ذاتی نگہداشت کی چیزیں اور اسلامی اصول واقدار

بحث وتحقیق
مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
 === 
بحیثیت مسلم ایک مسلمان پر اسلام کا سب سے بنیادی حق یہ ہے کہ اس کی زندگی کا ہر پہلو اسلامی اقدار کا حامل ہو،موجودہ دور میں جن چیزوں کوبہت ہی عروج حاصل ہوا ہے، ان میں سے ایک’’ ذاتی نگہداشت کی اشیائ‘‘ (مثلا : صابن ، شمپو، تیل ، کریم اور لوشن وغیرہ )بھی ہیں، عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں میں بھی ظاہرداری اور خود کو سنوارنے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ان اشیاء کی طلب میں اضافہ کیا ہے اور زینت اور ظاہر داری کے حوالے سے پیدا ہونے والی مختلف خواہشات نے ان اشیاء میں تنوع بھی پیدا کیا ہے ،چناچہ آج مارکیٹ میں ذاتی نگہداشت کی بے شمار چیزیں موجود ہیں ،جن میں سے بعض حقیقی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہیں تو بعض انسانی خواہشات کی کلی یا جزئی طور پرتکمیل کرتی ہیں ،اس لئے ذاتی نگہد اشت کی اشیاء کی خرید کے حوالے سے مسلم صارفین کے اقدار اور ان اشیاء کے استعمال کے بارے میں ان کی سونچ وعمل کے حوالے سے اسلامی حدود وضوابط اور اسلامی نقطہ نظرکا تعین ایک اہم دینی ضرورت ہے ،جسے موجودہ مادیت اور شریعت بیزاری کے دور میں عام کرنا ضروری ہے ،تاکہ اسلامی طریقہ تجارت بھی عام ہو،اور ایک مسلمان خواہشات وشوق کی تکمیل کے بہانے آنے والے بے جا اخراجات کے تحمل سے بچ سکے اور ضرورت وحاجت اور اسراف کے مابین فرق کرکے ضروریات کو اختیار کرکے اسراف سے بچ سکے اور اس طرح اپنی معیشت واقتصاد کو ایک مہلک مرض ’’اسراف‘‘ سے دور رکھ سکے؛ کیونکہ اسراف سے بچنا ہی معیشت واقتصاد کے عروج کی کلید ہے۔
ذاتی نگہداشت کی اشیاء کی خرید اور ان کے استعمال کے بارے میں بنیادی اسلامی اقدار میں سب پہلی چیز یہ ہے کہ وہ چیزیں جو ذاتی نگہداشت کے لئے بنائی گئی ہیں، حلال چیزوں سے بنائی گئی ہوںاور ان میں کوئی حرام چیز اس مقدار میں یا اس شکل میں شامل نہ ہو کہ حالت ترکیبی میں بھی اس کی حرمت باقی ہو؛کیونکہ اکثر فقہاء نے علاج ومعالجہ کے باب میں بھی حرام چیزوں کو ان امراض میں بطور دوااستعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے جو مہلک یاغیرمعمولی تکلیف دہ نہ ہوں۔جبکہ علاج ومعالجہ کی ضرورت ذاتی نگہداشت کی ضرورت سے اہم اور مقدم ہے ۔اور بقدر ضرورت شریعت تخفیف وسہولت بھی دیتی ہے ۔اس سلسلہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد کتب حدیث میں مذکور ہے :
ان اللہ لم یجعل شفاء کم فی ما حرم علیکم (بخاری:باب شراب الحلواء والعسل)
’’اللہ نے تمہاری شفاء کو ان چیزوں میں نہیں رکھا ہے جن کو تم پرحرام کردیا ہے ‘‘
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ معمولی، قابل تحمل مرض کے علاج کی ضرورت ہو یا اپنے ظاہر کو نکھارنے کی ضرورت ہوجوکہ غیر لازمی علاج کے زمرہ میں ہی داخل ہے ،اس میںحرام چیزوں سے استفادہ درست نہیں ہے،اس لئے ایک مومن کے لئے اس سے بچنا ضروری ہے۔ہاںوہ تکلیف دہ امراض جو انسان کو کرب والم سے دوچار کرتے ہوں اور ان کے علاج کے لئے کوئی حلال چیز بھی نہ ہوتو شریعت اس مجبوری کی حالت میںاس حرام سے علاج کی اجازت دیتی ہے ،تاکہ انسانی زندگی سے کرب والم کا خاتمہ ہو،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اصحاب عرینہ کو اونٹوں کے پیشاب کے پینے کی اجازت دی (بخاری:۲۲۶)کیونکہ ان کو جو مرض لاحق تھا ،اس کا اس کے علاوہ کوئی اور علاج نہ تھا۔ اسی مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے علامہ حصکفیؒ  لکھتے ہیں:
کل تداو لا یجوز الا بطاهر وجوزوہ بمحرم اذا اخبرہ طبیب مسلم ان فیه شفاء ولم یجد مباحا یقوم مقامه (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار:۹؍۵۵۸)
’’ہر قسم کا علاج پاک چیزوں سے ہی جائز ہے اور فقہاء نے حرام چیزوں سے علاج کو اس وقت جائز قرار دیا ہے جبکہ ایک مسلم ڈاکٹر نے یہ بتایا ہو کہ اس حرام میں (اس مرض) کا علاج ہے، اور کوئی حلال چیز اس کی جگہ موجود بھی نہ ہو‘‘
ظاہر ہے کہ ذاتی نگہداشت ایسے مرض کے زمرہ میں تو ہے نہیں ،اس لئے ان کی اشیاء کی خرید میں ایک مسلم صارف کے لئے اس پہلو کو ذہن میں رکھنا لازم ہو گا کہ وہ اشیاء کسی ایسے حرام عنصر پر اس طورپرمشتمل نہ ہوں کہ حالت ترکیبی میں بھی اس کی حرمت باقی ہو۔
چونکہ موجودہ دورمیںجتنی اشیاء مارکیٹ میں موجود ہیں اور پوری دنیا کے مسلمان ان کواستعمال کررہے ہیں،وہ کسی حلال قوانین کے تحت نہیں بنائی جاتی ہیں اس لئے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ذاتی نگہداشت کی اشیاء کا بلاشبہ حلا ل ہونا ضروری ہے ،لیکن شریعت مطہرہ میں اس کا دائرہ وسیع ہے ، کیونکہ تمام کی تما م چیزیں جمادات، نباتات،یا حیوانات کے اجزاء سے ہی بنتی ہیں، نباتات وجمادات تو مکمل حلال ہیں، حیوانات میں سے بعض حرام ہیں اور اکثر حلال ہیں جبکہ حلال کے بعض اعضاء حرام ہیں،تو صرف اس حد تک احتیاط ضرور لاز م ہے کہ ذاتی اشیاء کے استعمال کی چیزیں حرام جانوروں یا حلال جانوروں کے حرام اجزاء سے نہ بنائے گئے ہوں،اور اگر کسی چیز کے بارے میںیقینی طور پر یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی تیاری میں حرام جانوروں کے کسی عضو یا حلال جانوروں کے کسی حرام عضو کوشامل کیا گیا ہے تو اس کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے ، اور اگر کسی چیز کے بارے میں معمولی شبہ ہویا کچھ بھی اس کے بارے میں معلوم نہ ہویا غیر معتبر ذرائع (مثلا:کسی غیرمسلم کمپنی کے اپنے سامان کے بارے میں حلال ہونے کی صراحت کرنے)سے ان کا حلال اجزاء سے بنایاجانا معلوم ہو ، تو چونکہ جن چیزوں سے اکثر چیزیں تیار کی جاتی ہیں، ان میں اکثریت حلال کی ہے اور اشیاء میں اصل ان کا مباح وحلال ہونا ہی ہے ، جب تک کہ اس کے ناجائز وحرام ہونے کی دلیل ظاہر نہ ہو،اس لئے اسے حلال ہی سمجھا جائے گااور اس کا استعمال درست ہوگا۔ہاں مشتبہ چیزوں سے اجتناب بالخصوص جبکہ کوئی یقینی حلال چیزموجود ہوبہرحال بہتر ہے ۔
 البتہ بساواقات ایسا ہوتاہے کہ کسی چیز کی حتی المقدور تحقیق یا اس کے ظاہری قرائن سے وہ چیز حلال معلوم ہوتی ہے یا ان کا حلال ہونا متعارف ہوتا ہے،جبکہ وہ درحقیقت کسی حرام جزء پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور ایک انسان اسے اس کے قرائن یا اس کے مشہور تعارف پر اعتما د کرکے استعمال کرلیتا ہے،توچونکہ نادانی یا اپنی قوت کے مطابق تحقیق کے بعد لاعلمی میں کسی ایسی چیزکااستعمال شریعت میں ناقابل مؤاخذہ ہے،اس لئے مارکیٹ میں عام طور پر مہیا چیزیں جن کا حلال ہونا متعارف ہے،اگر واقعتا حرام ہی ہیں توجب تک حقیقت معلوم نہ ہواس وقت تک ان کے استعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوگا؟ہاں حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد ان کا استعمال ضرور گناہ کا باعث ہوگا۔ 
دوسری چیزجو ایک’’ مسلم صارف ‘‘کے پیش نظر رہنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ان چیزوں کا استعمال’’ اسراف‘‘ کے زمرہ میں نہ آتا ہو، کیونکہ ’’اسراف‘‘  شریعت میں مذموم عمل ہے ۔اللہ عزوجل کا ارشادہے: 
وکلوا واشربوا ولا تسرفوا انه لایحب المسرفین  (الاعراف:۳۱)
’’کھاؤ اور پیواور اسراف مت کرو ،بے شک اللہ اسراف کرنے والوںکو پسند نہیں کرتا ‘‘
البتہ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسراف اور ضرورت کی حدفاصل کیا ہے ؟جس کی روشنی میں ضرورت اور اسراف کی تعیین کی جاسکے، اس سلسلہ میں فقہاء کے کلام میں جو تفصیل ملتی ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کسی چیز کا ایسا تقاضہ اور کسی چیز کی ایسی طلب کہ اس کے بغیر انسان کی زندگی مشقت میں پڑجائے اوراسے اس کے بغیر دشواری ومشکلات کا سامنا کرنا پڑے، ’’ضرورت‘‘ ہے ، جیسا کہ علامہ زرکشیؒ وغیرہ نے ایک مثال سے اسے سمجھایا ہے کہ جیسے: ایک ایسابھوکا جسے کھانے کی ایسی طلب ہو کہ اگر اسے فی الوقت کھانا نہ بھی ملے تو اسے بھوک کی مشقت تو برداشت کرنی پڑے ،البتہ اس کی وجہ سے اس کی موت کا اندیشہ نہ ہو،تواتنا کھانا جس سے اس کی بھوک ختم ہوجائے اس کی ضرورت ہے ۔(المنثور فی القواعد :۲؍۳۱۹)
نیزچونکہ شریعت انسانی مزاج ومذاق کی بھی رعایت کرتی ہے،اس لئے شریعت میں ضرورت اوراسراف کا دائرہ بھی زمانہ کے عرف وعادت پر مبنی ہے،چناں چہ ہردور میں اس دورکی مروج اوسط درجہ کی وہ چیزیں جو راحت وسکون اور آرام کے مقصد سے اختیار کی جاتی ہیںاور وہ عوام بالخصوص صالحین کے نزدیک مقبول ومروج بھی ہیںاور ان کا استعمال کسی حکم شریعت کے مغائر بھی نہیں ہے ، تووہ  چیزیںاس دور کی ضرورت میں شامل قرارد دی جاتی ہیں۔اور ان کے اختیار کرنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہوتی ہے ۔کیونکہ راحت وآرام بھی انسانی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے۔
اسی طرح عرف عام میں مقبول خاص وعام چیزوں میں سے کسی چیز کا تحسین وتزئین کی خاطر اعتدال کے ساتھ استعمال شریعت میں جائز ہے اور اسراف سے خارج ہے ۔کیونکہ تحسین وتزئین بھی انسانی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے،بشرطیکہ اس میں مبالغہ نہ کیا جائے اورعرف عام میں مروج اوسط درجہ کی تحسین وتزئین کی حد تک محدود رہا جائے۔
جبکہ انہیں حدود کی رعایت نہ کرنااور ان سے تجاوز کرنا اورلابدی ضرورت یا مروج اور زمانہ کی اسلام سے ہم آہنگ تہذیب میں مطلوب تحسین وتزئین یا عرف عام میں مروج راحت وآرام کی تکمیل کے باوجود خرچ کرنا’’اسراف‘‘ ہے۔
ضرورت اور اسراف کی اس تعریف کے بعد یہ طے کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ ذاتی نگہداشت کی وہ حلال چیزیں جن کی انسانی جسم کو ایسی طلب ہوتی ہو کہ اس کے بغیر اس کوکسی قسم کی معمولی یا غیر معمولی تکلیف وبے چینی کا سامنا کرنا پڑتاہو،یا صفائی وپاکیزگی کا کمال اس کے بغیرادھورا رہتا ہو ،یا جسم کو فطری حالت پر باقی رکھنے کے لئے اور موسم کے اثرات سے اسے محفوظ رکھنے جن کا استعمال کیاجاتا ہویاجن کا استعمال مروج اورمطلوب تحسین وتزئین کے لئے کیا جاتا ہویا جن کا استعمال راحت وسکون کے حصول کے لئے کیا جا تا ہویا اس قسم کی کوئی طلب اس کے استعمال میں موجود رہتی ہو، توصرف وہ چیزیں ’’ضرورت ‘‘میں داخل ہوںگی،جیسے کہ :صابن ، تیل اور جلد کو موسم کے اثرات سے محفوظ رکھنے والے کریم وغیرہ۔اور ان کے علاوہ وہ تمام چیزیں جن کے پیچھے کسی’’ حقیقی طلب‘‘ کے بجائے محض شوق ورغبت اور نفس محرک ہووہ ضرورت کے زمرہ میں شامل نہیں ہیں، بلکہ’’ اسراف‘‘ میں شامل ہیں۔
اب اس ضروت کی تکمیل کرنے والی چیزوں میں بھی دینی لحاظ سے یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ یہ چیزیں بھی اپنی کیفیت اور مالیت کے اعتبار سے ضرورت کی تکمیل کی حد تک محدود رہیں تو ضرورت کے زمرہ میں شامل رہیں گی۔ورنہ اسراف میں داخل ہوں گی۔اسی لئے فقہاء نے زیب وزینت کے باب میں لکھا ہے کہ ضرورت کی تکمیل کرتے ہوئے اسراف سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ مروج چیزوں میں سے اوسط درجہ کی چیز کو اختیار کیاجائے۔(شامی:۵؍۲۱۷)
تیسری چیز جسے ایک مسلمان کو ذاتی نگہداشت کی اشیاء کے استعمال میں پیش نظر رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ان چیزوں کا استعمال کرنا خود کو بڑااور کسی سے بہتر اور افضل وخوبصورت ثابت کرنے کے لئے نہ ہو، یعنی اس کے استعمال سے تکبروغرور پیدا نہ ہوتا ہو،اور نہ ہی ان کو استعمال کرنا متکبرین ومغرورین کی شان اور پہچان ہو۔جیسا کہ لباس کے سلسلہ میں رسول اللہ  ﷺ کی ایک ہدایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے:
البسوا ما لم یخالطه اسراف ولا مخیلة (ابن ماجۃ:۳۵۹۵)
’’اچھے لباس پہنو، جب تک کہ اس لباس میں اسراف اور تکبروغرور شامل نہ ہو‘‘
چوتھی چیز ظاہری نگہداشت کی اشیاء کے استعمال میں یہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ ان چیزوں کا استعمال صرف اس حد تک کیا جائے کہ اس سے راحت وآرام یا فطری حسن کا تحفظ ،یا پیدا شدہ کسی عیب کا ازالہ مقصود ہویا صرف اس حدتک زیب وزینت مقصود ہوکہ اس سے فطری حقیقت تبدیل نہ ہوتی ہو، کیونکہ جلد کی رنگت گورا یا چکنا کرنے اور بڑھتی عمر کے اثرات وغیرہ کو دور رکھنے کی غرض سے کریم وغیرہ کا استعمال جو کہ ایک ’’تجمیلی عمل‘‘ہے ،اس کے سلسلہ میں شریعت میں بنیاد ی اصول یہ ہے کہ اگر یہ کسی سبب سے پیدا شدہ کسی عیب کو دور کرنے کے لئے ہو یا فطری کیفیت کو باقی رکھنے کے لئے ہوتو یہ جائز ہے ، جیسا کہ رسول اللہ  ﷺ نے ایک صحابی کو جن کی ناک ایک جنگ میں کٹ گئی تھی سونے کی ناک بنانے کی اجازت دی (ترمذی:۱۶۹۲)
اسی طرح شریعت نے عورتوںکو مہندی لگانے کی اجازت دی ہے ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداداد فطری حسن میں تبدیلی سے بچتے ہوئے عورت کا خود کو سنوارنا بھی جائز بلکہ مستحسن ہے ۔
اس لئے فطری حسن کو محفوظ رکھنے کے لئے یاپیدا شدہ عیب کو دور کرنے کے لئے یا فطری حسن میں تبدیلی سے بچتے ہوئے زیب وزینت اختیار کرنے کی غرض سے کریم وغیرہ کا استعمال بھی درست ہوگااورشوہر کی رضا کی خاطر یا کسی اچھے رشتہ کو پانے کی خاطر زیب زینت میں اور’’ تجمیلی عمل‘‘ میں اسی حد تک محدور رہنا لازم ہے، اس سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے ۔کیونکہ وہ ’’تجمیلی عمل‘‘جو کسی پیدا شدہ عیب کو دور کرنے کے بجائے فطری حسن سے زائد حسن پیدا کرنے کے لئے ہو جائز نہیں ہے؛اس لئے کہ یہ’’ تغییر خلق اللہ ‘‘ یعنی اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کی کوشش ہے ،اور شریعت مطہرہ میں اس سے منع کیا گیا ہے ۔رسول اللہ  ﷺ کا ارشاد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں:
لعن اللہ الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ (مسلم:۳۹۶۶)
’’حسن پیدا کرنے کے لئے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر، بالوں کو اکھاڑنے اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو باریک کرنے والیوں پر اللہ کی لعنت ہے جو کہ اللہ کی تخلیق کو تبدیل کرتی ہیں‘‘
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جن اعمال پر لعنت کی گئی ہے وہ ’’حسن زائد‘‘ کی طلب کے پیش نظر کئے جاتے ہیں،اور ان کو ’’تغییر خلق اللہ‘‘ کہا گیا ،اس لئے ہر وہ عمل جوفطری حسن کو سنوارنے یا پیدا شدہ عیب کو دور کرنے کے بجائے فطری حسن کو تبدیل کرتے ہوئے حسن زائد پیدا کرنے کے لئے ہوگا وہ اس وعید میں داخل اور ممنوع ہوگا۔
ہاں اگر کسی عورت کو زائد بال نکل آئیں مثلا داڑھی ، مونچھ کے بال نکل آئیں یا بدن کے کسی حصہ پر اتنے بال نکل آئیں جو اس کی صنف کے مغائر ہیں ،تو ان کو دور کرنا اور اس کے لئے کریم وغیرہ کا استعمال بھی درست ہے ۔ایک خاتون حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیںاور ان سے پوچھا کہ میرے چہرہ پر زائد بال ہیں ،کیا میں اپنے شوہر کی خاطر زینت کے پیش نظر ان کو دور کرسکتی ہوں ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا:ضرور انہیں صاف کروا ور اپنے شوہر کے لئے زینت کرو(مصنف عبد الرزاق:۵۱۰۴)
اسی کے پیش نظر علماء لکھتے ہیں:
ان نبت للمرأۃ شعر غلیظ فی وجهها کشعر الشارب واللحیة فیجب علیها نتفه لئلا تتشبه بالرجال (الموسوعۃ الفقہیۃ:۱۱؍۲۷۱)
’’اگر عورت کے چہرے میں بہت زیادہ بال نکل آئیں، جیسے کہ مونچ یا داڑھی کے بال ، تو عورت پر اسے دور کرنا واجب ہوگا تاکہ مرد سے اس کی مشابہت نہ ہو‘‘
یہ ہیں ذاتی نگہداشت کی اشیائ:صاب، تیل ، لوشن ، کریم ، شمپو وغیرہ کے استعمال کے بارے میں اسلامی اصول واقدار جن کی رعایت ایک مسلمان پر لاز م ہے اورانہیں اسلامی اصول میں کامیابی کا راز مضمر ہے ،جبکہ ان اصول سے بے توجہی اور غفلت سے انسان بے اعتدالی کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے اور نفس پرستی اس کو اپنے شکنجہ میں لے لیتی ہے ، اوریہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جب انسان نفس پرستی کا خوگر ہوجاتا ہے تو گویا اس کی بربادی کا آغار ہوجاتا ہے ،کیونکہ ابتداء میںوہ نفس کی طلب میں لا پرواہی کے ساتھ اپنے پاس موجود مال کو خرچ کرتا ہے ،اور اسی پر بس نہیں ہوتا بلکہ نفس کا شوق اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ایک انسان اس کی تسکین اپنے مال سے کرنے کے موقف میں نہیں رہتا تو قرض کے ذریعہ اس کی تسکین کا انتظام کرتا ہے اور بالآخرسود ی قرضے کے بوجھ میں بھی دب جاتا ہے ۔
اسی لئے رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے:
ماخاب من استخار ولا ندم من استشار ولا عال من اقتصد (المعجم الاوسط للطبرانی:۶۸۱۶)
’’جس نے استخارہ کیا وہ ناکام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا، اور جس نے خرچ میں میانہ روی اختیار کی وہ فقیرومحتاج نہیں بنا‘‘
اسی طرح انسان میں نفس پرستی کا جذبہ پیدا ہونے کے بعداس کی محنت ومشقت کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، جس سے اس کی معیشت زوال پذیرہوجاتی ہے ،جبکہ دوسری جانب نفس کے تقاضے مزید سے مزید تر ہوتے جاتے ہیں،تو اس صورت میں بھی اس کے پاس قرض اور سودی قرض کے سوا نفس کی تسکین کے لئے کوئی اور چیز نہیں رہتی ۔
اسی طرح نفس پرستی کا جذبہ پیدا ہونے کے بعد انسان خود کو بنانے اور سنوارنے میں اتنا مصروف ہوتا ہے کہ اس کی یہ مصروفیت اسے بہت سے ضروری کام سے غافل کردیتی ہے، حتی کہ اہل وعیال کی جانب بھی بھر پور توجہ کرنے سے یہ قاصر ہوجاتا ہے ، یعنی اہل وعیال کی تعلیم وتربیت ، ان کی نگہداشت اور بروقت ان کی ضرورتوں کی تکمیل وغیرہ میں یہ کوتاہ ثابت ہوجاتا ہے۔ اور بالآخر گھریلونظام  درہم برہم ہوجاتا ہے ۔
 آج دنیا میں سود ی نظام کا فروغ، اور حلال وحرام کی فکر کے بغیر مادیت کی تلاش میں صبح وشام کی سرگرمی اور بہتات زر کے باوجود خاندانی اختلافات وانتشارکی کثرت اور گھریلو پرسکون زندگی کا خاتمہ اسی نفس پرستی کی دین ہے ،جس میں آج پوری دنیا مبتلا ہے اور جس کے درد میں سسک رہی ہے ۔
٭٭٭
Login Required to interact.