ہندو مذہب اور عقیدۂ توحید

شمع فروزاں
شمع فروزاں
فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی
صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
آر ایس ایس ہندو احیاء پرستی کی دعوت دینی والی قدیم تنظیم ہے، جس پر سو سال کا عرصہ گزرنے والا ہے، یہ پوری طرح ’’ ہٹلر‘‘ کی سوچ پر مبنی ہے، یعنی اپنے مقصد کو ہر قیمت پر حاصل کرنا، اس کے لئے ہر طرح کے ظلم کو روا رکھنا اور موقع وسہولت کے لحاظ سے حکمتِ عملی اختیار کرنا، وہ انگریزوں کے دور میں ان کی مدد کرتی رہی اور بار بار معافی مانگ کر اپنے آپ کو جیل سے بچانے کی کوشش کرتی رہے، اور آج اپنے آپ کو سب سے بڑی دیش بھکت تنظیم کہتی ہے۔
موجودہ وقت میں آر ایس ایس کے موجودہ سر سنچالک جناب موہن بھاگوت صاحب ہیں، جو کم بولتے ہیں اور کافی تول کر بولتے ہیں؛ لیکن افسوس کہ ان کی بات میں بہت زیادہ تضاد بھی ہوتا ہے، صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اصل نظریہ تو وہی ہے، جو ہندوتوا کا ہے، جس کا بنیادی عنصر اقلیتوں کے بارے میں نفرت اور تشدد ہے؛ لیکن وہ اپنی بات کو گُھما پِھرا کر کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ بہت سی دفعہ سادہ لوح مسلمان دھوکہ کھا جاتے ہیں، اس کا ایک نمونہ ان کی وہ گفتگو ہے، جو انھوں نے آر ایس ایس کے سو سال مکمل ہونے پر کی ہے، انھوں نے بعض ایسے جملے بھی کہے، ، جو مسلمانوں کے لئے خوش کن ہیں، جیسے یہ کہ ’’ مسلمان اس ملک سے ختم ہونے والے نہیں ہیں، وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ اس سے پہلے انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں سبھی کا ڈی این اے ایک ہی ہے؛ مگر اس کے ساتھ ساتھ کاشی اور متھرا کا دعویٰ بھی ان کی زبان پر رہتا ہے، پہلے تو وہ کہتے تھے کہ ہندو ایک کلچر ہے، مذہب نہیں، ہندوستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص ہندو ہے؛ لیکن اس بار انھوں نے جو باتیں کہیں اس میں ایک یہ بھی ہے کہ جو لوگ خدا کو ایک مانتے ہیں، وہ ہندو نہیں ہو سکتے، گویا عقیدۂ توحید اور ہندو مذہب دو متضاد چیزیں ہیں، اگرچہ کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ’’ ہندو‘‘ کہلانے کا کوئی شوق نہیں ہے؛ بلکہ وہ اس کو پسند بھی نہیں کریں گے؛ لیکن خود ہندو بھائیوں کو سمجھنا چاہئے کہ عقیدۂ توحید کی اہمیت کیا ہے؟ اور اُن کے مذہب میں توحید کا تصور موجود ہے یا نہیں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ خود ہندو مذہب میں بھی توحید کا تصور موجود ہے، اور ویدوں کے بعض اشلوک تو اتنے واضح ہیں کہ گویا قرآن مجید کا ترجمہ ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ تو بس وہی ایک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ کھلی ہوئی اور چھپی ہوئی ہر بات کو جانتا ہے (حشر: ۲۲) اور رِگ وید میں ہے ۔’’ جو ایک ہے، انسان کو دیکھنے والا ہے، اسی کی تعریف کرو‘‘ ۔( رِگ وید۱۶: ۴۵- ۶) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قل ھو اللہ احد: کہہ دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے  (اخلاص:۱)اتھروید میں ہے: وہ ایشور ایک ہے اور حقیقت میں وہ ایک ہی ہے‘‘ (اتھروید: ۱۲:۴-۱۴)اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو: أن لا تعبدوا الا اللہ (ھود: ۲)اور رِگ وید میں ہے: اے لوگو! پرمیشور کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو (رِگ وید: ۱:۱:۸)
یہ اور اس طرح کی بہت سی تصریحات ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مذہب کی حقیقی تعلیمات توحید پر مبنی ہیں؛ مگر جیسے بہت سی قوموں نے اپنے مذہب کی حقیقی تعلیمات سے منھ موڑ لیا، ہندو مذہب کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے؛ اس لئے انھوں نے ایک کے بجائے سیکڑوں بلکہ کروڑوں خدا گڑھ لئے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندو شمار کئے جانے والے کئی فرقے ایسے ہیں، جو شرک وبت پرستی کے قائل نہیں ہیں، ان میں سر فہرست ’’ آریہ سماج‘‘ کے لوگ ہیں، جو کھل کر بت پرستی کی مخالفت کرتے ہیں اور مورتی پوجا کو تسلیم نہیں کرتے، پنڈت دیانند سرسوتی نے اس بارے میں بہت تفصیل سے لکھا ہے اور اپنے ہاتھوں تراشے ہوئے دیویوں دیوتاؤں کے بارے میں اتنے سخت الفاظ لکھے ہیں کہ مسلمان علماء نے بھی کبھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے، اسی تحریک کے داعیوں میں سوامی سردھانند اور لالہ لاجپت رائے ہیں۔
اسی طرح برہمو سماج (Brahimo Samaj ) ہے، جس کی بنیاد ۱۸۲۸ء میں راجہ رام موہن نے رکھی، اور اس تحریک میں ٹیگور اور کشیپ چندر سین جیسی شخصیتیں شامل ہیں، ہندو سماج میں بت پرستی اور ذات پات کی تحریک کے خلاف اٹھنے والی اہم تحریکوں میں پندرہویں صدی میں ’’سنت کبیر ‘‘ کے ذریعہ وجود میں آنے والی ’’کبیر پنت‘‘  تحریک بھی ہے، یہ گروہ مورتی پوجا اور ذات پات کے خلاف تھا، اس میں بھی بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں۔
اور آج بھی اس کے لاکھوں پیروکار موجود ہیں، ہندو قوم میں جن لوگوں نے مورتی پوجا کی شدت سے مخالفت کی، ان میں ایک اہم نام ’’لنگایت ‘‘ فرقہ ہے، جس کی بنیاد بارہویں صدی میں ‘‘ بساونّا‘‘ نے رکھی، اس کا اثر زیادہ تر کرناٹک میں رہا، اور آج بھی کروڑوں کی تعداد میں اس کے متبعین موجود ہیں، پندرہویں ، سولہویں صدی میں روی داس نے عقیدۂ توحید کی تائید اور مورتی پوجا کی مخالفت میں ایک گروہ کی بنیاد رکھی، جس کو ہندوستان کے وسطی علاقہ اور پنجاب میں قبولیت حاصل ہوئی اور آج بھی اس کے ماننے والوں کی ایک معتد بہ تعداد موجود ہے؛ اس لئے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہندو ہونے کے لئے بت پرستی ضروری ہے۔
اسی طرح سکھ، جین اور بودھ جن کو ملک کے دستور میں زبردستی ہندو قرار دے دیا گیا ہے، یہ سبھی حضرات عقیدۂ توحید کے قائل تھے اور بت پرستی کو درست نہیں سمجھتے تھے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندو مذہبی رہنما نعروں میں کھو جانے کے بجائے حقیقت پسندی کے ساتھ غور کریں اور اپنی کتابوں میں لکھی ہوئی سچائی کو قبول کریں تو یہ بات ان کے لئے دنیا میں بھی بہتر ہوگی اور آخرت میں بھی۔
اسلام کا تصور اس سلسلہ میں بالکل واضح ہے، اور اس کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اس کائنات کو ایک ذات نے پیدا کیا ہے، اور وہی خدا ہے، وہ ایک ہے، اپنی صفات میں بے مثال ہے، اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی قدرت میں ہے، کوئی جاندار یا پودا یا کوئی اور چیز نہ اس کے فیصلے کے بغیر پیدا ہوتی ہے اور نہ اس میں اس کے حکم کے بغیر کوئی تبدیلی آتی ہے، مثلاََ انسان ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، پھر بچپن سے جوانی تک کا اور جوانی سے بوڑھاپے تک کا سفرطے کرتا ہے اور آخر میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، یہ جتنے واقعات پیش آتے ہین اور جتنی تبدیلیاں ہوتی ہیں، وہ اللہ ہی کے حکم سے ہوتی ہیں، اسی کو ’’ عقیدۂ توحید‘‘ کہتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا یقین کرنا۔
عقیدۂ توحید کے مقابلہ میں دو غلط نظریات دنیا میں پہلے بھی رہے ہیں اور آج بھی پائے جاتے ہیں، ایک: خدا کا انکار، یعنی یہ کہنا کہ کوئی خدا ہے ہی نہیں، دنیا اپنے آپ پیدا ہوئی ہے اور اپنے آپ چل رہی ہے، یہ بات دن رات کے مشاہدہ کے خلاف ہے، جو بھی چھوٹی بڑی چیز دنیا میں وجود میں آتی ہے، وہ کسی بنانے والے کے ذریعہ وجود میں آتی ہے، ہمارا دور سائنسی ترقی کے عروج وکمال کا دور ہے، ہر شعبۂ زندگی میں نئی نئی اور حیرت انگیز چیزیں ایجاد ہو رہی ہیں؛ لیکن تاریخ کے صفحات نے ان لوگوں کے نام بھی محفوظ کئے ہیں ، جن کے سر اُن کو ایجاد کرنے کا سہرا ہے، کیا ہزاروں لاکھوں ایجادات میں ایک چیز بھی ایسی ہے، جو بغیر کسی موجد کے خود بہ خود وجود میں آگئی ہو؟ اس لئے خدا کو ماننا عقل وفطرت کا تقاضہ ہے اور یہ بات ناممکن ہے کہ اتنی منظم اور آپس میں مربوط کائنات کسی منتظم کے بغیر چل رہی ہو۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خدا ہے؛ مگر کئی، اتنی بڑی کائنات کو چلانے کے لئے ان کے خیال میں ایک خدا کافی نہیں ہو سکتا، بعض قومیں دو خدا کی قائل ہیں اور بعض تین کی، اور ہندو برادران وطن کے یہاں تو خداؤں کی تعداد تین کروڑ سے بھی متجاوز ہے، روزی کے لئے الگ خدا ہے، علم کے لئے الگ خدا ہے، طاقت کے لئے الگ خدا ہے، فائدہ پہنچانے کے لئے الگ خدا ہے اور نقصان پہنچانے کے لئے الگ، پھر جو قومیں شرک کرتی ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے خیال کے مطابق خدا کو بناتی ہیں اور مورتیوں کی پوجا کرتی ہیں، ایسی چیزوں کو معبود مانتی ہے، جن میں ایک مکھی کو بھی ہٹانے کی صلاحیت نہیں ہے، ظاہر ہے کہ یہ تصور پوری طرح عقل کے خلاف ہے، ایک ملک میں دو فرمانروا ہو جائیں تو حکومت نہیں چل سکتی، تو خداؤں کی اتنی بڑی فوج مل کر کیسے کائنات کے نظام کو چلا سکتی ہے؛ اس لئے آج تک خدا کے ساتھ کئی شریکوں کے وجود پر کوئی دلیل پیش نہیں کی جا سکی، خدا کے لئے ماں، باپ، بیوی، بچوں کو ماننا بھی شرک ہی کی صورت ہے؛ کیوں کہ جس کا باپ ہو، شوہر ہو یا اولاد ہو، وہ اولاد کا، بیوی کا، ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے، اور خدا کی ذات وہ ہے، جو ہر طرح کی ضرورت سے بالاتر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عقیدۂ توحید عقل، فطرت اور تمام مذہبی صحائف کے نزدیک متفق علیہ اور مسلّم تصور ہے، اور اسی پر قائم رہنے میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے، لاکھوں درودو سلام ہو ہم سب کے آقا ومولا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کہ آپ نے ہمیں دین کا ایک ایسا واضح تصور دیا کہ جب دوسرے مذاہب کو دیکھتے ہیں تو بے حد شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسروں کی بے عقلی پر ہنسی آتی ہے۔
Login Required to interact.