محمد شاہ نواز قاسمی
کٹہری پچھم محلہ، محبا، ضلع بیگوسرائے بہار
===
اللہ تعالی کے ذریعے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ تعلیمات اور ہدایات کا مقصود یہ ہے کہ خداوند قدوس کی ٹھیک ٹھیک بنائی ہوئی ساخت کے مطابق انسانی زندگی کا چست درست نظم کیا جائے۔ اس عظیم مقصد کی تحصیل کے لیے مردوں کی اصلاح کے پہلو بہ پہلو خواتین کی اصلاح بھی ناگزیر ہے؛ کیوں کہ دین اسلام میں یکساں طور پر عورتوں اور مردوں کو مقدس ذات باری کی توحید اور یکتائی کی دعوت دی گئی ہے، دونوں صنفوں کے لیے دین اسلام کو مساویانہ بر حق قرار دیا گیا ہے، جس فلاح و بہبود کو نصب العین قرار دیا گیا ہے اس کی حاجت خواتین کو بھی ویسی ہی ہے جیسی مردوں کو ہے ، دوزخ کی خوفناکی اور ہولناکی مرد و خواتین کے لیے یکساں ہے۔ قرآن مجید اور حدیثوں میں ذکر کردہ جنت کا حصول عورتوں کے لیے مسلسل محنت سے ممکن ہے اسی طرح مردوں کو بھی کدو کاوش لازما کرنا ہوگی۔
اگر کسی مرد کی نجات کے لیے یہ امر ناکافی ہے کہ اس کے گھرانے کی خواتین ایمان کی دولت سے فیض یاب تھیں اور ان کا مطمح نظر ہمہ دم اللہ تعالی کی رضا جوئی تھی۔
ظاہر ہے کہ کسی عورت کو بھی صرف اس بنا پر اخروی چھٹکارہ نصیب نہیں ہو سکتا کہ اس کی فیملی کے افراد مومن تھے اور خدا کی خوشنودی کے لیے ہمہ وقت جان نچھاور کو آمادہ؛ بلکہ اللہ تعالی کے نزدیک مقررہ ضابطے کے مطابق کوئی شخص کچھ بھی نہیں پا سکتا جب تک اس نے خود پانے کی کوشش نہ کی ہو!!!
اسلام کی طرف سے تقاضا ہے کہ عورتوں اور مردوں کو یکساں اپنی کامیابی کی فکر ہو ، ہر ایک دل و جان سے ان تعلیمات کو بجا لائے جو اسے اللہ تعالی کی گرفت سے نجات دلا کر انعام و اکرام کا مستحق بنائے ، کوئی مرد یا کوئی عورت اپنے آپ کو دوسروں کے ساتھ باندھ لے کہ اس کے ساتھ بندھے بندھے دوزخ کے گہرے کنویں میں جا گرے اور نہ کوئی مرد یا عورت ایسے اندھوں کی سی زندگی گزارے کہ اپنے گھر میں ایمان اور یقین کی شمع روشن ہوتے ہوئے اس سے روشنی نہ پائے۔
معاشرے کی اصلاح کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس تحریک میں عورتوں نے مردوں کے ساتھ برابر حصہ لیا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت جس ہستی کو نصیب ہوئی وہ ایک خاتون؛ یعنی ہم سب کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں جنھوں نے بار نبوت کو اٹھائے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانپتے دل کو تسکین بخشی، دس سال تک ہر نوع کی سختیوں میں آپ کی رفیق اور غم گسار بنی رہیں ، خاتون اول کی حیثیت سے شرک کی گندگیوں سے معاشرے کی اصلاح میں شاندار کردار ادا کیا اور اپنے قیمتی سرمایے سے مکی دور میں انقلابی مشن کو زندہ رکھا۔
نبوی مشن کے زیر اثر دعوت حق سے متاثر ہو کر پہلے تین سالوں میں جن 55 اشخاص نے اسلام کو سینے سے لگایا ان میں نو/9 خواتین شامل تھیں ۔ پانچ چھ برسوں تک مکہ مکرمہ میں اصلاح معاشرہ کی خاطر انتہائی ظلم و ستم سہنے کے باوجود جو 63 افراد اپنے وطن سے حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے ان میں 18 خواتین تھیں ، جنھوں نے ایمان و یقین کی خاطر جلا وطنی کی مصیبتوں میں اپنے شوہروں اور بھائیوں کا ساتھ دیا۔ مکہ مکرمہ میں کفار کے ہاتھوں سب سے زیادہ ظلم سے دوچار ہونے والوں میں بلال و صہیب جیسے مردوں کے ساتھ سميہ، ام عمارہ، ام عمیس اور زنیرہ جیسی عورتیں بھی تھیں۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں اسلام کی ترویج اور شرک و خرافات کی آلودگیوں سے معاشرہ کی تطہیری مہم میں انصار کے مردوں کے علاوہ عورتوں نے حصہ لینے میں دریغ نہیں کیا۔
احد کی جنگ میں ام عمارہ رضی اللہ عنہا پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھیں ، جب انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی حالت میں کفار کے نرغے میں دیکھا تو تلوار کھینچ کر سامنے آکھڑی ہوئیں اور آپ کو بچاتے ہوئے بہاردی کی ایسی نادر مثال قائم کی کہ شانے پر گہرا زخم کھایا۔
ایسے ان گنت واقعات بتاتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کی راہ میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں نے بھی خوب حصہ لیا ہے، انھوں نے حق کی دعوت اور اصلاح معاشرہ کی خاطر ظلم و ستم کو برداشت کیا، خطرات مول لیے، جان و مال کی قربانیاں دیں، رشتے داروں کو چھوڑا، جلاوطنی اور فاقے کی تکلیف اٹھائی اور اپنے ایمان دار باپوں، شوہروں اور بھائیوں کے ساتھ وفاداری کا پوراحق ادا کیا۔
موجودہ دور میں اسلامی معاشرے کو دنیا پر برتری اور غلبہ کے لیے آج کل کی عورتیں، ماضی کی جاں نثار خواتین کے نقش قدم پر چل کر اخلاص ایمانی اور غیرت دینی کا ثبوت دیں۔ عورتوں کے اوپر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو، اپنے ہم سایوں اور ملنے جلنے والوں کے گھروں کو جاہلانہ خرافات اور فاسقانہ اطوار سے پاک کرنے کی خوب کوشش کریں، گھروں کی معاشرت کو اسلامی بنائیں، پرانی اور نئی جاہلیتوں سے خود بچیں اور پڑوس کے گھروں کو بچانے کا سبب بنیں، ان پڑھ ، نیم خواندہ خواتین کے درمیان علم دین کی شمع جلائیں ، عصری تعلیم یافتہ خواتین کے خیالات کی اصلاح فرمائیں، خوش حال گھروں میں خدا بیزاری، غفلت کیشی اور اسلام کے اصول سے انحراف کی پھیلی بیماریوں کو روکیں، اپنی اولاد کو اسلام کے اقدار پر ابھاریں، اپنے گھروں میں بے دینی اور ذہنی ارتداد میں مبتلا مردوں کو حکمت و دانائی سے راہ راست پر لانے کی سعی کریں اور اسلام کی راہ میں خدمت کرنے والوں کو اپنے تعاون سے نوازیں۔
اگر کسی مرد کی نجات کے لیے یہ امر ناکافی ہے کہ اس کے گھرانے کی خواتین ایمان کی دولت سے فیض یاب تھیں اور ان کا مطمح نظر ہمہ دم اللہ تعالی کی رضا جوئی تھی۔
ظاہر ہے کہ کسی عورت کو بھی صرف اس بنا پر اخروی چھٹکارہ نصیب نہیں ہو سکتا کہ اس کی فیملی کے افراد مومن تھے اور خدا کی خوشنودی کے لیے ہمہ وقت جان نچھاور کو آمادہ؛ بلکہ اللہ تعالی کے نزدیک مقررہ ضابطے کے مطابق کوئی شخص کچھ بھی نہیں پا سکتا جب تک اس نے خود پانے کی کوشش نہ کی ہو!!!
اسلام کی طرف سے تقاضا ہے کہ عورتوں اور مردوں کو یکساں اپنی کامیابی کی فکر ہو ، ہر ایک دل و جان سے ان تعلیمات کو بجا لائے جو اسے اللہ تعالی کی گرفت سے نجات دلا کر انعام و اکرام کا مستحق بنائے ، کوئی مرد یا کوئی عورت اپنے آپ کو دوسروں کے ساتھ باندھ لے کہ اس کے ساتھ بندھے بندھے دوزخ کے گہرے کنویں میں جا گرے اور نہ کوئی مرد یا عورت ایسے اندھوں کی سی زندگی گزارے کہ اپنے گھر میں ایمان اور یقین کی شمع روشن ہوتے ہوئے اس سے روشنی نہ پائے۔
معاشرے کی اصلاح کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس تحریک میں عورتوں نے مردوں کے ساتھ برابر حصہ لیا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت جس ہستی کو نصیب ہوئی وہ ایک خاتون؛ یعنی ہم سب کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں جنھوں نے بار نبوت کو اٹھائے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانپتے دل کو تسکین بخشی، دس سال تک ہر نوع کی سختیوں میں آپ کی رفیق اور غم گسار بنی رہیں ، خاتون اول کی حیثیت سے شرک کی گندگیوں سے معاشرے کی اصلاح میں شاندار کردار ادا کیا اور اپنے قیمتی سرمایے سے مکی دور میں انقلابی مشن کو زندہ رکھا۔
نبوی مشن کے زیر اثر دعوت حق سے متاثر ہو کر پہلے تین سالوں میں جن 55 اشخاص نے اسلام کو سینے سے لگایا ان میں نو/9 خواتین شامل تھیں ۔ پانچ چھ برسوں تک مکہ مکرمہ میں اصلاح معاشرہ کی خاطر انتہائی ظلم و ستم سہنے کے باوجود جو 63 افراد اپنے وطن سے حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے ان میں 18 خواتین تھیں ، جنھوں نے ایمان و یقین کی خاطر جلا وطنی کی مصیبتوں میں اپنے شوہروں اور بھائیوں کا ساتھ دیا۔ مکہ مکرمہ میں کفار کے ہاتھوں سب سے زیادہ ظلم سے دوچار ہونے والوں میں بلال و صہیب جیسے مردوں کے ساتھ سميہ، ام عمارہ، ام عمیس اور زنیرہ جیسی عورتیں بھی تھیں۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں اسلام کی ترویج اور شرک و خرافات کی آلودگیوں سے معاشرہ کی تطہیری مہم میں انصار کے مردوں کے علاوہ عورتوں نے حصہ لینے میں دریغ نہیں کیا۔
احد کی جنگ میں ام عمارہ رضی اللہ عنہا پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھیں ، جب انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی حالت میں کفار کے نرغے میں دیکھا تو تلوار کھینچ کر سامنے آکھڑی ہوئیں اور آپ کو بچاتے ہوئے بہاردی کی ایسی نادر مثال قائم کی کہ شانے پر گہرا زخم کھایا۔
ایسے ان گنت واقعات بتاتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کی راہ میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں نے بھی خوب حصہ لیا ہے، انھوں نے حق کی دعوت اور اصلاح معاشرہ کی خاطر ظلم و ستم کو برداشت کیا، خطرات مول لیے، جان و مال کی قربانیاں دیں، رشتے داروں کو چھوڑا، جلاوطنی اور فاقے کی تکلیف اٹھائی اور اپنے ایمان دار باپوں، شوہروں اور بھائیوں کے ساتھ وفاداری کا پوراحق ادا کیا۔
موجودہ دور میں اسلامی معاشرے کو دنیا پر برتری اور غلبہ کے لیے آج کل کی عورتیں، ماضی کی جاں نثار خواتین کے نقش قدم پر چل کر اخلاص ایمانی اور غیرت دینی کا ثبوت دیں۔ عورتوں کے اوپر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو، اپنے ہم سایوں اور ملنے جلنے والوں کے گھروں کو جاہلانہ خرافات اور فاسقانہ اطوار سے پاک کرنے کی خوب کوشش کریں، گھروں کی معاشرت کو اسلامی بنائیں، پرانی اور نئی جاہلیتوں سے خود بچیں اور پڑوس کے گھروں کو بچانے کا سبب بنیں، ان پڑھ ، نیم خواندہ خواتین کے درمیان علم دین کی شمع جلائیں ، عصری تعلیم یافتہ خواتین کے خیالات کی اصلاح فرمائیں، خوش حال گھروں میں خدا بیزاری، غفلت کیشی اور اسلام کے اصول سے انحراف کی پھیلی بیماریوں کو روکیں، اپنی اولاد کو اسلام کے اقدار پر ابھاریں، اپنے گھروں میں بے دینی اور ذہنی ارتداد میں مبتلا مردوں کو حکمت و دانائی سے راہ راست پر لانے کی سعی کریں اور اسلام کی راہ میں خدمت کرنے والوں کو اپنے تعاون سے نوازیں۔
Login Required to interact.

