===
عن ابن عمر ؓ قال کنا نحدث بحجۃ الوداع ولا ندری انہ الوداع من رسول اللہ ﷺ فلما کان فی حجۃ الوداع خطب رسول اللہ ﷺفذکر المسیح الدجال فاطنب فی ذکرہ فقال ما بعث اللہ من نبی الا قدانذرہ امتہ انذرہ نوح امتہ والنبیون من بعدہ الاماخفی علیکم من شانہ فلا یخفین علیکم ان ربکم لیس باعور(مسند احمد ۵۹۰۹،بخاری:۴۰۵۱)
’’حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ہم حجۃ الوداع کی بات کر رہے تھے اور ہمیں یہ نہیں معلو م تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ سے آخری ملاقات ہے،حجۃ الوداع میں رسو ل اللہ ﷺ نے تقریر فرمائی اس میں مسیح دجال کاتفصیلی تذکرہ کیااور آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے جس نبی کوبھی بھیجا انہوں نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا نوح علیہ السلام نے اپنی امت کو اور ان کے بعدکے انبیاء نے اپنی اپنی امت کو اس سے ڈرایا،سنو تم پر اس کے حالات جس قدر بھی مخفی رہیں،مگر یہ بات تم پر ہرگز مخفی نہ رہے کہ تمہارا رب’’اعور‘‘(کانا ) نہیں ہے ‘‘
اس روایت میں خطبہ حجۃ الوداع کی متعد د نصیحتوں میں سے ایک نصیحت کو بیان کیا گیا ہے کہ دجال سے ہوشیار رہا جائے اور اس کے فتنہ سے باخبر رہا جائے تاکہ اس کے فتنوں کے ظاہر ہونے کے وقت اس کی روشنی میں اس کا کفر پہچانا جاسکے اور اس کے فتنوں سے بچا جاسکے۔
رسو ل اللہ ﷺ نے دجال کی شر انگیزی سے امت کو بچانے کے لئے مختلف مواقع پر اس کے احوال وکوائف ،اس کی شرارتوں اوراس کے دعووں سے اپنی امت کو تفصیل کے ساتھ باخبر کیاہے تاکہ اس سے بچنا آسان ہوسکے،ایک مرتبہ آپ ﷺ نے بڑی تفصیل کے ساتھ یہ ارشاد فرمایا:
’’آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعدروئے زمین پر کوئی فتنہ فتنہ دجال سے بڑا نہیں ہے ،اللہ نے جس نبی کو بھی بھیجا انہوں اپنی امت کو اس سے ڈرایا ،میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو ، وہ تم میں نکلنے والا ہے، اگر وہ تمہارے درمیان میری موجودگی میں نکلا تو میں ہر مسلمان کی طرف سے اس سے مقابلہ کروں گا اور غالب آجاؤں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو ہر انسان کواپنی جان بچانے کے لئے اس سے مقابلہ کرنا پڑے گا اور ہر مسلمان پر اللہ میرا خلیفہ ہوگا ۔وہ شام اور عراق کے مابین کسی جگہ سے نکلے گا پھر وہ شمال وجنوب میں فساد برپا کردے گا،اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا کیونکہ میں تم سے اس کے اوصاف اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردے رہا ہوں کہ مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کیا۔وہ سب سے پہلے یہ دعوی کرے گا کہ میں نبی ہوں ،حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں پھر وہ یہ دعوی کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، حالانکہ تم مرنے سے پہلے اپنے رب کو دیکھ نہیں سکتے،وہ کانا ہوگا اور بیشک تمہارا رب عزوجل ’’کانا‘‘ نہیں ہے ،اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ’’کافر‘‘لکھا ہوا ہوگا اسے ہر مومن خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو پڑھ لے گا ، اس کے فتنوں میں یہ فتنہ بھی ہوگا کہ اس کے ساتھ جنت وجہنم ہوگی ،اس کی جہنم جنت ہے اور اس کی جنت جہنم ہے ،جو اس کی جہنم میں ڈال دیا جائے تو وہ اللہ سے مدد کی فریاد کرے اور سورۂ کہف کی ابتدائی آیات کو پڑھے، اس سے وہ جہنم اس کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے بن گئی تھی ،اس کے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک دیہاتی سے کہے گا کے اگر میں تمہارے ماں باپ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کا اقرار کرو گے؟تو وہ دیہاتی کہے گا ہاں اقرار کروں گا،شیطان اس کے ماں باپ کی صورت اختیار کرکے اس کے سامنے آجائے گااور وہ دونوں (اس کے والدین کی صورت اختیار کئے ہو ئے دونوں شیطان) اس سے کہیں گے،اے میرے بیٹے اس کی پیروی کرو یہ تیرا رب ہے ،اس کے فتنوں میں سے یہ فتنہ بھی ہوگا کہ ایک شخص کو پکڑ لے گا، اسے قتل کردے گا اور اسے ’’منشار‘‘(لکڑی کاٹنے کی آری)سے دو ٹکڑے کردے گا پھر کہا گا اے لوگو! میرے اس بندے کو دیکھو !میں ابھی اسے دوبارہ زندہ کردیتا ہوں پھر بھی یہ یقین رکھے گا کہ اس کا رب میرے علاوہ کوئی اور ہے ،پھر اللہ اسے زندہ کردیں گے تو وہ خبیث کہے گا :تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دے گا میرا رب اللہ ہے اور تو تو اللہ کا دشمن ہے تو ہی دجال ہے، بخدااب تک مجھے تمہارے بارے میں اتنا شرح صدر نہیں تھا جتنا اب ہے‘‘(ابن ماجہ:۴۰۶۷)
اسی طرح ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے اس کے اس فتنہ کی نشاندہی کی کہ وہ ایک گاؤں سے گذرے گا،وہاں کے لوگ اس کو جھٹلائیں گے تو وہاں کے سارے مویشی ہلاک ہوجائیں گے اور ایک دوسرے گاؤں سے گذرے گا، وہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو وہ آسمان کو پا نی برسانے کو کہے گا تو بارش ہوگی، زمین کو گھاس اگانے کے لئے کہے گا تو گھاس اگ جائے گی، یہاں تک کہ ان لوگوں کے جانور اتنے شکم سیر ،اتنے فربے، اتنے مضبوط اوراتنے دودھ دینے والے ہوجائیں گے جتنے کبھی نہ تھے ،روئے زمین پر کوئی جگہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ ایسی نہیں بچے گی جہاں وہ نہ گیا ہو ،وہ مکہ اور مدینہ کسی بھی راستہ سے آنے کی کوشش کرے گا تو فرشتے تلوار سے اس کا مقابلہ کریں گے۔بالآخر عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا اور آپ کو دیکھ کر وہ برف کی طرح پگھل جائے گا اور بھاگے گاتوعیسی علیہ السلام اس کو گرفتار کرکے قتل کردیں گے۔(حوالہ سابق)
دجال کے بارے میں اور بھی بہت سی تفصیلی معلومات مختلف روایتوں میں مذکور ہیںجن کی یہاں گنجائش نہیں، بہر حال اللہ سے یہ دعا کی جائی کہ اللہ تعالیٰ اس کے فتنوں سے حفاظت فرمائے۔
رسو ل اللہ ﷺنے خطبہ حجۃ الوداع میں دجال کے تفصیلی تذکرہ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی ضروری باتیں بیان کی تھیں آپ ﷺ نے فرمایاتھا:
ان دماء کم واموالکم حرام علیکم کحرمۃ یومکم ہذا فی شہرکم ہذا فی بلدکم ہذاالاکل شی ٔ من امر الجاہلیۃ تحت قدمی موضوع ودماء الجاہلیۃ موضوعۃ واول دم اضع من دمائنا دم ربیعۃ بن الحارث کان مسترضعا فی بنی سعد فقتلتہ ہذیل وربا الجاہلیۃ موضوع واول ربا اضع ربانا ربا عباس بن عبد المطلب فانہن موضوع کلہ فاتقو اللہ فی النساء فانکم اخذتموہن بامان اللہ واستحللتم فروجہن بکلمۃ اللہ ولکم علیہن ان لا یوطئن فرشکم احدا تکرہونہ فان فعلن فاضربوہن ضربا غیر مبرح ولہن علیکم رزقہن وکسوتہن بالمعروف وقد ترکت فیکم مالن تضلواان اعتصمتم بہ کتاب اللہ(مسلم:۲۱۳۷عن جابر بن عبد اللہ)
’’بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اسی طرح محترم ہیں جس طرح اس شہر (مکہ)میں اور اس مہینہ(ذی الحجہ) میں آج کا یہ دن(یوم النحر) محترم ہے ،سنو جاہلیت کے تمام کام میرے قدموں کے نیچے ہیں(یعنی اب ان کو زندہ کرنا اور ان کو رواج دینا جائز نہیں بلکہ میں نے ان کو اپنے قدموں سے رونددیا ہے اور ختم کردیاہے)جاہلیت کے خون کو معاف کردیا گیا (اب اس کا بدلہ لینا جائز نہیں)اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان کے خون میں سے ربیعہ بن حارث کے خون کو معاف کرتا ہوں،یہ ربیعہ بن حارث قبیلہ بنو سعد میں دودھ پی رہے تھے ان کو قبیلہ ہذیل نے قتل کردیا،اوردور جاہلیت کے تمام سود کالعدم قراد دئے گئے اور سب سے پہلے اپنے سود میں سے میں عباس بن عبد المطلب سے سود کو کالعدم قرار دیتا ہوں وہ سب کے سب بالکل کالعدم ہوگئے،تم لوگ عورتوں کے سلسلہ میںاللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور ان کی عزت کو تم نے اللہ کے کلمہ کے ذریعہ حلال کیا ہے (اس لئے ہر موڑ پر اس بات کا خیال رہے کہ جو ظلم وزیادتی اور ناروا سلوک ہم اس کے ساتھ کریں گے اس کا اللہ کا پاس جواب بھی دینا ہے ،ہوسکتا ہے کہ عورت ظلم کو برداشت کرلے لیکن اسے اللہ ضرور دیکھ رہاہے)ان عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو اور اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو ان کی اس طرح پٹائی کرو کہ خون نہ نکلنے پائے(یعنی لکڑیوں سے یا کسی ایسی چیز سے نہ مارا جائے جس سے خون نکل آئے، اسی طرح ہاتھ سے مارنے میںبھی اتنی زیادتی نہ ہو کہ خون نکل آئے ،علماء نے اس کی حد یہ بیان کی ہے کہ ۳؍ طمانچہ سے زیادہ نہ مارا جائے اور چہرہ پر نہ مارا جائے)اور ان عورتوں کا تم پرحسن سلوک کے ساتھ کھانا اور کپڑا ہے(یعنی اس کو دے کر احسان نہ جتا یا جائے یا اس کو ظلم کا ذریعہ نہ بنایا جائے) اور میں نے تمہارے پاس ایک ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اس سے وابستہ رہے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ اللہ کی کتاب ہے ‘‘
وہ شہر مکہ جسے کبھی کفار نے کفر کا مرکز بنادیا تھا اور شیطان نے اپنی شیطانیت کا اڈہ بنا رکھا تھا اور ہر قسم کی برائیوں کو رواج دے کر خوش تھا رسو ل اللہ ﷺکے فاتحانہ مکہ میں داخلہ کے بعد مکمل اسلام کا مرکز بن گیااور اس کے بعد اس کی پامال شدہ حرمت اس طرح بحال ہو گئی کہ شیطان ہمیشہ کے لئے وہاں سے دور کردیا گیا ،آپ ﷺ نے اپنے اس خطبہ میں مکہ کی اس عظمت رفتہ کی بحالی اور اس کی پائیداری کا ان الفاظ میں اعلان کیا:
الا ان الشیطان قد أیس ان یعبد فی بلدکم ہذا ابدا ولکن سیکون لہ طاعۃ فی بعض ما تحتقرون من اعمالکم فیرضی بہا(ابن ماجہ: ۳۰۴۶)
’’سنو! شیطان تمہارے اس شہر(مکہ) میں اپنی پرستش کئے جانے سے ہمیشہ کے لئے ناامید ہوچکا ہے، لیکن ان بعض کاموں میں اس کی پیروی کی جائے گی جسے تم معمولی سمجھوگے تو اسی سے خوش ہوگا‘‘
یعنی اس شہر میں اس کی اب مکمل پیروی تو نہ کی جائے گی اور اس کی مکمل حکمرانی تو نہ ہوگی البتہ یہاں اس کی مرضی کے موافق کچھ ایسے کام ہوں گے جنہیں لوگ معمولی سمجھ کر کریں گے اور وہ اسی سے خوش ہوگا۔
نسلی ،قومی وطنی ، لسانی اور ہر قسم کی عصبیت کی ختم کو کرنے ، لوگوں کے دلوں سے ان ناپاک تصورات کو نکالنے اور اس کی قباحت وشناعت لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے لئے نیز تقوی کی اہمیت وعظمت کو واضح کرنے کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا:
یا ایہا الناس الا ان ربکم واحد واباکم واحد الا لافضل لعربی علی اعجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لابیض علی اسود ولا لاسود علی ابیض الابالتقوی(مسند احمد:۲۲۳۹۱)
’’اے لوگو! بے شک تمہارا رب ایک ہے اور تم سبھوں کے والد ایک ہی ہیں،سنو کسی عربی کوکسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر ،کسی گورے کوکسی کالے پراور کسی کالے کوکسی گورے پر کوئی فوقیت نہیں ہاں فوقیت ہے تو تقوی کی بنیاد پر‘‘
آپ ﷺ نے ظلم وزیادتی پر روک لگانے کیلئے جامع انداز میں ارشاد فرمایا:
الالایجنی جان الاعلی نفسہ الا لا یجنی والد علی ولدہ ولا مولود علی والدہ (ترمذی:۲۰۸۵)
’’سنو جو شخص بھی ظلم وزیادتی کرتا ہے وہ اپنے اوپر ہی کرتا ہے سنو کوئی والد اپنے بچے پر ظلم نہ کرے اور نہ کوئی بچہ اپنے والد پر ظلم کرے‘‘
امانت ودیانت کی پاسداری کی تعلیم دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:
ومن کانت عندہ امانۃ فلیؤدہا الی من ائتمنہ علیہا(مسند احمد:۱۹۷۷۴)
’’جس شخص کے پاس کسی کی کوئی امانت ہو تو وہ امانت کی چیز اس شخص کو ادا کردے جس نے اس کے پاس امانت کے طور پر رکھا ہے ‘‘
آپ ﷺ نے اپنے اس خطبہ میں یہ اعلان بھی کردیا کہ کسی کی غلطی کی سزا کسی اور کو نہ دی جائے گی، بلکہ ہر شحص خود اپنے کئے ہوئے کی جزاء وسزا کا مستحق ہے کسی کا بو جھ کوئی اور نہیں اٹھائے گاچاہے دونوں کے درمیان کوئی قرابت ہی کیوں نہ ہو،آپ ﷺ نے فرمایا:
ولا یؤخذ الرجل بجریرۃ ابیہ او بجریرۃ اخیہ(نسائی:۴۰۵۸)
’’کسی آدمی کا مواخذہ اس کے والد یا اس کے بھائی کے جرم کی وجہ سے نہیں کہا جائے گا‘‘
آپ نے اپنی اس خطبہ میں یہ وعدہ بھی کیا کہ میں دنیا سے رخصت ہونے کے بعد پھر تمہیں حوض کوثر پر ملوں گا لیکن تمہیں اس بات کا خیال بھی رکھنا ہے کہ تم خود کو اس لائق بناسکو کہ میں تمہیں حوض کوثر پر جام کوثردے سکوں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جن کو میں یہ سمجھوں گا کہ وہ میری امت سے تعلق رکھتے ہیںلیکن فرشتوں کی جانب سے انہیں ان کی بدعات وخرافات کا وجہ سے میری امت سے علاحدہ کردیا جائیگانیز آپ ﷺنے اس بات سے بھی باخبر کردیا کہ آپ ﷺ کی جانب کسی بات کو منسوب کرنے میں احتیاط کی جائے کیونکہ آپ کی بات دین میں سند کی حیثیت رکھتی ہے ہوسکتا ہے کہ کوئی بات آپ ﷺ نہ بولے ہوں اور بعد کے لوگ اسے آپ ؐ طرف منسوب کرکے اپنی کسی بدعت وخرافات کو اس سے تائید پہونچائیں،اس لئے اگر کوئی ایساکرتا ہے تو وہ جہنم کا مستحق ہے کیونکہ اس طرح وہ دین میں زیادتی کررہا ہے اور بدعت کی راہ کھول رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:
الاوانی فرطکم علی الحوض انظرکم وانی مکاثر بکم الامم فلا تسودو ا وجہی الاوقد رأیتمونی وسمعتم منی وستسألون عنی فمن کذب علی فلیتبوأ مقعدہ من النارالاوانی مستنقذ رجالا او اناثا ومستنقذ منی آخرون فاقول یا رب اصحابی اصحابی فیقال انک لا تدری ما احدثو ا بعدک(مسند احمد:۲۲۳۹۹)
’’سنو میں تم سے پہلے حوض کوثر پر پہونچ کر تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے ذریعہ پچھلی امتوں پر فخر کروں گا ،اس لئے تم لوگ مجھے رسوا نہ کرنا سنو تم لوگوں نے مجھے دیکھا اور میری باتوں کو سنا ہے اور تم لوگوں سے میری باتیں پوچھی جائیں گی پس جو شخص میری طرف کوئی بات غلط منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں تیار کرلے سنو بہت سے مردوں اور بہت سی عورتوں کو میں بچاؤں گا اور بہت سے لوگ مجھ سے دور کردئے جائیں گے میں کہوں گا :اے میرے رب! میرے اصحاب، میرے اصحاب، تو مجھ سے کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ ان لوگوںنے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں دین میں پیدا کیں‘‘
آپ نے یہ نصیحت بھی کی کہ میری تعلیمات کو سن کر جس طرح تم لوگ اسلام سے وابستہ ہوگئے اسی طرح اسلام پر ہمشہ قائم رہنا اور ایک دوسرے کے پیچھے پڑ کر ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے کی کوشش نہ کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لوگ میرے بعد ایک دوسرے کو کافر ثابت کرکے ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو جس کے نتیجہ میں تمہارے درمیان خون خرابہ شروع ہوجائے اور تمہاری یکجہتی اور تمہارا اتحاد اس سے متاثر ہوجائے، آپ ﷺ نے فرمایا:
لاترجعو بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض(بخاری:۴۰۵۱)
’’میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسری کی گردن اڑانے لگو‘‘
یعنی میرے بعد ایسانہ کرنا کہ تم لوگ کفار کی مشابہت اختیار کرلو کہ جس طرح وہ لوگ مسلمانوں کا خون کرتے ہیں تم لوگ بھی مخلتف بہانوں سے مسلمانوں کا خون کرنے لگو۔ بعض شراح حدیث نے اس کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ تم لوگ میرے بعد جنگی اسلحہ سے لیس ہو کر ایک دوسرے سے جنگ مت شروع کرنابلکہ جس طرح میں تمہیں ایک دوسرے کا بھائی اور غم خوار بناکر جارہاہوں اسی طرح ہمیشہ ایک دوسرے کا بھائی اور غم خوار بن کر رہنا اور آپسی محبت وخلوص کو ختم نہ ہونے دینا۔بعض شراح حدیث نے اس جملہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تم لوگ میرے بعد ایک دوسرے کوبلاوجہ ’’کافر ‘‘ثابت کرکے اس کی گردن کو مت اڑانا ورنہ ایک مسلمان کی ناحق گردن اڑانے کی وجہ سے تم عمل کفر کربیٹھوگے یا اگر تم دوسرے کو کافر کہو گے اور اس کی گردن اڑانے کی سونچو گے تو وہ تمہیں کافر کہے گا اور تمہاری گردن اڑانے کی کوشش کرے گا اس لئے ایک دوسرے کو کافر بنانے کی بلاوجہ کوشش نہ کرنا تاکہ تمہارے درمیان الفت ومحبت ہمیشہ قائم رہے اور اختلاف وانتشار کو راہ نہ ملے۔بہر حال جو بھی اس کا مفہوم ہو ان تمام باتوں سے بچنا ہر مسلمان پر لازمی ہے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ کی مراد وہ تمام باتیں ہو ں جو مختلف شراح حدیث نے مختلف انداز میں بیان کی ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی باتیں جامع ہوتی ہیں اس میں بہت سے معانی اور مفاہیم کی گنجائش ہوتی ہے ،یہاں تو ہر ایک توجیہ قابل توجہ ہے اور ہر ایک سے بچنا ضروری ہے ۔عصر حاضر کا تو یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہر جماعت دوسری جماعت کے پیچھے اس طرح پڑی ہوئی ہے کہ اس کی ایک خوبی بھی اسے بھلی معلو م نہیں ہوتی اس کا نتیجہ یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اتحاد کی جگہ بے بنیاد اختلافات نے لے لی ہے اور ایک امت کے افراد مختلف جماعتوں میں اس طرح بکھر گئے ہیں کہ ہر شخص اپنے نظریات کو حق اور دوسرے کے نظریات کو باطل ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور اسی کو دینداری اور تحفظ شریعت کا عنوان دیا جارہا ہے ،بلاشبہ حق سے باطل کا امتیاز ضروری ہے اور اس امت کی ذمہ داریوںمیں سے ایک اہم ذمہ داری ہے لیکن تفرقہ بازی اور فرقہ بندی کے اصول پر کاربندہوکر نہیں بلکہ الفت ومحبت اور بھائی چارگی کے جذبہ کے ساتھ نیزاپنے من گھڑت اصول اور دلائل کے بجائے صحیح شرعی نصوص کی روشنی میں اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید و مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
جس طرح بدنی عبادتوں کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے اسی طرح اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے بھی اللہ کی قربت اور درجات کی بلندی ملتی ہے لیکن انسان کی مالی محبت بسا اوقات اس پر غالب آجاتی ہے اوراسے اس کے ذریعہ حاصل ہونے والے فوائد اور قربت خدادندی سے محروم کردیتی ہے ،چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو باخبر کرنے کے لئے اس اہم خطبہ میں اس جانب بھی توجہ دلائی اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی،آپ ﷺ نے فرمایا:
تصدقوا فانی لا ادری لعلکم لاترونی بعد یومی ہذا(المعجم الکبیر:۳؍۲۶۱)
’’تم لوگ صدقہ کیا کرو ،ہو سکتا ہے کہ تم لوگ آج کے بعد مجھے نہ دیکھ سکو‘‘
اخیر میں آپ ﷺ نے تمام باتیں بیان کرکے لوگوں سے گواہی لی کہ کیا میں نے دین کی تبلیغ کی یا نہیں؟ تم لوگوں تک اللہ کا پیغام پہونچایا یا نہیں؟تو لوگوں نے جواب دیا:ہاں ہاں آپ نے اپنے فرض منصبی کو اور عہدہ نبوت کی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دے دیا،آپ ﷺ نے یہ جواب سن کر اپنی امت کو یہ ذمہ داری دے دی کہ اچھا جب تم نے میری باتوں کو سن لیا اور میں نے خدائی پیغام تم تک پہونچادیاتو اب تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم اسے محفوظ رکھو اور اس کی حفاظت کی خاطر اسے اپنے بعد کے لوگوں تک پہنچاؤ تاکہ عہد بعہد میری تعلیم ہردور کی امت تک پہونچتی جائے ،آپ ﷺ نے فرمایا:
الا ہل بلغت قالو نعم قال اللہم اشہد فلیبلغ الشاہد الغائب فرب مبلغ او عی من سامع (بخاری:۱۶۲۵)
’’کیا میں نے دین کی باتیں تم لوگوں تک پہونچادیا ؟ لوگوں نے کہا ہاں ،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے اللہ تو گواہ رہ ۔اب جو لوگ یہاں موجود ہیں میری باتیں ان لوگوں تک پہونچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں اس لئے کے بہت سے وہ لوگ جن کے پاس بات پہونچتی ہے ان لوگوں سے زیادہ اس بات کو محفوظ رکھتے ہیں جنہوں نے براہ راست وہ بات سنی ہے ‘‘
نبی اکرم ﷺ نے اپنی باتوں کی حفاظت اور دوسروں تک اسے پہونچانے کی تعلیم کے ساتھ ایسے لوگوں کے لئے دعائے رحمت ورفعت بھی کی جو آپ کی باتوں کو یاد کرتے ہیں ، اسے دوسروں تک پہونچانتے ہیں اوراس کی اشاعت کرتے ہیں،بڑی خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئے جن کو اللہ نے خدمت حدیث کے لئے منتخب کرلیا اور اس طرح وہ رسو ل اللہ ﷺ کی اس دعا کے مستحق بن گئے ’’ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:
نضر اللہ امرأسمع مقالتی فوعاہا ثم اداہا الی من لم یسمعہ (مسند احمد۱۶۱۳۸)
’’اللہ اس انسان کو بارونق بنائے اور بلندی نصیب کرے جس نے میری بات سنی پھر اسے محفوظ رکھا اور اس انسان تک اسے پہونچادیا جس نے وہ بات نہیں سنی‘‘
نبی اکرم ﷺ نے اپنی تعلیم کو عام کرنے اور دوسروں تک اسے پہونچانے کی ذمہ داری افراد امت کو حوالہ کرتے ہوئے یہ وضاحت بھی اپنے خطبہ میں کردی کہ اللہ میری دعوت کا محافظ ہے اور میں نے اسے اللہ کے پاس ذخیرہ بناکر رکھدیا ہے اور جو چیز اللہ کی حفاظت میں ہو اسے کوئی ضائع نہیں کرسکتا،یعنی آپﷺ کی تعلیم تحریف وتبدیل سے محفوظ رہے گی اور قیامت تک اس کی روشنی سے ہر دور کے لوگوں کو راہ ہدایت ملتی رہے گی،آپ نے فرمایا:
الاکل نبی قد مضت دعوتہ الا دعوتی فانی ادخرتہ عند ربی الی یوم القیامۃ(المعجم الکبیر:۸؍۱۴۱،مسند الشامیین:۲؍۲۳۱)
’’سنو میری دعوت کے سواہر بنی کی دعوت ختم ہوگئی ،اس لئے کہ میں نے اپنی دعوت کو اپنے رب کے پاس قیامت تک کے لئے محفوظ رکھدیا ہے ‘‘
یہ ہیں رسول اللہ ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع کی نصیحتیں! جن میں ہم لوگوں کی رشد وہدایت کے اصول وضوابط اور ہماری عملی زندگی کے طریقوں کو رسول اللہ ﷺ نے جامع اندازمیں بیان فرمایاہے اس لئے ان باتوں کو ذہن نشیں کرکے ان پر عمل کرنا تمام مسلمانوں پر لازم ہے ،اللہ کی توفیق ہماری دست گیری کرے۔
Login Required to interact.

