مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
کائنات کے احوال خالق کون ومکاں کی مشیت وتصرف سے تغیر پذیر ہوتے ہیں جس میں اس کی بہت سی حکمتیں ومصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں ، ان ہی حکمتوں میں سے ایک حکمت ظالمین وجابرین اور منکرین حق کو سزا دینا اور ان کے دعویٔ قابلیت وصلاحیت کو بے وقعت و بے حیثیت بتانا اور ان کی عاجزی واحتیاج کو ثابت کرنا بھی ہے۔
انقلابات جہاں واعظ رب ہیں سن لو
ہر تغیر سے صدا آتی ہے: فافہم فافہم
اللہ عزوجل انسانوں کو ابتلاء وآزمائش کے طور پر جن چیزوں سے دوچار کرتےہیں ان میں سے ایک اہم چیز مختلف قسم کی بیماریاں ہیں،بعض بیماریاں عام عادت انسانی کے مطابق موسمی تبدیلی اور جسمانی عناصر کے فطری تواز ن میں تغیر کا اثر ہوتی ہیں جو آتی ہیں اور جاتی ہیں اور ان کے علاج ومعالجہ سے انسان کی صحت مندی واپس آجاتی ہے، جبکہ بعض مروج بیماریاں بہت ہی تکلیف دہ اور مہلک ہوتی ہیں ،لیکن ان میں مبتلاہونے والوں کی تعداد کی کمی اوردیگر انسانوں پر ان کے برے منفی نتائج نہ ہونے کی وجہ سے وہ بیماریاں انسانی معاشرہ میں خوف وہراس اور بے چینی پیدا نہیں کرتی ہیں ، لیکن بعض مرتبہ مرض ’’وباء‘‘ بن کرظاہر ہوتا ہے، جس میں کبھی قابل علاج مرض ہلاکت خیز بن کر عام ہوجاتا ہے اور بڑے پیمانہ پر اس کی تباہی ظاہر ہوتی ہے تو کبھی کوئی ایسا ہلاکت خیز مرض بڑے پیمانہ پر عام ہوجاتا ہے جس کی دوا اس وقت اطباء کے پاس نہیں ہوتی ہے،اور اس سے بڑے پیمانہ پر لوگ متاثر ہوتے ہیں، ایسی صورت حال انسانوں کے لئے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اورعمومی بے چینی کا باعث بن جاتی ہے ، اس طر ح کی’’ وبا‘‘ درحقیقت عذاب الہی ہے جو الہی غضب کو دعوت دینے والے برے اعمال کے عام ہونے کی وجہ سے انسانوں پر مسلط کیا جاتاہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ، حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا، إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ، وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلَافِهِمُ الَّذِينَ مَضَوْا (سنن ابن ماجۃ: ۴۰۱۹)
’’جب بھی کسی قوم میں برائی علانیہ طور پر عام ہوجاتی ہے تو اس میں طاعون اور ایسےامراض عام ہوجاتے ہیں جو ماضی کے لوگوں میں نہیں تھے‘‘
جب کوئی مرض ووبا انسانی بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب بن کر نازل ہوتا ہے تو گرچہ اس کے اثرات نیک وبد دونوں پر پڑتے ہیں اور دونوں ہی قسم کے لوگ اس مرض ووبا میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن انجام کے اعتبار سے دونوں میں فرق ہوتا ہے کہ ایک کے لئے عذاب تو دوسرے کے لئے رحمت ومغفرت کا باعث، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي، وَرَحْمَةٌ، وَرِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِ(مسند احمد: ۲۰۷۶۷)
’’طاعون میری امت کے لئے شہادت اور رحمت ہے اور کافر پرعذاب ہے‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سےطاعون کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ (بخاری: ۵۷۳۴)
طاعون ایک عذاب ہے جسے اللہ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے ، پھر اسے مومنین کے لئے رحمت بنادیتا ہے، جو بندہ بھی طاعون میں گھِر جائے اور صبرکا دامن تھامے ہوئے اپنے ہی شہر میں اس یقین کے ساتھ رہے کہ اس کے ساتھ وہی ہوگا جو اللہ نے اس کے لئے مقدر کررکھا ہے ، تو اس کے لئے شہید کے جیسا اجر ہے ‘‘
اس حدیث سے جہاں وباء کی حقیقت معلوم ہوئی وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان والوں کے حق میں یہ وبائیں رحمت ہیں ، نیز ایسی صورت حال میں ایمانی تقاضا یہ ہے کہ نظر تقدیر پر رکھی جائے اور اس جگہ سے کہیں دوسری جگہ جانے کے بجائے احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے وہیں رہا جائے ، اگرمقدر میں زندگی ہے تو اس وبا میں بھی وہ محفوظ رہے گااور اگر تقدیر کے فیصلہ سے موت آبھی جاتی ہے تو یہ موت شہادت کی موت ہوگی اور فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ جن لوگوں سے قبر میں سوال وجواب نہیں ہوتا ان میں وہ شخص بھی ہے جس کی موت کسی طاعون ووبا میں ہوئی ہو۔ (حاشیۃ الطحطاوی : ۶۱۷)
جس طرح وبا والی جگہ سے بھاگنے سے منع کیا گیا ہے اسی طرح اس جگہ جانے سے بھی منع کیا گیا ہے ،سن ۱۴ ؍ہجری میں جب ملک شام میں طاعون عام ہواتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےوہاں جانےسے گریز کیا ، جب صحابہؓ میں اس معاملہ میں مختلف باتیں شروع ہوئیں تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنا ہے :
ِاذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ (بخاری: ۵۷۲۹)ْ)
’’جب تم کسی مقام پر ’’وبا ‘‘ کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگر اسی مقام پر پہلے سے ہو تو اس کے خوف سے وہاں سے مت نکلو‘‘
اس حدیث میں گویا احتیاط کی تعلیم کے ساتھ توکل اورتسلیم ورضاکی تعلیم ہے ، وہاں نہ جانا ہلاکت سے بچنےکا سبب اختیار کرنا ہےاور اسباب اختیار کرنے کی تعلیم خود اسلام نے دی ہے اور یہ توکل کے منافی بھی نہیں ہے، اوراسی مقام پر رہنا توکل وتسلیم ورضا ہے ، نیز دوسرے کی صحت اور ایمان کا تحفظ بھی ہے کہ اگر یہ شخص کہیں دوسری جگہ گیا تو ہوسکتا ہے کہ وہاں بھی یہ وبا پھیلے ، ایسی صورت میں اس کا بھاگنا مفید تو نہیں ہوگا البتہ اس عتبار سے نقصاندہ ہوگا کہ وہاں کے لوگ اس وبا کو اس کی آمد سے جوڑیں گے اور ان کی نظر قضاء الہی سے ہٹ کر سبب ظاہری پر ٹک جائے گی، نیز امراض کے جراثیم میں بالذات نقصان ومرض کی ثاثیر نہیں البتہ جس طرح اللہ نے آگ میں جلانے کی صلاحیت دی ہے اسی طرح جراثیم میں اللہ نے بیماریاں رکھ کر اسےبیماریوں کا سبب بنایا ہے ، تو ہوسکتا ہے کہ اس کے جسم میں اس جگہ کچھ ایسے جراثیم پوشیدہ ہوں جو دوسرے مقام پر ’’وبا‘‘کے پھیلنے کا ذریعہ بن جائیں، گویا اس کے وہاں سے نہ نکلنے میں توکل بھی ہے اور دوسروں کے تحفظ کا احتیاط بھی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقام وبا سے کہیں اور نہ جانے کا حکم ترغیبی نوعیت کاہے ، اس لئے فقہاء نے یہ تحریر کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس جگہ سے کہیں اور وباء سے بچنے کے لئے منتقل ہوتا ہے تو اس کایہ عمل مکروہ ہے اور اگر اس خیال سے کہیں اور جاتا ہے کہ اس کا کہیں منتقل ہونا اسے بچانے والا نہیں بلکہ اللہ جو چاہے گا وہی ہوگا تو پھر اس جگہ سے اس کے منتقل ہونے میں کوئی حرج نہیں، اسی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص کاپہلے سے کہیں جانا طے ہے اور وہ اپنے پروگرام کے تحت وہاں سے کہیں کا سفر کرتا ہے یا تجارتی اور معاشی ضرورت کی خاطر سفر ہے یا اسے اپنی ضرورت کی خاطر مقام وبا کو ہی جانا پڑرہا ہےاور اس کا یقین ہے کہ اللہ نے جو تقدیر میں لکھا ہے وہ ہوکر رہے گا تو ایسے شخص کے لئے سفر کرنا اور مقام وبا سے نکلنا یا وہاں جانا درست ہوگا۔ وإذا خرج من بلدة بها الطاعون فإن علم أن كل شيء بقدر الله تعالى فلا بأس بأن يخرج ويدخل وإن كان عنده أنه لو خرج نجا ولو دخل ابتلي به كره له ذلك(ردالمحتار: ۶؍۷۵۷)
البتہ اگر کوئی شخص کسی متعدی مرض ووبا سے دورچار ہوچکا ہوتو اس کے ذمہ یہ احتیاط لازم وضروری ہے کہ دوسرے اس سے متاثر نہ ہوں ،چناں چہ عوامی اجتماع یا وبا سے محفوظ مقام اور افراد کے درمیان اس کا جانا اگرماہرین کی نظر میں اس بیماری کے پھیلنے اور دوسروں کے اس سے متأثر ہونے کا سبب ہو تو ایسے شخص پر لازم ہوگا کہ وہ خود کو اس مرض ووبا سے محفوظ مقام اور افرادسے دور رکھے؛ کیونکہ شریعت کا حکم ہے : لا ضرر ولاضرار(نہ ضرر اٹھایا جائے اور نہ ہی ضرر پہونچایا جائے) اور چونکہ ماہرین کی نظر میں اس کا جانا اور صحت مند افراد سے اختلاط کرنا ان کے لئے باعث ضرر ہے تو ضرر رسانی سے بچنا اس کی ذمہ داری ہے ، اور ایسے حالات میں ماہرین اور حکام کے مشوروں اور احکامات کو ماننا بھی شریعت میں لازم ہے ، جیسا کہ علامہ بیری علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ اگر طاعون ووبا کےایام میں حکام کی طرف سے روزہ رکھنے کی ہدایت جاری ہوتو اس کی پیروی واجب ہوگی۔ لو أمر بصوم أيام الطاعون ونحوه يجب امتثاله (ردالمحتار: ۶؍۴۶۰)
جہاں تک احتیاط کی بات ہے تو اس سلسلہ میں اسلامی تعلیم یہی ہے کہ انسان کسی بھی نقصان دہ چیز سے حفاظت کے لئے حتی المقدور احتیاطی تدبیر اختیار کرے ساتھ ہی تقدیروتوکل علی اللہ سے غفلت کا شکار بھی نہ ہو، احادیث میں جذام (کوڑھ) میں مبتلاء شخص سے دوررہنے بلکہ ایک نیز ہ دور رہنے کی تعلیم دی گئی ہے ، بیمار اونٹ کو صحت مند اونٹ کے قریب لانے سے منع کیا گیا ہے ، یہ سب درحقیقت اسبابِ حفاظت کو اختیار کرنے کی ہی تعلیم ہے ،اس لئے کسی بھی مرض ووبا کے وقت ماہرین کے احتیاطی مشوروں پر عمل کرناچاہئے اور اس کے ساتھ تقدیر پر کامل یقین بھی رکھناچاہئے کہ ہماری احتیاطی تدبیریں درحقیقت ایک انسانی کوشش ہیں جن میں تقدیرمحکم کو ٹالنے کی طاقت نہیں، اور اپنے کمزور اسباب کے ساتھ اللہ سے تعلق کو مستحکم کرنے کے لئے برائیوں سے توبہ واستغفاراور عبادات واذکار کا اہتمام بھی کرنا چاہئے ؛ کیونکہ تعلق مع اللہ اور دعاوں سے وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جن میں اسباب وتدابیر بے بسی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ دعاؤں سے ہی اسباب اورتدبیروں میں جان پڑتی ہے ۔
Login Required to interact.

