شمع فروزاں
فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی صاحب مدظلہ العالی
صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن نعمتوں سے نوازا ہے، وہ دو طرح کی ہیں: ایک: مادی نعمتیں ، جن میں کھانا، کپڑا، علاج اور مکان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، دوسرے: روحانی نعمت ، اور وہ ہے اسلام ، یہ روحانی نعمت عالم آخرت میں تو ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے ہی، اس دنیامیں بھی ہماری ضرورت ہے، اور زندگی کے ہر مرحلہ میں ہمیں اس سے روشنی حاصل ہوتی ہے، ہمیں کیا کھانا چاہئے اور کیا نہیں کھانا چاہئے؟ ہمارے لباس میں کن باتوں کی رعایت ہونی چاہئے؟ بال بچوں کے ساتھ ، والدین کے ساتھ، شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا رویہ ہونا چاہئے؟ ہمارے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں؟ معاملات میں ہم کس طرح صفائی اور شفافیت کو برقرار رکھیں اور معاشرہ کو ظلم و ناانصافی سے بچائیں؟ یہ سب ہمیں مذہب ہی سے معلوم ہوتا ہے، غرض کہ شائستہ و مہذب زندگی اور انصاف پر مبنی سماجی تعلقات کے لئے انسان ہر لمحہ اپنے خالق و مالک کی رہنمائی کا محتاج ہے، اور اسلام کے ذریعہ ہمیں یہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
ہماری زیادہ تر جدوجہد کا محور موجودہ زندگی کی راحتوں اور آسائشوں کا حصول ہے، اوراگر یہ کوشش شریعت کی مقرر کی ہوئی حدوں میں ہو تو اس میں حرج نہیں، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہی دنیا کے تمام کاروبار بلا وقفہ جاری و ساری ہیں؛ تاہم ہماری زندگی میں دین کو قائم رکھنے کے بنیادی طور پر دو مراکز ہیں: مسجدیں اور مدرسے، مسجدیں اصل میں تو مسلمانوںکے ہمہ مقصدی مراکز ہیں، عہد نبوی میں مسجدیں تعلیم گاہ بھی تھیں، یہ صلح سینٹر بھی تھے، جس میں مسلمانوں کے باہمی اختلافات طئے کیے جاتے تھے، یہیں عدالتیں قائم ہوتی تھیں اور ہر طرح کے فیصلے ہوتے تھے، امور سلطنت پر مشورے ہوتے تھے، جنگ و امن کے فیصلے کئے جاتے تھے، غرض کہ مسلم سماج اوراسلامی مملکت کے تمام ضروری اُمور یہیں طئے ہوا کرتے تھے، آہستہ آہستہ مسجدوں کی یہ ہمہ گیر خدمت محدود ہوتی گئی؛ لیکن اب بھی یہ مسلم سماج کا ایک اہم مرکز ہے، اور کم سے کم چار ضروری کام مسجدوں ہی سے انجام پاتے ہیں: اول: نماز اور اعتکاف جیسی عبادت، دوسرے: اصلاح معاشرہ اور مبادیات دین کی دعوت، جمعہ کا تو اس سلسلہ میں ہے ہی بہت اہم رول؛ لیکن اس کے علاوہ درس قرآن، درس حدیث اور فقہی مسائل کی رہنمائی کے لئے بھی مسجدیں ہی سب سے اہم مراکزہیں، تیسرے: مسلمانوںکے باہمی ربط کو باقی رکھنے میں بھی مساجد کا اہم کردار ہے، چوتھے: مکاتب کے ذریعہ بنیادی دینی تعلیم کا انتظام، مسلمان کو دین سے جوڑے رکھنے میں ان کاموں کا اہم حصہ ہے۔
مدارس کا وجود یوں تو ہر جگہ اہم ہے؛ لیکن جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، وہاں تو ان کی حیثیت شہ رگ کی ہے، ہندوستان میں مدارس کا قیام ہی اس پس منظر میں ہوا کہ مسلمانوں کو فتنئہ ارتداد سے بچایا جائے اور دین پر ثابت قدم رکھا جائے،موجودہ حالات میں مدارس بھی دین کے چار بنیادی کاموں کو انجام دے رہے ہیں اور شب و روز ان مقاصد کے لئے افراد کار تیار کرنے میں مشغول ہیں: اول: دین کی اعلی تعلیم، دوسرے: احکام شریعت کی تحقیق؛ تاکہ لوگ اس بات کو سمجھ سکیں کہ اسلام زندگی سے مربوط نظامِ زندگی ہے، اور ہر عہد میں رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے، تیسرے: اسلام کا دفاع اور اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے فتنوں کا علم اور دلیل کے ذریعہ رَد، چوتھے: دینی تحریکات کی علمی وفکری مدد اور ان کے لئے افرادی وسائل کی فراہمی، مدارس کے نصابِ تعلیم اور نظامِ تربیت میں قدم قدم پر ان ا مور کا لحاظ رکھا گیا ہے، اور اس میں شبہ نہیں کہ مدارس ان تمام کاموں کو بڑی حد تک خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
اس لئے یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مساجد اور مدارس مسلمانوں کی دینی زندگی کے لئے بے حد اہم ہیں ؛ اگر یہ نہ ہوتے تو ہندوستان اور اس جیسے ممالک میں مسلمانوں کو ایمان پر باقی رکھنا بے حد دشوار ہوتا اور اتداد و الحاد کا طوفان نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔
دین کے یہ دونوں مراکز دینی خدمت گزاروں کے ذریعہ قائم ہیں، یوں تو ملک میں مدارس کی تعداد ہزاروں میں ہے، ہر سال فارغ ہونے والے علماء اور حفاظ بھی بعید نہیں کہ پچاس ہزار تک پہنچتے ہوں؛ لیکن ان کی ایک بہت ہی مختصر تعداد دینی خدمت کی لائن میں آتی ہے، ان ہی کے ذریعہ مساجدو مدارس کا نظام قائم ہے، یہ چیز بھی علماء کے حصہ میں اپنے بزرگوں کی میراث کے طور پر چلی آ رہی ہے کہ وہ بہت ہی معمولی معاوضہ پر دینی خدمت انجام دیتے ہیں، یہ اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے معاوضہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جب کہ ان کی خدمت کے اوقات بمقابلہ دوسرے لوگوں کے کافی زیادہ ہوتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ بعض دفعہ عصری تعلیمی اداروں میں انگریزی ،حساب اور دیگر عصری مضامین پڑھانے والے ساتھیوں کے مقابلہ ان کی تنخواہ کم رکھی جاتی ہے؛ لیکن پھر بھی وہ حفاظت دین کے جذبہ کے تحت اس پر قناعت کرتے ہیں؛ اگر دین کے یہ خدمت گزار نہ رہیں تو اگلے بیس پچیس سالوں میں مسلمانوں کے لئے اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔
مدارس و مساجد کے نظام کو فعال اور خودمختار رکھنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیاکہ ان کا حق الخدمۃ عام مسلمانوں کے تعاون سے ادا ہو، حالانکہ بعض جگہ حکومت چاہتی ہے کہ مساجد کے ائمہ اور مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں وہ ادا کرے، کئی ریاستوں میں اس کے لئے مدارس کے بورڈ بھی بنائے گئے ہیں، کئی ریاستوں میں وقف بورڈ نے ائمہ کی تنخواہوں کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے، اور افسوس کہ بعض جگہ مساجد و مدارس کے منتظمین اورائمہ ومدرسین نے اسے قبول بھی کرلیا ہے؛ لیکن در حقیقت یہ ایک میٹھا زہر ہے، آج اس کی مٹھاس اپنی طرف کھینچ رہی ہے؛ لیکن یہ چیز آہستہ آہستہ ان مقاصد کے لئے جان لیوا ثابت ہو گی، جن کے لیے یہ دینی مراکز قائم ہوئے تھے، پھر مساجد میں خطباء تو ہوں گے؛ لیکن ان کے منہ میں حکومت کی زبان ہوگی، مدارس میں علماء تو ہوں گے؛ لیکن ان کو حکومت کے چشم و ابرو کے اشاروں پر چلنا پڑے گا، دینی تعلیم سے آراستہ مصنفین تو ہوں گے؛لیکن ان سے اسلام کی حمایت کے بجائے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کا م لیا جائے گا؛ اس لئے اگر ہمیں ان مراکز کو اپنے اصل مقاصد پر قائم رکھنا ہے تو صحیح طریقہ یہی ہے کہ مسلمان خود ان کی ضروریات پوری کریں۔
اس سلسلہ میں عام مسلمانوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ و عملہ اور مساجد کے ائمہ و مؤذنین پوری قوم کی خدمت کر رہے ہیں؛ اس لئے قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہتر اور باعزت طریقے پر ان کی کفالت کریں، اس کفالت کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مدارس و مساجد کی انتظامیہ کو تعاون پیش کیا جائے، اور حالات کے پس منظر میں ہنگامی مدد کی جائے، دوسرے: دینی خدمت گزاروں کی انفرادی طور پر کفالت قبول کی جائے؛ اگر ہر شہر میں دس اصحاب خیر مل کر اپنا گروپ بنائیں اوریہ گروپ خدام دین میں سے ایک فرد یاایک سے زائد افراد کی بنیادی ضروریات — راشن، علاج اور بچوں کی تعلیمی فیس — کا آئندہ چھ ماہ کے لیے ذمہ لے لیں اور خاموشی کے ساتھ اپنی اعانت ان تک پہنچا دیں، توان پر کچھ زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا، اورکتنے ہی خدام دین کی کفالت ہو جائے گی، ہر شہر میں ایسے ہزاروں گروپ بن سکتے ہیں اور بہ سہولت مدارس اور مساجد کے خدمت گزاروں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، یہ دس افراد کے گروپ کی بات تو بطور سہولت کہی گئی ہے؛ ورنہ ملت میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو تنہا خدمتِ دین میں مشغول کئی خاندان کی کفالت کر سکتے ہیں، اس طبقہ پر خرچ کرنے میں دوہرا اجر ہے، ایک تو صدقہ کا، دوسرے :بالواسطہ دینی خدمت میں تعاون کا؛ چنانچہ مشہور محدث امام عبداللہ بن مبارکؒ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی اعانتیں علماء پر ہی خرچ کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ مقام نبوت کے بعد علماء سے بڑھ کر کوئی بلند مرتبہ نہیں، (الاتحاف:۴؍۴۱۷) مشہور فقیہ علامہ علاء الدین حصکفیؒ فرماتے ہیں : التصدق علی العالم الفقیر أفضل و الی الزھاد (درمختار : ۳؍۳۰۴) ’’محتاج عالم یا عابد و زاہد لوگوں پر صدقہ کرنا افضل ہے‘‘۔
خود قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
صدقہ میں اصل حق ان حاجت مندوں کا ہے، جو اللہ کی راہ میں گھِر گئے ہیں، ملک میں کہیں چل پھِر نہیں سکتے، دست سوال نہ پھیلانے کی وجہ سے نا واقف ان کو مالدار سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرہ سے
پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے اور تم مال میں سے جو کچھ خرچ کروگے ، اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہیں ۔ (البقرہ:۲۷۳)
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جو محتاج اور ضرورت مند حضرات دین کے کام کی وجہ سے کسب معاش میں مستقل طور پر لگنے کے موقف میں نہ ہوں، وہ اعانتوں کے زیادہ مستحق ہیں؛ اسی لئے اکابر مفسرین کا رجحان یہی ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت اس سے اصحاب ِصفہ یعنی صفہ میں مقیم طالبانِ علوم نبوت کی طرف اشارہ تھا ؛ (دیکھئے: تفسیر کبیر:۳؍۶۳۹، تفسیر قرطبی: ۳؍۳۴۹) بلکہ خود رسول اللہ کے زمانہ سے یہ طریقہ مروج تھا کہ اہل ثروت صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھجور اصحاب ِصفہ کے لئے پیش کیا کرتے تھے اور حضور ﷺ کی طرف سے ان کو اس کی ہدایت ہوتی تھی؛ اس لئے یوں تو تمام محتاج و ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کرنی چاہئے؛ لیکن اس طبقہ کا خصوصی استحقاق قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث سے بھی، سلف صالحین کے عمل سے بھی، اور یہ زیادہ مکمل طریقے پر انفاق کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔
اگر دشوار حالات میں اس طبقہ کا لحاظ نہیں کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ جو مختصر سی تعداد خدمت دین کے میدان میں آتی ہے، وہ بھی آئندہ اس خار زار میں قدم رکھنے سے اجتناب کرنے لگے گی اور امت کو مخلص خدامِ دین کو چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑے گا۔
Login Required to interact.

