تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
آج کل میڈیا میں عورتوں کے درگاہوں پرجانے کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے ، بالخصوص بعض خواتین کی جانب سے اس کا پرزور مطالبہ بھی ہے کہ اسلام میں مساوات ہے اسلئے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی درگاہوں (بالخصوص حاجی علی ممبئی کی درگاہ) پرحاضری کی اجازت ملنی چاہئےاور اس سے عورتوں کو روکنا ان کے ساتھ عدم مساوات اور ظلم ہے؛ کیونکہ اسلامی تعلیمات میں ان کو اس کی اجازت حاصل ہے ۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مساوات کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ تمام احکام میں مردوں اور عورتوں میں یکسانیت ہو، یہ بات عقلی طور پر بھی ناممکن ہے ؛کیونکہ جنس اور جنس کے امتیازات وخصوصیات میں فرق ہونے کی صورت میں احکام میں بھی فرق ہونا لازمی ہے ، ورنہ یکساں احکام عقل وفطرت کے خلاف ہوں گےاور صنفی امتیازات سے بھی ہم آہنگ نہ ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی احکام ہی میں نہیں بلکہ تمام مذاہب میں اور اسی طرح انسانوں کے وضعی قوانین میں بھی بہت سے احکام وقوانین میں مردو ں اور عورتوں کے مابین فرق پایا جاتا ہے ۔
اسلام نے بھی جنسی امتیازات اور خصوصیات کو احکام میں پیش نظر رکھا ہے اور ہر موڑ پر عورتوں کی صنفی نزاکت ،قوت وطاقت میں ان کی فطری کمزوری اور ان کی عفت وعصمت کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے بارے میں خصوصی احکام دئے ہیں اور ان کو ان تمام اعمال سے دور رکھا ہے جو ان کی صنفی نزاکت سے میل نہیں کھاتے یا جن سے ان کی چادر عصمت داغدار ہوتی ہے ، اور ان کی پاکیزہ عفت تک شیطانی نظر وںکا پہونچنا آسان ہوتا ہے ۔
قبروں کی زیارت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو اس سے مطلقا ً منع کردیا گیا تھا ، لیکن جب عقائد میں پختگی ہوگئی، توحید کی سچی معرفت حاصل ہوگئی اورایمان وکفر کا حقیقی امتیاز حضرات صحابہ کرام کو معلوم ہوگیا تو اس کی اجازت دے دی گئی،رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّهَا تُذَکِّرُکُمُ الْمَوْتَ.(مسلم : ۹۷۷ ، حاکم : ۱۳۸۸)
’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا ، اب زیارت کیا کرو یہ تمہیں موت کی یاد دلائے گی‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
إِنِّی کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ القُبُوْرِ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَزُوْرَ قَبْرًا فَلْيَزُرْهُ فَإِنَّهُ يَرِقُ الْقَلْبَ وَيُدمِعُ الْعَيْنَ ويُذَکِّرَ الْآخِرَةَ.(حاکم: ۱۳۹۴)
’’بے شک میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا اب جو بھی قبر کی زیارت کرنا چاہے اسے اجازت ہے کہ وہ زیارت کرے کیونکہ یہ زیارت دل کو نرم کرتی ہے، آنکھوں سے (خشیتِ الٰہی میں) آنسو بہاتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘
اس فرمان نبوی کے بعد اجازت مل گئی لیکن اس اجازت میں عورتیں بھی شامل ہیں یا نہیں اس سلسلہ میں محدثین وفقہاء کے مابین اختلاف ہے ۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ اجازت صرف مردوں کو دی گئی عورتوں کے لئے ممانعت باقی رہی کیونکہ عورتوں کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ ( ابن ماجہ : ۱۵۷۵)
’’رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ‘‘
اس کے برخلاف فقہاء ومحدثین کی ایک جماعت کی رائے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جو اجازت دی گئی اس میں مرد وعورت دونوں شامل ہیں ، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے بھائی عبد الرحمن کی قبر کی زیارت کو جاتی تھیں اسی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ حضرت حمزہ کی قبر کی زیارت کے لئے جاتی تھیں۔علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
أما على الأصح من مذهبنا وهو قول الكرخي وغيره من أن الرخصة في زيارة القبور ثابتة للرجال والنساء جميعا فلا إشكال( شامی: ۲؍۶۲۶)
لیکن یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ عورتوں کے لئے جو فقہاء اور محدثین اس کے جائز ہونے قائل ہیں ان تمام کی تحریروں میں یہ بھی شرط لکھی ہوئی ہے کہ یہ اجازت صرف اس صورت میں ہے جب کہ کسی قسم کے فتنہ کا کوئی اندیشہ نہ ہو، علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
وأمّا النّساء إذا أردن زيارة القبور إن کان ذلک لتجديد الحزن، والبکاء، والندب کما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة، وعليه يحمل الحديث الصحيح ’’لعن اﷲ زائرات القبور‘‘. وإن کان للاعتبار، والتّرحّم، والتّبرّک بزيارة قبور الصّالحين من غير ما يخالف الشّرع فلا بأس به، إذا کنّ عجائز. وکره ذلک للشّابات، کحضورهن في المساجد للجماعات. وحاصله أن محل الرخص لهن إذا کانت الزيارة علي وجه ليس فيه فتنة (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: ۳۴۰۔ ۳۴۱)
’’عورتیں جب زیارتِ قبور کا ارادہ کریں تو اس سے ان کا مقصد اگر آہ و بکا کرنا ہو جیسا کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے تو اس صورت میں ان کے لئے زیارت کے لئے جانا جائز نہیں اور ایسی صورت پر اس صحیح حدیث مبارکہ کہ اﷲتعالیٰ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرماتا ہے، کا اطلاق ہو گا اور اگر زیارت سے اُن کا مقصد عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور قبورِ صالحین سے اﷲ تعالیٰ کی رحمت کی طلب اور حصولِ برکت ہو جس سے شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو تو اس صورت میں زیارت کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ خواتین بوڑھی ہوں، نوجوان عورتوں کا (بے پردہ) زیارت کے لئے جانا مکروہ ہے جیسا کہ ان کا مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز کے لئے آنا مکروہ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کی رخصت تب ہے جب اس طریقے سے زیارت قبور کو جائیں کہ جس میں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو‘‘
علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
واختلف في النّساء، فقيل : دخلن في عموم الإذن، وهو قول الأکثر، و محله ما إذا أمنت الفتنة (فتح الباری: ۳؍۱۴۸)
’’عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورتیں بھی عمومِ اجازت میں شامل ہیں۔ یہ جمہور ائمہ کا قول ہے اور یہ اجازت تب ہے جب فتنہ کا اندیشہ نہ ہو‘‘
فقہاء کرام اور محدثین کی ان تحریروں کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کا قبروں کی زیارت کے لئے جانا بعض کے نزدیک حرام ہے اور بعض کے نزدیک صرف اس صورت میں جائز ہے جب کہ فتنہ کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔اگر فتنہ کا اندیشہ ہوتو ان حضرات کے نزدیک بھی ناجائز ہی ہوگا۔موجودہ زمانہ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ دور دور فتن ہےاور فتنوں کا ہر طرف دور دورہ ہے ، اور مزارات پر جو خرافات اور فتنے ہوتے ہیں ان کو ہر شخص جانتا ہے، اور اس کا وہ لوگ بھی اعتراف کرتے ہیں جو عرس ونیاز کے قائل ہیں، مثلا ًمولانا طاہر القادری لکھتے ہیں:
قبور کی زیارت کا پہلا مقصد تو عبرت، خشیت، تذکیر آخرت اور استحضارِ موت ہے۔۔۔۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ فی زمانہ زائرین کی اکثریت مقصد اولیٰ یعنی خشیت کو پسِ پشت ڈال چکی ہے۔ ۔۔۔بعض مزارات پر عام دنوں میں بالعموم اور اعراس کے مواقع پر بالخصوص ناچ گانے بھنگڑے دھمال اور دیگر خرافات کا باقاعدہ انتظام ہوتا ہے۔۔۔ان اعمال غیر شرعیہ کا ارتکاب قطعاً ناجائز اور نامناسب ہے۔ تعلیمات تصوف و طریقت کی کھلی مخالفت کا موجب ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بھی۔۔۔مزاراتِ مقدسہ پر بعض دیگر قباحتیں بھی ایک عرصے سے جڑھ پکڑ چکی ہیں۔۔۔ا ن غیر شرعی امور میں نوراتیں ماننا، منتیں مان کر کپڑوں وغیرہ میں گرہیں لگانا، مزار کا طواف کرنا اور وہاں سجدہ کا ارتکاب کرنا بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ان سب سے بڑھ کر بعض مزارات اور قبر ستانوں میں مجاور براجمان ہوتے ہیں وہ چونکہ خود غلیظ ہوتے ہیں اس لئے اہلِ ایمان کی قبروں کی حرمت کے تقاضوں سے بھی بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ان شیطان صفت لوگوں میں کئی پیشہ ور مجرم بھی ہوتے ہیں جو روپ بدل کر ایسے مقامات کو ناجائز کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ مزارات کے ماحول میں گندگی پھیلاتے ہیں خود نشہ کرتے ہیں چرس افیون اور سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ کئی تو زائرین کو بھی دعوتِ گناہ دیتے ہیں اور بعض بھولے مانس اسے ’’خصوصی فیض‘‘ سمجھ کر انکی دعوت کو قبول بھی کر لیتے ہیں۔ یہاں سے برائی کی رغبت اور تبلیغ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی لوگ عام طور پر بردہ فروشی، عصمت فروشی اور اغوا برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔۔۔بہت سے چھوٹے بڑے مزارات کے احاطے جہاں عوام الناس کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہاں آئے روز ایسے جرائم بھی ہوتے ہیں اور اخبارات کے خصوصی فیچرز کی زینت بنتے ہیں۔ ان خبروں کو بڑھنے سننے والے یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ مراکز شاہد انہی برائیوں کا مرکز ہیں۔۔۔اسی طرح ان مزارات پر بعض بے سہارا عورتیں حالات و زمانہ کی تنگی کا شکار ہو کر پناہ لینے آتی ہیں مگر یہاں پر موجود کچھ چالاک اور بدکردار خواتین انہیں اپنے دام فریب میں پھنسا لیتی ہیں جس کے بعد وہ مجبور و بے بس عورتیں خود برائی اور معصیت کا نشان بن جاتی ہیں۔۔۔اختلاطِ مرد و زن بھی ایک بڑی قباحت ہے اوریہ عام طور پر وہاں دیکھنے میں آتا ہے جہاں ماحول حکومتی اوقاف کے زیرِ اہتمام ہوتا ہے۔ (زیارت قبور کا شرعی تصور: ۱۶۸، مصنف: مولانا طاہر القادری)
یہ تو صرف چند خرافات اور فتنوں کی نشاندہی ہے ورنہ درگاہوں اور مزارات کے فتنوں کی طویل فہرست ہے اور بے شمار عورتیں وہاں اپنی عصمت کو تار تار کرچکی ہیں، عقائد کا بگار اور دین وایمان کے خلاف شرکیہ اعمال اس کے علاوہ ہیں ، اس لئے ان فتنوں کی وجہ سے بعد کے تمام فقہاء عورتوں کےمزارات پر جانے کو حرام قرار دیتے ہیں:
علامہ حلبی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
وان یکون فی زماننا للتحریم لما فی خروجہن من الفساد ، سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر ؟فقال لایسئل عن الجواز والفساد فی مثل ھذا ، وانما یسئل عن مقدار ما یلحقہا من اللعن فیہ ، واعلم انہا کلما قصدت الخروج کانت فی لعنۃ اللہ وملائکتہ ، واذا خرجت تحفہا الشیاطین من کل جانب واذا اتت القبور یلعنہا روح المیت واذا رجعت کانت فی لعنۃ اللہ۔(شرح منیۃ المصلی: ۵۲۴)
’’ہمارے زمانہ میں عورتوں کا قبروں پر جانا حرام ہونے کا فتوی ہونا چاہئے ، کیونکہ ان کے وہاں جانے میں فساد ہے ، قاضی خان سے عورتوں کے قبروں پر جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کہ جواز اور فساد کے بارے میں پوچھنے کے بجائے یہ پوچھا جائے کہ اس پر وہاں جانے میں کتنی لعنت ہوتی ہے ، یہ جان لو کہ عورت جب بھی قبروں طرف جانے کا ارادہ کرتی ہے اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت ہوتی ہے اور جب وہ وہاں جانے کے لئے گھر سے نکلتی ہے تو ہر طرف سے شیاطین اس کو گھیر لیتےہیں، اور جب وہ قبروں کے پاس آتی ہے تو مردے کی روح اس پر لعنت کرتی ہے، اور جب وہ لوٹتی ہے تو اللہ کی لعنت میں ہوتی ہے‘‘
فتاویٰ دارالعلوم دیوبندمیں ہے:
عورتوں کا مزارات اولیاء اللہ وغیرہم پر جانا جائز نہیں ہے (فتاوی دارالعلوم دیوبند :۱۴؍۲۷۰)
مولانا طاہر القادری لکھتے ہیں:
’’ عورتوں کا زیارتِ قبور کے لیے جانا اگر آخرت کی یاد دہانی، حصولِ عبرت، نصیحت اور زہد کے لیے ہو تو جائز ہے لیکن اگر ان کا جانا فتنہ اور بے حیائی کا باعث ہو اور شرعی حدود و قیود کا ارتفاع ہو تو پھر ممنوع ہے۔ ان وجوہات ہی کے باعث ہمارے بہت سے اکابر جن میں امام الھند اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں، نے عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کو جانا حرام قرار دیا ہے‘‘ (زیارت قبور کا شرعی تصور: ۱۷۸)
مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒ ایک فتوی میںلکھتے ہیں:
’’عورتوں کو مقابر اولیاء ومزارات عوام دونوں پر جانے کی ممانعت ہے۔‘‘
ایک فتوی میں لکھتے ہیں:
’’اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم‘‘
ایک اور فتوی میں لکھتےہیں:
’’عورتوں کو زیارت قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے:لعن اﷲ زائرات القبوراﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو قبروں کی زیارت کوجائیں ‘‘(فتاویٰ رضویہ: باب الجنائز، زیارت قبور)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر قدیم فقہاء کی تحریر کی روشنی میں عورتوں کے لئے زیارت قبور کی اجازت تسلیم کی جائے تو بھی موجودہ زمانہ میں مزارات کا جو برا حال ہے اور وہاں پر جو فتنوں کی کثرت ہے ان کی وجہ سے عورتوں کا وہاں جانا قطعا جائز نہیں ہے، بلکہ وہاں کے حالات سے تو یہ کہنا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دین وایمان کے تحفظ کی خاطر موجودہ حالات میں مردوں کے لئے بھی وہاں جانا غیر شرعی ہے ؛ کیونکہ اس مقام سے عبرت وموعظت تو درکنار وہاں کے خرافات سے بچنا مشکل ہے ، اور شریعت کا مزاج ہے کہ معصیت کی جگہوں سے دور ی اختیار کی جائے۔رہی بات فکر آخرت اور موعظت وعبرت اوراپنی موت کی یاد کی تو یہ عام قبرستان سے توحاصل ہوسکتا ہے جہاں کی ویرانگی اورقبروں کی بوسیدگی انسانی قلب کو جھنجھوڑتی ہے ،مگرموجودہ درگاہوں سے تو عبرت اور فکر آخرت اور موت کی یاد نہیں آتی ،بلکہ انسان وہاں کی خرافات اورشور وہنگامہ میں خود اپنی موت کو بھول جاتا ہے، اور وہاں کی بدعات اورغیر شرعی اعمال میں مبتلا ہوکر دین وایمان کو بھی ضائع کرلیتا ہے۔
Login Required to interact.

