برے خواب کے بعد کیا کریں؟

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
=======
خواب میں انسان بہت سی مرتبہ ایسی چیزیں دیکھتا ہے جس کی تعبیر بظاہر بری اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے ، اس طرح کے خواب دیکھنے کے بعد کیا کرنا چاہئے ؟ اس سلسلہ میں احادیث نبویہ میں جو ہدایتیں دی گئی ہیں ان کو اختیار کرکے انسان وساوس اور گھبراہٹ سے بھی بچ سکتا ہے اور شیطانی مکر اور برے انجام سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے ۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد فرمایا:
إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ (مسلم : ۲۲۶۲)
’’جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور شیطان سے تین بار اللہ کی پناہ مانگے اور چاہئے کہ اپنے اس پہلو کو تبدیل کر لے جس پر پہلے تھا‘‘
اس فرمان نبوی میں یہ تعلیم ہے کہ اگر کبھی برے خواب آجائیں تو آنکھ کھلتے ہیں فورا تین بار بائیں جانب تھوکنا چاہئے ، اس میں ایک عظیم حکمت یہ ہے کہ عام طور پر شیطان برے خوابوں کے ذریعہ انسانوں کو پریشان کرنے ، طرح طرح کے شکوک وشبہاب میں مبتلا کرنے ، ا ور تقدیر پر ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے ،تو رسول اللہ ﷺ نے تعلیم دی کہ بائیں جانب تھوک  تھکا کرسب سے پہلے شیطان کو دھتکارا اور بھگایا جائے ، تاکہ وہ مزید اپنا زہر منتقل نہ کرسکے، اور چونکہ انسان کمزور ہے ، اور اللہ کی حفاظت ومدد کی بغیر وہ شیطان پر غالب نہیں آسکتا اور اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا تو اس کو دھتکارنے کے ساتھ اللہ کی پناہ حاصل کرنے کی لئے تین بار ’’ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ‘‘ پڑھ لیا جائے، تاکہ اللہ کی حفاظت کا مضبوط حصار اسے حاصل ہوجائے اور وہ شیطان کے شر سے بچ کر حفاظت الہی کے سائے میں چلا جائے،نیز شیطان سے حفاظت کے ساتھ ساتھ برے خواب کے شرسے بھی اللہ کی پنا ہ چاہی جائے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: 
الرُّؤْيَا الصَّالِحَۃُ مِنَ اللَّهِ، وَالحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ  حُلُمًا يَخَافُهُ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ (بخاری:  ۳۲۹۲)
’’اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے پس جو تم میں سے کوئی ایسا برا خواب دیکھے جو ڈراؤ نا ہو تو وہ اپنی بائیں جانب تھتکارے اور اللہ کے ذریعے اس کے شر سے پناہ مانگے تو وہ خواب اسے کچھ بھی ضرر نہ پہنچائے گا‘‘
ایک اور روایت میں نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے : 
إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَتَحَوَّلْ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْأَلِ اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا(ابن ماجۃ : ۳۹۱۰)
’’جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کروٹ بدل لے اور بائیں طرف تین بار تھتکار دے اور اللہ سے اس خواب کا خیر مانگ لے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہ لے‘‘
مذکورہ دونوں روایتوں کی روشنی میں بائیں جانب تھوکنے کے بعد تین بار یہ کلمات کہہ لئے جائیں : 
 اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ وَمِنْ شَرِّھٰذِہِ  الرُّؤیَا ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْألُکَ خَیْرَہَا وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا  
’’ میں مردو دشیطا ن اور اس خواب کے شرسے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میں اس کا خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں‘‘
نیز رسول اللہ ﷺ نے نیند میں ڈرجانے کی صورت میں جو دعا سکھائی ہے وہ بھی پڑھ لی جائے، وہ دعا یہ ہے :
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ( ترمذی: ۳۵۲۸)
’’میں اللہ کے غضب، عقاب، اس کے بندوں کے فساد، شیطانی وساوس اور ان (شیطانوں) کے ہمارے پاس آنے سے اللہ کے پورے کلمات کی پناہ مانگتا ہوں‘‘
اور یہ کلمات اس یقین کے ساتھ پڑھے کہ اللہ کی حفاظت کے حصار کو شیطان نہیں توڑ سکتا اور اللہ کی مرضی کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔
ان کلمات کے پڑھنے کے بعد اس پہلو کو تبدیل کردیا جائے جس پہلو میں برا خواب نظر آیا ہے، کیونکہ کروٹ کی تبدیلی سے طبیعت میں نشاط پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ نیک فال بھی کہ اللہ اپنے فضل برے خواب کے منظر کو تبدیل کرکے خیر عطا کردے گا۔
برے خواب کے بارے میں یہ ادب بھی رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے کہ اسے کسی سے بیان نہ کیا جائے،رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِبُّهَا، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا، وَلاَ يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ
’’جب کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو ( سمجھ لے کہ ) یہ اللہ کی جانب سے ہے ، اس لئے ا س پر اللہ کی حمد بیان کرے اور اسے لوگوں سے بیان کرے، اور اگر اس کے خلاف کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو ( سمجھ لے کہ ) یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس لئے اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ چاہے، اور اسے کسی سے بیان نہ کرے، تو یہ خواب اسے نقصان نہیں پہونچائے گا‘‘
ایک حدیث میں یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ برے خواب کے بعد دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ سے دعا کرلی جائے ، رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَحَدِيثُ النَّفْسِ، وَتَخْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصَّهَا، إِنْ شَاءَ، وَإِنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ، وَلْيَقُمْ يُصَلِّي (ابن ماجۃ : ۳۹۰۶، مسلم: ۲۲۶۳)
’’خواب تین قسم کا ہوتا ہے اللہ کی طرف سے خوشخبری دل کے خیالات اور شیطان کی طرف سے ڈراوا لہذا تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا معلوم ہو تو چاہیے بیان کر دے اور اگر ناپسندیدہ چیز دیکھے تو کسی کو نہ بتائے اور اٹھ کر نماز پڑھ لے‘‘
ان آداب کو اختیار کرلینے کے بعد یہ یقین دل میں بٹھایا جائے کہ اب اس خواب سے کوئی نقصان نہیں پہونچ سکتا ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ ’’فانہا لا تضرہ‘‘(یہ خواب اس کو نقصان نہیں پہونچائے گا) اس لئے مکمل یقین کرلیا جائے کہ نبی اکرم ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق جو منظر خواب میں دکھا ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوگا، حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں بسا اوقات ایسے خواب دیکھتا کہ اس سے متأثر ہوکر میں بیمار پڑجایا کرتالیکن جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد : فانہا لا تضرہ سنا ہے مجھے اس سے کچھ بھی غم نہیں ہوتا، اسی طرح حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشادگرامی کے سننے کے بعد سے میں برے خواب پر توجہ ہی نہیں دیتا اور اس سے مجھے کوئی ڈر محسوس نہیں ہوتا۔اس لئے اگر کسی کو برا خواب آجائے تواسے چاہئے کہ نبی اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرکے بے فکر ہوجائے اور ذہن ودماغ سے وساوس کو نکال کر یہ یقین کرلے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا جیسا کہ خواب میں دکھا ہے ۔
Login Required to interact.