مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
اس عالم فانی میں ہر جان کے ساتھ موت لگی ہوئی ہے ؛ کیونکہ خلاق ازل نے اس عالم فانی کے مکینوں کے لئے فنا کومقدر کیا ہے ،کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ ایک اٹل حقیقت ہے ، جس سے کو ئی فرد بشر بچنے والا نہیں ہے ، ہر ایک کی اجل متعین ہے ، جس میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر ہرجاندارکو سوئے آخرت روانہ ہونا۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
اسی نظام قدرت کے تحت موت کی خبریں ہمارے کانوں میں پڑتی ہی رہتی ہیں حتی کہ یہ خبر ایک عام خبر معلوم ہوتی ہے ، لیکن بعض موتیں ایسی ہوتی ہیں جو ذہن ودماغ کوجھنجھوڑ دیتی ہیں، غم واندوہ کا ماحول قائم کردیتی ہیں،زندگی کو بے رنگ کردیتی ہیں، ایسی تکلیف سے دوچار کرتی ہیںجس کی چبھن سے جلد نجات نہیں ملتی ہے ، اورایسا رنج پیدا کردیتی ہیں جس سے نکلنا مشکل ہوتا ہے اور طویل مدت تک اس کی کسک محسوس ہوتی رہتی ہے ، لیکن چونکہ قضاء الہی پر راضی رہنا بھی ایمان والوں کو کام ہے اور خوشی اور غم کے لمحات میں رضابالقضاء کا امتحان ہوتا ہے ،اس لئے مغموم دل کوتھامتے ہوئے خود کو رب کے فیصلہ پر راضی کرنا پڑتا ہے اور یقینا یہی وہ سہارا ہے جس سے رنج والم کے لمحات میں صبر وتسلی نصیب ہوتی ہے اور غم جھیلنا آسان ہوجاتا ہے ۔
مولانا غزالی ندوی رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ ًواسعۃ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جو قضاء الہی کو لبیک کہہ کر چلے تو گئے لیکن ان کی موت نے ہزاروں لوگوں کو رنجیدہ کردیا ، اورانہوں نے اپنی مثالی زندگی اور اپنی خدمات کے ذریعہ ایسے انمٹ نشانات چھوڑے ہیں کہ وہ طویل مدت تک دلوں میں آباد رہیں گے ۔
اے ہم نَفَسانِ محفِلِ ما
رفتید ولے نہ از دِلِ ما
۱۰ ؍ شوال المکرم ۱۴۴۰ ھ مطابق ۱۴؍ جون ۲۰۱۹ ء بروز جمعہ تقریبا ۱۰؍ بجے میرے خسر محترم جناب حسین اشرف صاحب کے ذریعہ خبر ملی کہ ’’غزالی اللہ کے پیارے ہوگئے‘‘ اس خبر کے سنتے ہی دل میں جو کیفیت پیدا ہوئی اسے الفاظ میں ڈھالنا مشکل ہے ، فوراً محترم یمین ماموں کو فون کیا ، ان کی لڑکھڑاتی ہوئی آوازکو( جسے وہ اپنے غم کو سنبھالتے ہوئے ادا کررہے تھے) سنتے ہی دل کانپ گیا اور بے ساختہ آنکھوں سے آنسو بہہ گئے ؛کیونکہ یہ خبر خالہ زاد بھائی ، مخلص رفیق ، علم وعمل کے پیکر نوجوان عالم دین کی رحلت کی خبر تھی۔
یہ کیسے لٹ گئی دنیا اچانک قلب مضطر کی
نہیں جاتی ، نہیں جاتی دل محزوں کی حیرانی
مولانا غزالی ندوی ؒ، عمر میں مجھ سے تقریبا دو سال چھوٹے تھے، ان کی ولادت۷؍ نومبر۱۹۸۰ ءکوبروز جمعہ مادھوپور سلطان پور ، سیتامڑھی بہار میں ہوئی، جیسا کہ ان کے دادا مولانا حبیب صاحب نوراللہ مرقدہ کے منظوم کلام تہنیت سے معلوم ہوتا ہے:
جمعہ کا دن نومبر سات سن اَسّی کو روح اللہ
ہے مادھوپور کی گلیوں میں با بو بے حجاب آیا
تمیز الرحمن مبارک ہو بابو محمود کو یارب
دعا دادا اور دادی کی زباں پر باثواب آیا
یہ واضح رہے کہ مرحوم مولانا غزالی ندویؒ کا نام دادا محترم نے ’’تمیزالرحمن روح اللہ‘‘ رکھا تھا، جب کہ ماموں محترم جناب قاری فطین اشرف صاحب نے انہیں مشہود ذکاغازی عرف غزالی کے نام سے موسوم کیا ،بعد میں اس میں تخفیف ہوکر محمد غزالی کے نام سے وہ موسوم رہے اور تعلیمی اسناد وغیرہ میں یہی نام مذکورہوا۔
کہتے ہیں کہ ’’ہونہار بروے کے چکنے چکنے پات‘‘ ۔ مولانا غزالی پچپن ہی سے اس کہاوت کے مصداق رہے، ان کا بچپن ان کے کمالات کی غمازی کررہا تھا ، خالو محترم جناب محمد محمود صاحب دلی میں سرکاری ملازم تھے، اس لئے حفظ قرآن کریم کے لئے مدرسہ تجوید القرآن دلی میں داخل ہوئے اور صرف ۸ سال کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کرکے قرآنی اعجاز کی مظہر بنے۔
۱۹۹۰ ء۔ ۱۹۹۱ ءمیں ادارہ دعوۃ الحق مادھورپور سلطانپور سیتامڑھی میں جماعت اعدادیہ میں داخل ہوئے ،میں بھی اسی جماعت میں تھا ، جماعت کے ساتھیوں میں محترم ماموں مولانا مکین اشرف ندوی ، مولانا معین اشرف ندوی اور بھائی حذیفہ اشرف وغیرہ تھے، سنجیدگی ، معصومیت اور ذہانت وفطانت ان کی پہچان تھی،اور اسی وجہ سے وہ ہر دل عزیز تھے ،خال محترم مولانا رزین اشرف ندویؔ جوکہ اس وقت اس جماعت کے نگراں اور خاص استاذ تھے ان کی خاص نظر عنایت ہم دونوں پر ہوتی تھی ،ذوق تالیف اسی وقت سے تھا، چناں چہ حضرت مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمۃ کی کتاب قصص النبیین اور القراءۃ الراشدہ کے طرز تالیف کو نمونہ بناتے ہوئے ہم دونوں نے اسی وقت مضامین لکھنا شروع کیا ، ظاہر سی بات ہے کہ اس وقت کی صلاحیت تو ایسی نہیں تھی، لیکن رزین ماموں ہم دونوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور غلطیوں کی نشاندہی کرکے اس کی اصلاح کرتے، یہی شوق پروان چڑھا، چناں چہ جب وہ ندوۃ العلماء سے فراغت حاصل کررہے تھے اس وقت عربی ، انگریزی اور اردوکے قادرالکلام ادیب بن چکے تھے، عربی زبان وادب میں مہارت کی سنداس سے بڑی اور کیا ہوسکتی ہے کہ مدینہ منورہ کے مشہور عالم ،مسجد نبوی کے مدرس شیخ حامداکرم البخاری سے مدینہ منورہ میں ۲۰۱۸ء میں میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مولانا غزالی ؒ کا تذ کرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ہندوستان میں بہت سے علماء سے ملا، لیکن جن چند علماء کی عربی سے متأثر ہوا ان میں ایک ’’غزالی‘‘ ہیں ،ان سے ان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ’’الامداد ویلفیر ٹرسٹ‘‘ کے پروگرام میں مادھورسلطانپور تشریف لائے تھے۔
مولانا غزالی ؒجید حافظ قرآن تھے ، اللہ نے آواز اور لحن بھی دلنشیں عطا کیا تھا ، ندوۃ العلماء کی طالب علمی کے زمانہ میں وہاں کے طلبہ کے مابین ہونے والے مسابقہ قرأت میں اول درجہ سےکامیاب ہوئے، اس کامیابی کی وجہ سے انہیں سعودی حکومت کی جانب منعقد کئے جانے والےبیسیویں عالمی مسابقۂ قرأت میں شرکت کے لئے بھیجا گیا، جو کہ۱۴؍رجب المرجب ۱۴۱۹ھ تا ۲۵؍رجب المرجب ۱۴۱۹ھ مکہ مکرمہ کی سرزمین پر منعقد ہوا۔ اسی سفر میں آپ ’’بیت اللہ‘‘ کے اندر داخل ہونے اور اس میں دوگانہ اداکرنے کی سعادت سے ہمکنار ہوئے۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بحشندہ
۱۹۹۸ء میں ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد اساتذہ کی ایما ء پر موریشش گئے اور وہاں کے ایک اسکول سے وابستہ رہ کر تقریبا ۲۰۰۳ء تک علمی خدمات میں مصروف رہے ، بعدازاں ’’خوانیج‘‘ دبئی، عرب امارات کی مسجد میں امام وخطیب مقرر ہوئے ، اور ۲۰۰۹ء تک وہیں رہے ،مجھے یاد پڑتا ہے کہ جس وقت آپ وہاں امام تھے بہت سےعرب آپ سے بڑی عقیدت سے ملتے تھے، دور سے آپ کے پیچھے نماز پڑھنے اور آپ کا خطبہ سننے آتے تھے، کئی عرب تو اب تک آپ کو یاد کرتے ہیں، اور آپ کے قدرداں ہیں، اطراف میں مقیم افغانستان وپاکستان کے پٹھانوں کے درمیان بہت محبوب تھے، ان کے حالات ومسائل سے دلچسپی اور ان کے درمیان دینی اور اصلاحی کوششوں نے آپ کو ان کا محبوب بنارکھا تھا، لیکن اس کے باوجود ایک ایسے شخص کے لئے جو امت کے لئے پیدا کیا گیا ہو، جسے اللہ نے علم دین سے خدمت دین کے لئے آراستہ کیا ہواور جسے مسند درس کی زینت اور علوم اسلامیہ کا ترجمان بنانا مقدر ہواس کے لئے وہ جگہ مناسب نہیں تھی، چناں چہ ۲۰۰۹ء انہوں نے دبئی کی چمک دمک والی دنیا کو خیر باد آبادکہہ دیا، اور اکابر کے نقش قدم پرقناعت کو ’’زاد ِراہ‘‘ بناکر تعلیم وتدریس اوردعوت دین کو اپنامشغلہ بنایا۔
ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن
طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے
مولانا کے والدین سالوں سے علی گڑھ میں مقیم ہیں ، بلکہ وہی وطن اصلی بن چکا ہے ، آپؒ نے علی گڑھ میں مستقل قیام کی نیت کے ساتھ ہی مدرسۃ العلوم الاسلامیہ علی گڑھ کو اپنی تدریسی خدمت کے لئے منتخب کیا اور وہاں اپنی علمی لیاقت کا فیض جاری کیا،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسرراشد شاذ کی فکری کجی کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے ہزاروں لوگوں کو اس کے فتنے سے بچایا ، دعوت وارشاد کے ذریعہ لوگوں کی اصلاح کا کام کیا ، علمی اور تحقیقی کاموں سے ان کی دلچسپی کو یہاں کام کامیدان ملا اور امام بخاری ریسرچ اکیڈمی ۲۰۱۶ ءمیں قائم کیا ، اس اکیڈمی نے اتنے کم عرصہ میں ایسے خدمات انجام دئے ہیں جو اس کی قبولیت اوراس کے بانی کے اخلاص کی دلیل ہیں، چناں چہ اس اکیڈمی کے مقاصد کی تکمیل کی طرف بڑھتے ہوئے خود انہوں نے عصر حاضر کے ایک انتہائی اہم اور حساس مسئلہ کو اپنی تحقیق وتالیف کا موضوع بنایا کہ کیا ’’موجودہ زمانہ کے اہل کتاب مسلمان ہیں؟ ‘‘الحمد للہ مولانا مرحوم اس کتاب کی تالیف سے فارغ بھی ہوگئے، اور یہ ان شاء اللہ چھپ کرکے جلد ہی قارئین کی آنکھوں کا سرمہ اور شمع ہدایت بنے گی۔ اس کتاب میں انہوں نے دلائل کی قوت سے ان مستشرقین ومتغربین کے خیالات کے پرخچے اڑادئے ہیں جو ان کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے دلائل کا منصفانہ تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے، اسی طرح انہوں نے اپنی مردم شناس نظر سے جن باصلاحیت مخلص احباب کو اکیڈمی سے جوڑا انہوں نے بھی ان کی نگرانی میں مثالی کام کئے ، مولانا خالد ضیاء ندوی نے فتنہ انکار حدیث کے رد پر مدلل ومفصل کتاب لکھی ، بعض احباب سے عربی زبان کی مفید کتابوں کا ترجمہ کرایا، متعدد مختصر مفید علمی رسالے شائع کئے، ہدایہ جیسی فقہ حنفی کی ضخیم اور مقبول ترین کتاب کو کوئز کی شکل میں تیار کرنے کا کام شروع کرایا، بفضلہ تعالی کتاب الزکوۃ تک یہ مشکل ترین کام مکمل ہوچکا ہے ۔
ان علمی مصروفیات کے ساتھ عوامی اصلاح کی فکر میں ہفتہ واری ’’الجمعۃ ‘‘کو اردو اور ہندی میں جاری کیا جو دو سال سے پابندی سے شائع ہورہاہے، اس تحریری دعوت کے ساتھ میدانی دعوت میں بھی آپ صبح وشام مصروف تھے ، انہیں کوششوں نے آپ کو خلائق میں محبوب بنادیا ، یہی وجہ تھی کہ ان کے انتقال کے وقت اپنوں کی طرح محلہ اور قرب جوار کے افراد بھی ماتم کناں دکھ رہے تھے ۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
اس مادیت کے دور میں کسی انسان کے انتقال کے بعد اس کی اور اس کے کاموں کی فکر اپنوں کو بہت کم ہوتی ہے چہ جائیکہ پڑوسی اور شناسائی اس کی فکر کریں، لیکن مولانا غزالی ؒکی مرنجاں مرنج شخصیت اور ان کی نافعیت کا اثر تھا کہ ابھی ان کی تدفین باقی تھی اور ان کے محلہ کے ایک بزرگ مصلی مسجد میں بعد فجر مائک لے کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ مولانا غزالی ؒ کا ہم سبھوں پر بڑا احسان ہے، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے کاموں کی سرپرستی کرکے انہیں سنبھالیں، اور آگے بڑھائیں، ان کے جیسا انسان مشکل سے ملتا ہے، ہماری مسجد اور ہمارا محلہ ایک بے مثل مربی اور مصلح سے محروم ہوگیا، اب ہمیں چاہئے کہ ان کے ایصال ثواب کے لئے مساجد میں بورویل وغیرہ کا انتظام کریں اور ان کے مدرسے میں زیر تعلیم طلبہ کی کفالت کی فکر کریں۔
اسے سنتے ہی محسوس ہوا کہ مولانا غزالی ؒجس فکر کے ساتھ جی رہے تھے اللہ ان کے بعد ان کے نام پر وہی کام کروارہا ہے، اوران کے کاموں کو جاری رکھنے کی طرف افراد کو مائل کر رہا ہے، آج اطلاع ملی کہ ان کی یاد میں’’ مولانا غزالی ویلفیرسوسائٹی ‘‘ایک ڈاکٹر صاحب نے بنائی ہے ، ان شاء اللہ مولانا غزالیؒ کے شروع کئے ہوئے خیر کے سارے کام بہت تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہوں گے کہ ان کے سارے بھائی، چچا، ماموں اور اہل تعلق اس بات کا عہد کر چکے ہیں کہ وہ اسے سنبھالیں گے اور آگے بڑھائیں گے، یقینا ان کا عمل مقبول ہوگیا ،وہ کامیاب ہوگئے اور انعام کے حقدار ہوگئے اس لئے رب کریم نےانہیں انعام و اکرام کے لئے اپنے جوار میں بلالیا ۔
ان کے انتقال کے موقع پر مجھے ایک پروفیسر ملے جو اپنے علمی کمال کے باجود یہ اعتراف کر رہے تھے کہ کسی دینی بات اور مسئلہ کو جتنے اچھے اور مؤثر پیرایہ پر مولانا غزالی ؒ بیان کرتے وہ بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے، ان کی بات دل کو چھولیتی تھی۔ کیوں نہ ہو کہ
خلوص ہی سے نصیحت میں جان پڑتی ہے
جو بات دل سے نکلتی ہے دل کو چھوتی ہے
مولانا غزالی ؒاتنے منکسر المزاج اورمتواضع تھے کہ اپنے علمی کمال کے باوجود کسی تحقیق طلب مسئلہ میں کسی سے رجوع کرنے میں ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے، اور ذرا بھی تعریف کا جملہ سنتے ہی ’’ استغفراللہ ‘‘ کہتے ہوئے اپنی کمتری کو ظاہر کرتے، بارہا کسی فقہی مسئلہ کے سلسلہ میں مجھے فون کرتے، کئی بار ’’الجمعۃ ‘‘ میں کسی مسئلہ کو لکھنے سے پہلے مسئلہ کا استصواب کرتے، اور بڑی خوبی یہ تھی کہ اپنی رائے پر اصرار کے بجائے دوسروں کی رائے کا احترام کرتے اور اسے قبول کرتے، کئی مرتبہ ہم دونوں میں علمی بحثیں چھڑیں، جن میں ان کی اس خوبی کا مشاہدہ ہوا، جب کبھی بھی ان کے سامنے کوئی بات دلائل اور اکابرین امت کی تحریروں کی روشنی میں رکھی جاتی تو سراپا تسلیم بن جاتے۔
یقیناً مولانا غزالی ؒکی شخصیت کے تشکیلی عناصر میں وہ تمام اعلی اوصاف و کمالات موجود تھے جو باکمال انسان میں ہوتے ہیں، متانت و سنجیدگی ، انسانیت نوازی، کرم گستری ، ملنساری ،تواضع ، اتباع شریعت ، احتیاط وپرہیزگاری ، رقت قلبی کے باوجود حق گوئی کی جرأت، دین کی تڑپ، دعوت ودین محمدی کا درد، مسلمانوں کی حالت زار کا غم اوراسلامی تعلیمات وہدایات کی اشاعت اور باطل نظریات کی تردیدکی فکر ان کی پہچان تھی ، دوسروں کے غم کو اپنا بنالینا ، صلح وصفائی کی کوشش کرنا ، چھپ کر یتیموں ، بیماروں اور حاجت مندوں کی مدد کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا، آنے والے ہفتہ میں بروز چہارشنبہ انہوں نے اطراف کے تمام ائمہ کو اس فکر کو عام کرنے کے لئے مدعوکر رکھا تھا کہ محلہ میں کوئی یتیم تعلیم سے محروم نہ رہے ، کوئی بیوہ اور یتیم بے سہارا نہ رہے ، اور جو نوجوان بے روزگار ہیں ان کے روزگار کا انتظام کیا جائے۔ اجل کے بلاوے کی وجہ سے یہ مشاورتی مجلس منعقد تو نہ ہوسکی، لیکن ان شاء اللہ مولانا غزالیؒ اپنی درمندی اورفکروتڑپ کا ثواب پائیں گے ساتھ ہی ان کے بچوں کو بھی اس کا فائدہ حاصل ہوگا اور ان کو اللہ کی خصوصی عنایت وکفالت حاصل ہوتی رہے گی۔
تو آنے والے کل کے لئے کیوں ہے فکر مند
تیرے لئے میں اپنی دعا چھوڑ جاؤں گا
مولاناغزالی ؒ کی ِشخصیت جن خوبیوں سے مرصع تھی وہ اس بات کی شاہد ہیں کہ ان کی ذات ایک انجمن تھی، انہوں نے اپنی زندگی کے ہر پل کو رضاء الہی میں صرف کرنے کی کوشش کی، اوراسباب سعادت کو اپنی زندگی کا محور بنایا، اسی لئے اللہ کے فضل سے انہیں جمعہ کے دن کی ایسی موت نصیب ہوئی جو عند اللہ ان کی سعادت مندی کی دلیل بن گئی؛ اور کیوں نہ ہو اللہ اپنے بندوں کے اعمال کا قدرداں ہے، اور اس کا اعلان ہے : اِنَّ اللہَ لَایُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِنَّ اللہَ لَایُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ ۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
جو کوئی مسلمان جمعہ کے دن یا شب ِ جمعہ میں مرتاہے اسے اللہ قبر کےسوال وجواب اور عذاب سے بچادیتا ہے۔ (ترمذی: ۱۰۷۴)
ایک اور روایت میں نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے :
جو مسلمان مرد ہو یا عورت جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں وفات پاتا ہے وہ قبر کے سوال وجواب اور عذاب سے بچا دیا جاتا ہے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس سے کوئی حساب نہیں ہوگا اور وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی نیگی کی گواہی دینے والے اس کے ساتھ ہوں گے یا اس پر شہادت کی مہر لگی ہوگی۔(المطالب العالیہ : ۵؍۲۴۷، مرقاۃ : باب الجمعۃ)
ایک روایت میں نبی اکرم ﷺ کا ارشادہے :
’’جس شخص کی وفات جمعہ کے دن ہوئی اسے شہید کا اجر عطا کیا جائے گا اور اسے قبر کے عذاب سے بچادیا جائے گا‘‘(حوالہ سابق)
حکیم ترمذی فرماتے ہیں:
جب اللہ اپنے بندوں میں سے کسی بندے کی روح قبض کریں اور اس کی وفات کا دن جمعہ پڑجائے تو یہ اس کی سعادت اور اچھے انجام کی دلیل ہے، اس دن اسی کی وفات ہوتی ہے جو اللہ کے نزدیک سعادت مند ہوتا ہے۔(تحفۃ الاحوذی: ۴؍۱۶۰)
مولانا غزالیؒ عظیم کارناموں کو انجام دے کراور خیر کے کاموں کو جاری کرکے اب تو رب کریم کے حضور پہونچ چکے ہیں، جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے
لیکن یہ آرزو دل میں لے کر گئے کہ اگر زندگی وفا کرتی تو قرطاس وقلم سے اور بھی حق کی اشاعت کرتا، جان وتن لگا کر قوم کو راہ ہدایت پر لانے کی اور بھی کوششیں کرتا، زندگی دینے والے کی رضا کی خاطر روزوشب اپنے خون جگر اور عرق جبین کواور بہاکر اسلام کی آبیاری کرتا، مگر رب کی مشیت کے سامنے سرتسلیم خم کردینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ، رب کا فیصلہ غالب ہوتا ہے اور ہوا، زبان وبیان، قلم وقرطاس اورفکر وعمل سے دین کی دعوت وتبلیغ اور تعلیم وتدریس میں مصروف رہنے والا مسافر آخرت انتالیس سال کی عمر میں منزل آخرت کی طرف روانہ ہوکر ہم سے رخصت ہوگیا، اور اب وہ اپنی اخری آرام گاہ ’’شوکت منزل‘‘ میں آسودۂ خواب ہے، رب کریم ان کو اپنی خاص رحمتوں سے نوازے، اور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے جوار میں جنت الفردوس کا مکیں بنائے اور ان کے تمام اعزا، رفقاء ، محبین ومعتقدین کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا کرے۔ آمین
Login Required to interact.

