراض سے نجات عطافرما دی، اور کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں مجھ پر ایسا وقت گزراہے کہ میں مریض تھا اورنہ طبیب مسیرتھااور نہ دواء موجود تھی پس میں آب زمزم شفاء کی نیت سے پیتاتھا اور زمزم پیتے ہوئے (قرآن کریم کی آیت ) ایاک نعبد وایاک نستعین پڑھتا تھااوربار بار ایساہی کرتا تھا پس مجھے مکمل شفاء حاصل ہوگئی ، پھر میں نے ماء زمزم بہت سے دردوںکیلئے پیا پس مجھے بہت زیادہ فائدہ ہوا ۔ (زادالمعاد: ۴ /۳۹۳)
زمزمی نے نشرالآس میں قرۃ العین سے نقل کیاہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسلئے پیا کہ یااللہ مجھے اعلم العلماء (یعنی اپنے زمانہ کاسب سے بڑا عالم بنادیجئے) امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ دعاقبول ہوئی اور وہ اپنے زمانہ کے اعلم العلماء بنے اور فقہ میں جوانکامقام ہے وہ اہل حق پر عیاں ہے ،انکی فقاہت کا اہل حق میں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ الناس فی الفقۃ عیال علی ابی حنیفہ یعنی لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی اولادہیں.
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حافظ ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ آپ کو کہاں سے (اتنا زیادہ) علم حاصل ہوا ،انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ  ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ماء زمزم لما شرب له ‘‘ یعنی ماء زمزم جس نیت سے پیاجائے وہ پورا ہوجاتا ہے ، سومیں نے اس نیت سے زمزم پیاکہ یا اللہ مجھے علم نافع عطافرمادیجئے۔ (سیرِاعلام النبلاء:۱۴/۳۷۰)
ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے فرمایا :اللہ کے برگزیدہ بندوں کی نماز کی جگہ نماز پڑھو اور نیک لوگوں کا شراب پیو،کسی نے ان سے دریافت کیا کہ برگزیدہ بندوں کی نماز کی جگہ کونسی ہے؟ اور نیک لوگوں کا شراب کیا ہے ؟تو آپ ؓنے فرمایا: برگزیدہ بندوں کی نماز کی جگہ میزاب کے نیچے ہے اور نیک لوگوں کا شراب’’ آب زمزم‘‘ ہے اور یہی سب سے بہترین شراب ہے (الموسوعۃ الفقہیۃ،زمزم)
علامہ عراقی  ؒفرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ کا سینہ مبارک چاک کرکے اسے’’ آب زمزم‘‘ سے اس لئے دھویا گیا تا کہ آپ  ﷺ کے اندر آسمان وزمین کے ملکوت اورجنت وجہنم کے دیکھنے کی قوت پیدا ہوجائے ،اس لئے کہ’’ آب زمزم‘‘ کی یہ خاصیت ہے کہ اس کے پینے سے دل مضبوط ہوتا ہے اور گھبراہٹ ختم ہوتی ہے (حوالہ سابق)
’’آب زمزم‘‘ پینے کا طریقہ یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر تین سانس میں قبلہ رو ہو کر پیا جائے اورخوب اچھی طرح سیراب ہوکر پیا جائے ،جیساکہ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک شخص کو یہ طریقہ بتایا:
اذا شربت من ماء زمزم فاستقبل القبلة واذکر اسم اللہ وتنفس ثلاثاوتضلع منها فاذا فرغت فاحمد اللہ تعالی
’’جب تم آب زمزم پیو تو قبلہ رو ہو جاؤ ، بسم اللہ پڑھو ،تین سانس میں پیواور اچھی طرح سیراب ہوکر پیو اور جب پی چکو تو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو‘‘
زمزم اچھی طرح سیراب ہوکر نے نہ پینے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
ان آیة ما بیننا وبین المنافقین انهم لا یتضلعون من زمزم (ابن ماجہ:۳۰۵۲)
’’بیشک ہمارے اور منافقین کے مابین یہ فرق ہے کہ منافقین آب زمزم سے سیراب نہیں ہوتے ہیں‘‘
جہاں تک آب زمزم کھڑے ہوکر پینے کی بات ہے جیسا کہ آج کل اس کا رواج عام ہوگیا ہے تو اس سلسلہ میں فقہی تصریحات سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے ہوکر پینا مستحب نہیں ہے ،ا لبتہ عام پانی کی طرح اسے کھڑے کھڑے پینا مکروہ بھی نہیں ہے ،بلکہ اسے کھڑے ہوکر پینا بلاکراہت جائز ہے ،جیساکہ علامہ ابن عابدین شامی ؒ  تحریرفرماتے ہیں:
لعل الاوجہ عدم الکراھة ان لم نقل بالاستحباب(شامی:۱؍۸۸)
’’گرچہ کھڑے ہوکر پینے کا استحباب منقول نہیں ہے تاہم عمدہ قول اس میںکراہیت کا نہ ہونا ہے ‘‘
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:
انہ مخیر فی ھذین الموضعین وانه لا کراهة فیھما فی الشرب قائما بخلاف غیرهما۔(شامی:۱؍۷۷)
’’ان دونوں جگہوں(وضو کا بچا ہوا پانی اور آب زمزم کے پینے ) میں پینے والے کو اختیار ہے [جیسے چاہے پیے کھڑا ہو کر یا بیٹھ کر]ان دونوں جگہوں میں کھڑے ہوکر پینے میں کوئی کراہیت نہیں اس کے برخلاف ان دونوں جگہوں کے علاوہ دیگر جگہوں میں مکروہ ہے‘‘
الحاصل آب زمزم کو ادب واحترام سے پیاجائے اور اس کے اندر پوشیدہ برکتوں سے استفادہ کیا جائے یہ اللہ کی طرف سے انسانوں کے لئے ایک بڑی نعمت ہے اس قدر دانی کرنا اور اس کی حرمت کو پیش نظر رکھنا ایمانی فریضہ ہے ،اس کی حرمت ہی کے تحفظ کے پیش نظر فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ اس مبارک پانی کو ان کاموں میں استعمال نہیں کیا جائے جن سے اس کی توہین ہوتی ہو،مثلا اس سے ناپاکی اور گندگی صاف کرنا یا اس سے استنجاء کرنا مکروہ تحریمی ہے ،علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں:
یکرہ الاستنجاء بماء زمزم وکذا ازالة النجاسة الحقیقة من ثوبه او بدنه حتی ذکر بعض العلماء تحریم ذلک (شامی:۲؍۲۵۶)
’’آب زمزم سے استنجاء کرنا اسی طرح کپڑے یا بدن میں لگی ہوئی کسی ناپاکی اورغلاظت کو صاف کرنا مکروہ ہے حتی کہ بعض علما ء نے اس کو حرام لکھا ہے‘‘
ہندو وپاک کے بہت سے حضرات کفن کو زمزم سے دھلنے کا اہتمام کرتے ہیں یا کفن پر اس کو چھڑکنے کا اہتمام کرتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ باعث خیر وبرکت ہے (فتاوی رحیمیہ : ۱؍۳۶۲)
خلاصہ کلام یہ کہ زمزم اللہ کا قیمتی تحفہ ہے ، اس لئے اس پانی کی حرمت وتعظیم کا خیال رکھنا چاہئے اور جب میسر ہو اسے خوب اچھی طرح پینا چاہئے اور اس کے اندر اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ فوائد کو حاصل کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس متبرک پانی سے خوب خوب سیراب ہونا نصیب کرے اور اس کے فوائد سے ہمیں بھی بڑا حصہ عنایت فرمائے۔
Login Required to interact.