مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
====
تاسیس فلسطین؟
فلسطین کو تاریخ میں یہ مقام حاصل ہے کہ دنیا کی تاریخ میں آباد ہونے والا سب سے پہلا شہر ’’ مدینۃ الشوری‘‘ جو کہ اب ’’ اریحا ‘‘ کے نام سےمعروف ہے اسی کے دامن میں ہے ،یہ شہر ۸۰۰۰ قبل مسیح آباد ہوا۔
یہود جو کتاب الہی میں تحریف کے مجرم ہیں تاریخ میں تحریف ان کے لئے کیا مشکل ہے، چناں چہ وہ فلسطین میں اپنے غاصبانہ تسلط کو جواز فراہم کرنے کے لئے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ سرزمین فلسطین پر تاریخ انسانیت میں سب سے پہلے وہ آباد ہوئے، حالانکہ ان کا یہ دعوی آثار اور تاریخی ثبوتوں سے اور خود توریت کی تصریح سے غلط ثابت ہوتا ہے، کیونکہ توریت میں فلسطین کو ’’ارض کنعان ‘‘کہا گیا ہے۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے کنعانی قبیلے یہاں آباد ہوئے ، یہ لوگ عرب تھے اور جزیرہ عرب سے ہجرت کرکے یہاں پہونچے تھے، گرچہ کہ یہ لوگ بت پرست تھے ، لیکن اس سے یہ حقیقت تو واضح ہوجاتی ہے کہ یہود کا دعوی غلط ہے ؛ کیونکہ یہ لوگ یہاں یہود کے پہونچے سے ۱۲۰۰ سال قبل پہونچےہیں، اور کنعانیوں نے فلسطین میں ۲۰۰ شہروں کو آباد کیا ہے ، جن میں نابلس، حیفا، بیسان،عکا، حیفا،بئر سبع اور بیت لحم شامل ہے ۔گویا فلسطین کے اکثر شہر یہود کی آمد سے قبل کنعانیوں نے آباد کیا۔
اسی طرح کنعانی قبیلے کی ایک شاخ فینیقی قبیلہ بھی یہاں پہونچا ،اوراس کےبعدعارمی قبیلے بھی فلسطین پہونچے یہ بھی عربی قبیلہ ہے ۔
اسی طرح جزیرہ عرب سے ہجرت کرکے قبیلہ یبوس کے لوگ بھی یہاں پہونچے اور انہوں نے ہی ’’ مدینۃ القدس‘ ‘کو آباد کیا ، اور اس کو’’ اورسالم‘‘ کے نام سے موسوم کیا جوکہ بعد میں’’ یروشلم‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا۔ (محاضرہ ڈاکٹر راغب سرجانی: www.palqa.com)
اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ فلسطین کو عربی قبیلوںنے آباد کیا ہے ،اور وہی یہاں کے سب سے قدیم باشندے ہیں،اس لئے مہاتما گاندھی کی یہ بات حرف بحرف صحیح ہے:
Palestine belongs to the Arabs in the same sense that England belongs to the English or France to the French. It is wrong and inhuman to impose the Jews on the Arabs… (The Jews In Palestine By Mahatma Gandhi Published in the Harijan 26-11-1938.)
فلسطین اسی طرح عربوں کا ہے جس طرح انگریزوں کا انگلینڈ اور فرنچ کا فرانس ہے ، یہودیوں کو عرب پر مسلط کرنا غلط اور غیر انسانی عمل ہے ۔
مختصر تاریخ
۲۰۰۰ سال قبل مسیح میں حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر ار (Ur) سے جو دریائے فرات کے کنارے آباد تھا ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے اسحاق علیہ السلام کو بیت المقدس میں، جبکہ دوسرے بیٹے اسمعٰیل علیہ السلام کو مکہ میں آباد کیا۔ حضرت اسحق علیہ السلام، کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا نام اسرائیل بھی تھا۔ ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت دائودعلیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اسی سرزمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ اسی مناسبت سے یہ خطہ زمین پیغمبروں کی سرزمین کہلایا۔
ان علاقوں میں عبرانی قومیت کے لوگوں کی آمد کا نشان ولادت مسیح سے لگ بھگ 1100 سال قبل میں ملتا ہے۔ حضرت سیموئیل جو اللہ کے نبی تھے، بنی اسرائیل کے پہلے بادشاہ تھے۔ انہوں نے کافی عرصہ حکومت کی اور جب وہ بوڑھے ہو گئے تو انہوں نے اللہ کے حکم سے حضرت طالوت علیہ السلام کو بادشاہ مقرر کیا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید کے پارہ دوم میں سورہ بقرہ کی آیات (۲۴۷ )تا(۲۵۲) میں ملتا ہے۔
حضرت طالوت علیہ السلام نے۱۰۰۴ قبل مسیح سے۱۰۲۰ قبل مسیح تک حکمرانی کی۔ اس دوران انہوں نے جنگ کر کے جالوت کو مغلوب کیا اور اس سے تابوت سکینہ واپس لیا جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے تبرکات تھے۔
حضرت طالوت علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت دائود علیہ السلام بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے۔ انہوں نے پہلے حیبرون (Hebron) اور پھر بیت المقدس میں اپنا دارالحکومت قائم کیا۔ حضرت دائودعلیہ السلام نے۳۳ سال حکمرانی کی۔ ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ۹۶۵قبل مسیح میں حکومت سنبھالی جو ۹۲۶ قبل مسیح تک ۳۹ سال قائم رہی۔
۵۹۸قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے حملہ کر کے یروشلم سمیت تمام علاقوں کو فتح کر لیا اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر بادشاہ اور ہزاروں شہریوں کو گرفتار کر کے بابل میں قید کر دیا۔ ۵۳۹ قبل مسیح میں ایران کے بادشاہ خسرو نے بابل کو فتح کیا اور قیدیوں کو رہا کر کے لوٹا ہوا مال واپس یروشلم بھیج دیا۔
۳۳۲قبل مسیح میں یروشلم پر سکندراعظم نے قبضہ کر لیا۔ ۱۶۸ قبل مسیح میں یہاں ایک یہودی بادشاہت کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن اگلی صدی میں روما کی سلطنت نے اسے زیر نگین کر لیا۔ ۱۳۵ قبل مسیح اور ۷۰قبل مسیح میں یہودی بغاوتوں کو کچل دیا گیا۔ اس زمانے میں اس خطے کا نام فلسطین پڑ گیا۔(ویکیپیڈیا: فلسطین)
فلسطین اسلام کے سایہ میں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور مسعود میں فلسطین اسلامی سلطنت میں داخل ہوا،اس وقت اس پر عیسائیوں کا تسلط تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر و بن عاص اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما کی قیادت میں شام اور بیت المقدس کو فتح کرنے کے لئے اسلامی لشکر روانہ کیا ، قدس کی فتح حاصل کرنے کے لئےاسلامی لشکر کے قائد حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے جب کہ دوسری جانب حضرت عمرو بن العاص ؓ قیساریہ کے علاوہ شام کے تمام علاقوں کو فتح کرچکے تھے۔ بیت المقدس کے اطراف کے علاقوں کو فتح کرلینے کے بعد جب بیت المقدس کی جانب اسلامی لشکر بڑھا تو حضرت ابوعبیدہ ؓ نے یہ مناسب سمجھا کہ جہاں تک ہوسکے کشت وخون کا موقع نہ آئے، اور جنگ کے بجائے صلح کو فوقیت دی جائے، ادھر وہاں کے عیسائیوں نے صلح کی پیشکش کی اور اس میں یہ شرط رکھی کہ خلیفہ وقت : حضرت عمر ؓ خود آکر عہد نامہ لکھیں۔ چناں چہ حضرت ابوعبیدہ نے حضرت عمر ؓ کو خط لکھا کہ آپ یہاں تشریف لائیں، آپ کے آنے سے کسی جنگ وجدال کے بغیر بیت المقدس فتح ہوجائے گا۔ جب یہ اطلاع حضرت عمرؓ کو مدینہ میں ملی تو آپ نے مسجد نبوی میں صحابہ کرام سے مشورہ کیا ، حضرت عثمان غنی ؓ کے بشمول کئی صحابہ نے کہا کہ سفرکرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عیسائی اس قدر پست ہوچکے ہیں کہ مقابلے کی طاقت نہیں ہے ، وہ بلاشرط بیت المقدس کو مسلمانوں کے حوالے کردیں گے ، لیکن حضرت علی ؓ نے مشورہ دیا کہ آپ ضرور تشریف لے جائیں ، فاروق اعظم کو حضرت علی کی رائے پسند آئی اور آپ نے عز م سفر کرلیا۔
حضرت عمر ؓ کا سفر ۱۶ ہجری رجب کے مہینہ میں ہوا ، ستوؤں کا ایک تھیلا ، ایک اونٹ، ایک غلام اور ایک لکڑی کا پیالہ ہمراہ لے کر حضرت عمر روانہ ہوگئے، آپ کے اس سفر کی سادگی اور جفاکشی بھی بے مثل وبے نظیر تھی کہ کبھی غلام اونٹ کی مہار پکڑ کر چلتا اور فاروق اعظم اونٹ پر سوار ہوتے ، اور کبھی حضرت عمر ؓ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلتے اور غلام اونٹ پر سوار ہوتا ، یہ بے مثل عدل وجفاکشی کا سفر ایسے حاکم وقت عظیم الشان خلیفہ اسلام کا تھا جس کی فوجیں قیصر وکسری کے محلات اور تخت وتاج کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں میں روند چکی تھیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقام جابیہ میں پہونچے تو بیت المقدس کے رؤساء ملاقات کے لئے یہیں حاضر ےہوگئے اور اسی مقام پر آپ نے انہیں عہد نامہ لکھوادیا:
یہ وہ امان نامہ ہے جو امیر المؤمنین عمرؓ نے ایلیا والوں کو دیا ہے ،ایلیا والوں کی جان ، مال ، گرجے، صلیب ، بیمار، تندرست سب کو امان دی جاتی ہے ، اور ہر مذہب والے کو امان دی جاتی ہے ، ان گرجاؤں میں سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے ، یہاں تک کہ ان کے احاطوں کو بھی نقصان نہیں پہونچایا جائے گا، نہ ان کی صلیبوں اور مالوں میں کسی قسم کی کمی کی جائے گی، نہ مذہب کے بارے میں کسی قسم کا کوئی تشدد کیا جائے گا، اور نہ ان میں سے کوئی کسی کو ضرر پہونچائے گا، اور ایلیا میں ان کے ساتھ یہودی نہ رہنے پائیں گے، اور ایلیا والوں پرفرض ہے کہ وہ جزیہ دیں اور یونانیوں کو نکال دیں، پس یونانیوں یعنی رومیوں میں سے جو شہر سے نکل جائے گا اس کے جان ومال کو امان دی جاتی ہے جب تک کہ وہ محفوظ مقام تک نہ پہونچ جائے، اگر کوئی رو می ایلیا ہی میں رہنا پسند کرتا ہے تو اس کو باقی اہل شہر کی طرح جزیہ ادا کرنا ہوگا، یہاں اگراہل ایلیا سے کوئی شخص رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو اس کو امن وامان ہے یہاں تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہونچ جائیں۔ جو کچھ اس عہد نامہ میں درج ہے اس پر اللہ اور رسول اور خلفاء اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ، بشرطیکہ اہل ایلیا جزیہ کی ادائیگی سے انکار نہ کریں (تاریخ اسلام: ۱؍۳۳۱)
اس کے بعد آپ ؓ بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے،عجب اتفاق کے جب بیت المقدس کی سرحدکے پاس حضرت عمر پہونچے تو وہ سوار تھے اور غلام اونٹ کی مہار پکڑ کر چل رہا تھا، لیکن یہاں سے غلام کے سوار ہونے کا وقت ہوچکا تھا، غلام نے اصرار کیا کہ آگے آپ ہی سوار رہیں لیکن حضرت عمر ؓ نے اس سے انکار کرکے غلام کو سوار کردیا اور آپ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگے ، اور اسی حال میں بیت المقدس میں داخل ہوئے ، جب مسجد اقصی کے دروازے پر پہونچے تو منظر یہ تھا کے حاکم وقت پیادہ پا ہیں قدموں میں کیچڑ لگے ہیں اور غلام سوار ہے ۔ اس منظر کو دیکھتے عیسائی پادری نے آپ کو انجیل میں مذکور علامتوں کی روشنی میں پہچان لیا اور مسجد اقصی کی کنجی یہ کہتے ہوئے حوالے کیا کہ یہ کنجی جس کو ملے گی اس کی تین علامتیں انجیل میں مذکور ہیں:
(۱) وہ پیادہ پا آئے گا اور اس کا خادم سوار ہوگا
(۲) اس کے قدم کیچڑ میں لت پت ہوں گے
(۳) اس کے کپڑوں میں سترہ پیوند ہوں گے ۔ دو علامتیں تو میں نے دیکھ لیں ، مجھے اپنے کپڑے دیکھنے دیجئے، چناں چہ جب دیکھا توحضرت عمرؓ کے لباس میں سترہ پیوند لگے ہوئے تھے۔
غربت کی اس انتہاء کے باوجودیہ شان وشوکت اس بات کی دلیل ہے کہ ایمانی قوت اور اللہ اور رسول کی کام اطاعت سے ایمان والوں کو غلبہ ملتا ہے مال وزر کی کثرت ایمانی قوت کے سامنے ہیچ ہے، علامہ اقبال کے یہ اشعار پڑھتے چلیں:
اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات!
جو فقر سے ہے میّسر تو نگری سے نہیں
اگر جواں ہوں مری قوم کے جُسور و غیور!
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں
سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے!
زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں
اگر جہاں میں مرا جوھر آشکار ہوا
قلندری سے ہوا ہے، تو نگری سے نہیں!
اس کے بعد فلسطین اسلامی سلطنت کاایک صوبہ ہوگیاجسے حضرت عمر نے دو حصے کرکے ایک حصہ کاگورنر حضرت علقمہ بن حکیم کو بنایا اور دوسرے حصہ کا گورنر حضرت علقمہ بن محرز کو بنایا۔اس کے بعد سے ہمیشہ فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت رہی لیکن صلیبی جنگ کے بعد اس پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا۔
صلیبی جنگ
۱۰۹۵ء سے۱۲۹۱ء تک ارض فلسطین بالخصوص بیت المقدس پر عیسائی قبضہ بحال کرنے کے لیے یورپ کے عیسائیوں نے کئی جنگیں لڑیں جنہیں تاریخ میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگیں فلسطین اور شام کی حدود میں صلیب کے نام پر لڑی گئیں۔ صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا اور اس دوران نو بڑی جنگیں لڑی گئیں جس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے۔
دولت عباسیہ کے خاتمہ کے بعد عالم اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی سلجوقی سلطنت کے زوال کے بعد امت مسلمہ میں جس سیاسی انتشار کا آغاز ہوا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عیسائیوں کے دلوں میں بیت المقدس پر قبضہ کرنے کا خیال پیدا ہوا، اور اس کی خاطر اہلیان یورپ نے مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط کیں،جو کم وبیش ۲۰۰ سال تک مسلمانوں پر مسلط رہیں،ان جنگوں میں تنگ نظری ،تعصب ، بدعہدی ، بداخلاقی اور سفاکی کا جو مظاہرہ اہل یورپ نے کیا وہ ان کی پیشانی پر شرمناک داغ ہے۔ان جنگوںکے نتیجے میں بیت المقدس پر ان کا قبضہ ہوگیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی
لیکن پھر اللہ نے بیت المقدس کی فتح کے لئے سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے عظیم انسان کو ۱۱۳۸ء میںپیدا کردیا، جو ابتداء نورالدین زنگی کے فوجی افسر کی حیثیت سے متعارف ہوئے لیکن نورالدین زندگی کے انتقال کے بعد مسلمانوں کے عظیم حاکم بنے اور اپنی بہادری، فیاضی، حسن خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائیوں میں بھی عزت کی نگاہ سےدیکھے جانےلگے۔آپ کی بڑی خواہش تھی کہ بیت المقدس کو فتح کیا جائے ، یہ وہ دور تھا جس میں عیسائی طاقتیں مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کے درپے تھیں حتی کے مدینہ منورہ پر بھی قبضہ کرنے کے ارادہ عیسائی کمانڈر’’ رینالڈ‘‘ نے عیسائی امراء کے سا تھ مل پر حجاز پر حملہ کردیا تھا۔
صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بناے اور ان کی روک تھام کے لئے ان کا پیچھا کیا اور فوراً عیسائی کمانڈر’’رینالڈ‘‘ کا تعاقب کرتے ہوئے مقام حطین میں اسے پالیا۔ سلطان نے یہیں دشمن کے لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ ڈلوایا جس سے زمین پر آگ بھڑک اٹھی۔ چنانچہ اس آتشیں ماحول میں حطین کے مقام پر تاریخ کی خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا ۔ ۱۱۸۷ ء کے اس جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار عیسائی ہلاک ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لئے گئے۔ رینالڈ گرفتار ہوا اور سلطان نے اپنے ہاتھ سے اس کا سر قلم کیا۔ اس جنگ کے بعد اسلامی افواج عیسائی علاقوں پر چھا گئیں۔
اس کے بعد صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے لئے اس کی طرف رخ کیا،ایک ہفتہ تک خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دئے، اور رحم کی درخواست کی اور بالآخر پورے ۹۱؍ سال بعد ۱۱۸۷ء میں بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور تمام فلسطین سے مسیحی حکومت کا خاتمہ ہوگیا، یہ تاریخی سچائی ہے کہ اس موقع پر صلاح الدین ایوبی نے اعلی اسلامی اخلاق کا مظاہر ہ کیا جو تاریخ میں ہمیشہ مسلمان کرتے آئے ہیں کہ وہ غلبہ کے وقت دشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے انہیں معاف کردیتے ہیں۔سلطان صلاح الدین ایوبی ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے بیت المقدس میں داخل ہوئے اور انہوں نے زر فدیہ لے کر عیسائیوں کو امان دیا اور جو غریب فدیہ نہیں دے سکتے تھےان کے بھائی ملک عادل نے ان کی جانب سے فدیہ ادا کرکے انہیں امان دیا۔
اس کے بعد سے مسلسل (۷۶۱ )سال فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت رہی ،لیکن خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ۱۹۱۷ ءمیں برطانیہ نے اس پر قبضہ کرلیا۔جبکہ سترہویں صدی کے اواخر میں نازی جرمنی کے یہودیوں پر مظالم کی وجہ سے فلسطین کی جانب یہودیوں کی نقل مکانی شروع ہوچکی تھی، اور بعد میں اس میں بہت اضافہ ہوا ، ۱۸۹۶ء میں ایک یہودی صحافی ’’ثیودورہیرتزل‘‘ نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے یہودیوں کےلئے ایک مستقل ریاست کی تشکیل کی دعوت دی اور اس کے لئے اس نے دومقام: فلسطین ، یا ارجنٹائن کی جانب اشارہ کیا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو یہودی ریاست بناکر یہود یہاں جمع ہوجائیں،اور پھر اس مقصد کی تکمیل کے لئے یہودیوں کی بہت سی کانفرنسیں ہوئیں اور فنڈ جمع کئے گئے اور عملا فلسطین کو یہودی ریاست بنانے کی خاطر اس کی جانب بڑے پیمانے پر یہودیوں نے ہجرت شروع کی۔اور ۱۹۰۰ء میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی پانچ فیصد کے قریب ہوگئی جب کہ مسلمان ۸۶ فیصد تھے اور مسیحیوں کی تعداد ۱۴ فیصد تھی۔ یہوددیوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی کی وجہ سے عربوں میں غصہ کی لہر پیدا ہوئی اور۱۹۲۰ء ، ۱۹۲۱ء ، ۱۹۲۹ء اور ۱۹۳۶ء میں عربوں کی طرف سے یہودیوں کی نقل مکانی اور اِس علاقے میں آمد کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر بھی انگریزوں کے ۱۹۱۷ میں قبضہ اور یہود یوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی کے باوجود ۱۹۲۳ ءتک فلسطین کی اراضی میں سے صرف۳؍فیصد اراضی پر یہود کی ملکیت تھی اور ۹۷؍فیصد اراضی پر عرب باشندگان کی ملکیت تھی۔
دوسری طرف برطانیہ کو اس بات کا بھی شدیدخوف تھا کے کہیں یہودی بڑی تعدا د میں برطانیہ کا رخ نہ کرلیں،اور پھر ان کی شرارت پسندی کی وجہ سے برطانیہ کے مسیحی عوام کی زندگی میں درد وکرب اور الجھن پیدا ہوجائے، چناں چہ اس نے فلسطین کو یہودی ریاست کے قیام کا منصوبہ پیش کیا اور اس کے لئے ہر ممکنہ مدد دینے کا یہودیوں کو تیقن دیا۔
۲؍ نومبر۱۹۱۷ء کو برطانوی سیاست داںآرتھر جیمز بالفور نے صیہونیوں کے نام خط لکھ کران کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ وہ فلسطین کی سرزمین میں ایک یہودی ریاست کے قیام میں بھر پور اور عملی مدد دیں گے اور خط میں یہ بھی بتایا اس معاہدہ کی توثیق برطانوی کابینہ کے ایک خفیہ اجلاس میں ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۱۷ء کو ہو چکی ہے، خط کے الفاظ یہ تھے:
’’محترم روتھشیلڈ!
مجھے شاہ برطانیہ کی طرف سے آپ کو بتاتے ہوئے ازحد خوشی ہو رہی ہے کہ درج ذیل اعلان صہیونی یہودیوں کی امیدوں کے ساتھ ہماری ہمدردی کا اظہار ہے اور اس کی توثیق ہماری کیبینیٹ بھی کر چکی ہے۔
شاہ برطانیہ کی حکومت فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حامی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن صلاحیت کو بروئے کار لائے گی مگر اس بات کو مدِ نظر رکھا جائے کہ فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی (مسلمان اور عیسائی) کے شہری و مذہبی حقوق یا دوسرے ممالک میں یہودیوں کی سیاسی حیثیت کو نقصان نہ پہنچے۔
میں بہت ممنون ہوں گا اگر اس اعلان کو صہیونی فیڈریشن کے علم میں بھی لایا جائے‘‘ (ویکیپیڈیا: اعلان بالفور)
بالفور کا یہ خط’’اعلان بالفور‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ،اور اسی اعلان کے تحت اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔چناں چہ 1947ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ فلسطین کو تقسیم کر کے ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا ،اور برطانیہ نے اس علاقے سے 1948ءمیں اپنی افواج کو واپس بلالیا اور 14 مئی 1948ءکو اسرائیل کی آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا،اقوام متحدہ نے فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے درمیان ظالمانہ انداز میں تقسیم کیا کہ اصل مالکین وقدیم باشندگان کو فلسطین کا ۴۵ فیصد حصہ دیا اور یہودویوں کو ۵۵؍فیصد حصہ دیا ، جبکہ اس وقت فلسطین میں صرف ۳۱ ؍فیصدیہود تھے اور وہ صرف ۷؍فیصد اراضی کے مالک تھے۔
اس کے بعد کشمکش کا سلسلہ جاری رہا اور ہر کشمکش کا اانجام یہ نکلا کے یہود نے مزید علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی ناجائز ریاست میں انہیں شامل کرلیا۔ اسرائیلی ریاست کے قیامت کے فوری بعد ۱۹۴۸ء میں جب برطانیہ نے اپنی فوج کو واپس بلایا تو یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین بڑی جنگ شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں یہود نے فلسطین کے ۷۸؍فیصد حصہ پر قبضہ کرلیا۔
۱۹۴۸ ء ہی میں اسرائیل نے حملہ کرکے بیت المقدس کے نصف مغربی حصہ پر قبضہ کرلیا جبکہ بقیہ نصف حصہ جس میں مسجد اقصی کا حصہ بھی تھا اردن کے قبضہ میں رہا ، اسی طرح مغربی کنارہ پر بھی اردن کا قبضہ رہا اور غزہ پر مصر کی حکومت رہی۔
لیکن چند ہی سالوں بعد ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے پڑوسی ممالک پر حملہ کرکے ان علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا،جسے اقوام متحدہ نے غیر قانونی قرار دیا اس لئے ان علاقوں کو’’ مقبوضہ اراضی‘‘ (Occupied Terretories) کہا گیا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے ان قبضوں کو غیر قانونی کہے جانے کے باوجود اسرائیل نے ان علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھا ۔اوراسرائیل کی دعوت پر یہود ی ہجرت کرکے یہاں پہونچ کر آباد ہوتے رہے۔
ابھی جس غزہ پر اسرائیل بمباری کررہا ہے اور جہاں بے قصور لوگوں کو بالخصوص بیماروں ، عورتوں اور بڑی تعداد میں بچوں کو شہید کرکے نسل کشی کررہا ہے، یہ غزہ بھی ۲۰۰۵ تک اسرائیل کے ناجائز قبضہ میں تھا، لیکن ۲۰۰۵ ءمیں حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کے دباؤ میں آکر اسرائیل نے غزہ پر سے اپنا قبضہ ہٹالیا اور اپنی کالونیوں کو براخوست کرکے فلسطینیوں کے حوالے کیا ، لیکن اب پھر وہ وہاں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کررہا ہےاور وہاں کے بے قصوروں کو شہید کررہا ہے، اور اب تک اتنی بمباری کرچکا ہے کہ یہ علاقہ جو کبھی عمارتوں سے آباد تھا اب یہاں کھنڈرات ہی کھنڈرات نظر آرہے ہیں۔جب کہ پہلے سے ہی اس نے یہاں کے لوگوںکی زندگی کو قید کی زندگی میں تبدیل کررکھا ہے، اور عالمی برادری کی کوششوں کے باوجود اس نے یہاں کی ناکہ بندی ختم نہیں کی ہے۔
مسجد اقصی کے حوالے سے بھی اسرائیل کی نیت بہت غلط ہے ، کہ اس پر اس کا قبضہ تو ہے ہی لیکن اسے شہید کرکے اس مقام پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر اسرائیل کے منصوبے میں ہے؛ کیونکہ یہودیوںکا دعوی ہے کہ یہ مسجد ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ ہے ،اور مسجد اقصی کی مغربی دیوار ہیکل سلیمانی کی باقیات میں سے ہے، جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیےاسے ’’دیوار گریہ‘‘ کہا جاتا ہے، حالانکہ یہ دعوی غلط ہے اور وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔ لیکن وہ اس کی تعمیر کے درپے رہے ہیں اورہیں اوراسی یہودی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اور مسجد اقصی کو مسمار کرنے کے لئے ۲۱؍ اگست ۱۹۶۹ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی تھی، جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا، جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھایہ وہ منبر تھاجسے سلطان صلاح الدین ایوبی قبلہ اول کی آزادی کے لئے لڑنے والی جنگوں میں ساتھ رکھتے تھے ، تاکہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں، چناں چہ فتح کہ بعد اسے نصب کردیا۔
فلسطین اسلامی سلطنت میں داخل ہونے کے بعد سے درمیانی مسیحی تسلط کے۹۰ سال کو چھوڑ کر۱۲۰۰ سال تک اسلامی سلطنت کا حصہ رہ چکا ہے ، اوراب اس کا اکثر حصہ صہیونیت کے قبضہ میں ہے لیکن ان شاء اللہ مسجد اقصی کی آزادی ہوگی، اور جس طرح ہر ظلم مٹ جاتا ہے ان شاء اللہ ان یہودیوں کو ان کےمظالم کی سزا اللہ ضرور دے گا۔
Login Required to interact.

