ملک میں بڑھتے مذہبی جنون اور آئے دن فرقہ وارانہ ٹکراؤ کے درمیان بہار کے ضلع نالندہ کا ایک گاؤں روشن خیال اور کھلے ذہن کی شاذونادر مثال بنا ہوا ہے۔ موضع مادھی میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے لیکن 200 سال قدیم مسجد میں نماز پنجگانہ کا اہتمام ہندوکرتے ہیں۔ مسجد کی دیکھ بھال بھی ہندو ہی کرتے ہیں۔ ایک دیہاتی ہنس کمار نے کہا کہ ہمیں اذاں کا علم نہیں لیکن ایک پن ڈرائیو جس میں اذاں ریکارڈ ہے روزانہ چلادیتے ہیں۔دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اس موضع میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی تھی لیکن لوگ دھیرے دھیرے یہاں سے چلے گئے۔ مسجد کی دیکھ بھال کرنے والا یہاں کوئی نہیں‘ اسی لئے ہندو لوگ آگے آئے ہیں۔ مسجد کی دیکھ بھال کرنے والے گوتم نے یہ بات بتائی۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی کو پتہ نہیں کہ یہ مسجد کب بنی تھی اور کس نے بنائی تھی لیکن ہندو لوگ ہر شبھ گھڑی(نیک ساعت) سے قبل مسجد آتے ہیں۔ مسجد کی صفائی ہوتی ہے۔ صبح اور شام عبادت ہوتی ہے۔ گاؤں کے پجاری جانکی پنڈت نے بتایاکہ لوگ جب بھی کشٹھ (کسی پریشانی) میں ہوتے ہیں مسجد میں پرارتھنا کرتے ہیں۔(بشکریہ منصف ، حیدرآباد)
Login Required to interact.

