تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
=====
۳؍صفر المظفر ۱۴۳۳ھ مطابق ۱۷؍دسمبر ۲۰۱۲ پیر کو بوقت عصراس خبر سے مسلمانان عالم کے درمیان غم اندوہ کی لہردوڑ گئی کہ ۱۳۸۵ھ سےمسجد حرام میں امامت کے مقدس فریضہ کو انجام دینے والے معروف ومشہور امام شیخ محمد بن عبد اللہ السبیل نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کی پوری زندگی خدمت دین سے عبارت تھی ، آپ کی پیدائش ’’بکیریہ‘‘ نامی شہر میں ۱۳۴۵ھ مطابق: ۱۹۲۴ء میں ہوئی، ’’ بکیریہ‘‘ سعودی عرب کا ایک مشہور شہر ہے،جو کہ صوبہ قصیم میں واقع ہے۔اور یہ شہر تقریبا ۲۰۰ سال قدیم ہے ۔
آپ نے بہت ہی کم عمری میں قرآن کریم کا حفظ کیا ، ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد عبد اللہ بن محمد بن عبد العزیز السبیل اور شیخ عبد الرحمن کریدیس سے حاصل کی، تجوید وقرأت کا علم شیخ سعدی یاسین سے حاصل کیا،اور اپنے بھائی شیخ عبدالعزیز السبیل ، شیخ محمد مقبل اور شیخ عبد اللہ بن حمید کی زیر تربیت آپ نے علوم اسلامیہ میں مہارت حاصل کی۔
۱۳۶۷ھ میں آپ بکیریہ کے ایک مدرسہ سے بحیثیت معلم وابستہ ہوئے، اور پھر۱۳۷۳ ھ میں المعہد العلمی بکیریہ کے مدرس ومشرف بنائے گئے، اور اپنے علوم سے تشنگان علوم نبوت کو فیض پہونچایا،۱۳۸۵ھ میں جب کہ آپ کی عمر چالیس سال تھی آپ مسجد حرام کے امام وخطیب بنائے گے،اس کے بعد سے ۱۴۲۹ھ تک پورے ۴۴ سال آپ نے مسجد حرام میں امامت کا مقدس فریضہ انجام دیا۔اسی مدت امامت میں وہ لمحہ بھی قابل ذکر ہے جب کہ ۱؍محرم الحرام ۱۴۰۰ھ میں مہدی موعود ہونے کے جھوٹے دعویدار جہیمان العتیبی کے ساتھ ۲۱؍ ممالک سے آئے ہوئے اس کے متبعین ہتھیاروں سے لیس ہوکر پہونچ گئے تھے ، نماز فجر کے مکمل ہوتےہی جہیمان العتیبی نے اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا اور ادھر اس کے متبعین نے ہتھیاروں کے ذریعہ مصلیوں کو یرغمال بنالیا ،اس دن نماز فجر کی امامت شیخ محمد بن عبد اللہ السبیل ہی نے کی تھی ،دشمنوں نے آپ پر بھی قاتلانہ حملہ کیا، لیکن اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا،اور ان دشمنوں میں سے بعض مارے گئے اور بعض گرفتار کئے گئے جنہیں بعد میں قتل کردیا گیا۔
۱۴۱۱ھ میں ’’ ادارہ برائے نگرانی امور مسجد حرام ومسجد نبوی ‘‘ کا آپ کو صدر نامزد کیا گیا ، اس عہدہ پر آپ ۱۴۲۱ھ تک فائز رہے۔۱۷؍جمادی الثانی ۱۴۳۳ھ سےاب تک اسی عہدہ پر امام حرم شیخ عبد الرحمن السدیس مدظلہ فائز ہیں۔
۱۴۱۳ھ میں آپ کو ’’ہیئۃ کبار العلماء ‘‘ کا رکن نامزد کیا گیا اور ۱۴۲۷ ھ تک آپ اس کے رکن رہے، اسی طرح ۱۳۹۷ھ سے ۱۴۳۲ھ تک آپ المجمع الفقہی الاسلامی کے بھی رکن رہے۔
آ پ نے حرم کی امامت کے ذریعہ فیض رسانی کے ساتھ ساتھ دنیا کے پچاسوںملکوں کا سفر کرکے وہاں کی ان عوام کو بھی کسب فیض کا موقع عطا فرمایا جنہیں زیارت بیت اللہ کی سعادت حاصل نہ ہوسکی تھی اور جو اپنے حرم کے امام کی آواز سننے اور ان کا دیدار کرنے کے مشتاق تھے۔جن ممالک کا آپ نے سفر کیا ان میں ہندوستان کو بھی یہ فخر حاصل ہے کہ ۱۹۸۷ءمیں آپ نے ہندوستان کے علم دوست شہر حیدرآباد کا سفر حضرت مولانا عاقل صاحب علیہ الرحمہ کی دعوت پر کیا اوریہاں میرعالم عیدگاہ میں نماز جمعہ کی امامت فرمائی ،اس موقع پر نمائش گراؤنڈ نامپلی میں بعد نماز مغرب ایک جلسہ عام سے آپ نے خطاب فرمایا جس میں کثیر تعداد میں علماء اور عوام نے شرکت کی، اسی سفر میں آپ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند بھی تشریف لے گئے اور وہاں آپ نے نماز ظہر کی امامت فرمائی، اور آپ کی اقتداء میں طلبہ دارالعلوم کے علاوہ قرب وجوار اور دور دراز سے آئے ہوئے علماء اور عوام نے نماز ظہرادا کی۔
آپ نے تین شادیاں کیں، اور آپ کوباکمال نیک متقی اولاد بھی اللہ نے عطا کئے، آپ کے بیٹوں میں سے عمر بن محمد السبیل بھی بڑے عالم اور جید قاری تھے، اور وہ بھی ۱۴۱۳ھ سے ۱۴۲۲ھ تک مسجد حرام کے امام رہ چکےہیں،عمر بن محمدالسبیل والد محترم کی حیات میں ہی وفات پاگئے اور ۱؍ محرم ۱۴۲۳ھ کو مالک حقیقی سے جاملے۔ مسجد حرام میں والد محترم ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ،اسی طرح آپ کے دیگر فرزندان: عبد العزیز ، عبد الملک اور عبد اللہ بھی مختلف مختلف سرکاری منصبوں پر فائز رہے ہیں اور تاحال فائز ہیں۔
آپ نے اپنی تحریر کو بھی قرآن وسنت کی اشاعت اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کا ذریعہ بنانا اور کئی اہم موضوعات پر کتابیں ورسائل تحریر فرماکر امت کو علمی تحفہ عطا فرمایا۔ آپ کی چند تصانیف یہ ہیں:
(۱) رسالة في بيان حق الراعي والرعية
(۲) رسالة في حكم الاستعانة بغير المسلمين في الجهاد
(۳) رسالة في حد السرقة والخط المشير إلى الحجر الأسود ومدى مشروعيته
(۴) دعوة المصطفى صلى الله عليه وسلم
(۵) فتاوى ورسائل مختارة
(۶) حكم التجنس بجنسية دولة غير إسلامية
(۷) ديوان شعر
اللہ آپ کو نبیﷺ کا جوار اور جنت الفردس میں اعلی مقام نصیب فرمائے اورآپ کےپسماندگان کو صبر جمیل اور امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔
Login Required to interact.

