مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
عام طور پر کسی قانون کا حوالہ دیتے وقت کہا اور لکھا جاتا ہے کہ ’’دفعہ نمبر‘‘ فلاں کے مطابق ، اسی طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں دفعہ کو منسوخ کردیا گیا یا اسے بدل دیا گیا ، جیسے کہ حالیہ دنوں میں دفعہ ۳۷۰ کا تذکرہ رہا۔
عام لوگ چونکہ اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے ہیں اس لئے انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ’’دفعہ ‘‘ کیا ہے؟ اسی لئے دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے وقت ایک صاحب کسی سے پوچھ رہے تھے کہ کون سی چیز کشمیر سے ہٹادی گئی؟ اور اس کو وہاں سے ہٹانے پر کیوں لوگ اتنی باتیں کررہے ہیں؟
ذہن میں رکھیں کہ ہر ملک میں قوانین کا مجموعہ ہوتا ہے جس کی روشنی میں اس ملک میں قانون کا نفاذ ہوتا ہے اور حکومت اور افراد کے رشتے کے تعلق کی تنظیم واستحکام ، حقوق کا تحفظ ، جرائم کا سد باب وغیرہ ان مرتب قوانین کے تحت ہوتا ہے ۔
ہمارے وطن عزیز ہندوستان کا بھی ایک آئین ہے ، جسے اردو میں ’’آئین ہند‘‘ ہندی میں भारत का संविधान اور انگلش میں Constitution of India کہتے ہیں ، ’’آئین ہند‘‘ جمہوریہ ہندوستان کا دستور اعلیٰ ہے ، اس ضخیم قانونی دستاویز میں جمہوریت کے بنیادی سیاسی نکات اور حکومتی اداروں کے ڈھانچہ، طریقہ کار، اختیارات اور ذمہ داریوں نیز ہندوستانی شہریوں کے بنیادی حقوق، رہنما اصول اور ان کی ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے۔
اس ضخیم آئین ہند کا مسودہ مجلس دستور ساز نے تین سال کی طویل جد وجہد سے تیار کیا ، اس مجلس دستور ساز کے اہم ارکان میں بھیم راو امبیڈکر، سنجے فاکے، جواہر لعل نہرو، چکرورتی راجگوپال آچاریہ، راجندر پرساد، ولبھ بھائی پٹیل، کنہیا لال مانیک لال منشی، گنیش واسودیو ماوالانکار، سندیپ کمار پٹیل، مولانا ابو الکلام آزاد، شیاما پرساد مکھرجی، نینی رنجن گھوش اور بلونت رائے مہتا تھے ، جبکہ درج فہرست طبقات اور درج فہرست قبائل کی نمائندگی کرنے والے بھی دیگر اراکین تھے ، اس جامع مجموعہ قوانین کو 26 نومبر 1949ء کو تسلیم کیا تھا اور 26 جنوری 1950ء کو نافذ کیا تھا ، اسی لئے ۲۶ جنوری کو ’’یوم جمہوریہ‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس آئین میں تمام قوانین کئی حصوں میں مختلف دفعات کی شکل میں بیان کئے گئے ۔(ویکیپیڈیا)
واضح رہے کہ اس آئینی کتاب کے علاوہ بھی دیگر قوانین کے مجموعے اور کتابیں ہیں جن میں مخصوص زمرے کے قوانین ذکر کئے گئے ہیں: مثلا جرائم اور ان کی روک تھام اور سزاؤں سے متعلق مستقل قانونی مجموعہ ہے ، جسے انڈین پینل کوڈ کہا جاتا ہے ، اسی کو مختصرا آئی پی سی (IPC) کہتے ہیں ، اکثر محکمہ پولیس کی جانب سے جب کسی ملزم پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ آئی پی سی کے دھارا فلاں فلاں کے تحت اس پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔
اسی طرح سول لاء کے قوانین کا مجموعہ بھی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام میں مرتب انداز میں سلسلہ وار قوانین ذکر کئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس آئینی کتاب کے علاوہ بھی دیگر قوانین کے مجموعے اور کتابیں ہیں جن میں مخصوص زمرے کے قوانین ذکر کئے گئے ہیں: مثلا جرائم اور ان کی روک تھام اور سزاؤں سے متعلق مستقل قانونی مجموعہ ہے ، جسے انڈین پینل کوڈ کہا جاتا ہے ، اسی کو مختصرا آئی پی سی (IPC) کہتے ہیں ، اکثر محکمہ پولیس کی جانب سے جب کسی ملزم پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ آئی پی سی کے دھارا فلاں فلاں کے تحت اس پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔
اسی طرح سول لاء کے قوانین کا مجموعہ بھی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام میں مرتب انداز میں سلسلہ وار قوانین ذکر کئے گئے ہیں۔
دفعہ عربی زبان کا لفظ ہے اور دفعات اس کی جمع ہے، دفعہ کے لئے انگریزی میں article بولتے ہیں یعنی اردو میں اگر کہیں گے کہ دفعہ 5 کے مطابق تو انگریزی میں کہیں گے Article 5 کے مطابق ، قانون کی زبان میں کسی بھی چیز سے متعلق ایک مخصوص قانون کو ’’دفعہ‘‘ کہتے ہیں یا بلفظ دیگر ’’دفعہ‘‘ سے مراد ’’آئین ہند‘‘ میں موجود وہ تحریر (یا بند / paragraph) ہوتی ہے جو کسی ایک موضوع سے متعلق ایک خاص قانون کو بیان کرتی ہو، آئین میں تمام قوانین سلسلہ وار نمبر کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں، تو کسی خاص نمبر کے ساتھ دفعہ (article) بولنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل آئین کے قانونی دفعات کے تسلسل میں فلاں نمبر پر لکھے ہوئے قانون کے تحت اور اس کی پیروی میں ہے ۔ مثلا کہتے ہیں کہ دفعہ ۲۵ کے تحت ہندوستانی باشندگان کو آزادی ضمیر اور مذہب کو آزادنہ قبول کرنے اور اس کی پیروی کرنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت حاصل ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ’’ آئین ہند‘‘ کے قانونی دفعات کے تسلسل میں نمبر ۲۵ پر یہ قانون لکھا ہوا ہے، یا یوں کہتے ہیں کہ دفعہ ۲۴ کے تحت بچوں سے کارخانوں میں کام کرانا ممنوع ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی قانون کی کتاب میں ۲۴ نمبر پر جو قانون لکھا ہے وہ اس سے منع کرتا ہے ، چناں چہ جب آپ آئین ہند کھولیں گے اور اس میں دفعات کے سلسلہ سے گزرتے ہوئے نمبر ۲۴ پر پہونچیں گے تو آپ کو ملے گا : ’’ چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ کسی کارخانہ یا کان میں کام کرنے کے لئے مامور نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی دوسرے خطرناک کام پر لگایا جائے گا ‘‘ ۔
یہ ہے لفظ ’’دفعہ‘‘کی عوام کے ذہنوں کو پیش نظررکھتے ہوئے عام فہم وضاحت، تمام تر حقیقت اور مزید تفصیل واصطلاحات اہل علم قانون ولغت کی کتابوں اور ویکیپیڈیا سے حاصل کرسکتے ہیں، اور یہ ذہن میں رکھیں کہ ہمارے ملک ہندوستان کا قانون ایک اچھا اور جامع قانون ہے۔ اس قانون کا مجموعہ اردو زبان میں بھی ’’ بھارت کا آئین‘‘ کے نام سے شائع کیا جاتا ہے ۔
یہ ہے لفظ ’’دفعہ‘‘کی عوام کے ذہنوں کو پیش نظررکھتے ہوئے عام فہم وضاحت، تمام تر حقیقت اور مزید تفصیل واصطلاحات اہل علم قانون ولغت کی کتابوں اور ویکیپیڈیا سے حاصل کرسکتے ہیں، اور یہ ذہن میں رکھیں کہ ہمارے ملک ہندوستان کا قانون ایک اچھا اور جامع قانون ہے۔ اس قانون کا مجموعہ اردو زبان میں بھی ’’ بھارت کا آئین‘‘ کے نام سے شائع کیا جاتا ہے ۔
Login Required to interact.

