سوال:
ایک ویڈیو مجھے موصول ہوئی ہے اور یہ ویڈیو آج کل واٹس اپ فیسبک وغیرہ پر گردش کررہی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا در رحمت جوش میں تھا، فرمایا کہ عائشہ جو مانگنا ہے مانگ لو، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مشورہ کرلوں، اجازت مل جانے پر اپنے والد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوکر مشورہ طلب کیا کہ اس سنہری موقعے سے فائدہ اٹھا کر اہم چیزمانگنا چاہتی ہوں تو کیا مانگوں؟ (میں چاہتی ہوں کوئی بڑی چیز مانگوں)، والد محترم نے فرمایا کہ بیٹا! حضور سے جاکر کہنا کہ معراج کی خلوت خاص میں اللہ نے آپ سے جو راز کی باتیں کی تھیں ان میں سے کوئی ایک بات بتادیں،-مانگا بھی تو علم مانگا- اور عائشہ! مجھ سے وعدہ کرو کہ حضور جو بتائیں مجھے بھی ضرور بتانا، پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر جب سوال بتایا تو حضور نے تبسم فرمایا، غالبا اس بات پر مسکرائے ہونگے کہ میرے یار غار کا انتخاب کیسا ہے؟یا اس بات پر کہ راز کی بات بتادوں تو راز پھر راز نہ رہا؟لیکن وعدہ کیا تھا اسلئے بتادیا، فرمایا کہ عائشہ سنو؟جب میں قرب خاص میں پہنچا تو میرے مالک نے مجھ سے راز کی جو باتیں کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ محبوب! تیری امت میں سے جب کوئی شخص کسی شخص کا ٹوٹا ہوا دل جوڑ دے تو میرے اوپر لازم ہے کہ اسکو بغیر حساب کے جنت عطا کروں، ام المؤمنین بہت خوش تھیں اور آکر اپنے والد گرامی کو جب یہ بات بتائی تو وہ یہ سن کر رونے لگے، عرض کیا کہ یہ بات رونے والی تو نہیں ہے، کبھی ہم کسی دکھی دل کے کام آجاتے ہیں تو یہ تو ہمیں بخشش کا بہانہ مل گیا۔ فرمایا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھو کہ جب ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے پر یہ وعدہ ہے تو اگر کوئی کسی کا دل توڑ دے تو سیدھا جہنم میں جائےگا، میں اس بات پر رورہا ہوں کہ ہم سے کسی کا دل نہ ٹوٹ جائے۔
جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: مذکورہ واقعہ کسی بھی مستند ومعتبر حدیث اور تاریخ وسیرت کی کتابوں میں نہیں ملا، اور یہ بات ذہن نشیں رکھیں کہ نبی اکرم ﷺ کی طرف کسی بات کی نسبت کی جارہی ہوتو اس میں احتیاط ضروری ہے اور یہ ضروری ہے کہ اس نسبت کی سندودلیل موجود ہو، اگر وہ بات کتب حدیث وسیرت سے کسی مستند دلیل سے ثابت ہو تو قابل قبول ہوگی بصورت دیگر اسے قابل قبول نہیں سمجھاجائے گا، چاہے اس کا مضمون کتنا ہی پسندیدہ کیوں نہ ہو اور اس کو ذکر کرکے والا کوئی بھی ہو،علامہ قاسم بن قطلوبغا تحریر کرتے ہیں: قوۃ الحديث إنما هي بالنظر إلی رجاله لا بالنظر إلی کونه فی کتاب کذا (حدیث کی قوت وقبولیت اس کے رجال (روایت کرنے والے افراد) کے اعتبار سے ہوتی ہے نہ اس کے کسی کتاب میں ہونے سے ) نیز سفر اسراء اور معراج سے متعلق جو حدیثیں کتب حدیث میں منقول ہیں ان میں رسول اللہ ﷺ کی اللہ عزوجل سےہم کلامی کا ذکر تو ہے لیکن ان میں سے کسی میں بھی اس واقعہ کا ذکر نہیں ہے، بلکہ دعاء تشہد: التحیات للہ والصلوات والطیبات الخ ، نماز کی فرضیت اورسورۂ بقرہ کی آخری آیات کی عنایت اور شرک سے پاک لوگوں کی مغفرت کا وعدہ مذکور ہے ۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
محمد عارف باللہ القاسمی
Login Required to interact.

