اسلام کی مقدس شریعت میں اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ عمدہ سلوک ، احسانات اور ہرقسم کی مراعات دین کا ایک جزء ہے ، اور شریعت نہیں چاہتی کہ اس دینی اخوت اور محبت کا سلسلہ موت کی وجہ سے منقطع ہوجائے، اسی لئے نبی اکرم ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ جب کوئی مسلمان دنیا سے انتقال کرتا تو اس کے ساتھ بہت احسان کا معاملہ کرتے اور جوچیزیں اس کے لئے قبر اور قیامت میں مفید ہوتیں ان کی کوشش کرتے اور اس کے اعزہ واقارب کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتے، اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ مرنے والوں کے حقوق کی رعایت اور ان کااحترام کریں اور ان کے بارے میں ہماری مقدس شریعت نے جو تعلیم دی ہے اس کا مکمل خیال رکھیں؛ کیونکہ ہر ایک کو مرنا ہے ، اللہ عزوجل کا ارشادہے:
’’ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘
اس قرآنی آیت کے ذریعہ اللہ نےیہ اعلان کردیا ہے کہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ کو ئی اس سےبچنے والا نہیں ہے ، ہر ایک کی’’ اجل‘‘ متعین ہے ،اس مقررہ وقت کوایک پل کے لئے بھی آگے پیچھے نہیں کیا جاسکتا، اس کے آتے ہی ہر ایک کو موت کے حوالے ہونا ہے۔
انتقال کے وقت کے آداب
جب کسی مریض پر موت کی علامتیں ظاہر ہونے لگیںتو مسنون ہے کہ اسے داہنی کروٹ پر اس طرح لٹادیا جائے کہ چہرہ قبلہ کی طرف ،سر شمال (North)کی جانب اور پاؤں جنوب(South) کی جانب ہو ۔البتہ اس طرح چت لٹانا بھی جائز ہےکہ چہرہ اور پیر قبلہ کی طرف ہو ں ، واضح رہے کہ یہ سب صورتیں اس وقت مسنون ومطلوب ہیں جب کہ مریض کو تکلیف نہ ہو ، اگراسے اس سے تکلیف ہو تو جس طرح اس کو آرام ملتا ہو اسی طرح اسے لیٹے رہنے دیا جائے۔(مستدرک حاکم ، ہدایہ )
مرنے والے کوکلمۂ طیبہ یا کلمۂ شہادت کی تلقین کرنی چاہئے ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے پاس لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ یا اَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ ہلکی اونچی آوازمیں پڑھنے کا اہتمام کیا جائے ، تاکہ سن کر وہ بھی اسے پڑھ لے، البتہ اسے پڑھنے کا حکم نہ دیا جائے؛ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تکلیف کی شدت کی وجہ سے اس کی زبان سے انکار نکل جائے،نیز باربار تلقین نہ کی جائے، اگر مرنے والے نے ایک بار بھی کلمہ پڑھ لیا تو کافی ہے،رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
مَنْ كَانَ آخِرُ كَلامِهِ لَا إلٰهَ إلَّا اللّهُ دَخَلَ الجَنَّةَ(سنن ابی داؤد:۳۱۱۶)
’’ جس کی زبان سے آخری کلمہ لاالہ الااللہ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔
نیز اس وقت اس کے پاس سُوْرَۂ يٰسۗ کی تلاوت بھی کرنی چاہئے، اس سے جان نکلنے کی تکلیف سے نجات ملتی ہے۔(مسند احمد : ۱۶۹۶۹،البحر الرائق: ۲؍۱۸۴)
اس وقت اس مریض کے پاس کوئی خوشبودار چیز رکھ دینی چاہئے یا عود وغیر جلادینا چاہئے۔(ہدایہ:البحر الرائق: ۲؍۱۸۴، البنایۃ : ۳؍۱۷۸)
انتقال کے بعد کےآداب واحکام
جب روح پرواز کرجائےتومیت کوچت لٹا کر آنکھیں نہایت نرمی کے ساتھ بند کردی جائیں اور اس کا منہ کسی پٹی سے اس طرح بند کر دیا جائے کہ وہ پٹی ٹھوڑی کے نیچے رکھی جائے اور سر پر لے جاکر اسے باندھ دیا جائے، نیز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ کو بھی نرمی کے ساتھ سیدھا کردیا جائے، آنکھیں بند کرنے کے وقت یہ دعا پڑھنی چاہئے :
بِسْمِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَللّٰهُمَّ يَسِّرْ عَلَيْهِ اَمْرَهُ وَسَهِّلْ عَلَيْهِ مَا بَعْدَهُ وَاَسْعِدْهُ بِلِقَائِكَ وَاجْعَلْ مَا خَرَجَ اِلَيْهِ خَيْرًا مِّمَّا خَرَجَ عَنْهُ (فتاوی ہندیہ: ۱؍۱۵۷)
’’اللہ کے نام سے اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر میں اس کی آنکھیں بند کررہا ہوں ، اے اللہ اس پر اس کے معاملے کو آسان فرما اور بعد کے حالات کو اس کے لئے آسان بنادے، اپنی ملاقات کی سعادت نصیب فرما اور اس کی آخرت کو اس کی دنیا سے بہتر بنادے‘‘۔
میت اگر زمین پر ہے تو اسے کسی اونچی چیز (چارپائی، تخت وغیرہ) پر لٹا کر اس کے اوپر پاک وصاف چادر ڈال دی جائے۔(فتاوی ہندیہ : ۱؍۱۵۷)
انتقال کے بعد غسل سے پہلے میت کے پاس قرآن کریم کی تلاوت کرنا مکروہ ہے، نیز میت کے پاس رونے اور چیخ وپکار کرنے سے مکمل پرہیز کرنی چاہئے ؛ کیونکہ اس سے میت کو تکلیف ہوتی ہے ۔(بخاری : ۱۲۸۶، فتاوی ہندیہ: ۱؍۱۵۷)
انتقال کے بعد تجہیز وتکفین اور تدفین میں جلدی کرنی چاہئے بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہئے؛ کیونکہ شرعی عذر یا قانونی مجبوری کے بغیر تاخیر کرنا خواہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو مکروہ ہے، احادیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ انتقال کے بعد تجہیز وتدفین میں جلدی کی جائے۔(بخاری:۱۳۱۵)
میت کے معاملات اور قرض وغیرہ کی ادائیگی میں بھی جلدی کرنی چاہئے، تاکہ دنیا سے وہ اس حال میں جائے کہ اس کے ذمہ کسی کا حق باقی نہ ہواور اسے اخروی سکون حاصل ہو۔(سنن ترمذی: ۱۰۹۷)
میت کے اہل وعیال اورمتعلقین سے تعزیت کرنا ( یعنی ان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا ) مستحب ہے، تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے، ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعا یہ ہے:
إنَّ لِلّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَىٰ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ (صحیح بخاری: ۱۲۸۴)
’’اللہ تعالیٰ نے جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا ہے اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے مقررہ وقت پر ہی ہوتی ہے، اس لیے صبر کریں اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھیں ‘‘۔
میت کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کران کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے، میت کے اہل وعیال کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں ہےکہ میت کے گھر میں کھانا پکانا ممنوع ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ غم و حزن اور تجہیز و تکفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا، لہٰذا اگر میت کے گھر والے خود اپنے لیے اسی دن کھانا بنائیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔(سنن ترمذی : ۹۹۸)
میت کو غسل دینے کا طریقہ اور اس کے احکام
میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے ،غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے میت کو ایسی چار پائی پر رکھا جائے جو ذرا اونچی ہو اوراس کو کسی خوشبودار چیز سے طاق عدد میں دھونی دی گئی ہو،غسل کے وقت بہتر ہے کہ میت کو قبلہ رو چت لٹایا جائے، لیکن یہ اس وقت ہے جب کہ جگہ میں اس کی گنجائش ہو، بصورت دیگر جس طرح سہولت ہو رکھ سکتے ہیں۔
سب سے پہلے میت کا ستر ناف سے لے کر گھٹنے تک ڈھانک دیا جائے ، پھراس کے کپڑے اتارے جائیں ، پھرغسل دینے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا وغیرہ لپیٹ کر اسے پانی سے تر کرکے کپڑے کے اندر سے میت کواستنجا کرائے، اور پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرایا جائے ، لیکن نہ کلی کرائی جائے اور نہ ناک میں پانی ڈالا جائے، بلکہ پانی سے ترکپڑے سے اس کے منہ اور ناک کو پونچھا جائے، اورپھر اس پر بیرکے پتے یا اُشنان ڈال کر نیم گرم کیا ہوا پانی ڈالا جائے، ہاں اگر بیر کے پتے یا اُشنان نہ مل پائے تو خالص پانی سے غسل دیا جائے، صفائی کے لیے صابون یا اس جیسی کوئی دوسری چیز بھی استعمال کی جائے تو بہتر ہے اور اس کے سر اور داڑھی کو خطمی یا صابون سے دھویا جائے، پھر اس کو بائیں پہلو پر لٹا کر اس پر پانی ڈالا جائے یہاں تک کہ پانی اس کے نیچے تک پہنچ جائے ، پھر دائیں پہلو پر لٹاکر اس پر اس طرح پانی بہایا جائے کہ پانی نیچے تک پہنچ جائے، پھر اسے سہارا دےکر اور ٹیک لگا کر بیٹھایا جائے اور اس کے پیٹ کو نرمی سے دبایا جائے، اگر اس کی اگلی یا پچھلی راہ سے کچھ نکلے تواسے دھویا جائے، لیکن وضو اورغسل کو لوٹانے کی ضرورت نہیں،پھر سارے بدن کو خشک تولیہ وغیرہ سے صاف کردیا جائے ، اور آخر میں میت کے بدن پرکافور یاکوئی اور خوشبو مل دیا جائے، اس کے بعد کفن پہنایا جائے۔(فتاوی ہندیہ : ۱؍۱۵۸)
میت کو غسل دینے میں پردے کا بھر پور خیال رکھنا چاہئے ، جس جگہ غسل دیا جارہا ہو اس جگہ کو کسی کپڑے وغیرہ سے گھیر دینا چاہئے ، اور اس کے اندر صرف وہی لوگ ہو ںجو غسل دے رہے ہوں یا غسل دینے میں ساتھ دے رہے ہوں۔(در مختار علی ہامش الرد:۲؍۲۳۹)
میت مرد کو مرد اور میت عورت کو عورتیں غسل دیں۔(فتاوی ہندیہ:۱؍۱۶۰)
کفن اور اس کا طریقہ ؟
غسل کی طرح میت کو کفن دینا بھی فرض کفایہ ہے ۔
مرد کے کفن میں تین کپڑے مسنون ہیں : (۱) ازاریعنی تہہ بند (۲) قمیص یعنی کرتا(۳)لفافہ یعنی چادر اور عورت کے کفن میں پانچ کپڑے مسنون ہیں: ( ۱) ازار (۲)قمیص(۳)سربند( دوپٹہ) (۴) سینہ بند (۵) لفافہ۔
مرد کو کفنانے کا طریقہ یہ ہے کہ چارپائی پر پہلے لفافہ (چادر)بچھا کر اس پر ازار (تہہ بند) بچھا دیں، پھر کرتہ (قمیص) کا نچلا نصف حصہ بچھائیں اور اوپر کا باقی حصہ سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دیں، پھر میّت کو[ ستر کا خیال رکھتے ہوئے ]غسل کے تختے سے آہستہ سے اٹھا کر اس بچھے ہوئے کفن پر لٹا دیں اور قمیص کا جو نصف حصہ سرہانے کی طرف رکھا تھا، اُس کو سر کی طرف سے اس طرح الٹ دیں کہ قمیص کا سوراخ (گریبان) گلے میں آجائے اورپھر اسے پیروں کی طرف بڑھا دیں، جب اس طرح قمیص(کرتہ) پہنا چکیں تو غسل کے بعد جو تہہ بند میّت کے بدن پر ڈالا گیا تھا وہ نکال دیں، اور میت کے سَر اور داڑھی پر عطر وغیرہ کوئی خوشبو لگا دیں، پھر پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر (یعنی جن اعضاء پر آدمی سجدہ کرتا ہے) کافور مل دیں،اس کے بعد ازار کا بایاں پلّہ (کنارہ) میّت کے اوپر لپیٹ دیں، پھر دایاں لپیٹیں، یعنی بایاں پلّہ نیچے رہے اور دایاں اوپر، پھر لفافہ اسی طرح لپیٹیں کہ بایاں پلّہ نیچے اور دایاں اوپر رہے، پھر کپڑے کی دھجی (کتر) لے کر کفن کو سر اور پاؤں کی طرف سے باندھ دیں، اور بیچ میں سے کمر کے نیچے بھی ایک دھجی (کتر) نکال کر باندھ دیں، تاکہ ہواسے یا ہلنے جلنے سے کفن نہ کھلے۔
عورت کو کفنانے کا طریقہ کافور ملنے تک وہی ہے جو مردوں کا ہے ، اس کے بعد سر کے بالوں کے دو حصے کر کے کرتے کے اوپر سینے پر ڈال دیں، ایک حصہ دائیں جانب اور ایک حصہ بائیں جانب، اس کے بعد سر پر اور بالوں پر سر بند ڈال دیں، اس کو نہ باندھیں اور نہ ہی لپیٹیں، اس کے بعد ازار لپیٹ دیں، پہلے بائیں طرف لپیٹیں پھر دائیں طرف، اس کے بعد سینہ بند باندھ دیں، پھر چادر لپیٹیں، پہلے بائیں جانب، پھر دائیں جانب۔ سینہ بند کو سربند کے بعد ازار لپیٹنے سے پہلے باندھنا بھی جائز ہے اور سب کپڑوں سے اوپر باندھنا بھی درست ہے۔(فتاوی ہندیہ : ۱؍۱۵۸)
نابالغ ، پیدائشی مردہ اور ناقص الخلقت بچوں کے کفن ودفن کا حکم
نابالغ بچے اور بچیوں کو بالغ مرد وعورت کی طرح مسنون طریقہ پر غسل دیا جائے گا ، اورکفنایا جائے گا، نیز ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔(ردالمحتار:۲؍۲۲۸)
اگر بچہ مردہ پیدا ہو یعنی پیدائش کے وقت زندگی کی کوئی علامت اس میں موجود نہ ہو، لیکن سارے اعضاء بن چکے ہوں تو ایسے بچے کا حکم یہ ہے کہ اس بچے کو غسل دیا جائے گا اور نام بھی رکھا جائے گا، لیکن باقاعدہ مسنون کفن نہیں دیا جائے گا اور جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ یوں ہی کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے گا۔(حوالہ سابق)
جو حمل قبل ازوقت ساقط ہوجائے اور اس کےاعضاء ناقص ہوں،تو اسے بھی غسل کے بعد کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا۔(ردالمحتار: ۲؍۲۲۸، فتح القدیر:۲؍۱۳۱)
تجہیز وتکفین کی ذمہ داری کس پر ہے؟
تجہیز و تکفین اور تدفین کے اخراجات کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر میت کا ذاتی مال موجود ہوتو اس کے کفن و دفن کا خرچہ اسی میں سے کیا جائے گااور اگر اس کے ترکہ میں مال موجود نہیں تو اس کے یہ اخراجات اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس پر اس کی زندگی میں مرحوم کا خرچہ واجب تھا، بیوی کا کفن دفن شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اگرچہ اس نے ترکہ میں مال چھوڑا ہو۔(رد المحتار:۲؍۲۰۶)
اگر میت کے پسماندگان میں ایسا کوئی شخص نہ ہو جس پر اس کا خرچہ واجب ہوتاہو یا ایسا کوئی فرد موجودتو ہو، لیکن وہ خود اتنا غریب ہو کہ وہ یہ خرچہ برداشت نہ کرسکے تو تکفین وتدفین کی ذمہ داری حکومتِ وقت کی ہے، لیکن اگر حکومتِ وقت یہ خرچہ نہیں اُٹھاتی یا ان کے نظم میں ایسی کوئی صورت نہ ہو تو جن مسلمانوں کو اس کی موت کا علم ہو، ان پر اس کی تکفین و تدفین کا خرچہ واجب ہے، اگر جاننے والے بھی سب غریب ہوں تو پھر وہ عام لوگوں سے چندہ کرکے تجہیز وتکفین اور تدفین کے اخراجات برداشت کریںگے۔(حوالہ سابق)
نماز جنازہ اور اس کے بعد اجتماعی دعا ؟
جب میت کو کفن پہنا چکیں تو اس کی نماز جنازہ ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہئے ، نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ،جو درحقیقت میت کے لئے ارحم الراحمین رب کریم سے دعا اورمغفرت فریادہے،اس لئے جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا قرآن و سنت، صحابہؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور ائمہ مجتہدین ؒسے ثابت نہیں ہے۔
نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہوتی ہیں : پہلی تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا پڑھیں، اس کے بعد تکبیر کہہ کر درود شریف پڑھیں، اس کے بعد تکبیر کہہ کر دعاءِنماز جنازہ پڑھیں، اورچوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیریں،اور واضح رہے کہ صرف پہلی تکبیر میں کانوں تک ہاتھ اٹھانا ہے۔نماز جنازہ کی ایک دعا یہ ہے:
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَه (ابن ماجہ : ۱۴۹۸)
اے اللہ ! بخش دیجئے ہمارے زندوں کو اور مردوں کو، حاضر کو اور غائب کو، چھوٹے کو اور بڑے کو، مرد کو اور عورت کو، یا اللہ آپ ہم میں سے جس کو زندہ رکھیں توا سلام پر اور موت دیں تو ایمان پر، اے اللہ ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ فرمایئے اور اس کے بعد گمراہ نہ ہونے دیجئے۔
اوراگر میت نابالغ ہو تو لڑکے کے لیے یہ دعا پڑھیں :
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً وَّ اجْعَلْهُ لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهُ لَنَاشَافِعًا وَّمُشَفَّعًا۔
’’اے اللہ! اس بچہ کو ہمارے لیے منزل پر آگے پہنچنے والا بنا، اسے ہمارے لیے باعثِ اجر اور آخرت کا ذخیرہ بنا، اور اسے ہمارے حق میں شفاعت کرنے والا اور مقبول شفاعت بنا۔‘‘
اور نابالغ لڑکی ہو تو اسی دعا کو اس طرح پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهَا لَنَا أَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً۔
’’اے اللہ! اس بچی کو ہمارے لیے منزل پر آگے پہنچنے والی بنا، اسے ہمارے لیے باعثِ اجر اور آخرت کا ذخیرہ بنا، اور اسے ہمارے حق میں شفاعت کرنے والی اور مقبول شفاعت بنا۔‘‘
میت کا چہرہ دیکھنا دکھانا؟
نماز جنازہ سےپہلے میت کا چہرہ دیکھنا دکھانا جائز ہے ،لیکن یہ خیال رہے کہ میت مرد کو غیرمحرم عورتیں نہ دیکھیں اسی طرح میت عورت کو نامحرم مردکے لئے دیکھنا جائز نہیں ہے ، البتہ شوہر بیوی کو دیکھ سکتا ہے ، اور بیوی شوہر کو دیکھ سکتی ہے، اور شوہر اپنی بیوی کو کندھا بھی دے سکتا ہے ، اور ضرورت پڑنے پر قبر میں بھی اتار سکتا ہے ۔(علم الفقہ: ۲۳۳)
نماز جنازہ کے بعد جنازہ پڑھنے کی جگہ پر یا قبر میں رکھنے کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا بہتر نہیں ہے، اس سے پرہیز کرنا چاہئے؛ کیونکہ بسا اوقات میت میں تغیر آجاتا ہے، جس میں ایک مسلمان کی ہتکِ عزت وہتک ِحرمت لازم آجاتی ہے ، البتہ اگر اتفاقا کسی قریبی عزیزکے اسی وقت آنے کی وجہ سے چہرہ دکھایا جائے جس کی بنا پر دفن میں تاخیر نہ ہوتو اس کی گنجائش ہے۔(کتاب النوازل: ۶؍۶۳)
میت کو بوسہ دینا
میت کو غسل سے پہلے بوسہ دینا جائز ہے اور غسل کے بعدبھی ؛ رسول اللہﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو غسل سے پہلے بوسہ دیا تھا۔واضح رہے کہ شوہر کے انتقال کی صورت میں چونکہ عدت تک نکاح برقرار رہتا ہے اور بیوی عدت پوری کرتی ہے اس لیے بیوی کے لیے جائز ہے کہ شوہر کے جسم کو چھوئے، اسے غسل دےاور بوسہ بھی دے سکتی ہے، البتہ بیوی کے انتقال کی صورت میں شوہر کے لئے اس بات کی اجازت نہیں ہے۔(درمختار علی ہامش الرد: ۲؍۱۹۸، حاشیۃ الطحاوی : ۵۶۴)
جنازہ کے ساتھ چلنے کے آداب اور ثواب
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے ساتھ چلا یہاں تک کہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور اسکو دفن کرنے میں بھی شریک رہا تو وہ دو قیراط اجر (ثواب) لیکر لوٹتا ہے اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے، اور جو شخص نماز جنازہ میں شریک ہوا مگر تدفین سے پہلے ہی واپس آگیا تو وہ ایک قیراط اجر (ثواب) کے ساتھ لوٹتا ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث نمبر: ۴۷ )
جنازہ کو اس طرح اٹھانا چاہئے کہ میت کا سر آگےہو اور جنازہ کو انتہائی احترام واکرام کے ساتھ تیز قدم لے جانا مسنون ہے مگر اتنی تیزی بھی نہ ہو کہ جنازہ میں حرکت واضطراب ہونے لگے۔(فتاوی ہندیہ : ۱؍۱۶۲)
جنازہ کے ساتھ پیادہ (پیدل) چلنا مستحب ہے ، اوراگر کسی سواری پر ہو تو بھی جنازہ کے پیچھے چلے،جو شخص جنازہ کے پیچھے چلے، اُسے چارپائی کے پورے (چاروں) پائے پکڑنے کی کوشش کرنی چاہئے؛ کیونکہ یہ سنت ہے، جنازہ کو اٹھانے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے چارپائی (تابوت) کا اگلا داہنا پایہ اپنے بائیں شانہ (کندھا) پر رکھ کر کم ازکم دس قدم چلیں، اس کے بعد پچھلا داہنا پایہ بائیں شانہ پررکھ کر دس قدم چلیں ، اس کے بعد اگلا بایاں پایہ داہنے شانہ پراور پھرپچھلا پایاں پایہ داہنے کندھے پر رکھ کر دس قدم چلیں۔ حدیث میں ہےکہ جو شحص جنازہ کو اٹھا کر چالیس قدم چلے اس کے چالیس کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔(فتاوی ہندیہ : ۱؍۱۶۲، تذکرۃ الحفاظ : ۷۸۹، ۸۰۶)
کندھا دینے میں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہماری ذات سے دوسروں کو تکلیف نہ پہونچے اور دوسروں کو بھی موقع ملے، غیر محرم عورت کے جنازہ کو غیر محرم مرد کا کندھا دینا جائز ہے ۔
جنازہ کو لے کر چلتے وقت اونچی آواز میں ذکر یا دعاپسندیدہ نہیں ہے ، روایت میںہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ تین موقعوں پر خاموش رہنے کو پسند فرماتے ہیں: قرآن شریف کی تلاوت کے وقت، دشمن سے مقابلہ (قتال) کے وقت اور جنازے کے پاس ۔(تفسیر ابن کثیر:۲؍۴۱۷، فتاوی ہندیہ ، فتاوی سراجیہ)
قبر کی کھدائی اور تدفین کے آداب
نماز جنازہ سے فراغت کے بعد میت کو دفن کرنے میں جلدی کرنی چاہئے ۔
میت کی قبر کم سے کم اس کے نصف قد کے برابر کھودنی چاہئے،اور افضل یہ ہے کہ اسے بھی زیادہ ہو،اور اعلی درجہ یہ ہے کہ پورے قد کے برابر ہونیز قبر کشادہ ہونی چاہئے۔(المحیط البرہانی : ۲؍۱۹۴، البنایۃ : ۳؍۲۴۶)
میت کو قبر میں قبلہ کی طرف سے اتارنا چاہئے ، اس کی صورت یہ ہے کہ جنازہ کو قبر سے قبلہ کی جانب رکھا جائے ، اور اتارنے والے قبلہ رو کھڑے ہوکر میت کو اٹھا کر قبر میں رکھ دیں۔(فتاوی ہندیۃ: ۱؍۱۶۶)
قبر میں رکھتے وقت بِسْمِ اللہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ کہنا مستحب ہے ،اور میت کو قبر میں داہنے پہلو پرقبلہ رو کردینا مسنون ہے۔(در مختار علی ہامش الرد: ۲؍۲۳۵)
عورت کو قبر میں رکھتے وقت مستحب اور بہتر ہے کہ پردہ کردیا جائے ۔ (درمختار)
میت کو قبر میں رکھنے اور لکڑی وغیرہ سے ڈھک دینے کے بعد اس قبر سے جتنی مٹی نکلی ہے وہ سب اس پر ڈال دینی چاہئے، اور مستحب ہے کہ قبر اونٹ کے کوہان کی طرح ہو اور اس کی بلندی ایک بالشت کے قریب ہو، قبر کا ایک بالشت سے بہت زیادہ بلند کرنا مکروہ تحریمی ہے ، مسلم شریف میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جب قبر کو(بہت) بلند دیکھوتو اسے زمین کے برابر کردو۔(مسلم شریف:۹۶۹)
قبر میں مٹی ڈالتے وقت مستحب ہے کہ سرہانے کی طرف سے ابتدا کی جائے ، اور ہر شخص اپنے دونوں ہاتھوں میں مٹی بھر کر قبر میں ڈالے ، اور پہلی مرتبہ پڑھے: مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ اور دوسری مرتبہ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ اور تیسری مرتبہ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرَیٰ پڑھے۔ (رد المحتار: ۲؍۳۳۷)
مکمل مٹی ڈالنے کے بعد قبر پر پانی چھڑکنا مستحب ہے، تدفین سے فراغت کے بعد قبر کے پاس تھوڑی دیر ٹھہرنا اور میت کے لئے قبر کے سوال وجواب میں ثبات قدمی اور مغفرت کی دعا کرنا مستحب ہے ، اور اس وقت میت کے سرہانے سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیتیں ”الٓمٓ ‘‘ سے ”المُفْلِحُوْنَ “ تک پڑھنا، اور میت کی پائینتی جانب سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ”آمَنَ الرَّسُوْلُ“ سے آخر تک پڑھنا بھی مستحب ہے۔(علم الفقہ)
مرحومین کےلئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کے لئے کوئی دن متعین نہیں ہے، حسب استطاعت وسہولت ا ن کے لئے ایصال ثواب کرتے رہنا چاہئے ، اس کا ثواب ان کو ملتا ہے ، اور موقع بموقع ان کی قبر کی زیارت بھی کرنی چاہئے، زیارت کے وقت ان کے لئے قرآن مجید کی آیات اور سورتیں پڑھ کر ایصا ل ثواب کریں، اور ان کی مغفرت کی دعا کریں ، دعا کرتے وقت قبلہ رو ہونا چاہئے اور یہ زیارت برائے عبرت بھی ہونی چاہئے کہ ایک وقت ہمیں بھی یہاں آنا ہے ۔
قبر کو پختہ بنانے اور اس پر گنبد وغیرہ بنانے سے احادیث میں منع کیا گیا ہے ، نیزقبروں پر چلنا، اس کو روندنا اور اس پر بیٹھنا بھی ممنوع ہے، اس سے مکمل بچنا چاہئے ، قبرستان کو جاتے وقت یہ پڑھ کر تمام مرحومین کو سلام پیش کریں :
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ، اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ۔(سنن ابن ماجہ: ۱۵۴۶)
