مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
رزق حلال کی طلب کے پیش نظر معاشی سرگرمیاں اسلام میں جائز ومستحن ہیں ،بلکہ بسااوقات واجب ہوجاتی ہیں،اور قرآن وحدیث میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا راشاد ہے :
طلب کسب الحلال فریضة بعد الفریضة (کنز العمال:۹۲۳۱،فیض القدیر:حرف الطاء)
حلال کمائی کوطلب کرنا دین کے اولین فرائض کے بعد دوسرا فریضہ ہے۔
نیز رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
من طلب الدنیا حلالا استعفافا عن المسألۃ وسعیا علی اهلہ وتعطفا علی جارہ بعثه اللہ یوم القیامة ووجهه کالقمر لیلة البدر(کنز العمال:۹۲۴۷، تخریج احادیث الاحیاء للعراقی:باب فضل الکسب والحث علیہ ،وکتاب ذم الدنیا)۔
’’جس نے دین کو حلال طریقہ پر طلب کیا خود کو سوال سے بچاتے ہوئے اور اپنے گھر کے لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتے ہوئے اور اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ،تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائیں گے کہ اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح روشن اورچمکدار ہوگا‘‘
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ اس نے معاشی سرگرمیوں میں’’سرمایہ دارانہ نظام ‘‘اور’’ اشتراکیت ‘‘کے طرز کے بجائے ایسا طرز اختیار کیا ہے جس سے دولت کسی ایک کی جاگیر نہیں بنتی ہے ،چناں چہ اسلام میں وہ طرز تجارت ناپسند وممنوع ہے جس میں دولت کسی ایک فرد یا چند لوگوں کے ہاتھ میں سمٹ کر رہ جاتا ہواور بقیہ لوگوں اپنی قوت لا یموت کے لئے ترستے نظر آتے ہوں،اورچند لوگ پوری قوم کی دولت میں حصہ دار بن جاتے ہوں،کیونکہ تجارت کا مقصود ضرورتوں کی تکمیل ہے ،اور ظاہر ہے کہ جب دولت چند مخصوص لوگوں کی جاگیر بن جائے گی تو بقیہ لوگ ان کے محتاج بن کر سامنے آئیں گے،سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت کی اسی خرابی کی وجہ سے اسلام نے اسے ناپسند کیا ہے اور اس نظام کو رد کیا ہے ۔ کیونکہ ان دونوں کے پاس انسان کی معاشی مشکلات کا حل موجود نہ تھا، بلکہ ان دونوں کا حاصل یہ تھا کہ ایک بڑے طبقہ کی محنت کا ثمرہ صرف چند لوگوں کے دامن میں جمع ہورہا تھا۔اورمحنت کرنے والے کو محتاجگی وبے بسی کے سوا کچھ اور ہاتھ نہیں آتاتھا۔ اور پھر ان کے نتیجہ میں سود ،قمار اور سٹہ کا رواج زور پکڑتا تھا جس کی اسلام میں ہرگز گنجائش نہیں ہے۔
(۱)(الف)موجودہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کی حقیقت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی نیچے کام کرنے والے ایک بڑے طبقہ کا مال ناحق بغیر کسی محنت کے اوپرکے چند لوگوں کے ہاتھ میں پہونچتا ہے ،اس لئے سرمایہ دارنہ نظام اور اشتراکیت کو اسلام نے جس قباحت کی وجہ سے ناپسند اور ممنوع قرار دیا ہے اسی طرح اشتراک علت کی وجہ سے نیٹ ورک مارکٹنگ بھی ممنوع ہوگی اور اس میں شرکت جائز نہ ہوگی۔
(ب)قرآن وحدیث میں قمار اور میسر کی حرمت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے،اللہ عزوجل کا ارشادہے:
إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ (المائدہ:۹۰)
جب ہم نیٹ ورک مارکٹنگ پر غور کرتے ہیںتو اس پر قمار کی تعریف پوری اترتی ہے، علامہ ابن تیمیہ نے قمار کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
القمار معناہ ان یوخذ مال الانسان وہو علی مخاطرۃہل یحصل لہ عوضہ اولا یحصل (مجموع فتاوی ابن تیمیہ :۱۹۔۲۸۴)
’’قمار کا معنی یہ ہے کہ کسی کے مال کواس اندیشہ کے ساتھ لے لیا جائے کہ اسے اس کا عوض حاصل ہوگا کہ نہیں‘‘
اس تعریف کے مطابق جب ہم اس معاملہ پرغور کرتے ہیں تو یہ تعریف اس پر صادق آتی ہے اس لئے کہ اس میں شریک ہونے والا جو مال لگاتا ہے وہ اس خطرہ سے یقینا دوچار رہتا ہے کہ اس کو اس کے عوض میں نفع حاصل ہوگا یا نہیں؟بلکہ معاشرہ میں ایک بڑی تعداد ایسے افرادکی ہے جو اس کے چمکدار مستقبل سے متأثر ہوکر اس سے مربوط ہوئے لیکن ممبر سازی کے فن میں ناکامی کی وجہ سے اپنی لگائی ہوئی رقم کی منفعت کو حاصل نہ کرسکے۔اور ایسے معاملات کو جن میں منفعت کا حاصل ہونا یا نہ ہونا، نامعلوم ہواوریہ خطرہ ہوکہ مال کا عوض حاصل ہوگا کہ نہیں،’’بیع غرر‘‘ کہلاتا ہے،چناں چہ مبسوط سرخسی میں غرر کی تعریف اس طرح مذکورہے:
الغرر ماکان مستور العاقبة (مبسوط سرخسی: باب الخیاربغیر الشرط )
’’غرر وہ ہے جس کا انجام نامعلوم ہو‘‘
اوران معاملات سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے جن میں غرر پایا جاتا ہو، ابوداؤد میں یہ روایت مذکور ہے :
نهی رسول اللہﷺ عن بیع الغرر(ابوداؤد:۳۳۷۶)
’’رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر سے منع فرمایا ہے‘‘
(ج)مزید برآں اس میں دوام واستمرارممکن نہیں ہے جیسا کہ اس قسم کی بہت سی اسکیمیں آکر ناپید ہوچکی ہیں،ایک نہ ایک حد پر جاکر اسے بھی یقینی طور پر بند ہونا ہے،تو جب یہ سلسلہ رک جائے گا اس وقت آخری مراحل کے شرکاء کو یقینی طور پر خسارہ سے دوچار ہونا پڑے گا جب کہ اعلی مراحل کے ممبران نفع کے مستحق ہوں گے اور نفع پائیں گے ، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آخری مرحلہ کے ممبران کی تعداد تمام مراحل کے ممبران سے کہیں زیادہ ہوتی ہے،تو اس وقت چند لوگوں کے منافع کا بوجھ اخری مرحلہ کے ممبران کو اٹھانا پڑے گا،اس لئے بجا طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس نظام معیشت کا خلاصہ یہی ہے کہ چند لوگوں کے منافع کی خاطر عوام کی ایک بڑی تعداد خسارہ برداشت کرے۔ظاہرہے کہ اسلام جو تمام کے حقوق کا اور بلا کسی امتیاز ہر ایک کی جان مال کی حفاظت کرتا ہے اس میں کسی ایسے نظام کے جائز ہونے کی گنجائش نہیں نکل سکتی ،جس میں ایک بڑی تعداد کا مال چند لوگوں کے جیب میں بلاکسی محنت کے بیٹھے بٹھائے پہونچے اور نقصان کی صورت میں بھی صرف آخری مراحل کے لوگوں کو ہی نقصان اٹھانا پڑے اور ابتدائی مراحل کے ممبران یقینی فائدہ کے مستحق بنے رہیں۔جب کہ کسی تجارت میں شرکت کی درستگی کے لئے یہ ضروری ہے شرکاء نفع ونقصان دونوں میں شریک ہوں۔
(د)اس کاروبار کی حقیقت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت شرکت پر مبنی نہیں ہے ،کیونکہ شرکت یاتو بصورت مضاربت ہوتی ہے یا بصورت عنان اور اس پر ان دونوں کی تعریف صادق نہیں آتی،بلکہ یہ عقد ،بیع بالشرط اور عقد اجارہ پر مشتمل ایک عقد ہے ،کہ جب کوئی شخص اس کاربار میں خود کو لگانا چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس کمپنی سے کمپنی کی شرط کے مطابق چند چیزیںخریدتا ہے جن میں اس کو انتخاب کا اختیار نہیں ہوتا بلکہ وہ تمام چیزیں خریدنی پڑتی ہیں جو کمپنی کی ’’کٹ ‘‘میں موجود ہوتی ہیں،اس میں سے صرف اپنی ضرورت کے مطابق چیزوں کے لینے کا اختیار نہیں ہوتا ہے(حالانکہ بیع وشراء کا اصل مقصودضرورت کی تکمیل ہے ،اور اسی کے پیش نظر بیع وشراء کا وجود عمل میں آیاہے) اور اس خریداری کے بعدکمپنی سامان کی قیمت کے ساتھ رکنیت کی فیس وصول کرتی ہے اور اس فیس کو وصول کرکے اسے اپنی کمپنی کا اجیر بناتی ہے،اور اجرت یہ متعین کرتی ہے کہ جتنے لوگ اس کے واسطے سے کمپنی سے مربوط ہوں گے ان کے اعتبار سے اس کو کمپنی کمیشن دی گی۔
اس پوری حقیقت پر غور کرنے سے یہ حقائق سامنے آتے ہیں :
(۱) اس معاملہ میںبیع بالشرط پائی جاتی ہے ۔ جبکہ حدیث میں ہے :
ان النبی ﷺ نهی عن بیع وشرط البیع باطل والشرط باطل (مجمع الزوائد:۶۳۸۶)
’’نبی ﷺ نے بیع اور شرط سے منع فرمایا اوربیع بھی باطل ہوگی اور شرط بھی‘‘
اوراس معاملہ میں ایسی شرطیں مذکور ہوتی ہیں، جو مقتضائے عقد کے خلاف ہیں،مثلا یہ شرط کہ کمپنی سے خریدی ہوئی اشیاء کو خود استعمال کرنا ہے ،اسے فروخت کرناممنوع ہے ،اس لئے کہ بازار میں عام فراہم اشیاء کی طرح ان کمپنیوں کی اشیاء کو کھلے عام بازار میںبیچنا اور ان کی دوکان کھولنا ممنوع ہے۔یہ ایک شرط ہے ،جو شرعا درست نہیں ہے اور بیع کے فاسد ہونے کا ذریعہ ہے،صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں:
وکل شرط لا یقتضیه العقد وفیہ منفعة لاحد المتعاقدین اوالمعقود علیه وهو من اهل الاستحقاق یفسدہ کشرط ان لا یبیع المشتری العبد المملوک (فتح القدیر)
’’اور ہر وہ شرط جس کا عقد تقاضا نہ کرتا ہواور اس میں عاقدین میں سے کسی ایک کا یا معقود علیہ کا اگر وہ استحقاق کا اہل ہو،وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے،جیسے کہ یہ شرط کہ خریدار اس غلام کونہ بیچے‘‘
(۲)نیٹ ورک مارکٹنگ کاپہلا عقد دوعقد:عقد بیع اور عقد اجارہ پر مشتمل ہوتاہے ۔(عقدین فی عقد)اور احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے ،روایت میں ہے :
نهی النبی ﷺ عن صفقتین فی صفقة واحدۃ (مسند احمد:۳۷۷۴، مسند بزار:۲۰۱۷)
’’نبی ﷺ نے ایک عقد میں دو عقد کرنے سے منع فرمایا ہے ‘‘
(۳) اس معاملہ میںاجارہ کی اجرت حد درجہ مجہول ونامعلوم ہوتی ہے ۔جبکہ اجارہ کے درست ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اجرت معلوم ومتعین ہو۔صاحب البحرالرائق علامہ ابن نجیم ؒلکھتے ہیں:
اذا کان ماوقع علیه عقد الاجارۃ مجهولا فی نفسه اوفی اجرۃ اوفی مدۃ الاجارۃ اوفی العمل المستاجر علیه فالاجارۃ فاسد (البحرالرائق: باب الاجارۃالفاسدۃ)
جب کہ وہ چیز جس پر عقد اجارہ واقع ہوا ہے مجہول ہو یا اجرت یا مدت اجارہ یا وہ عمل جس کی تکمیل کے لئے عقد اجارہ واقع ہوا ہے اس میں جہالت ہو تو اجارہ فاسد ہے۔
(۴)خریدنے والے کی کامل رضا کا فقدان،اس لئے کہ خریدنے والے کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ ابتدائی معاملات کے وقت صرف اپنی ضرورت کی چیزیں لے ہاں بعد میں تو کمپنی کی کوئی بھی چیز اپنی ضرورت کے مطابق لے سکتا ہے ،لیکن رکنیت حاصل کرنے کے وقت اسے کمپنی کی جانب سے متعین’’ کٹ‘‘ ہی لینی پڑتی ہے چاہے اس میں اس کی ضرورت کی چیز یںہوں یا اس میں موجود اشیاء ایسی ہوں جن کی اسے زندگی میں نہ کبھی ضرورت محسوس ہوئی ہواور نہ اب ہورہی ہو۔لیکن اسے وہ لینا ضروری ہوتا ہے ،اور وہ اس رکنیت کے حاصل کرنے کے لئے جس کے پیچھے ایک’’ موہوم دولت کا خواب‘‘ اسے دکھایا گیا ہوتا ہے، اس سامان کو خرید لیتا ہے ۔اس لئے خریدتے وقت اس کی کامل رضا کا فقدان رہتا ہے ،جبکہ عقد بیع کے درست ہونے کے لئے خریدنے والے کا راضی ہونا ضروری ہے۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کی مروجہ صورتوں میں نہ تو بیع درست ہوتی ہے اور نہ ہی عقد اجارہ درست ہوتا ہے ،مزید یہ کہ اس تجارت کے سوتے قمار اور اور ان معاشی نظام سے ملتے ہیںجن کو اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے، اس لئے اس میں شریک ہونا جائز نہیں ہے۔
(۲)انسان اپنی محنت کے عوض اجرت پاتا ہے ،کمپنی کی جانب سے دیا جانے والا کمیشن بھی ایک اجرت ہے ،اس لئے جن لوگوں کو براہ راست ممبر بنایا ہے یا جن کے ممبر بنانے کے پیچھے اس کی محنت صرف ہوئی ہے ان کی خریداری یا ممبرشب پر کمیشن اور ان لوگوں کی خریداری یا رکنیت کی فیس پر کمیشن جن کے پیچھے اس کی محنت صرف نہیں ہوئی ہے،میں فرق ہونا چاہئے۔چونکہ ثانی الذکر کی خریداری میں یا رکنیت میں اس کا عمل اور اس کی محنت شامل نہیں ہے ،اس لئے وہ کمیشن (اجرت)کا وہ مستحق نہیں ہوگابلکہ وہ لوگ جن کو اس نے براہ راست ممبر بنایا ہے ،ان کے ممبر بن جانے کے بعد کی خریداری پر بھی کمیشن کا استحقا ق نہیں ہونا چاہئے،اس لئے کہ کسی کو ممبر بناتے وقت تو محنت کرنی پڑتی ہے ،لیکن ممبر بنے ہوئے شخص پر کمپنی سے خریداری کرنے کی محنت نہیں کی جاتی ۔بلکہ وہ شخص خود ہی اپنے شوق سے اپنے نفع کی لا لچ میں خریداری کرتا ہے ۔اور عام طور پراس نیٹ ورک مارکٹنگ میں زیادہ ترتوجہ ممبر سازی پرہی کی جاتی ہے ۔اور تمام تر ممبروں کی کوشش دوسروں کوممبر بنانے میں صرف ہوتی ہے ۔گویا اس اجارہ کی حقیقت ممبر سازی کا فریضہ انجام دینا ہے ،اس لئے جن لوگوں کو اس نے ممبر بنایا ہے یا جن کے ممبر بنانے میں اس کی محنت صرف ہوئی ہے ،ان کے ممبر بننے کے وقت کمپنی کو جو رقم حاصل ہوئی ہے ،صرف اس میں سے ہی کمیشن (اجرت )کا استحقاق اسے حاصل ہوتا ہے ۔کیونکہ اس کی حقیقت’’ اجیر مشترک‘‘ کی ہے ۔ اور اجیر مشترک کے بارے میں فقہاء نے یہ صراحت کی ہے کہ وہ عمل اور محنت کے بدلے میں مستحق اجرت ہوتا ہے ،فتاوی ہندیہ میں ہے:
الاجیر المشترک من یستحق الاجربالعمل(فتاوی ہندیۃ)
اجیر مشترک وہ ہے جو اپنے عمل کے بدلے اجرت کا مستحق ہوتا ہے
اسی طرح مجمع الانہر میں مذکور ہے:
ولا یستحق الاجیر المشترک الاجرحتی یعمل(مجع الانہر:فصل احکام الاجیر وانواعہ)
’’اجیر مشترک جب تک عمل نہ کرے اجرت کا حقدرا نہیں ہوتا‘‘
(۳)ممبر بنتے وقت کمپنی جو رقم وصول کرتی ہے اس میں سے کچھ رقم کوسامان کی قیمت اور اور کچھ رقم کو رکنیت فیس، کمپنی قراردیتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ صورت بیع بالشر ط کے دائرہ میںآتی ہے ،اس لئے کہ کمپنی سے سامان کی خریداری میںکمپنی کا ممبر بنناشرط ہے ۔اور یہ ایسی شرط ہے جس میں بائع کا فائدہ ہے اور مقتضائے عقد بیع کے خلاف ہے ،اور ایسی شرط سے بیع فاسد ہوجاتی ہے۔علامہ ابن ہمامؒ لکھتے ہیں:
وکل شرط لا یقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لاحد المتعاقدین اوالمعقود علیہ وہو من اہل الاستحقاق یفسدہ کشرط ان لا یبیع المشتری العبد المملوک ( فتح القدیر)
’’اور ہر وہ شرط جس کا عقد تقاضا نہ کرتا ہواور اس میں عاقدین میں سے کسی ایک کا یا معقود علیہ کا اگر وہ استحقاق کا اہل ہو،وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے،جیسے کہ یہ شرط کہ خریدار اس غلام کونہ بیچے‘‘
(۴) معاملہ کی اس صور میں یقینا غرر پایا جاتاہے ،اس لئے اس میں شرکت کا انجام کے حوالے سے یہ خطرہ لا حق رہتا ہے کہ اسے اپنی لگائی گئی رقم کا عوض حاصل ہوگا یا نہیں،اور غرر کی تعریف یہی ہے کہ معاملہ کا انجام مخفی اور نامعلوم ہو اور عوض ملنے یا نہ ملنے کا اندیشہ لاحق ہو،مبسوط سرخسی میں غرر کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے :
الغرر ماکان مستور العاقبة (مبسوط سرخسی: باب الخیاربغیر الشرط )
’’ غرر وہ ہے جس کا انجام پوشیدہ ہو ‘‘
علامہ جرجانی ؒنے غرر کی یہ تعریف کی ہے :
مایکون مجهول العاقبة لا یدری ایکون ام لا (الموسوعۃ الفقہیہ: غرر)
’’غرر وہ ہے جس کا انجام نامعلوم ہواور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ ہوگا یا نہیں‘‘
ان تعریفوں کے مطابق غرر کی تعریف اس معاملہ پر بالکل منطبق ہوتی ہے اس لئے کہ اس میں جس عمل پر اسے اجیر بنایا جاتا ہے اورجو اس سے رکنیت فیس وصول کی جاتی ہے،اس کا عوض کا انجام نامعلوم ہے کہ وہ عوض اسے حاصل ہوگی یا نہیں۔بلکہ عوض کے حاصل نہ ہونے کا گمان غالب رہتا ہے ۔اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ پانی میں موجود مچھلی اور ہوا میں اڑتی ہوئی چڑیا کی بیع کی جائے ، فقہاء نے اس کو غرر کثیر کی بنیاد پر ناجائز قراردیا ہے ،اس اعتبار سے اس پر بھی غررکثیر کی تعریف وحقیقت پوری اتر تی ہے اس لئے یہ معاملہ بھی تمام ترقباحتوں کے ساتھ غرر کثیر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔
خلاصہ :
(۱)اس تجارت میںشریک ہونا جائز نہیں ہے ۔اس لئے کہ یہ تجارت غرر،قمار ،شروط فاسدہ،عقدین فی عقداور جہالت اجرت وغیرہ پر مشتمل ہے ۔
(۲)ممبر بنانے والے کو صرف ان ہی افراد سے حاصل ہونے والی رقم میں کمیشن (اجرت)کا حق پہونچتا ہے جن کو اس نے براہ راست ممبر بنایا ہے یا جن کے ممبر بنانے میں اس کی محنت صرف ہوئی ہے اورجن کو اس نے براہ راست ممبر بنایا ہے یا جن کے ممبر بنانے میں اس کی محنت صرف ہوئی ہے ان کی تمام خریداری میں اس کا کمیشن درست نہیں ہے بلکہ صرف ممبر سازی کے وقت کی رقم میں یہ کمیشن (اجرت) کا مستحق ہے ۔کیونکہ اس کی حیثیت اجیر مشترک کی ہے۔ اور اجیر مشترک عمل کے بعد مستحق اجرت بنتا ہے۔
(۳)کمپنی کو دی جانے والی رقم میں سے کمپنی کا کچھ رقم کو فراہم کردہ سامان کی قیمت اور کچھ رقم کو رکنیت کی فیس قراردینا ،بیع بالشرط میں داخل ہے ۔اور یہ شرط عقدکو فاسد کرنے والی ہے ۔
(۴)معاملہ کی اس صورت میں غرر کثیر پایا جاتا ہے ۔{ واللہ اعلم وعلمہ اتم }
Login Required to interact.

