===
ناموں کے سابقہ اور لاحقہ میں بڑے پیمانے پر ماضی میں غفلت رہی ہے اور اور آج بھی ہے ، مثلا کسی کا نام محمد زید احمد ہے تو کہیں پر محمد زید کہیں پر زید احمد اور کہیں صرف زید لکھ دیا جاتا ہے ، اور اس پر بہت خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے ، مردوں کی بہ نسبت خواتین کے ناموں میں تو بہت فرق ملتا ہے ، کہیں بی بی عائشہ ، کہیں عائشہ خاتون ، کہیں عائشہ بیگم وغیرہ اور پھر شادی کے بعد نئے فیشن کے تحت اصل نام میں شوہر کا نام شامل کرکے مثلا عائشہ احمد وغیرہ۔ چند سال قبل راقم الحروف نے شادی کے بعد نام کی تبدیلی کے موضوع پر ایک تحریر لکھی تھی جس میں اسلامی تعلیمات اور حالات کی روشنی میں اس عمل سے باز رہنے کی ترغیب دی تھی، بہر حال نام کی یکسانیت کی اہمیت سے غفلت کی وجہ سے نام کے اجزاء میں ہزاہا ہزار لوگوں کے نام میں یکسانیت نہیں ہے ، جو کہ موجودہ ڈیجیٹل زمانہ میں پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور آسام میں بہت سے لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہے ، مثلا اکنامکس ٹائمس کی رپوڑٹ کے مطابق ایک صاحب جن کا نام تجب علی Tajab Ali ہے غلطی سے ۱۹۸۵ کے ووٹر لسٹ میں ان کا نام Tajap Ali لکھا گیا اسی طرح ان کے والد کے نام میں ’’علی‘‘ کا لفظ بڑھ گیا تو ان کے لئے مشکلات کھڑی ہوگئیں ، یہ حال ہزاروں لوگوں کا ہے اور مستقبل میں پورے ملک کے لئے یہ مسئلہ پیچیدہ بننے کے اندیشے ظاہر ہورہے ہیں ، اس کے علاوہ نام کی عدم یکسانیت بہت سے لوگوں کو دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی پریشانی کا باعث بنتی ہے مثلا تعلیمی صداقت ناموں اور پاسپوڑٹ میں ناموں میں یکسانیت نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں کو ملازمت کے میدان میں حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس لئے ہم سبھوں پر ضروری ہے کہ اس مسئلہ میں شعور بیدار کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس سے واقف کریں تاکہ وہ بھی ہرجگہ اپنا نام پورا پورا صحیح لکھیں اور لکھائیں ۔
نام کی تبدیلی اور غلطیوں کی اصلاح کے قانونی راستے بھی ہیں ان کو اختیار کریں ، مثلا کسی ایک مسلمہ دستاویز میں نام درست ہے تو اس کی بنیاد پر دیگر میں اصلاح کرائیں ۔ اور اس میں تمام دستاویز کو چیک کریں حتی کے تعلیمی صداقت ناموں میں بھی اگر فرق ہے تو اس کی اصلاح کریں ، ایجوکیشن بوڑڈ میں اس کی اصلاح کے خاص طریقے ہیں جن اختیار کرکے اس کام کو کیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح پیدائشی سرٹیفیکیٹ کا بھی معاملہ ہے کہ پیدائش کے وقت لوگ خوشی میں کچھ بھی لکھا دیتے ہیں اور پھر بعد میں کوئی اور نام پسند آجاتا ہے تو اسے متعین کردیتے ہیں ، اولا تو شروع میں ہی صحیح لکھوائیں اور اگر متعلقہ آفس سے غلط لکھ کر ملا ہے تو اسے قبول نہ کریں بلکہ خود انہیں اس کی اصلاح پر آمادہ کریں اور اگر بعد میں تبدیلی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح کے قانونی راستوں کے ذریعہ ضرور اصلاح کریں۔
موجودہ زمانہ میں انگلش کا خاص رواج ہے ، اس میں نام لکھوانے میں صحیح اسپلنگ کو ضرور چیک کریں ، اور یکساں رکھیں ، مثلا: MD / Mohammad/ Mohammed/ Mohd ، یکساں رکھیں ، گرچہ حقیقت کے اعتبار سے یہ سب ایک مانے جاتے ہیں ، لیکن اپنی کوشش ان کو یکساں رکھنے کی ہو ، تاکہ کسی کے لئے کوئی بہانا نہ ملے ۔ بسا اوقات خود متعلقہ آفس والے شارٹ فام میں MD یا Mohd لکھ دیتے ہیں ان کو اس پر ٹوکیں اور ان سے صحیح لکھوائیں ۔ اسی طرح کسی نام میں اردو تلفظ کے اعتبار سے EE یا صرف I لکھنے سے کام چل سکتا ہے اس لئے کبھی EE اور کبھی I لکھ دیتے ہیں لیکن اس سے بچیں ہر جگہ یکساں رکھیں ۔
بہت سی مسلم خواتین کے نام میں اردو میں ’’بی بی‘‘ کا لفظ ہے اسے بعض جگہ انگریزی میں BIBI بعض جگہ Bivi اور بعض جگہ Vivi اور بعض جگہ Biwi لکھ دیا جاتا ہے ، اس کو بھی یکساں رکھنے کی کوشش کریں ۔
بہت سی مسلم خواتین کے نام میں اردو میں ’’بی بی‘‘ کا لفظ ہے اسے بعض جگہ انگریزی میں BIBI بعض جگہ Bivi اور بعض جگہ Vivi اور بعض جگہ Biwi لکھ دیا جاتا ہے ، اس کو بھی یکساں رکھنے کی کوشش کریں ۔
خاندانی تعارفی الفاظ : سید ، شیخ ، خاں ، انصاری وغیرہ بھی نام کا جزء بن جاتے ہیں اور اسے نام کے جزء کی نظر سے ہی دیکھا جاتا ہے ، اس لئے اس کی تحریر میں بھی یکسانیت رکھنے کی کوشش کریں ، یہی حال ان الفاظ کا ہے جو تعلیمی نسبت سے لکھے جاتے ہیں مثلا : قاسمی ، ندوی ، فلاحی ، مفتاحی وغیرہ ، اس سلسلہ میں فضلاء سے گزارش ہے کہ اپنے عوامی تعارف میں آپ گرچہ پاکیزہ تعلیمی نسبتوں کو لکھتے ہوں لیکن مسلمہ کاغذات میں ہمیشہ ان کو نظر انداز کریں کیونکہ اس سے فراغت سے پہلے کے کاغذات میں یکسانیت نہیں رہے گی ۔
جو لوگ زندہ ہیں ان کے ناموں کی اصلاح کی کوشش تو ہوسکتی ہے لیکن بسا اوقات خاص مشکلات کی وجہ سے نہیں ہوپاتی ہے اسی طرح مرحوم آباء واجداد کے ناموں کی غلطیاں یا ان کے ریکاڑڈ میں موجود ناموں میں عدم یکسانیت کی اصلاح مشکل بلکہ ناممکن ہے مثلا کسی زمین کے پیپر میں سید زید احمد لکہا ہے تو کسی پر زید احمد ہے تو ایسی صورت میں بھی مسئلہ کا قانونی حل ہے وہ یہ ہے کہ اپنے علاقہ کی تحصیل ، بلاک وغیرہ سےThe One and same person Affidavit ضرور حاصل کریں ، تاکہ فرق کو قانونی یکسانیت حاصل ہوجائے ۔ اس کے لئے آپ اپنے کسی معتمد وکیل سے مشورہ کرسکتے ہیں اور گوگل پر بھی اس کی مزید معلومات حاصل کرسکے ہیں ۔
ایک اہم مشورہ یہ ہے بھی کہ آج کل تمام کاغذی دستاویزات بشمول زمین وجائیداد کے کاغذات کو ڈیجیٹل اور آن لائن کیا جارہا ہے اس میں خاص طور پر غلطی یہ ہوتی ہے کہ لکھے ہوئے کاغذات میں کچھ ہوتا ہے جو کہ صحیح ہوتا ہے جبکہ اس کو آن لائن کرنے میں ڈاٹا انٹری کی غلطی ہوجاتی ہے ، اور آن لائن ریکاڑڈ کی بڑی اہمیت ہے اس لئے اپنے کاغذات کو آن لائن بھی چیک کرلیں اور اگر کوئی غلطی ہے تو اس کی اصلاح کی کوشش اصل کاغذات کو دکھاکر ضرور کرلیں۔ مثلا زمین کے ریکاڑڈ کو دیکھنے کے لئے اس کے لئے متعلقہ آفس سے معلومات لے سکتے ہیں یا گوگل پر Online Land Records لکھ کر اپنے صوبے کی متعلقہ ویب سائٹ پر اس کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں کئی معلوماتی ویڈیو یوٹیوب پر بھی ہیں جن سے آپ آن لائن ریکاڑڈ دیکھنے کا طریقہ معلوم کرسکتے ہیں مثلا آپ اگرلکھیں how to know land records تو کئی معلوماتی ویڈیو مل جائیں گی جن سے آپ استفادہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر کاغذات کو دیکھنے کی بھی سہولتیں ہیں جن کو دیکھ لینا اور چیک کرلینا ضروری ہے ۔
اللہ ہم سب پر اپنا فضل فرمائے اور اپنی عافیت کے سائے میں حفاظت نصیب فرمائے ۔
Login Required to interact.

