مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
—————–
مختلف چیزوں سے دنوں کو منسوب کرنے اور دن منانے کا رواج بڑھتا جارہا ہے ،جن دنوں کو منایا جاتا ہے ان میں ایک دن ’’عید الأم‘‘ (Mother’s Day) بھی ہے ، اسی طرح ماہ جون کے تیسرے اتوار کو’’عید الأب‘‘ (Father’s day) اورجولائی کے چوتھے اتوار کو’’ عید الوالدین‘‘ (Parents’ Day) بھی منانے کا رواج ہے۔
’’عید الأم‘‘ (Mother’s Day) کو اکثر ممالک میں مئی کے مہینے میں مختلف تاریخوں میں منایا جاتا ہے ، مثلا جنوبی افریقا میں مئی کے پہلے اتوار کو، فرانس میں مئی کے آخری اتوار کو اور جاپان اور شمالی امریکہ میں مئی کے دوسرے اتوار کو یہ عید منائی جاتی ہے ، جبکہ بعض ممالک میں اکتوبرمیں اور بعض ممالک میں فروری میں یہ عید منائی جاتی ہے۔اور اب غیرمسلم ممالک کی دیکھا دیکھی مسلم ممالک اور مسلم معاشرہ میں بھی اس کو منانے کا رواج چل پڑا ہے ۔عرب ممالک کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس عید کا تعارف عربوں کے سامنے سب سے پہلے مصطفی اور علی امین نے پیش کیا ،یہ دونوں بھائی تھے، اور یہ دونوں’’ أخبار الیوم الصحیفۃ‘‘ کے ادارہ کے مؤسس تھے۔ ایک ماں کے دردوغم اور بچوں کی جانب سے ان کو دی جانے والی تکلیف کی ایک شکایت پر انہوں نے اپنے کالم میں ایک مضمون لکھا اور اس میں انہوں نے مغرب کو نمونہ بناتے ہوئے ماں کی تکریم وتعظیم کے لئے ایک دن متعین کرنے کی ترغیب دی ،چناں چہ ان کی ترغیب پر سب سے پہلے مصر میں ۲۱؍ مارچ ۱۹۵۶ء میں ’’عید الأم‘‘ منائی گئی،اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا اور رفتہ رفتہ بہت سے عرب ممالک نے اسے قبول کرلیااور وہاں بھی اس کا رواج ہوگیا۔
ان عیدوں میں افراد خانہ جمع ہوتے ہیں اور اولادعید الأم میں اپنی ماں کواور عید الأب میں والدکو پھولوں کا تحفہ پیش کرتی ہے ،اور کھانے پینے کے بعد ماں یا والدکو کیک پیش کیاجاتا ہے۔اور تکریم وتعظیم کے اظہار کے لئے مختلف رسومات انجام دئے جاتے ہیں، اور اس ترقی یافتہ دنیا میں تو بس انٹرنیٹ کے ذریعہ خوبصورت سا کوئی کارڈ ای میل کرکے ماںکی ممتا اور شفقت پدری کو یاد کرلیا جاتا ہے اور اس دن کی مبارک بادی پیش کردی جاتی ہے ۔
درحقیقت مغربی معاشرہ میں ماں باپ کے ساتھ برے سلوک پر پردہ ڈالنے کے لئے اس عید کا اہتمام کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ اس معاشرہ میں ماں باپ کو گھر میں ساتھ رکھنے کامزاج نہیں ہے ، بلکہ حکومت اور رفاہی اداروں کی جانب سے بنائے گئے ’’اولڈہاؤس ‘‘ وغیرہ میں ان کو مقید کردیا جاتا ہے ،جہاںوہ موت وزیست کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں اور جہاں ان کی اولین تمنا یہ ہوتی ہے کہ موت آجائے تاکہ اس دردوکرب کی زندگی سے نجات ملے۔
گویا ان عید وںکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ماں ،باپ کے نام ایک دن مناکر ماں کو اس کی ممتا کے بدلے اور والد کو اس کی شفقت پدری کے بدلے چند پھولوں کی کلیاں اور کیک وغیرہ پیش کرکے ان کی ہمیشہ کی خدمت سے چھٹکارا پالیا جائے،اور ایک دن ان سے اپنائیت ومحبت کا اظہار کرکے ان کا حق ادا کردیا جائے۔حالانکہ ماں پاپ کا مقام اتنا اعلی ہے کہ پوری زندگی کا ہر لمحہ ان کی خدمت گزاری میں گزر جائے پھر بھی ان کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔
اسلام نے ماں اور باپ کے حوالے سے جو جامع تعلیم دی ہے اس کے پیش نظر اسلام میں اس طرح کی عید وںکی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے کہ اس سے ماں باپ کی مسلسل خدمت کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے ،جبکہ اسلام ماں باپ کی مسلسل خدمت کی تعلیم دیتا ہے ،اور ان کے ساتھ کسی وقت کی تخصیص کے بغیر ہر لمحہ حسن وسلوک کا اولاد کو پابند بناتا ہے ،اللہ عزوجل وکا ارشاد ہے:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا 0 وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا 0 (الاسراء : ۲۳۔ ۲۴)
’’تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کر، اور تم اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہونچ جائیںتو ان کو کبھی ’’اف‘‘ (ہوں) بھی مت کہنا، اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا کے انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالاپرورش کیا ہے‘‘
ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، انہوں نے پوچھا پھر کون ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں ،انہوں پھر پوچھاکہ پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تیری ماں،انہوں نے پوچھا کہ پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیراباپ‘‘ (صحیح البخاری:۵۵۱۴)
علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ علامہ ابن بطال ؒنے لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ماں ،باپ کے بالمقابل تین گنازیادہ حسن سلوک اور تکریم کی مستحق ہے ، اس لئے کہ وہ حمل ، زچگی اور دودھ پلانے کی تکلیف تنہابرداشت کرتی ہے اور پھر پرورش وتربیت میں بچہ کے والد کے لئے مددگار بھی بنتی ہے ۔(فتح الباری: ۱۰؍۴۰۲)
ایک صحابی حضرت جاہمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسو ل میں غزوہ میں جانا چاہتا ہوں اور اس کے بارے میں آپ سے مشورہ کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں،آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہاری ماں باحیات ہے؟انہوں کہا : ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:ماں کی خدمت میں ہی لگے رہو، کیونکہ اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔(سنن النسائی:۳۰۵۳)
تو وہ ماں جو والد سے بھی زیادہ عزت وتکریم کی مستحق ہے اور جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے کہ اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے ،ایک دن اسے خوش کرکے اور اس کی خدمت میں تحفہ پیش کرکے اس کا حق کیسے ادا کیا جاسکتا ہے ؟؟!ماںباپ کا حق تو اس طرح اداہوتاہے کہ ان کی حیات کے ہر لمحہ کو خدمت کے ساتھ گزارکر ان کی وفات کے بعد پوری عمر ان کے لئے رحمت ومغفرت کی دعا کی جائے ، جس کی تعلیم اللہ عزوجل نے سورۂ اسراء کی مذکورہ دو آیتوں میں دی ہے۔یہ تومغرب اور مغرب کی تقلید کرنے والوں کا دھوکہ ہے کہ ماںباپ کو پوری زندگی تکلیف میں مبتلا کرکے ان کے لئے ایک دن متعین کردیا ، اور اس طرح والدین کی عزت وکرام کرنے کے دعوایدار بن گئے،اور ماں باپ سے بیزار ی کو گویا انہوں نے انوکھے انداز میں محبت کا نام دے دیا۔
اس لئے مسلمانوں کو اس طرح کی عیدوں سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے، کیونکہ اس طرح کی عیدیں اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں،اور یہ عیدیں غیرمسلموں کی عید یں ہیں، جبکہ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ غیر مسلموں کی عیدوں سے مسلمان خود کو دور رکھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہفتہ اور اتوار کو اکثر وبیشتر یہ کہتے ہوئے روزہ رکھتے تھے:
ہما عیدان لاہل الکتاب فنحن نحب ان نخالفہم (السنن الکبری للنسائی : ۲۷۷۵)
’’یہ دونوں اہل کتاب کی عید کے دن ہیں( جس میں وہ کھاتے پیتے ہیں)اور ہمیں یہ پسند ہے کہ ہم (روزہ رکھ کر) ان کی مخالفت کریں‘‘
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد ہے اسلام کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو غیرمسلموں کے تہوار وںاور ان کی عیدوں سے مکمل دور رہنا چاہئے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جو عجم میں رہتا ہو اور عجمیوں کے ساتھ اس کے’’ نوروز‘‘ اور ان کی عیدیں مناتا ہواور ان کی مشابہت کرتاہو اور اسی حال میں اس کی موت ہوجائے تو قیامت میں اس کا حشر ان ہی لوگوں کے ساتھ ہوگا (سنن کبری بیہقی:باب کراہیۃ الدخول علی اہل الذمہ)
نیز اسلام نے عیدوں کو متعین کررکھا ہے ، اسلام میں سال میں دوعیدیں : عید الفطر اور عیدالاضحی ہیں اور ہفتہ میں اک عید:جمعہ ہے ، اور ان عیدوں کے اعمال بھی شریعت کی جانب سے متعین ہیں، اب کسی عید کے اضافہ کی نہ گنجائش ہے اور نہ ہی یہ جائز ہے ان عیدوں کے علاوہ کسی دن یا تاریخ کو عید کے نام سے موسوم کیا جائے یا اس دن عید کا ماحول پیدا کیا جائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہورد (مسلم : ۳۲۴۳)
’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمار ا عمل نہیں ہے تو وہ عمل مردود(لائق تردید) ہے ‘‘
نیز آپ ﷺ کا ارشادہے:
ایاکم ومحدثات الامور فانہا ضلالۃ (ترمذی : ۲۶۰۰)
’’تم نوپیدا شدہ چیزوں سے بچو کیونکہ یہ گمراہی ہے‘‘
ظاہر ہے کہ عید الام ، یا عید الاب ، یااس طرح کی دیگرعیدیں نہ رسول اللہ ﷺ نے منائی ہے اور نہ ہی آپ کے اصحاب نے اور نہ ہی سلف صالحین نے ،اس لئے یہ عیدیں اور اس طرح کی دیگر عیدیں مثلا’’ عید المیلاد‘‘(Birth day) ’’عید الحب‘‘ (Valentine’s day) ’’نئے سال کی عید‘‘ (New Year’s day) شادی کی سالگرہ (Wedding day) وغیر ہ سب کی سب عیدیں ایسی غیر اسلامی عیدیں ہیں،جنہیں منانے والے اور جن کے موقع پر ایک دوسرے کوبالمشافہ یا بذریعہ خط یا بذریعہ ’’ایس ایم ایس‘‘مبارک بادی دینے والے مسلمان گناہ گار ہوتے ہیں اور اپنی آخرت خراب کرتے ہیں،کیونکہ یہ سب بدعت ہیں اور ان کو منانے میں کفارکی مشابہت ہے جو اسلام میں ممنوع ہے، اس لئے غیر مسلموں کی ان عیدوں سے بچنا اور اپنے معاشرہ سے اس کا رواج ختم کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے تاکہ اسلامی معاشرہ مغرب کے زہر سے پاک وصاف رہ سکے۔

