مفتی محمد عارف باللہ قاسمی
موجودہ دور کو اگر "سائنس کا دور” کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، ٹیکنالوجی، طب اور کائنات کی تفہیم میں انسان نے جو ترقی کی ہے وہ حیران کن ہے۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ ساتھ ایک فکری مغالطہ بھی پروان چڑھا ہے جسے فلسفے کی دنیا میں "سائنٹزم” (Scientism) کہا جاتا ہے، اس لئے سائنس اور سائنٹزم کے مابین فرق کو سمجھنا آج کے ہر صاحبِ علم کے لیے ضروری ہے، کیونکہ ایک "روشنی” ہے اور دوسرا اس روشنی کو "خدا” بنا لینا ہے۔
سائنس کیا ہے؟
سائنس لاطینی لفظ Scientia سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے "جاننا”۔ اصطلاحی مفہوم میں سائنس فطرت کے مطالعے کا ایک مخصوص طریقہ کار (Methodology) ہے۔ سائنس کی بنیاد مشاہدے (Observation)، تجربے (Experiment) اور تکرار (Repetition) پر ہے۔ سائنس کا تعلق "طبعی کائنات” (Physical World) سے ہے۔ یہ مادی دنیا کے حقائق، قوانینِ فطرت اور "کیسے” (How) کے سوالات کا جواب دیتی ہے۔درحقیقت سائنس علم حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، یہ بذاتِ خود کوئی عقیدہ نہیں ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ پانی کا فارمولا کیا ہے یا کششِ ثقل کیسے کام کرتی ہے، وغیرہ وغیرہ
سائنٹزم کیا ہے؟ (ایک نظریاتی عقیدہ)
دوسری طرف "سائنٹزم” سائنس نہیں ہے، بلکہ سائنس کے بارے میں ایک فلسفیانہ دعویٰ ہے، یہ وہ نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ "حقیقی علم صرف وہی ہے جو سائنسی طریقے سے ثابت ہو سکے۔”سائنٹزم کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ سائنس ہی حقیقت تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے اور جو چیز سائنس کے دائرے (تجربہ گاہ) میں نہیں آ سکتی (جیسے اخلاقیات، جمالیات، مابعد الطبیعیات، یا خدا کا وجود)، وہ یا تو سرے سے موجود نہیں یا پھر وہ "علم” کہلانے کی مستحق نہیں۔
سائنس اور سائنٹزم کا تقابلی جائزہ
ان دونوں کے فرق کو ذیل کے نکات سے بہتر سمجھا جا سکتا ہے:
1. "کیسے” بمقابلہ "کیوں”سائنس یہ بتاتی ہے کہ کائنات کیسے وجود میں آئی مثلاً سائنس کی نظر میں بگ بینگ تھیوری، جو کہ ایک میکانکی عمل کی وضاحت ہے۔سائنٹزم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ چونکہ ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ کائنات کیسے بنی، لہذا اس کے پیچھے کوئی خالق نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مقصد ہے۔ یہ "کیوں” (Purpose) کا انکار ہے۔
2. اخلاقیات کا مسئلہ (The Moral Ought)سائنس کی سب سے بڑی محدودیت یہ ہے کہ یہ "اقدار” (Values) طے نہیں کر سکتی۔مثال کے طور پر سائنس آپ کو یہ بتا سکتی ہے کہ فلاں زہریلی کیمیکل کو کیسے بنایا جائے اور اس سے کتنی تباہی ہوگی۔ لیکن سائنس آپ کو یہ نہیں بتا سکتی کہ "کیا اس کا استعمال اخلاقی طور پر درست ہے یا غلط؟”سائنٹزم یہاں ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ اچھائی، برائی، انصاف اور رحم جیسے جذبات کو مائیکروسکوپ کے نیچے رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا، لیکن یہ انسانی زندگی کی اہم ترین حقیقتیں ہیں۔
3. مابعد الطبیعیات (Metaphysics)سائنس کا دائرہ طبعی (Physical) ہے۔ خدا، روح، فرشتوں یا آخرت کا تعلق مابعد الطبیعیات (Metaphysical) سے ہے۔ ایک عقلمند سائنسدان کہے گا: "میرا آلہ (سائنس) ان چیزوں کو ماپنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے میں ان پر سائنسی رائے نہیں دے سکتا۔”ایک سائنٹزم کا شکار شخص کہے گا: "چونکہ میرا آلہ انہیں ماپ نہیں سکتا، لہذا ان کا وجود ہی نہیں ہے۔”یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ماہی گیر اپنے جال کے سوراخوں سے چھوٹی مچھلیوں کو نہ پکڑ سکے اور دعویٰ کرے کہ سمندر میں چھوٹی مچھلیوں کا وجود ہی نہیں ہے۔
سائنٹزم کا منطقی تضاد (Self-Refuting)
فلسفیانہ طور پر سائنٹزم کا سب سے بڑا کمزور پہلو یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو ہی غلط ثابت کر دیتا ہے۔سائنٹزم کا دعویٰ ہے کہ "صرف وہی بات سچ ہے جو سائنسی تجربے سے ثابت ہو سکے۔”اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جملہ خود سائنسی تجربے سے ثابت ہے؟ کیا آپ لیبارٹری میں جا کر یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ "صرف سائنس ہی سچ ہے”؟ یقیناً نہیں۔ یہ ایک فلسفیانہ بیان ہے، سائنسی نہیں۔ لہذا، سائنٹزم کا بنیادی دعویٰ خود اپنے ہی اصول پر پورا نہیں اترتا۔
خلاصہ تحریر یہ ہے کہ سائنس انسانیت کے لیے اللہ کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس نے ہماری زندگیوں کو سہل بنایا ہے اور کائنات کی نشانیوں کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔ ہمیں سائنس کی قدر کرنی چاہیے اور اس میدان میں ترقی کرنی چاہیے۔ لیکن یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ اسلام سائنس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، مگر اسے مطلق حقیقت نہیں مانتا۔سائنس سے خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی اس "آلے” (Tool) کو "بت” (Idol) بنا لیتا ہے۔ جب یہ سمجھتا ہے کہ انسان صرف گوشت پوست کا مجموعہ ہے اور کائنات محض ایک حادثہ۔ یہ "تخفیف پسندی” (Reductionism) انسانی شرف اور زندگی کے مقصد کو ختم کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ علم کے کئی ذرائع ہیں:
حواس اور تجربہ: (جس سے سائنس بنتی ہے)۔
عقل و استدلال: (جس سے فلسفیانہ اور ریاضیاتی حقائق ثابت ہوتے ہیں)۔
وجدان اور وحی: (جو ہمیں خالق، مقصدِ حیات اور اخلاقیات کا علم دیتے ہیں)۔
ایک متوازن انسان ان تمام ذرائع سے استفادہ کرتا ہے ان کے حدود اور دائرہ کار کو سمجھتا ہے وہ یہ پیش نظر رکھتا ہے کہ عقل وحواس کی ایک حد ہے، تجربے کی ایک سرحد ہے اور وحی ایک اعلی رہنمائی ہے، اور اسی کے مطابق وہ ان ذرائع سے علم لیتا ہے اور کسی ایک کو دوسرے پر مسلط کر کے حقیقت کا انکار نہیں کرتا ہے۔

