مضاربت میں صاحب المال پر عملی ذمہ داری اور اس کی اجرت ؟

بحث وتحقیق

سوال:

کیا فرماتے ہیں علماء دین کہ ایک شخص مضاربت کے طور پر ایک شخص کو مال دیا ہے ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ راس المال کے مالک کو بھی عامل کا عملی طور پر ساتھ دینا پڑجاتا ہے ، اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ عامل کا مضارب صاحب راس المال سے عملی تعاون کا مطالبہ کرنا یا صاحب مال کا جزوی عملی شرکت پر خصوصی اجرت کا مطالبہ کرنا کیسا ہے ؟

جواب:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وبالله التوفيق : عقد مضاربت کی حقیقت یہ ہے کہ شرکاء میں سے ایک جانب سے صرف مال ہو اور ایک جانب سے صرف محنت ہو، اس عقد میں تمام تر عملی ذمہ ذاریاں عامل مضارب کے ذمہ ہوتی ہیں، رب المال پر عملی ذمہ داریاں عائد کرنا یا عمل کی شرط لگانا درست نہیں ہے ،بلکہ اس شرط کی وجہ سے عقد مضاربت فاسد ہوجاتا ہے ۔وإذا وقعت المضاربة على أن يعمل رب المال مع المضارب فالمضاربة فاسدة (المبسوط للسرخسی: ۲۲؍۸۳) وإذا دفع الرجل إلى الرجل مالاً مضاربة على أن يعمل رب المال والمضارب جميعاً، على أن ما رزق الله تعالى في ذلك من شيء فهو بينهما نصفان ، فهذه مضاربة فاسدة   (الاصل لمحمد بن الحسن الشیبانی: ۴؍۲۱۴)
البتہ غیر مشروط انداز میں رب المال کی طرف سے عملی شرکت ہو اور مخصوص احوال میں اس کی طرف سے بعض اعمال کی انجام دہی ہو ایا بعض اعمال میں جزوی شرکت ہو تو چونکہ یہ مشروط نہیں ہے اس لئے اس عمل کی وجہ سے عقد فاسد نہیں ہو گا اور رب المال کا یہ عملی اشتراک اس کی جانب سے تبرع اور تعاون ہوگا ، جس پر وہ اجرت وغیر کا حقدار نہیں ہوگا، اسی طرح رب المال کی جانب سے اس کے کسی خادم وغیر ہ نے کسی قسم کی تعاون پیش کیا تو اس پر بھی اجرت کا استحقاق نہیں ہوگا ،اور اس کے لئے کسی قسم کی اجرت کا مطالبہ درست نہیں ہوگا۔ جیسا کہ ذیل میں مذکورہ عبارت سے یہ بات واضح ہوتی ہے :  وإذا سافر المضارب بالمال، فأعانه رب المال بغلمانه يعملون معه في المضاربة، أو أعانه بدوابه لحمل المتاع الذي يشتري بالمضاربة عليها، فإن المضاربة لا تفسد بهذا، كما لو أعانه بنفسه في بعض الأعمال، ونفقة الغلمان والدواب على رب المال دون مال المضاربة؛ لأن نفقة غلمان رب المال وعلف دوابه كنفقة نفسه، ورب المال لو سافر معه ليعينه على العمل في مال المضاربة، لم يستوجب نفقة في مال المضاربة بهذا السبب، فكذلك نفقة غلمانه ودوابه ( المبسوط للسرخسی : ۲۲؍۶۶)
ولو أبضعه المضارب مع رب المال فعمل به، فهو على المضاربة، والربح بينهما على الشرط؛ لأنه معين للمضارب متبرع فيما أقام من العمل، فلا يفسد به عقد المضاربة بينهما؛ كالشريكين في المال، إذا عمل أحدهما، ولم يعمل الآخر شيئا، ولا نفقة لرب المال على المضاربة؛ لأنه بمنزلة المستبضع إذا كان أجنبيا.(المبسوط للسرخسی : ۲۲؍۶۶)
والحاصل أن كل تصرف صار مستحقا للمضارب على وجه لا يملك رب المال منعه فرب المال في ذلك يكون معينا له سواء باشره بأمره أو بغير أمره وكل تصرف يتمكن رب المال أن يمنع المضارب منه فرب المال في ذلك التصرف عامل لنفسه إلا أن يكون بأمر المضارب فحينئذ يكون معينا له. (البحر الرائق : ۷؍۲۶۹، قرۃ عین الاخیار : ۸؍ ۴۴۸)
لا أجر لرب المال وإن عمل رب المال (الفتاوی الہندیۃ : ۴؍۲۸۷)
البتہ اگر رب المال کے بیٹےکسی قسم کا مشروط عمل کرتے ہیں کہ اس عمل پر وہ اتنی اجرت لیں گے تو وہ اجرت کا حقدار ہوں گے  ولو كان عبد رب المال عليه دين فاشترط له أجر عشرة دراهم كل شهر أو اشترط ذلك لمكاتبه أو لابنه جاز   (الفتاوی الہندیۃ : ۴؍۲۸۸)
محمد عارف باللہ القاسمی
Login Required to interact.