مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
===
عام طور پر دنیا سے زہد وبے رغبتی کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کی فضیلت کو بیان کیا جاتا۔اس حقیقت کو بیان کرنا جتنا آسان ہے اس کو عملی وجود دینا اتنا ہی مشکل ہے، لیکن حضور اکرم ﷺ کی شخصیت ایک ایسے معلم کی ہے جنہوںنے تعلیم عمل کو عملی وجود دے کر کسی بھی چیز کو ناقابل قبول یا ناقابل عمل فلسفہ نہ رہنے دیا ،بلکہ ہر چیز کی حقیقت کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ اس تعلیم کو عمل کی صورت دینا ناممکن نہیں ہے،صرف ارادے کی پختگی اور’’پیغام نبوت ‘‘میں پوشیدہ فوائد کے یقین کی ضرورت ہے۔
صبر ورضا اور زہد قناعت کے سلسلے میں آپ ﷺ نے جو عملی نمونہ پیش کیا ہے اس میں اس حد تک فنائیت خداوندی نمایاں ہے جسے بیان کرنا ناممکن ہے،ایک طرف آپ کا مقام ومنصب یہ ہے آپ کی ایک تمنا اور خواہش پر کائنات کی ساری دولتیں قدموں میں نچھاور کی جاسکتی ہیں، لیکن یہاں زہد ،قناعت اورفاقہ پسندی کا یہ حال ہے کہ اس کی تمنا کے بجائے یہ تمنا کی جارہی ہے کہ ایک دن شکم سیری میں بسر ہو تو دوسرا دن بھوک کی حالت میں گذرے،خود رسول اللہ ﷺ اپنی اس تمنا کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
عرض علی ربی لیجعل لی بطحاء مکة ذھبا قلت لا یا ربی ولکن اشبع یوما واجوع یوما فاذ ا جعت تضرعت الیک وذکرتک واذا شبعت شکرتک وحمدتک (ترمذی:۲۲۷۰)
’’میرے رب نے میرے سامنے یہ پیشکش رکھی کہ میرے لئے مکہ کے سنگریلے علاقہ کو سونے سے تبدیل کردیںگے تو میں کہا کہ اے میرے رب ایسا نے کیجئے ،کیونکہ مجھے تو یہ پسند ہے کہ ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن شکم سیری حاصل کروں،جب بھوکا رہوں تو تیرے سامنے گرگراؤں اور تیرا ذکر کروں اور جب شکم سیری حاصل کروں تو تیرا شکر ادا کروں اور تیری حمد بیان کروں‘‘
فقر پسندی چونکہ آپ کی حقیقت شناش طبیعت کا حصہ بن چکی تھی اور آپ کو جو مقام ومنصب اللہ نے عطا کیا تھا اس کے لئے فقر ومسکنت کی زندگی ہی زیادہ مناسب وبہتر تھی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے سامنے اپنی فقر پسندی کی خواہش ظاہر کرنے کے ساتھ یہ دعا بھی کرتے تھے:
اللهم احینی مسکینا وامتنی مسکینا واحشرنی فی زمرۃ المساکین
’’اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں دنیا سے اٹھا اورمسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرما‘‘(ترمذی)
آپ کی یہ دعا کیونکر قبول نہ ہوتی اور آپ کی اس خواہش کی تکمیل کیوں نہ ہوتی جب کہ آپ ﷺ محبوب رب العالمین تھے!چناں چہ آپ ﷺ کی یہ تمنا صرف دل میں موجزن ہی نہ رہی بلکہ یہ اختیاری فقر آپ ﷺ کی زندگی کی عادت بن گئی ،اور آپ نے بھوک وپیاس برداشت کرنے اور اس کیفیت میں بھی اللہ سے لو لگائے رکھنے کا اہل جہاں کے سامنے انمول نمونہ پیش کرکے یہ بتادیا کہ اگر اللہ تعالی قناعت وطمانیت اور تسلیم ورضا نصیب فرمائے تو بندوں کے لئے دینی اور اخروی نقطہ نظر سے دولتمندی اوروسعت حالی کے بجائے فقر وناداری کی زندگی ہی بہتر ہے ،حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ شاہ جہاں کی پرزہد فقیرانہ زندگی کی تصویر کشی ان الفاظ میں کرتے ہیں:
کان رسو ل اللہ ﷺ یبیت اللیالی المتتابعة طاویاواهله لا یجدون عشاء وکان اکثر خبزهم خبز الشعیر(ترمذی:۲۲۸۳)
’’رسو ل اللہ ﷺ مسلسل کئی راتیں بھوک کی حالت میں گذاردیتے اور آپ ﷺ کی ازواج کورات کا کھانا نصیب نہ ہوتا اور اکثر وبیشتر ان کی روٹی جو کی ہوا کرتی تھی‘‘
اسی طرح حضرت عائشہ ؓ اپنے گھر کی معاشی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیںکہ رسو ل اللہ ﷺ کے گھر والوں نے جو کی روٹی سے بھی دودن تک مسلسل پیٹ نہیں بھرا،یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے اٹھا لئے گئے۔(بخاری)
نیز حضرت عائشہ فرماتی ہیں:
’’ہم اہل بیت نبوت اس طرح گذار ا کرتے تھے کہ کبھی کبھی لگاتار تین تین چاند دیکھ لیتے (یعنی کامل دو مہینے گذر جاتے )اور حضور ﷺ کے گھر وں میں چولھاگرم نہ ہوتا،حضرت عائشہ ؓکے بھانجے حضرت عروہ نے پوچھا کہ پھر آپ لوگوں کو کیا چیز زندہ رکھتی تھی؟حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ بس کھجور کے دانے اور پانی، البتہ رسول اللہ ﷺ کے بعض انصاری پڑوسی کے پاس دودھ دینے والے جانور تھے ،وہ آپ کے لئے بطور ہدیہ دودھ بھیجا کرتے تھے اور اس میں سے آپ ہم کو بھی دیتے تھے‘‘(بخاری ومسلم)
خود حضور سرور عالم ﷺ اپنی زندگی کی فقر وتنگی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اللہ کے راستہ میں مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا گیا کہ کسی اورکواتنا نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کے راستہ میں مجھے اتنا ستایا گیا کہ کسی اور کو اتنا نہیں ستا یا گیا اور ایک دفعہ تیس دن رات مجھ پر اس حا ل میں گذرے کہ میرے اور بلا ل کے لئے کھانے کی کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو کوئی جاندار کھا سکے۔بجز اس کے جو بلال نے اپنے بغل میں دبا رکھا تھا۔(ترمذی)
یہ ہے اختیاری فاقہ مستی کی اعلی ترین مثال،آپ ﷺ نے اس کیفیت کو اس لئے اختیار کیا تاکہ امت کو یہ تعلیم مل جائے کہ فاقہ مستی میں ہی عبدیت کا صحیح حق ادا ہوسکتا ہے ، ورنہ دولت وثروت کا نشہ انسان کو بہت سی چیزوں سے غافل کردیتا ہے اور اس کے بعد حق وناحق کا پیمانہ بھی عدم توازن کا شکار ہوجاتا ہے ،جس کی واضح مثالیں ہردور کے اصحاب ثروت کی زندگی میں نمایاں نظر آتی ہیں، ہاں استثنائی صورتوں سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔
مال دولت کی اسی خطرنا کی وجہ سے امت کو اس سے باخبر کرنے کے ساتھ ساتھ خود آپ ﷺ نے بھی اس سے دوری پسند کی،امت کے بارے میں ایک مرتبہ آپ ﷺ اپنی فکر کا ان الفاظ میں اظہار کرتے ہیں:
انی لا اخشی علیکم ان تشرکوا ولکنی اخشی علیکم الدنیا ان تنافسوها(بخاری:۳۷۳۶)
’’مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم شرک میں مبتلا ہوجاؤ گے ،البتہ دنیا کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں تم اس میں منہمک نہ ہوجاؤ‘‘
نیز آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ہر امت کے لئے کوئی خاص آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے ۔(ترمذی)
ایک روایت سے تو یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ فقر اور فاقہ مستی ہی راہ نبوت کا توشہ ہے،ایک صحابی آپ ﷺ کے پاس آکر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں ،تو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
ان کنت تحبنی فاعد للفقر تجفافا فان الفقر اسرع الی من یحبنی من السیل الی منتهاہ (ترمذی )
’’اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو فقر کو اپنا ڈھال بنانے کے لئے تیار ہوجاؤ ،کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والے کے پاس فقر ،سیلاب کے کنارے تک آنے سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ آجاتی ہے‘‘
رسول اکرم ﷺ کی یہ فقیرانہ زندگی چونکہ اختیاری تھی اس لئے آپ نے جہاں امت کو مال کی خطرنا کی سے ڈرایا وہیں خود بھی ذخیرہ اندوزی اور’’حب مال‘‘ سے حد درجہ دوری اختیار کی، ذخیرہ اندوزی کی اہمیت کو دلوںمیں بسانے کے بجائے توکل اور اللہ پر اعتماد ویقین کو پختہ کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے آپ نے کبھی بھی اپنے پاس مال کو جمع نہ رہنے دیا بلکہ آپ کا معمول یہ تھا کہ اپنی ضرورتوں پر نظر کرنے کے بجائے غرباء اور مساکین میں جلد ازجلد مال کو تقسیم کردیتے اورجب تک مکمل تقسیم نہ ہوجاتاآپ بے چین وبے قرار رہتے اور جس دن مال ہاتھ میں آتا اس دن کے گذرنے سے پہلے ہی اسے مستحقین پر خرچ کرنے کی پوری کوشش کرڈالتے۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ کے پاس بحرین سے مال آیا ،حضور ﷺ نے اسے تقسیم کرنا شروع کیا، لیکن ابھی تقسیم سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ رات آگئی، تو آپ ﷺ نے وہ رات مسجد میں گذاردی اور ساری نمازیں مسجد میں پڑھیں، میں نے دیکھا کہ جب تک آپ ﷺنے سارا مال تقسیم نہ کرلیا آپ ﷺ کے چہرے پر پریشانی اورفکر کے آثار رہے۔(بزار، مجمع الزوائد:۱۰؍۲۳۸)
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو آپ کے چہرہ مبارک کارنگ بدلا ہوا تھا مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ کسی درد کی وجہ سے نہ ہو، میں کہا یارسول اللہ !آپ کو کیا ہوا؟ کہ آپ کے چہرہ کا رنگ بدلا ہوا ہے ،آپ نے فرمایا :ان سات دینار کی وجہ سے جو کل ہمارے پاس آئے تھے اور آج شام ہوگئی اور وہ ابھی تک بسترے کے کنارے پر پڑے ہوئے ہیں۔(مسند احمد)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں مجھے حکم دیا کہ جو سونا ہمارے پاس ہے میں اسے صدقہ کردوں (لیکن میں حضور ؓ کی خدمت میں مصروف رہی اور صدقہ نہ کرسکی ،پھر آپ ﷺ کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا کہ اس سونے کا کیا کیا ؟ میں کہا : میں نے دیکھا کہ آپ بہت زیادہ بیمار ہیں، اس لئے میں آپ کی خدمت میں ایسی لگی رہی کہ بھول گئی، حضور ﷺ نے فرمایا : وہ سونا لا ؤ، چناں چہ حضرت عائشہ ؓ حضور کی خدمت میں سات یا نو دینار لائیں،جب حضرت عائشہ لے آئیں تو حضور ﷺ نے فرمایا: اگرمحمد(ﷺ) کی اللہ سے ملاقات اس حال میں ہوتی کہ یہ دینار ان کے پاس ہوتے تو محمد کیا گمان کرسکتے؟(یعنی مجھے بہت ندامت ہوتی)اگر محمد کی ملاقات اس حال میں ہوتی کہ یہ دینار ان کے پاس ہوتے تو یہ دینار محمد کے بھروسے کو اللہ پر رہنے نہ دیتے(مسنداحمد،بیہقی:۶؍۳۵۶)
مال ودولت سے اس قدر بیزاری اور دوری نیز آپ کی ایثار وسخاوت کی وجہ سے آپ کا یہ عالم تھا کہ کبھی کسی سائل کو آپ نے ’’نا‘‘نہ کہا۔حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ کبھی ایسا نہ ہوا کہ رسو ل اللہ ﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے جواب میں نہیں فرمایا ہو(بخاری)
بہت سارامال موجود ہو تو دینا آسان بھی ہے، لیکن قربان جائیے نبی رحمۃ للعالمین پر کہ خود فقر وتنگی کی زندگی گذارنے کے باجود آپ کے در سے کبھی کوئی سائل واپس نہ جاتا،حتی کہ اگر آپ کے پاس سائل کی مراد پوری کرنے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو قرض منگواکر اس کی مراد پوری کرتے،حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیاکہ اسے کچھ دیجئے ،آپ ﷺنے فرمایا :تمہیں دینے کے لئے اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ،البتہ تم ایسا کرو کہ میرے طرف سے کوئی چیز ادھار خریدلو، جب میرے پاس کچھ آئے گا تو میں اسے ادا کردوںگا(ترمذی،کنز العمال)
اسی طرح مسلسل فاقہ کشی کے باوجود آپ ﷺ کے کا گھر مہمانوں کا مسکن بنا ہوارہتا اور آپ خود نہ کھا کر مہمانوں ،غریبوں اوربھوکوں کو سیراب کرتے ،ایک طرف آپ کی زندگی کا یہ عالم تھا کہ مہینوں آپ کے گھر میں چولھا روشن نہ ہوتا تو دوسری طرف صفہ پر قیام پذیر مہمانوں کی اور مدینہ میں رہنے والے نادار بھوکوں کی ضیافت کا فریضہ بھی آپ انجام دیتے، اور صفہ پر قیام پذیر مہمان جن کی ضیافت ا ٓپ اپنے ذمہ لیتے کبھی ان کی تعداد ایک، دو ہوتی تو کبھی دس ،بیس سے بھی متجاوز ہوتی ،گویا پڑوسیوں کی جانب سے آپ کی خدمت میں جو دودھ اور کھانے کی چیزیں ہدیہ کے طور پر آتیں وہ اہل بیت نبوت کو شکم سیر کرنے کے بجائے مہمان رسول کی ضیافت میں ختم ہوجاتیںاور نبی اکرم ﷺ اور آپ کے افراد خانہ چند سوکھے کھجور اور پانی ،نیزاللہ کا نام اور اس کی یادسے شکم سیری حاصل کرتے۔ اور کبھی گھرمیں روٹی کے چند ٹکڑے ہوتے تو اسی کو مہمان اور میزبان میں تقسیم کرلیا جاتا۔حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ گھر میں بیٹھا تھا ،تو حضور ﷺ میرے پاس سے گذرے ،اورآپ نے مجھے اشارہ سے بلایا، میں آپ کے پاس گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،پھر ہم دونوں چلتے چلتے آپ کی ایک زوجہ محترمہ کے حجرے کے پاس پہونچ گئے ، پہلے آپ حجرے میں داخل ہوئے ،پھر مجھے اندر آنے کی اجازت دی، میں اندر پردہ والے حصہ میں داخل ہوگیا،پھر آپ ﷺ نے فرمایا: دوپہر کا کھانا ہے ؟گھر والوں نے کہا ہاںہے۔ چناں چہ روٹی کی تین ٹکیاں آپ کے پاس لائی گئیں،جن کو کھجور کے پتوں کے دسترخوان پر رکھ دیا گیا ،حضور ﷺ نے ایک ٹکیہ اپنے سامنے رکھا اور ایک میرے سامنے ، پھرتیسری ٹکیہ کو دوٹکڑے کرکے آدھی ٹکیہ اپنے سامنے رکھی اور اور آدھی میرے سامنے،پھر آپ نے گھر والوں سے پوچھا کہ کیا کوئی سالن ہے ؟گھر والوں نے کہا : نہیں، بس تھوڑا سا سرکہ ہے ،حضور نے فرمایا یہی سرکہ لے آؤ، کیونکہ سرکہ تو بہترین سالن ہے (مسلم)
اندازہ لگائے کہ گھر میں صرف اتنا کھا ناہے جو اپنے لئے بھی کافی نہیں ہے، لیکن حضرت جابر کو بھی اپنے ساتھ لارہے ہیں تاکہ ان کے بھوک کی شدت بھی کم ہوسکے۔یہی ایثار اور غرباء پروری ہے کہ اپنی ضرورت کے ساتھ دوسروں کی ضرورت پر بھی نظر ہے اور اپنی فکر کے ساتھ دوسروں کی بھی فکر ہے ۔ بلکہ اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر ہے اور خود بھوکا رہنا تو پسند ہے لیکن کسی شخص کا بھوکا رہنا اور بھوک کی تڑپ کے ساتھ رات گذارنا گوارا نہیں،بلکہ دوسروں کوکھلا کر خود بھوکا رہنا پسند ہے ۔
حضرت میمونہ بنت حارث ؓ فرماتی ہیں کہ ایک سال قحط پڑا تو دیہاتی لوگ مدنہ منورہ آنے لگے،حضور ﷺ کے حکم کے مطابق ہر صحابی ان میں سے ایک آدمی کو اپنے ساتھ لے جاتے اور اپنا مہمان بنا کر اپنے ساتھ کھانا کھلاتے،ایک رات ایک دیہاتی کو حضور اپنے ساتھ لے کر آئے ، خود حضور ﷺ کے پاس تھوڑا سا کھانا اور دودھ تھاہ دیہاتی سب کچھ کھا پی گیا،اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہ چھوڑا ،حضور ﷺ ایک یا دو راتیں اور اس کو اپنے ساتھ لاتے رہے اور ہر روز یہی واقعہ ہوا کہ اس نے سب کچھ ہضم کرلیا اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہ بچا ،یہ دیکھ کر میں نے کہا : اے اللہ اسے برکت نہ دے، کیونکہ یہ حضور ﷺ کا سارا کھانا کھا جاتا ہے اور حضور ﷺ کے لئے کچھ نہیں چھوڑتا ، پھر وہ مسلمان ہوگیا اور اسے پھرحضور ﷺ اپنے ساتھ لے کر آئے اس رات اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا،میں حضور سے عرض کیا کہ کیا یہ وہی شخص ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا (ہاں یہ وہی شخص ہے؟ لیکن پہلے کافر تھا اور اب مسلمان ہوگیا ہے )اور کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔(معجم طبرانی)
یہ چند واقعات ہیں، اس قسم سے بے شمار واقعات ہیں جن سے رحمت عالم ﷺ کے ایثار وقربانی ،اور غرباء پروری کی حقیقت آشکارا ہوتی ہے ،اور ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے محض ایثار کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ خود کو بھوکا رکھ کر بھوکوں کو شکم سیرکرکے( چاہے وہ بھوکے کافر ہی کیوں نہ ہوں) ایثار کی علمی شکل بھی پیش کی ہے ،تاکہ امت میں یہ عملی نمونہ قیامت تک جاری رہ سکے اور ان واقعات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بلاشبہ آپ رحمۃ للعالمین ہیں اورپوری دنیا آپ کی رہین منت ہے ۔فصلی اللہ علیه وعلی آله وبارک وسلم و تسلیما ۔
Login Required to interact.

