مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
انسانوں کے جذبات واحساسات کے احترام سے الفت ومحبت پیدا ہوتی ہے ، تعلقات میں استحکام آتا ہے ، اور انسانوں کے درمیان انس وہمدردی اور ربط وتعلق پیدا ہوتا ہے ، اس کے برخلاف جذبات واحساسات کو مجروح کرنے سےقربت دوری میں تبدیل ہوتی ہے، نفرت وکدورت پیدا ہوتی ہے ، دل میں غیظ وغضب شعلہ زن ہوکر آپسی دشمنی پیدا ہوتی ہے ، اور یہ حقیقت ہے کہ محبت وانس کے ماحول میں انسان کی زندگی کے مسائل جتنی آسانی سے حل ہوتے ہیں نفرت ودشمنی کے ماحول میں اتنے ہی مشکل ہوجاتے ہیں، بلکہ دل میں چھپی نفرت ودشمنی بسااوقات انسانی نظام زندگی میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے اور اس کے برے نتائج کا سامنا انسان کو کرنا پڑتا ہے۔
اسی لئے اسلام نے جذبات واحساسات کے احترام کی تعلیم دی ہے اور ایسے آداب سکھائے ہیں جن کو اختیار کرنے سے انسان کسی کے جذبات واحساسات کو مجروح کرنے سے بچ جاتا ہے، اور رواداری وانس کے ذریعہ وہ دشمن کو بھی دوست بنالیتا ہے ۔
ایک مومن کو اسلام نے ایک مومن کا آئینہ بتایا ہے ، یعنی جس طرح آئینہ کسی کی ظاہری خوبی یا برائی کو اس کے سامنے خاموشی سے بیان کردیتا ہے اسی طرح مومن کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے بھائیوں پر اصلاح کی نظر رکھیں اور ان کی اصلاح کی فکر سے ان کی خامیوں پر متنبہ کریں، لیکن اس سلسلہ میں اندازہمدردانہ اورناصحانہ ہواور نصیحت کرنے والے کے الفاظ وانداز میں ایسی نرمی ومحبت ہو کہ اس سےغلطی کرنے والوں کے جذبات واحساسات کو چوٹ نہ پہونچے اور انہیںذلت ورسوائی محسوس نہ ہو،اسی خاطر رسول اللہ ﷺ جب مجمع میں لوگوں کی غلطی کی اصلاح کرتے تو غلطی کرنے والوں کو مخاطب کئے بغیر عمومی انداز میں تنبیہ فرماتے ،اور عام طور پر آپ ’’ مابال اقوام یفعلون کذا کذا‘‘ (لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسے ایسے اعمال کررہے ہیں؟!) کہہ غلطی کرنے والوں کی اصلاح فرماتے ، اس طرح کہنےسے ایک طرف غلطی میں مبتلا افراد کو یہ معلوم ہوجاتا کہ ان سے غلطی ہورہی ہے دوسری طرف اب تک ان غلطیوں سے بچے ہوئے لوگوں کو بھی ان اعمال کے بارے میں شریعت کا حکم معلوم ہوجاتا اور وہ بھی ان سے بچنے کااہتمام کرنے والے بن جاتے ۔
اسی طرح اصلاح میں آپ ﷺکا طریقہ یہ بھی ہوتا کہ غلطی کرنے والوں کے ساتھ سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کا لہجہ اختیار نہیں کرتے ، بلکہ محبت کے ساتھ سمجھاکر اس عمل کی قباحت کو اس کے سامنے ظاہر کرتے ، مثلا ایک دیہاتی شخص مسجد میں ہی پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام نے اس کو فوراً ڈانٹنا اور روکنا شروع کردیا،اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو روکا اور فرمایا کہ اسے اس حال میں اچانک اپنی ضرورت پوری کرنے سے مت روکو، چناں چہ جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوگیا تو آپ ﷺ نے پانی منگواکر اس کو صاف کروادیا اور اسے اپنے قریب بلاکر سمجھا یا کہ یہ مسجد ہے ، اس میں گندگی ڈالنا یا ضرورت پوری کرنا صحیح نہیں ہے ؛کیونکہ یہ جگہ اللہ عزوجل کی عبادت اور قرآن کی تلاوت کے لئے بنائی گئی ہے ( بخاری)
آپ ﷺ کی اس طریقۂ تعلیم کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ وہ مسلمان ہوگیا اور پھر اس کی دعوت پراس کے قبیلہ کے تین سو لوگ مسلمان ہوئے۔
بہت سی مرتبہ بعض لوگوںکا مذاق ایسا ہوتا ہے کہ اس سے بعض لوگوں کے جذبات واحساسات مجروح ہوتےہیں، اس سلسلہ میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے اور نبی اکرم ﷺ نے ایسے مزاح سے منع فرمایاہے جس سے کسی کو ٹھیس پہونچے یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے، ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ تم میں کا کوئی شخص کسی شخص کا سامان نہ ہنسی مذاق میں لے اور نہ ہی رکھ لینے کی نیت سے لے ( ابوداؤد: ۵۰۰۳) تاکہ اس کو الجھن نہ ہو اور وہ عارضی طور پر بھی کسی قسم کی تکلیف سے دوچار نہ ہو۔
کسی ضرورت مند اور سائل کو دینا نہ دینا انسان کےاختیار میں ہے ،لیکن انکار کی صورت میں تلخی اختیار کرنا یا دینے کی صورت میں احسان جتانے کا انداز ہونا دونوں ہی انسانی جذبات کو مجروح کرنے والے ہیں، اسلام نے دونوں سے منع فرمایا تاکہ کسی انسان کے جذبات مجروح نہ ہوں ، قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ (اور سوال کرنے والے کونہ جھڑکو)
اور احسان جتانے کی مذمت وممانعت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :
’’بروز قیامت تین قسم کے لوگوں سے اللہ نہ بات کریں گے ، نہ ان پر نظر رحمت ڈالیں گے ، نہ ہی ان کا تزکیہ کریں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (حضرت ابوذرغفاری ؓ نے پوچھا کہ یہ لوگ تو ناکام ونامراد ہوگئے ، یہ لوگ ہیں کون؟)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پائجامہ اور تہبند وغیرہ کو ٹخنوںسے نیچے رکھنے والا،احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنا سامان بیچنے والا‘‘ (مسلم شریف: ۱۷۱)
بلکہ انکار کرنے سے بھی ضرورت مند اور سائل کو کسی نہ کسی درجہ میں ٹھیس پہونچتی ہے اور اس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ،تو رسول اللہ ﷺ نے امت کو یہ تعلیم دی کہ کوئی سائل کسی کے سامنے آجائے تو جو کچھ بھی میسر ہوسکے اسے دے کر رخصت کرے ،چاہے وہ انتہائی معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو حدیث میں ہے کہ اگر جلا ہو ا کھر ہی میسر ہوسکے تو دے دیا جائے۔ (ترمذی: ۶۶۵)
اسی طرح کسی کا کسی سے شدت واصرار کے ساتھ کوئی چیز مانگنا بھی باعث تکلیف ہوتا ہے، اس سے بھی رسو ل اللہ ﷺ نے منع فرمایاتاکہ اسے شرمندگی اور تکلیف نہ ہو۔
جذبات کو مجروح کرنے والا ایک عمل یہ بھی ہوتا ہےکہ امیر وغریب میں امتیاز برتا جائے ، اس سے کمزور افراد کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ، اسلام نے تعلیم دی کہ ان کی غربت کی بنیاد پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے ،بلکہ ان کو اپنے مساوی خیال کیا جائے اور خورد ونوش اور لباس وپوشاک وغیرہ امور زندگی میں ان کے لئے وہی معیار رکھا جائے جو اپنے لئے رکھاجاتا ہے ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی کہ تمہارے غلام وخدام تمہارے بھائی ہیں ، اس لئے جس کے بھائی کو اللہ اس کی ماتحتی میں دے دے اس پر یہ لازم ہے کہ وہ جیسا کھاتا ہو اسے ویساہی کھلائے اور جیسا کپڑا خود پہنتا ہو اسے بھی ویسا ہی پہنائے۔(بخاری : ۳۰ ، مسلم : ۱۶۶۱)
اگرکسی شخص میں کوئی پیدائشی عیب ہو یا وہ کسی خاص مرض میں مبتلا ہوتو اس کو باربار یا بغور دیکھنے یا اس کو دیکھ کر مسکرانے یا کسی سے بات کرنے سے اس شخص کو شرمندگی ہوتی ہے ، چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم دی کہ ایسے افراد کو بغوراور بار بار نہ دیکھا جائے ، ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جذام میں مبتلا لوگوں کو بار بار یا بغور مت دیکھو ( ابن ماجہ:۳۵۴۳) اور علماء نے لکھا ہے کہ کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر جو دعاء : الحمد للہ الذي عافاني مما ابتلاك بہ ، وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلاً پڑھی جاتی ہے اس کو آہستہ پڑھنا چاہئے تاکہ مصیبت زدہ کو اس سے شرمندگی نہ ہو اور اس کے جذبات واحساسات کو چوٹ نہ پہونچے۔
مجلس میں اگر تین لوگ ایک ساتھ ہوں تو ان میں سے دو لوگوں کا چپکے چپکے آپس میں بات کرنا تیسرے کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے ، اس سے بھی رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا تاکہ اس کے دل میں غلط شکوک وشبہات پیدا نہ ہوں اور اس کی دل آزاری نہ ہو ۔(بخاری ومسلم)
کسی کےخاندان کو یا مُردوں کو براکہنے یا ان کی برائی کا تذکرہ کرنے سے زندہ لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور ان کے جذبات واحساسات مجروح ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا اور کہا کہ مردوں کو برا مت کہو ؛ کیوں کہ انہوں نےاپنے لئے جو کچھ آگے بھیجا ہے اس تک وہ پہونچ چکے ہیں ( بخاری: ۱۳۹۳)
بڑوں کی تعظیم نہ کرنے یا چھوٹوں کے ساتھ شفقت و رحمت نہ کرنے بھی جذبات مجروح ہوتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بڑوں کی تعظیم وتکریم نہ کریم یا چھوٹوں پر شفقت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ( ترمذی: ۱۹۱۹)
اگر کسی نے دعوت دی اور اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا کوئی کاروبار حرام پر بھی مبنی ہے ، تو دعوت قبول کرنے سے پہلے یا بعد اس کی آمدنی اور کاروبار میں حلال وحرام کی بابت پوچھنا درست نہیں ہے ؛ کیونکہ اس میں ایذا اور توہین ہے اور اس سے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔(کتاب الفتاوی : ۶؍۲۰۰)
یہ چند مثالیں ہیں جن میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو دوسروں کے جذبات واحساسات کا حد درجہ احترام کرنا چاہئے ، ان کے علاوہ بھی بہت سی اسلامی تعلیمات ہیں جن میں جذبات واحساسات کے احترام کی تعلیم دی گئی ہے یا اس حکم وتعلیم کی بنیاد اسی احترام پر رکھی گئی ہے، یعنی جذبات کے احترام کے پیش نظر کئی چیزیں اسلام میں لازم یا ممنوع ہیں۔ اس لئے ہر مسلمان کو اس بات کا مکمل خیال رکھنا چاہئے کہ اس کے قول وعمل سے کسی کے جذبات واحساسات مجروح نہ ہوں ، کسی کی دل آزاری نہ ہو اور کسی کو احساس شرمندگی نہ ہو، اور رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہئے جو آپ ﷺ نے ایک مرتبہ منبر پر بلند آواز سے فرمایا:
يا معشر من أسلم بلسانه ولم يفض الإيمان إلى قلبه ، لا تؤذوا المسلمين ولا تعيروھم ولا تتبعوا عوراتهم، فإنه من تتبع عورۃ أخيه المسلم تتبع اللہ عورته ، ومن تتبع اللہ عورته يفضحه ولو في جوف رحله (ترمذی: ۲۰۳۲)
اے وہ لوگو جنہوں نے صرف زبان سے اسلام قبول کیا ہے لیکن ایمان ان کے دلوں تک نہیں پہونچا ہے (یعنی جن میں یہ برائی ہے گویا ان کا دل ایمان سے خالی ہے ) تم مسلمانوں کو ایذا ء مت پہونچاؤ ، ان کو شرمندہ مت کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے مت پڑو ، کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کے عیوب کے پیچھے پڑتا ہے اور اس کی تلاش میں رہتا ہے ، اللہ اس کے عیوب کے پیچھے پڑجاتا ہے ، اور جب اللہ کسی کے عیوب کے پیچھے پڑجائے تو وہ اس کو ذلیل ورسوا کرکے چھوڑتا ہے ،چاہے وہ (اپنے عیوب چھپانے کے لئے لوگوں کی نظروں سے چھپ کر ) اپنے گھر میں بند ہوجائے۔
اللہ ہمیں دوسروں کے جذباب واحساسات کےاحترام کی توفیق دے۔
Login Required to interact.

