تحریر : مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
عورت اپنی صنفی نزاکت اور مزاج کی نرمی کے باوجود انسانی معاشرہ میں یہ انوکھا مقام رکھتی ہے کہ اسی کے صنف میں انسانیت کی صحیح تربیت کرنے والی عظیم ہستی ’’ ماں ‘‘ کی شکل میں موجود ہے ، اسی ماں کا گود انسانیت کا پہلا مدرسہ ہے ، اور انسانوں کو سب سے پہلے اچھے اخلاق وکردار کی تعلیم اسی کے گود میں دی جاتی ہے ۔
ماں کو اسلام نے یہ اونچا مقام دیا ہے کہ اس کے قدموں تلے جنت ہے ، اس کی اصل بنیاد ماں کی عظیم قربانیاں اور بے لوث محبت ہے ، نیز انسانی معاشرہ میں اس کا مقام اور صالح معاشرہ کی تعمیر میں اس کے رول کی وجہ سے بھی اسے اونچا مقام دیا گیا ہے ۔
ایک لڑکی جب اپنے آبائی گھر سے جدا ہوکر نئے اصلی گھر میں پہونچتی ہے ، وہاں اس کی زندگی کی بہتری یا اس کے بگاڑ کے پیچھے بھی ماں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ، اگر ماں ہوشمندی اور دینداری کی حامل ہوتی ہے اور اپنے بیٹی کے زندگی میں خوشیاں لانا چاہتی ہے اور اس کے گھر کو جنت نشاں بنانا چاہتی ہے تو ہرموڑ پر اس کے صحیح مشوروں اور بالخصوص تناؤ اور نفرت کی ماحول میں بیٹی کو اس کی نصیحتیں سنگین حالات میں بھی بہتر راہ نکال دیتی ہیں، اس کے برخلاف ماں کے غلط مشورے بہت سی بیٹیوں کے آ باد گھر کے اجڑنے کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں، اور عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہےطلاق اور زوجین کے مابین بگاڑ میں ان دونوں کے آپسی امور کے بجائے زوجین کے ماں کا بہت اہم رول ہوتا ہے ، اسی لئے ماں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے مقام کو سمجھ کر اپنا وہ کردار ادا کرے جس سے نفرتوں کی دیواریں منہدم ہوکر محبت کی فضا قائم ہو، اور یہ عمل اس کے لئے جتنا آسان ہے کسی اور کے لئے اتنا آسان نہیں۔
جس وقت لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر سےجدا ہوتی ہے اس وقت اس کی نئی زندگی کی تعمیر پڑتی ہے اور وہ اس کی زندگی کا اہم موڑ ہوتا ہے ، اس موقع پر جذبات سے مغلوب ہوکر اگلی زندگی کی کامیابی کے حوالے سے نصیحتیں اور کامیاب ازدواجی زندگی کے سنہرے اصول بتانے کی عموما ماؤں کو فکر نہیں ہوتی ، حالانکہ اس موقع پر ماں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اپنی بیٹی کو اگلی زندگی کی کامیابی کے سنہرے اصول بتائے ،تاکہ اس کی بیٹی ان اصولوں کی پیروی کرکے اپنی زندگی کو بہتر بناسکے۔ قدیم عرب کی ایک خاتون امامہ بنت الحارث جو کہ عوف بن محلم الشیبانی کی بیوی تھی ، اس کی بیٹی ’’ام ایاس‘‘ جب گھر سے رخصت ہورہی تھی تو اس نے اپنی بیٹی کو جو نصیحتیں کی ہیں اس میں اس نے واقعی بہتر ماں کا کردار ادا کیا ہے اور اپنی لخت جگر کی زندگی کو بہتر بنانے کے سنہرے اصول بتائے ہیں، یہ وہ ناصحانہ کلمات ہیں کہ اگر آج کی مائیں بھی اپنی بیٹیوں کو اس طرح کی نصیحتیں کریں تو زندگی میں کبھی بھی فساد و بگاڑ اور نفرت کے تلخ لمحات نہ آئیں، یہ نصیحت مختصر مگر اتنی جامع ہے کہ اس میں اس خاتون نے کوئی ضروری بات جو بیٹی کے لئے اس دار فانی کو چھوڑنے تک مفید ہو ترک نہیں کیا،اس نے وصیت کرتے ہوئے کہا:
میری پیاری بیٹی !اگر علم وادب کی زیادتی اور عقل کے کمال کی وجہ سے کسی کو نصیحت کرنا مناسب ہوتا تو (چونکہ تو بھی ماشاء اللہ بہت عاقلہ اور ںسمجھدارہے میں بھی تجھکو نصیحت )نہ کرتی، لیکن جن کو نصیحت کی جاتی ہے وہ دوطرح کے ہوتے ہیں غافل یا عاقل، اگر وہ غافل ہے تب تو اس کو نصیحت آئندہ نتائج کو یاد دلاتی ہے اور اگر وہ عاقل ہے تو وہ نصیحت اس کے لئے ایک خیر خواہ اور معین کا کام دیتی ہے ۔
بیٹی!اگر والدین کی دولت یا اس وجہ سے کہ ان کو اپنی بیٹیوں سے زیادہ الفت اور ان کو ان کی زیادہ ضرورت ہے تو لڑکیاں خاوندوں سے مستغنی ہوتیں اور اپنے ماں باپ کے یہاں رکھی جاسکتیں۔اور توتوسب سے زیادہ اس کی حقدار تھی؛ اس لئے کہ تیرے ماں باپ بڑے دولتمند بھی ہیں اور تجھ سے محبت بھی زیادہ کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتیں مردوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور مردعورتوں کے لئے۔
بیٹی!جس گھر میں تونے پر ورش پائی تھی اور جس گہوارہ میں تونے آج تک آرام اٹھایا تھا آج تو اسکو چھوڑ کر ایک ایسے کنبہ میں جاتی ہے کہ جس کوتو پہچانتی نہیں ۔اور اب تجھ کو ایک ایسے ہم نشین کے ساتھ عمر گذارنی ہوگی جس سے تو اس وقت تک مانوس نہیں ہوئی نہ اس کی صورت دیکھی ۔
بیٹی !وہ ہم نشین تیرا مالک اور محافظ ہوگا اس لئے تجھ کو لازم ہے کہ تو اس کی لونڈی بن جائے تاکہ وہ تیرا غلام ومطیع ہوجائے ۔
بیٹی !میری دس باتیں یادرکھنا وہ تیرے لئے بہترین جہیز ہونگی :
خاوندکے ساتھ قناعت سے بسر کرنا ۔ خاوندکی اطاعت اور تابعداری کرتی رہنا ۔ یہ خیال رکھنا کہ اسکی نظریں کہاں کہاں پڑتی ہیں۔ تاکہ وہ تیری کوئی بری بات نہ دیکھ سکے ۔اس کا لحاظ رکھنا کہ اس کی ناک میں کہاں کہاںکی خوشبو یا بدبو جاتی ہے، تاکہ وہ تجھ میں سے کبھی بدبو نہ سونگھ سکے، حسن کی زینت زیادہ تر سرمہ میں ہے ،پانی بے نظیر خوشبو ہے، اس کا خیال رکھنا کہ خاوند کھانا کس وقت کھاتا ہے ،جس وقت وہ سوتاہو اس وقت گھر میں شورو ہنگامہ نہ ہونے دینا ،اس لئے کہ بھو ک کی حرارت آدمی کو خواہ مخواہ بھی بھڑ کا دیتی ہے اور نیند کا خراب ہونا ناراضی کا سبب ہوجاتا ہے، خاوند کے گھر اور مال کو محفوظ رکھنا ۔ خاوند کی جان، اس کے خدام ،اس کے لواحق وتوابع کا پورا خیال رکھنا ، اس واسطے کہ مال کی حفاظت سے خاوند راضی رہے گا، اور اس کے خدام وغیرہ کی مراعات سے وہ سب دراندازی کرکے خاوند کے دل کو تم سے نہ پھیر سکیں گے ۔ خاوندکے کسی بھید کو کسی پر ظاہر نہ کرنا اس واسطے کہ اگر تو نے اس کے کسی بھید کو کسی پر ظاہر کردیا تو یاد رکھ کہ وہ بھی تیرے ساتھ یقینا بے وفائی سے پیش آئے گا ۔ خاوند کی کبھی نافرمانی نہ کرنا اس واسطے کہ اگر تونے اس کی نافرمانی کی تو یقینا تونے اس کے دل کو اپنی طرف سے پھیر دیا اور یہ بھی خیال رکھناکہ اگر وہ کسی وقت تیرے پاس غمگین بیٹھا ہو تو تو ، اس کے ساتھ خنداں وشاداں نہ رہنا تاکہ وہ یہ خیال نہ کرلے کہ اس کو میرے حزن والم کی کچھ پر واہ نہیں ۔ اور اگر وہ کسی وقت خوش ہوکر تیرے پاس آئے توتواسکے پاس غمگین ہوکر نہ بیٹھنا کہ اس کو اپنی خوشی کے خاک میں مل جانے سے رنج ہو۔
بیٹی !توسب سے زیادہ اپنے خاوندکی اطاعت ومراعات کرنا ، اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے زیادہ خیال تیرا رکھے گا اور جس قدر تو اس کی موافقت کرتی رہے گی اسی قدر تو اسکے ساتھ عیش وعشرت سے زندگی بسر کر سکے گی اور خوب اچھی طرح سے سمجھ لے کہ تو آج کے بعد سے اپنی خواہشات کو اس وقت تک ہرگز ہرگز حاصل نہیں کرسکتی ہے ۔جس وقت تک کہ تو اپنی رضا پر خاوند کی رضا کو ترجیح نہ دینے لگے ۔اور اس کی خواہشوں کو اپنی خواہشوں پر مقدم نہ کرنے لگے جو کچھ مجھ کو کہنا تھا میں کہہ چکی۔ اللہ تعالیٰ تجھ کو خیریت کے ساتھ رکھے فقط۔
غور کریں کہ کس قدر محبت بھرے انداز میں اس خاتوں نے اپنی بیٹی کو کامیاب ازدواجی زندگی کے اصول بتائے ہیں، لیکن افسوس کہ آج بیٹی کی ذہن سازی یہ کی جاتی ہے کہ تم گھبرانا نہیں ہم سب تمہارے ساتھ ہیں ، اور ایسی باتیں اس کے ذہن میں بھری جاتی ہیں جن سے اس کا ذہن اپنے نئے گھر کے افراد کے بارے میں زہریلا بن جاتا ہے اور پھر اس کا انجام یہ نکلتا ہے کہ شادی کے چند دنوں بعد ہی لڑائی جھگڑے اور یگر ناپسندیدہ امور پیش آنے لگتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بیٹیوں کی غلط حوصلہ افرائی ان سے محبت نہیں بلکہ ان کے ساتھ دشمنانہ کردارہے، اور ان کی بہتر زندگی کو برباد کرنے کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔
Login Required to interact.

