تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: صَلُّوْا کَمَا رَأَ یْتُمُوْ نِیْ اُصَلِّیْ (بخاری : ۵۹۵) ’’تم لوگ اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ‘‘
اس حدیث کی روشنی اور اس کی تعلیم کے مطابق مردوں اور عورتوں کو اسی طرح نماز ادا کرنی ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ہے اور پڑھنے کی تعلیم دی ہے، البتہ چند اعمال جن میں عورتوں کو الگ خاص طریقہ رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے ان میں عورتوں کا طریقہ مردوں کے جیسا نہیں ہوگا بلکہ ان کا طریقہ اس خاص تعلیم کے مطابق ہوگا، اور اس سلسلہ میں ایک اصولی بات یہ ہے جو بہت بڑے محدث امام بیہقی نے لکھی ہے:
اجماع مایفارق المرأۃ فیه للرجل من احکام الصلاۃ راجع الستروهی انما مامورۃ بکل ما هو استر لها(بیہقی:۲؍۲۲۲(
’’جامع بات یہ ہے کہ نماز کے ان احکام کی بنیادجن میں مردوعورت میں فرق ہے ،پردہ پوشی اور ستر ہے ،عورت کو ہر اس کام کا حکم دیا گیا ہے جو اس کے لئے زیادہ پردہ کا باعث ہے ‘‘۔
تکبیر تحریمہ میں مرد وعورت کے طریقہ میں فرق:
سب سے پہلا فرق مردوں اور عورتوں کی نماز میں یہ
ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے میں دونوں کا طریقہ الگ ہے ، روایات سے مردوں کا طریقہ ہاتھ اٹھانے کا یہ ثابت ہے کہ وہ دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائیں گے لیکن عورتیں مردوں کی طرح کانوں کی تک ہاتھ نہیں اٹھائیں گی بلکہ وہ اپنے کندھوں کے برابر اس طرح اپنے ہاتھ اٹھائیں گی کہ ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے کندھے تک ہو جائیں اور گٹے سینے کے برابر ہوں، جیسا کہ ان روایات میں عورتوں کے بارے میں یہ طریقہ بتایا گیا ہے:
ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے میں دونوں کا طریقہ الگ ہے ، روایات سے مردوں کا طریقہ ہاتھ اٹھانے کا یہ ثابت ہے کہ وہ دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائیں گے لیکن عورتیں مردوں کی طرح کانوں کی تک ہاتھ نہیں اٹھائیں گی بلکہ وہ اپنے کندھوں کے برابر اس طرح اپنے ہاتھ اٹھائیں گی کہ ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے کندھے تک ہو جائیں اور گٹے سینے کے برابر ہوں، جیسا کہ ان روایات میں عورتوں کے بارے میں یہ طریقہ بتایا گیا ہے:
عَنْ وَائِلِ بن حُجْرٍ، قَالَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ… فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يَا وَائِلُ بن حُجْرٍ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا. (المعجم الکبیر للطبرانی: ج9ص144رقم17497، مجمع الزوائد: ج9 ص624 رقم الحدیث1605، البدر المنير لابن الملقن:ج3ص463(
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (درمیان میں طویل عبارت ہے، اس میں ہے کہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ارشاد فرمایا: اے وائل! جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَيْخٌ لَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً؛ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ كَيْفَ تَرْفَعُ يَدَيْهَا فِي الصَّلاَةِ ؟ قَالَ : حَذْوَ ثَدْيَيْهَا.(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج1ص270باب في المرأة إذَا افْتَتَحَتِ الصَّلاَةَ ، إلَى أَيْنَ تَرْفَعُ يَدَيْهَا(
ترجمہ: حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ عورت نماز میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے؟فرمایا : اپنے سینے تک۔
عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ زَيْتُونَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَرْفَعُ يَدَيْهَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهَا حِينَ تَفْتَتِحُ الصَّلاَةَ. (مصنف ابن ابی شیبۃ: ج2ص421باب فی المرءۃ اذا افتتحت الصلوۃ الی این ترفع یدیہا؟(
ترجمہ: عبد ربہ بن زیتون سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتی تھیں۔(تہذیب التہذیب: ج7 ص715 رقم الترجمۃ 12193 تحت ترجمہ ام الدرداء(
ان تینوں روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اس عمل میں مردوں کے جیسا عمل نہیں کریں گے ان کو پردہ کی رعایت میں یہ خاص طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائیں گی کہ ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں تک اور ہتھیلیاں سینہ کے برابر آ جائیں۔
ہاتھ باندھنے میں مردوعورت کے درمیان فرق:
مردوں کے ہاتھ باندھنے کا طریقہ جو احادیث سے ثابت
ہے وہ یہ ہے کہ مرد دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر، انگوٹھے اور چھنگلیا سے بائیں ہاتھ کے گٹے کو پکڑتے ہوئے تین انگلیاں کلائی پر بچھا کر ہاتھ ناف کے نیچے رکھتے ہیں۔
ہے وہ یہ ہے کہ مرد دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر، انگوٹھے اور چھنگلیا سے بائیں ہاتھ کے گٹے کو پکڑتے ہوئے تین انگلیاں کلائی پر بچھا کر ہاتھ ناف کے نیچے رکھتے ہیں۔
لیکن عورتوں کے لئے اس سے زیادہ پردہ والا طریقہ بتایا گیا کہ وہ قیام کے وقت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھیں گی، فقہاء اور محدثین کی تصریحات سے اس مسئلہ کی وضاحت ہوتی ہے۔
امام ابو القاسم ابراہیم بن محمد القاری الحنفی السمر قندی (المتوفیٰ بعد907ھ) لکھتے ہیں:
وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا بِالْاِتِّفَاقِ.(مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق: ص153(
ترجمہ: عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔
سلطان المحدثین ملا علی قاری رحمہ اللہ (م1014ھ) فرماتے ہیں:
وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا اِتِّفَاقًا لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِھَا عَلَی السَّتْرِ.(فتح باب العنایۃ: ج1 ص243 سنن الصلوۃ(
ترجمہ:عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے، کیونکہ عورت کی حالت کا دارو مدار پردے پر ہے۔
علامہ عبد الحیؒ فرنگی محلی لکھتے ہیں:
اتفقو علی ان السنة لهن وضع الیدین علی الصدر (السعایہ:۲؍۱۵۶(
’’فقہا ء کا اتفاق ہے کہ عورتوں کے لئے سینہ پر ہاتھ باندھنا مسنون ہے‘‘
مردوں اور عورتوں کے رکوع میں فرق:
عورتیں مردو کی طرح رکوع نہیں کریں گی بلکہ ان کی
رکوع کا طریقہ پردہ کے پیش نظر یہ ہے کہ عورتیں رکوع میں مرد کی بنسبت کم جھکیں گی، اپنے ہاتھ بغیر کشاد کیے ہوئے گھٹنوں پر رکھیں گی اور کہنیوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی۔
رکوع کا طریقہ پردہ کے پیش نظر یہ ہے کہ عورتیں رکوع میں مرد کی بنسبت کم جھکیں گی، اپنے ہاتھ بغیر کشاد کیے ہوئے گھٹنوں پر رکھیں گی اور کہنیوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی۔
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسِ ؓ َانَّہٗ سُئِلَ عَنْ صَلاَۃِ الْمَرْأۃِ فَقَالَ: تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِزُ(مصنف ابن ابی شیبہ:۱؍۳۷۰ مصنف عبد الرزاق:۲؍۱۳۷(
’’حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے عورت کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ سمٹ کر اورچپک کر نماز
پڑھے‘‘
پڑھے‘‘
صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے اس حکم سے جو کہ تعلیم نبوت کی روشنی میں ہے، عورتوں کے بارے میں یہ حکم معلوم ہوتا ہے کہ وہ
نماز میں پردہ کے پیش نظر جہاں تک ممکن ہواپنے جسم کو سمیٹ کر ہی رکھیں،اس لئے اس روایت کی روشنی میں عورتوں کے رکوع اور سجدہ کی کیفیت مردوں سے جداگانہ معلوم ہوتی ہے ،چناں چہ اس روایت کی روشنی میں عورتیںرکوع میںزیادہ نہ جھکیں گی ،بلکہ تھوڑا جھکیں گی، کیونکہ پیٹھ کو بالکل سیدھا رکھنے کا حکم مردوں کے لئے ہے ،عورتوں کے لئے اصل حکم اپنے جسم کو سمیٹنا ہے ،نیزاپنی کہنیوں کو اپنے پہلو سے ملا کر رکھیں گی اوراپنے ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھیں گی ،البتہ مردوں کی طرح انگلیوں کو پھیلانے کے بجائے ملا کرگھٹنوں پر رکھیں گی۔تاکہ سمٹنے کے حکم پر عمل ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ پردہ ہوسکے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں بھی عورتوں اسی کا حکم دیا گیا ہے :
نماز میں پردہ کے پیش نظر جہاں تک ممکن ہواپنے جسم کو سمیٹ کر ہی رکھیں،اس لئے اس روایت کی روشنی میں عورتوں کے رکوع اور سجدہ کی کیفیت مردوں سے جداگانہ معلوم ہوتی ہے ،چناں چہ اس روایت کی روشنی میں عورتیںرکوع میںزیادہ نہ جھکیں گی ،بلکہ تھوڑا جھکیں گی، کیونکہ پیٹھ کو بالکل سیدھا رکھنے کا حکم مردوں کے لئے ہے ،عورتوں کے لئے اصل حکم اپنے جسم کو سمیٹنا ہے ،نیزاپنی کہنیوں کو اپنے پہلو سے ملا کر رکھیں گی اوراپنے ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھیں گی ،البتہ مردوں کی طرح انگلیوں کو پھیلانے کے بجائے ملا کرگھٹنوں پر رکھیں گی۔تاکہ سمٹنے کے حکم پر عمل ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ پردہ ہوسکے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں بھی عورتوں اسی کا حکم دیا گیا ہے :
اِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَ ۃُ فَلْتَحْتَفِزْ اِذَا جَلَسَتْ وَاِذَا سَجَدَتْ وَلاَ تُخْوِیْ اَیْ تَنْضَمُّ وَتَجْتَمِعُ (مجمع البحار:۱؍۲۷۹(
’’جب عورت نماز پڑھے گی تو بیٹھنے میں اور سجدہ کرنے میں اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھے گی اور اپنے اعضاء کو نہ پھیلائے گی ،بلکہ سمیٹ کراور ملا کر رکھے گی‘‘
مردو عورت کے سجدہ میں فرق:
مرد سجدہ میں اپنا پیٹ رانوں سے دور رکھیں گے، اپنی کہنیوں کو زمین سے بلند رکھتے ہوئے پہلو سے جدا رکھیں گے اور سرین کو اونچا کریں گے۔
لیکن یہ عورتیں اس طرح سجدہ نہیں کریں گی بلکہ وہ پیٹ کو رانوں سے ملائیں گی، بازؤوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی اور کہنیاں زمین پر بچھا دیں گی؛ کیونکہ ان کو اس خاص طریقہ کی تعلیم دی گئی ہے جیسا کہ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے:
لیکن یہ عورتیں اس طرح سجدہ نہیں کریں گی بلکہ وہ پیٹ کو رانوں سے ملائیں گی، بازؤوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی اور کہنیاں زمین پر بچھا دیں گی؛ کیونکہ ان کو اس خاص طریقہ کی تعلیم دی گئی ہے جیسا کہ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے:
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ ، فَقَالَ : إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الأَرْضِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ. (مراسیل ابی داؤد: ص103 باب مِنَ الصَّلاةِ، السنن الکبری للبیہقی: ج2ص223, جُمَّاعُ أَبْوَابِ الاسْتِطَابَۃ(
ترجمہ : حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا:
جب تم سجدہ کروتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو کیونکہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے۔
جب تم سجدہ کروتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو کیونکہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَاجَلَسَتِ الْمَرْاَۃُ فِی الصَّلٰوۃِ وَضَعَتْ فَخِذَھَا عَلٰی فَخِذِھَا الْاُخْریٰ فَاِذَا سَجَدَتْ اَلْصَقَتْ بَطْنَھَا فِیْ فَخِذِھَاکَاَسْتَرِمَا یَکُوْنُ لَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ یَنْظُرُ اِلَیْھَا وَ یَقُوْلُ یَا مَلَائِکَتِیْ اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْغَفَرْتُ لَھَا. (الکامل لابن عدی ج 2ص501، رقم الترجمۃ 399 ،السنن الکبری للبیہقی ج2 ص223 باب ما یستحب للمراۃالخ،جامع الاحادیث للسیوطی ج 3ص43 رقم الحدیث 1759(
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لئے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍالْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہٗ قَالَ… کَانَ یَاْمُرُالرِّجَالَ اَنْ یَّتَجَافُوْا فِیْ سُجُوْدِھِمْ وَ یَاْمُرُالنِّسَائَ اَنْ یَّتَخَفَّضْنَ. (السنن الکبریٰ للبیہقی: ج 2ص222.223 باب ما یستحب للمراۃالخ(
ترجمہ: صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ سجدے میں (اپنی رانوں کو پیٹ سے) جدا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ خوب سمٹ کر (یعنی رانوں کو پیٹ سے ملا کر) سجدہ کریں۔
عن الحسن وقتادة قالا إذا سجدت المرأة فإنها تنضم ما استطاعت ولا تتجافى لكي لا ترفع عجيزتها. (مصنف عبدالرزاق ج 3ص49 باب تکبیرۃ المراءۃ بیدیہا وقیام المراءۃ ورکوعہا وسجودہا(
ترجمہ:حضرت حسن بصری اور حضرت قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت سجدہ کرے تو جہاں تک ہوسکے سکڑ جائے اور اپنی کہنیاں پیٹ سے جدا نہ کرے تاکہ اس کی پشت اونچی نہ ہو۔
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ بَطْنَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ إِذَا سَجَدَ كَمَا تَصْنَعُ الْمَرْأَةُ. (مصنف ابن ابی شیبہ: رقم الحديث 2704(
ترجمہ: حضرت مجاہد رحمہ ﷲ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔
عن عطاء قال… إذا سجدت فلتضم يديها إليها وتضم بطنها وصدرها إلى فخذيها وتجتمع ما استطاعت. (مصنف عبدالرزاق ج3ص50رقم5983(
ترجمہ: حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنے بازو اپنے جسم کے ساتھ ملا لے، اپنا پیٹ اور سینہ اپنی رانوں سے ملا لے اور جتنا ہو سکے خوب سمٹ کر سجدہ کرے۔
قعدہ میں بیٹھنے میں مردو عورت کے درمیان فرق:
قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں مردوں کے بیٹھنے کا طریقہ احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مرد دائیں پاؤں کو انگلیوں کے بل کھڑا کر لیں اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں، لیکن عورت کے بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں پاؤں دائیں جانب نکال کر سرین کے بل اس طرح بیٹھے کہ دائیں ران بائیں ران کے ساتھ ملا دے؛ کیونکہ اس طرح سمٹ کر اور زمین سے لگ کر بیٹھنے میں مردوں کی طرح بیٹھنے کی بنسبت زیادہ پردہ ہے، اس سلسلہ میں ان روایات
سے عورت کے خاص طریقہ کا علم ہوتا ہے:
سے عورت کے خاص طریقہ کا علم ہوتا ہے:
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَاجَلَسَتِ الْمَرْاَۃُ فِی الصَّلٰوۃِ وَضَعَتْ فَخِذَھَا عَلٰی فَخِذِھَا الْاُخْریٰ فَاِذَا سَجَدَتْ اَلْصَقَتْ بَطْنَھَا فِیْ فَخِذِھَاکَاَسْتَرِمَا یَکُوْنُ لَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ یَنْظُرُ اِلَیْھَا وَ یَقُوْلُ یَا مَلَائِکَتِیْ اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْغَفَرْتُ لَھَا۔ (الکامل لابن عدی ج 2ص501، رقم الترجمۃ 399 ،السنن الکبری للبیہقی ج2 ص223 باب ما یستحب للمراۃالخ،جامع الاحادیث للسیوطی ج 3ص43 رقم الحدیث 1759(
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لئے زیادہ پردے کی حالت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍالْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہٗ قَالَ… وَکَانَ یَاْمُرُالرِّجَالَ اَنْ یَّفْرِشُوْا الْیُسْریٰ وَیَنْصَبُوْا الْیُمْنٰی فِی التَّشَھُّدِ وَ یَاْمُرُالنِّسَائَ اَنْ یَّتَرَبَّعْنَ.(السنن الکبری للبیہقی ج 2ص222.223 باب ما یستحب للمراۃالخ،التبویب الموضوعی للاحادیث ص2639 (
ترجمہ:
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ چہار زانو بیٹھیں۔
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ چہار زانو بیٹھیں۔
عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سُئِلَ: كَيْفَ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ كُنَّ يَتَرَبَّعْنَ ، ثُمَّ أُمِرْنَ أَنْ يَحْتَفِزْنَ. (جامع المسانید از محمد بن محمود خوارزمی ج1ص400، مسند ابی حنیفۃ روایۃ الحصكفی: رقم الحديث 114(
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں نماز کس طرح ادا کرتی تھیں۔انہوں نے فرمایا پہلے توچہار زانوہو بیٹھتی تھیں پھر ان کو حکم دیا گیا کہ دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر سرین کے بل بیٹھیں۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ اَنَّہٗ سُئِلَ عَنْ صَلٰوۃِ الْمَرْاَۃِ فَقَالَ تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِزُ .(مصنف ابن ابی شیبۃ ج 2ص505، المرا ۃ کیف تکون فی سجودھا، رقم الحدیث2794(
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عورت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمٹ کر نماز پڑھے اور بیٹھنے کی حالت میں سرین کے بل بیٹھے۔
فائدہ:
چہار زانو بیٹھنے کا حکم شروع شروع میں تھا لیکن بعد میں یہ حکم تبدیل ہو گیا۔ اب حکم ”اِحْتِفَاز“ کا ہے یعنی ”کمر کو زمین سے لگاکربیٹھنا“
چہار زانو بیٹھنے کا حکم شروع شروع میں تھا لیکن بعد میں یہ حکم تبدیل ہو گیا۔ اب حکم ”اِحْتِفَاز“ کا ہے یعنی ”کمر کو زمین سے لگاکربیٹھنا“
ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اوپر نماز کے جن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے ان میں عورتوں کا طریقہ مردوں سے مختلف ہے اور ان کے علاوہ دیگر اعمال ومسائل میں مردو عورت کا حکم اور طریقہ یکساں ہے، اس لئے تمام ائمہ اس بات کے قائل ہیں کہ چند اعمال میں جن میں عورتوں کے لئے خاص طریقہ مذکور ہے ان میں عورتوں کا طریقہ مردوں سے مختلف ہے اور عورتیں انہیں خاص طریقوں کے مطابق اپنی نمازیں ادا کریں گی
فقہ حنفی میں فرق کی صراحت
فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں تحریر ہے:
قَالَ الْاِمَامُ الْاَعْظَمُ فِی الْفُقَھَائِ اَبُوْحَنِیْفَۃَ:وَالْمَرْاَۃُ تَرْفَعُ یَدَیْھَاحِذَائَ مَنْکَبَیْھَا ھُوَ الصَّحِیْحُ لِاَنَّہٗ اَسْتَرُ لَھَا.(الھدایۃ فی الفقہ الحنفی ج1 ص84 باب صفۃ الصلوۃ(
ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں تک اٹھائے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
وَقَالَ اَیْضاً:وَالْمَرْاَۃُ تَنْخَفِضُ فِیْ سُجُوْدِھَاوَتَلْزَقُ بَطْنَھَا بِفَخْذَیْھَا لِاَنَّ ذٰلِکَ اَسْتَرُ لَھَا.(الھدایۃ فی الفقہ الحنفی ج1 ص92(
ترجمہ: مزید فرمایا: عورت سجدوں میں اپنے جسم کو پست کرے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملائے کیونکہ اس کے جسم کو زیادہ چھپانے والا ہے۔
فقہ مالکی میں فرق کی صراحت
قَالَ الْاِمَامُ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ:وَالْمَرْاَۃُ دُوْنَ الرَّجُلِ فِی الْجَھْرِ وَھِیَ فِیْ ھَیْاَۃِ الصَّلاَۃِ مِثْلَہٗ غَیْرَ اَنَّھَا تَنْضَمُّ وَ لاَ تُفَرِّجُ فَخْذَیْھَا وَلاَ عَضُدَیْھَاوَتَکُوْنُ مُنْضَمَّۃً مُتَرَوِّیَۃً فِیْ جُلُوْسِھَا وَسُجُوْدِھَا وَاَمْرِھَا کُلِّہ.(رسالۃ ابن ابی زید القیروانی المالکی: ص34(
ترجمہ: اما م مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا:عورت کی نماز کی کیفیت مرد کی نماز کی طرح ہے مگر یہ کہ عورت سمٹ کر نماز پڑھے ‘ اپنی رانوں اور بازؤوں کے درمیان کشادگی نہ کرے اپنے قعود‘ سجود اور نماز کے تمام احوال میں۔
فقہ شافعی میں فرق کی صراحت
قَالَ الْاِمَامُ مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ الشَّافَعِیّ:وَقَدْ اَدَّبَ اللّٰہُ النِّسَائَ بِالْاِسْتِتَارِ وَاَدَّبَھُنَّ بِذَالِکَ رَسُوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاُحِبُّ لِلْمَرْاَۃِ فِی السُّجُوْدِ اَنْ تَنْضَمَّ بَعْضَھَااِلٰی بَعْضٍ وَتَلْصَقُ بَطَنَھَا بِفَخِذَیْھَا وَتَسْجُدُ کَاَسْتَرِمَایَکُوْنُ لَھَاوَھٰکَذَا اُحِبُّ لَھَا فِی الرُّکُوْعِ وَالْجُلُوْسِ وَجَمِیْعِ الصَّلَاۃِ اَنْ تَکُوْنَ فِیْھَا کَاَسْتَرِ َمایَکُوْنُ لَھَا. (کتاب الام للشافعی ج 1ص 286ص 287باب التجافی فی السجود(
ترجمہ:امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:اللہ تعالی نے عورت کو پردہ پوشی کا ادب سکھایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی ادب سکھایا ہے۔ اس ادب کی بنیاد پر میں عورت کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ سجدہ میں اپنے بعض اعضاء کو بعض کے ساتھ ملائے اور اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا کر سجدہ کرے‘ اس میں اس کے لیے زیادہ ستر پوشی ہے۔ اسی طرح میں عورت کے لیے رکوع ،قعدہ اور تمام نماز میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ نماز میں ایسی کیفیات اختیار کرے جس میں اس کے لیے پردہ پوشی زیادہ ہو۔
فقہ حنبلی میں فرق کی صراحت
قَالَ الْاِمَامَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:وَالْمَرْاَۃُ کَالرَّجُلِ فِیْ ذٰلِکَ کُلِّہٖ اَنَّھَا تَجْمَعُ نَفْسَھَا فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ وَتَجْلِسُ مُتَرَبِّعَۃً اَوْتَسْدُلُ رِجْلَیْھَافَتَجْعَلُھُمَا فِیْ جَانِبِ یَمِیْنِھَا۔۔۔۔۔ قَالَ اَحْمَدُ:اَلسَّدْلُ اَعْجَبُ اِلَیَّ. (الشرح الکبیر لابن قدامۃ ج1 ص599 ‘ المغنی لابن قدامۃ ج1 ص635(
ترجمہ: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: سب احکام میں مرد کی طرح ہے مگر رکوع و سجود میں اپنے جسم کو سکیڑ کر رکھے اور آلتی پالتی مار کر بیٹھے یا اپنے دونوں پاؤں اپنی دائیں جانب نکال کر بیٹھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:’’عورت کا اپنے دونوں پاؤں اپنی دائیں جانب نکال کر بیٹھنا میرے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔‘‘
خلاصہ
یہ ہے کہ احادیث نبویہ، آثار صحابہ اور ائمہ اربعہ کے اقوال واجتہادات سے مرد وعورت کی نماز میں فرق ثابت ہے اور یہ ثابت ہے کہ نماز کے کچھ خاص اعمال میں عورتوں کا طریقہ مردوں سے مختلف ہے جس میں شریعت کی اصل منشا عورتوں کے لئے اس طریقہ کا انتخاب ہے جس میں عورتوں کے لئے پردہ زیادہ ہو تاکہ ان کی نماز عنداللہ اعلی قبولیت سے سرفراز ہوسکے۔
یہ ہے کہ احادیث نبویہ، آثار صحابہ اور ائمہ اربعہ کے اقوال واجتہادات سے مرد وعورت کی نماز میں فرق ثابت ہے اور یہ ثابت ہے کہ نماز کے کچھ خاص اعمال میں عورتوں کا طریقہ مردوں سے مختلف ہے جس میں شریعت کی اصل منشا عورتوں کے لئے اس طریقہ کا انتخاب ہے جس میں عورتوں کے لئے پردہ زیادہ ہو تاکہ ان کی نماز عنداللہ اعلی قبولیت سے سرفراز ہوسکے۔
Login Required to interact.

