مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
==========
زکوۃ عربی زبان کا لفظ ہے اور شریعت کی ایک خاص اصطلاح بھی ہے ، عربی زبان میں زکوۃ کے متعدد معانی بتائے گئے ہیں: زیادتی ، برکت، بڑھوتری ، پاکیزگی اورنیکی وغیرہ (معجم المصطلحات والالفاظ الفقہیۃ : ۲؍۲۰۳)
شریعت کی اصطلاح میں زکوۃ اس مال کو کہتے ہیں جو نصاب کے بقدر مال کے مالک شخص کے مخصوص مال میں فقراء اور مستحقین کے لئے شریعت نے واجب قرار دیا ہے ، چونکہ مال میں سے فقراء اور مساکین کو ان کا متعینہ حق دے دینے سے بقیہ مال میں زیادتی خیر وبرکت اور پاکیزگی پیدا ہوتی ہے ، اس لئے اس کو زکوۃ کہتے ہیں۔یعنی شریعت نے اس فریضہ زکوۃ کا نام دے کر اس جانب اشارہ کیا کہ اس کو دے کر آدمی کو خوش اور مسرور ہونا چاہئے نہ کہ ملول اور رنجیدہ خاطر، جیسے انسان غسل کرتا ہے تو اس کے جسم کا میل دھل جاتا ہے ، یا کپڑے دھوتا ہے اور کپڑے سے میل وکچیل دور ہوجاتے ہیں تو انسان اس سے رنجیدہ نہیں ہوتا ، بلکہ اسے ایک طرح کا نشاط حاصل ہوتا ہے ، کہ میل کچیل اور گندگی سے نجات مل گئی، اسی طرح فریضۂ زکوۃ کو ادا کرنے کے بعد آدمی کو خوش ہونا چاہئے کے اس نے مال کے میل کچیل کو دور کردیا، اور اس کے مال کو پاکی حاصل ہوگئی اور اس کا مال بڑھوتری اور برکت کا مستحق بن گیا۔اسی فائدہ کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
ان اللہ لم یفرض الزکوۃ الا لیطیب ما بقی من اموالکم (ابوداؤد : ۱۴۱۷)
’’اللہ نے زکوۃ کو اسی لئے فرض کیا ہے تاکہ تمہارے بقیہ مال پاکیزہ ہوجائیں ‘‘
اس کے علاوہ اس میں تزکیہ نفس بھی ہے، یعنی ’’حبِّ مال‘‘ اور دولت پرستی جو ایک ایمان کش اور نہایت مہلک روحانی مرض ہے ،زکوۃ اس کا علاج اور اس کے گندے اور زہریلے اثرات سے نفس کی پاکیزگی اور تزکیہ کا ذریعہ ہے ، اسی فائدہ کو قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
خذ من اموالہم صدقۃ تطہرہم وتزکیہم (سورہ توبہ )
’’اے نبی آپ مسلمانوں کے مالوں میں سے صدقہ (زکوۃ) وصول کیجئے ، جس کے ذریعہ ان کے قلوب کی تطہیر اور ان کے نفوس کا تزکیہ ہو‘‘
یہ زکوۃ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میںسے ایک رکن ہے ،اور دین کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ستون ہے ، جس کے اقرار کے بغیر کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا ، اور اس کے انکار کی صورت میں کفر میں داخل ہوجاتا ہے ، اسی لئے خلیفۂ اول کے ابتدائی زمانہ میں جب بعض قبیلوں نے زکوۃ کی ادائیگی اور اس کی فرضیت کا انکار کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کرنے کا اعلان کیا ، اور ان سے جنگ کیا ؛ کیونکہ یہ لوگ اس سے انکار کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوچکے تھے اور کلمہ گو سے جنگ کرنے کی ممانعت سے مستثنیٰ ہوچکے تھے ،اور اسلام کی حرمت سے خارج ہوکر’’ مباح الدم‘‘ ہوچکے تھے۔
زکوۃ کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اور احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے نماز اور زکوۃ کا ذکر عموما ایک ساتھ کیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کا درجہ قریب قریب ایک ہی ہے ۔
اسی درجہ کی قربت کی وجہ سے جہاں بے نمازی کے لئے خطرناک وعیدیں قرآن واحادیث میں بیان کی گئی ہیں وہیں زکوۃ نہ دینے والوں کے لئے بھی سخت وعید یں بیا ن کی گئی ہے ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من آتاہ اللہ مالا فلم یؤد زکوتہ مثل لہ یوم القیامۃ شجاعا اقرع ، لہ زبیبتان یطوقہ یوم القیامۃ ثم یاخذ بلہزمتیہ یعنی شدقیہ ثم یقول انا کنزک انا مالک ، ثم تلا : ولا یحسبن الذین یبخلون بما آتہم اللہ الآیۃ (بخاری : باب اثم مانع الزکوۃ ، ۱۳۱۵ )
جس آدمی کو اللہ نے دولت عطا فرمائی پھر اس نے اس کی زکوۃ نہیں ادا کی، تو وہ دولت قیامت کے دن اس آدمی کے سامنے ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گی جس کے انتہائی زہریلے پن سے اس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے، اور اس کے آنکھوں کے اوپر دوسفید نقطے ہوں گے (جس سانپ میں یہ دونوں باتیں پائیں جائیں وہ انتہائی زہریلا ہوتا ہے) پھر وہ سانپ اس (زکوۃ ادا نہ کرنے والے ) کے گلے کا طوق بنادیاجائے گا پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیری دولت ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں ۔ یہ فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی : ولایحسبن الذین یبخلون الخ ’’اور نہ گمان کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس مال ودولت میں جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دیا ہے (اور وہ اس کی زکوۃ نہیں نکالتے ہیں) کہ وہ مال ودولت ان کے حق میں بہتر ہے ، بلکہ انجام کے اعتبار سے وہ ان کے لئے بدتر اور شر ہے ، قیامت کے دن ان کے گلوں میں طوق بناکے ڈالی جائے گی وہ دولت جس میں انہوں نے بخل کیا‘‘ (اور جس کی زکوۃ نہیں ادا کی )
اموال زکوۃ
شریعت نے ہر مال پر زکوۃ فرض قرار نہیں دیا ہے، بلکہ خاص خاص مال ہی میں زکوۃ فرض ہوتی ہے، اور وہ یہ ہیں:
معدنی اشیاء میں سے سونااور چاندی۔ واضح رہے کہ کاغذی نوٹ اور رائج الوقت سکے بھی فی زماننا سونے چاندی ہی کے حکم میں ہیں:
سامان تجارت میں سے کوئی بھی سامان جس کی خرید و فروخت کی جائے ۔
مویشیوں میں سے اونٹ، بھینس، گائے، بیل، بکریاں اور گھوڑے۔
زمینی پیداوار میں تمام اجناس، پھل اور ترکاریاں۔
زکوۃ کا نصاب
زمینی پیداوار خواہ کتنی بھی ہو اس میں عشر واجب ہوگا، لیکن سونا چاندی، روپے، تجارتی سامان وغیرہ میں ایک مخصوص مقدار ہے، اتنی مقدار کا مالک ہونے پر ہی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اسی مقدار کو نصاب زکوۃ کہا جاتا ہے :
سونے کا نصاب ۲۰؍ مثقال سونا ہے، جو ساڑھے سات تولہ ہے اور جدید اوزان میں 87گرام 479ملی گرام سوناہوتا ہے۔
چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے، جو ساڑھے باون تولہ ہے اور جدید اوزان میں 612گرام 35ملی گرام چاندی ہوتا ہے۔
سامانِ تجارت کی قیمت یا نقد رقم جب چاندی کی اس مقدار یعنی 612گرام 35ملی گرام کی قیمت کے برابر ہو جائے تو سمجھا جائے گا کہ وہ شخص صاحب نصاب ہے (الفتاوی التاتارخانیۃ: ۲؍۲۳۷، جدید فقہی مسائل : ۲؍۱۱۷، طبع پنچم)
اگر کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو، اور اس کے ساتھ کچھ مالِ تجارت بھی ہو یا نقد رقم ہوتو ان سب کی قیمت لگا کر دیکھا جائے گا، اگر وہ ساڑھے باون تولہ ( 612گرام 35ملی گرام ) چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہو جائے گی (الفتاوی التاتار خانیۃ : ۲؍۲۳۷)
سونے چاندی میں اگر کچھ حصہ مقدار کھوٹ کی ہو اور غلبہ سونے چاندی کا ہو،تو وہ پوری چیز سونا چاندی ہی کے حکم میں ہوگی۔ (فتح القدیر : ۲؍۱۲۱)
چاندی پر سونے کے پانی سے روغن کرنے کی صورت میں اس کو چاندی ہی شمار کیا جائے گا اور اسی کے اعتبار سے اس کی زکوۃ دی جائے گی۔
سونا چاندی، جس صورت میں بھی ہو، اس میں زکوۃ واجب ہے، اسی لئے روزمرہ کے استعمالی زیوارت کی بھی زکوۃ ادا کی جائے گی (حلیۃ العلماء : ۳؍۹۲)
گوٹے اور لچکے وغیرہ میں جو سونا اور چاندی ہو، اس کا بھی حساب کیا جائے گا، اور اس میں بھی زکوۃ واجب ہوگی۔ (جدید فقہی مسائل : ۲؍۱۰۲)
زکوۃ کے اہم مسائل
زکوۃ اس شخص پر واجب ہوتی ہے جو مسلمان، عاقل اور بالغ ہو، نابالغ بچوں کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ، پاگل کے مال میں بھی زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔ (الہدایۃ مع الفتح : ۲؍۱۱۵)
زکوۃ واجب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مال زکوۃ مکمل طور پرا س کی ملکیت میں ہو(الفتاوی التاتار خانیۃ : ۲؍۲۱۷) ۔ رہن رکھی ہوئی چیز پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی ، نہ اس پر جس کا مال ہے اور نہ اس پر جس کے پاس رہن رکھا ہوا ہے ۔(الفتاوی الہندیۃ: ۱؍۱۷۲) البتہ امانت رکھی ہوئی چیز میں زکوۃ واجب ہوگی اور اصل مالک اس کی زکوۃ ادا کرے گا (فتح القدیر : ۲؍۲۲۱) بینک اور فکسڈ ڈپازٹ میں رکھی ہوئی رقم پر بھی زکوۃ واجب ہوگی۔
قرض دی ہوئی رقم یا تجارتی سامان کی قیمت کسی کے ذمہ باقی ہو اور جس کے ذمہ باقی ہو وہ اس کا اقرار بھی کرتا ہو اور بظاہر اس قرض کی وصولی کی توقع ہو تو اس میں زکوۃ واجب ہوگی، فی الحال بھی ادا کرسکتا ہے اور قرض وصول ہونے کے بعد بھی پوری مدت کی زکوۃ ادا کرسکتا ہے۔ یہی حکم ان بقایا جات کا ہے جو اجرت و مزدوری، کرایۂ مکان و سامان یا رہائشی مکان کی قیمت وغیرہ کے سلسلے میں ہے اور وصولی متوقع ہو، ان پر بھی زکوۃ واجب ہوگی، خواہ ابھی ادا کردے یا قرض وصول ہونے کے بعد (الفتاوی التاتار خانیۃ : ۲؍۳۰۱)
ایسا قرض کہ جس کی وصولی کی توقع نہ ہو، لیکن وصول ہوگیا یا قرض کسی مال کے بدلہ میں نہ ہو جیسے مہر اور بدل خلع وغیرہ،یامقروض دیوالیہ ہو اور وصولی کی امید نہ ہو،یا قرض کا انکار کرتا ہو اور مناسب ثبوت موجود نہ ہو، ان تمام صورتوں میں جب بقایاجات وصول ہو جائیں اور سال گذر جائے تب ہی زکوۃ واجب ہوگی، اس سے پہلے نہیں (بدائع الصنائع : ۲؍۲۱۰)
ضروری اور استعمالی چیزوں میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی اور ان کو مستثنیٰ کرکے ہی زکوۃ واجب ہوتی ہے، ایسی ہی اشیاء کو فقہ کی اصطلاح میں ’’حاجاتِ اصلیہ‘‘ کہتے ہیں ، رہائشی مکانات، استعمالی کپڑے، سواری کے جانور یا گاڑی، حفاظت کے ہتھیار، زیبائش کے سامان، ہیرے جواہرات، یاقوت، قیمتی برتن وغیرہ میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔ (الفتاوی الہندیۃ : ۱؍۱۷۲، الہدایۃ مع الفتح : ۲؍۱۱۹)
صنعتی آلات اور مشینیں جو سامان تیار کرتی ہیں اور خود باقی رہتی ہیںنیزکسبِ معاش کے آلات پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی ، اس لئے ٹرک ، بس، ٹیکسی، آٹو وغیرہ پر زکوۃ واجب نہیں، اس سے جو آمدنی حاصل ہو وہ مقدار نصاب پہونچ جائے، یا کچھ اور سونا چاندی اور رقم ان کے پاس موجود ہوں، اور ان کو ملا کر نصاب پورا ہو جاتا ہو، ایسی صورت میں اس پر زکوۃ واجب ہوگی (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار : ۳؍۲۲۷ تا ۲۳۴) البتہ ذکر کی گئی چیزوں میں سے کسی بھی چیز کی تجارت کی جائے تو اس میں زکوۃ واجب ہوگی۔
رنگریز جو کپڑے رنگنے کا پیشہ رکھتا ہو، اس کے پاس محفوظ رنگ میں زکوۃ واجب ہوگی، (فتح القدیر : ۱؍۱۲۰)
مختلف مالوں میں زکوۃ کا جو نصاب شریعت نے مقرر کیا ہے، اس کے مالک ہونے کے بعد سال گذرجائے تب ہی زکوۃ واجب ہوتی ہے، البتہ اس سے زرعی پیداوار اور پھل مستثنیٰ ہیں، کھیت جوں ہی کٹے اور پھل توڑے جائیں اسی وقت عشر نکال دینا ضروری ہے۔ (المغنی : ۲؍۲۹۷)
سونا چاندی، نقد رقم اور تجارتی سامانوں میں اصول یہ ہے کہ اگر اس مال کا کچھ حصہ بھی باقی رہے تو درمیان سال میں کمی بیشی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اختتام سال پر مقدار نصاب یا اس سے زیادہ جتنا مال موجود ہو، اس کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی ۔ (الفتاوی الہندیۃ : ۱؍۱۷۳)
مثال کے طور پر یکم رمضان المبارک ۱۴۲۳ھ کو پہلی بار نصاب زکوۃ کا مالک ہوا، سال کے درمیان رقم گھٹتی اور بڑھتی رہی ، لیکن اگلے سال کی یکم رمضان المبارک کو پھر اس کے پاس نصاب زکوۃ موجود ہے یا درمیان سال میں مال کے اضافہ کی وجہ سے وہ دو تین نصاب کا مالک ہو چکا ہے تو اب اسے یہ کرنا ہوگا کہ دوسرے سال یکم رمضان المبارک کو اپنی ملکیت میں موجود سونا، چاندی، نقد رقم، بینک میں محفوظ رقم، دوکان میں موجود تجارتی سامان سب کی مجموعی قیمت جوڑلے، کچھ قرض اس کے ذمہ باقی ہو تو اس کو منہا کرلے اور بقیہ رقم میں ڈھائی فیصد یعنی ایک ہزار پر پچیس روپے کے لحاظ سے زکوۃ ادا کردے، واضح ہو کہ سال سے قمری یعنی چاند والا سال مراد ہے۔
اگر کسی کا قرض باقی ہوتو اس کو منہا کرکے زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ (درالمحتار : ۲؍۲۰۶) البتہ عشر سے دین منہا نہیں کیا جاسکتا، جتنی پیداوار ہو اس کا عشر ادا کرنا ہوگا۔ (الفتاوی التاتار خانیۃ :۲؍۲۹۱) فی زماننا بیوی کا مہر جو شوہر کے ذمہ واجب ہو اس کو بھی زکوۃ سے منہا نہیں کیا جائے گا۔
صنعتی اور ترقیاتی قرضے جو سرکاری یا غیر سرکاری اداروں سے حاصل کئے جاتے ہیں اور انہیں طویل مدت یعنی دس بارہ سال میںادا کرنا ہوتا ہے، اس میں اصول یہ ہے کہ ہر سال قرض کی جتنی قسط ادا کرنی ہے اس سال اتنی رقم منہا کرکے زکوۃ کا حساب کیا جائے گا، نہ کہ پورے قرض کا۔
کوئی سامان اس وقت تجارتی سمجھا جائے گا جب اس کو فروخت کرنے ہی کی نیت سے خرید کیا ہو، وہ سامان جو پہلے سے اس کی ملکیت میں موجود ہو، محض تجارت کے ارادہ سے تجارتی سامان شمار نہیں کیا جائے گا (الفتاوی التاتار خانیۃ : ۲؍۲۳۸۔ ۲۳۹) اس لئے اگر کسی شخص نے زمین یا مکان بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا لیکن بعد میں اس کا ارادہ بیچنے کا ہوگیا تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ، البتہ بیچنے کے بعد جو رقم حاصل ہوئی اس کو مال زکوۃ میں شامل کرکے اس کی زکوۃ دی جائے گی ۔
ایسے باؤنڈز اور شیئرز جن میں سرمایہ تجارتی یونٹ میں استعمال کیا جاتا ہو، سامانِ تجارت ہی کے حکم میں ہے اور ان میں زکوۃ واجب ہوگی (جدید فقہی مسائل : ۱؍۱۰۲)
شیئرز مال تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں اور مال تجارت میں زکوۃ واجب ہے، (بدائع الصنائع : ۲؍۱۱) اس لئے خریدے ہوئے شیئرز(حصص )میں اس کی مارکیٹ کی قیمت کے لحاظ سے زکوۃ واجب ہوگی۔
اگر ایک شخص کا سرمایہ ہو اور دوسرا اس سے تجارت کرے اور دونوں نفع میں شریک ہوں تو سرمایہ کار تو اپنے اصل سرمایہ اور اپنے حصہ کے منافع دونوں کی زکوۃ ادا کرے گا جبکہ تاجر صرف اپنے حصۂ نفع کی زکوۃ ادا کرے گا (المغنی : ۲؍۲۴۰۔۲۴۱)
نصاب پورا ہو جانے کی صورت میں سونا چاندی اور سامانِ تجارت اور نقد رقم ان تمام میں ڈھائی فیصد یعنی ایک ہزار روپے پر پچیس روپے کے حساب سے زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔ اور حساب لگانے میں مقدار نصاب کے بقد مال کو زکوۃ سے مستثنیٰ نہیں کیا جائے گا ، بلکہ مکمل مال میں سے ڈھائی فیصد نکالا جائے گا۔
مویشیوں جیسے بکریوں مرغیوں وغیرہ کی تجارت کی جائے تو ان کی قیمت بھی لگائی جائے گی اگر ان کی قیمت 612گرام 35 ملی گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے تو اس قیمت پر ڈھائی فیصد ہی کے حساب سے زکوۃ واجب ہوگی۔ (المغنی : ۲؍۳۳۸)
البتہ اگر بکریوں کا فارم قائم کیا ہو اور اس کی افزائش کرتا ہوتو اس میں زکوۃ اس شرح سے واجب ہوگی جوجانوروں میں مقرر کی گئی ہے ، اور اگر بکریوں کی خود افزائش نہ کرتاہو بلکہ خرید وفروخت کرتا ہوتو اس میں زکوۃ مال تجارت کی شرح یعنی ڈھائی فیصد کے حساب سے واجب ہوگی۔ خواہ یہ ڈھائی فیصد بکریاں ہی مستحقین کو دے دے یا ان کی قیمت لگاکر قیمتمیں سے ڈھائی فیصد مستحقین کو دیدے۔
اگر کوئی شخص زراعتی اور غیر زراعتی زمینوں کی خرید و فروخت کرتا ہوتو تجارتی سامان کی طرح اس میں بھی ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ ادا کی جائے گی۔ (حوالۂ سابق)
مکان پر اس وقت زکوۃ واجب ہوتی ہے جب مکان تجارتی مقصد سے حاصل کیا گیا ہو، مکان ضرورت سے زیادہ ہو، لیکن مقصود تجارت نہ ہو، بلکہ کرایہ پر لگانا، یا کسی اور کام میں استعمال کرنا ہوتو اب اس میں زکوۃ واجب نہیں، کرایہ پر لگانے کی صورت میں کرایہ سے حاصل ہونے والی رقم پر زکوۃ واجب ہوگی (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار :۳؍۱۷۹ تا ۱۸۲)
سفر حج کے کرایہ اور مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران ہونے والے لازمی اخراجات اس کی حاجت اصلیہ یعنی بنیادی ضروریات میں داخل ہیں، ان میں زکوۃ واجب نہیں، اس سے زائد جو رقم حاجی اپنے طور پر سفر حج میں خرچ کرتا ہے، وہ حاجت اصلیہ میں داخل نہیں اس کی زکوۃ واجب ہوگی۔ (ردالمحتار : ۳؍۱۸۹)
شادی کی غرض سے روپئے ، سونا ، چاندی وغیرہ جمع کئے جائیں تو اس میں زکوۃ واجب ہوگی۔
جس شہر میں زکوۃ ادا کی جارہی ہو، وہاں کی قیمت کے لحاظ سے زکوۃ واجب ہوگی، کیونکہ زکوۃ میں مالِ زکوۃ کا چالیسواں حصہ ادا کرنا ہے، اور اس شہر کے لحاظ سے قیمت ادا کی جائے، تبھی چالیسواں حصہ ادا ہوسکتا ہے، فقہاء نے بھی اس کی صراحت کی ہے (ردالمحتار : ۳؍۲۱۱۔۲۱۲)
کرایہ دار کی طرف سے اڈوانس کی شکل میں مالک مکان کو دی گئی رقم رہن کے درجہ میں ہے، جب بھی وہ مکان خالی کرے گا، اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے، اور مال رہن میں زکوۃ کسی پر واجب نہیں ہوتی، نہ رہن رکھنے والے پر اور نہ اس شخص پر جس کے پاس رہن رکھا گیا ، اسی طرح جو زیور رہن پر ہو اس میں بھی زکوۃ واجب نہیں۔
سونے یا چاندی سے اگر ایسی چیز ملی ہوئی ہو، جس کو اس سے الگ کیا جاسکتا ہو، تو وہ سونے، چاندی کے حکم میں نہیں ہے۔ نگ بھی ایسی ہی چیزوں میں ہے، کہ اسے اصل زیور سے نکالا جاسکتا ہے، اس لئے نگ میں زکوۃ واجب نہیں، اگر نگ کا وزن معلوم ہو تو اس وزن کو منہا کرکے زکوۃ کا حساب کرنا درست ہوگا۔
چٹھی کی جتنی رقم ادا کی جاچکی ہے اتنی رقم میں زکوۃ واجب ہے، مثلاً کسی نے ایک لاکھ کی چٹھی میں تیس ہزار روپے جمع کئے ہیں تو اس پر تیس ہزار روپے کی زکوۃ واجب ہوگی۔
اگر بینک سے حاصل ہونے والی انٹرسٹ کی رقم کا حساب محفوظ ہو کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں سے اس کی جمع کردہ ہے اور کتنی رقم انٹرسٹ ہے، تو بینک انٹرسٹ کی پوری رقم بلانیت ثواب غرباء پر تقسیم کرنا واجب ہوگا ، اور بقیہ رقم کی زکوۃ واجب ہوگی، اور اگر رقم کا حساب ممکن نہ ہو تو پوری رقم کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔
زکوۃ میں حساب اس تاریخ کے لحاظ سے کیا جاتا ہے جس تاریخ کو وہ پہلی بار نصابِ زکوۃ کا مالک بنا ہے، اس وقت جو رقم کسی کے پاس محفوظ ہو، یا سونا چاندی، شیئرز، سامانِ تجارت یا قرض جس کی وصولی متوقع ہو، موجود ہو، ان کا حساب کیا جائے اور ہر ہزار پر ۲۵؍ روپے کے لحاظ سے زکوۃ ادا کی جائے، اس میں نہ آمدنی ملحوظ ہے اور نہ بجٹ، بلکہ اس تاریخ کو اموالِ زکوۃ میں سے جو کچھ اس کے پاس موجود ہو، اس سے زکوۃ ادا کی جائے گی ۔ (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار : ۳؍۱۷۴)
زکوۃ میں قمری سال کا اعتبار ہے شمسی سال کا نہیں، اس لئے چاند کے مہینوں کے حساب سے سال گزرنے کا حساب لگایا جائے گا۔
تکمیل سال سے پہلے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے، اس لئے زکوۃ ادا ہو جائے گی ۔ (قاضی خان علی ہامش ہندیۃ۱؍۲۶۴) البتہ اس میں اس بات کا خیال رکھے کہ ابھی وہ کتنی رقم زکوۃ میں دے رہا ہے ،اورپھر تکمیل سال کے وقت حساب کرکے دیکھ لے کہ اس کے ذمہ اب کتنی زکوۃ واجب ہورہی ہے ، اگر واجب ہونے والی مقدار ادا کردہ مقدار سے کم ہو توبقیہ رقم اب ادا کردے۔اور اگر حساب کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے زائد رقم دے دی ہے تو اب اس کے لئے یہ درست ہے کہ آئندہ کی زکوۃ میں اتنی مقدار کو کم کرلے۔
زکوۃ فرض ہونے کے بعد اسے بلاتاخیر بعجلت ممکنہ ادا کردینا چاہئے ، بلا وجہ زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔زکوۃ واجب ہونے کے بعد وہ مال جس کی زکوۃ ادا کرنی تھی اگر ضائع ہوجائے تو زکوۃ معاف ہوجاتی ہے ، لیکن اگر زکوۃ کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کی گئی تھی تو اس تاخیر کا وبال پڑے گا،اوراگر مال کو قصداضائع کیا تو زکوۃ معاف نہیں ہوگی (الفتاوی التاتارخانیہ : ۲؍۲۹۳)
زکوۃ واجب ہونے کے بعد مالک نصاب کا انتقال ہوجائے اور وہ زکوۃ کی وصیت کرجائے ، تو اس کے متروکہ مال کی ایک تہائی سے اس کی زکوۃ ادا کی جائی گی اور اگر ایک تہائی مال پوری زکوۃ کے لئے کافی نہ ہو تو اب وارثین کی صوابدید پر ہوگا کہ اگر وہ چاہیں تو بقیہ زکوۃ کو ادا کردیں۔(الفتاوی التاتارخانیہ : ۲؍۲۹۶)
اور اگر مالک نصاب اپنے ذمہ واجب زکوۃ کی ادائیگی سے قبل زکوۃ کی وصیت کئے بغیر انتقال کرجائے ،تو اس کے ورثاء پر اس کی ادائیگی واجب نہیں ہے (ہندیہ : ۱؍۱۶۷) لیکن ایسی صورت میں ورثاء کے لئے اخلاقی اور احسانی حکم یہ ہے کہ وہ متوفی کی طرف سے زکوۃ ادا کردیں ۔
بیوی کے مال اور اس کے زیورات کی زکوۃ بیوی پر ہی واجب ہوتی ہے ، شوہر پر نہیں، لیکن اپنے معاشرہ میں بیوی اور شوہر کے درمیان معاشی امور میں حددرجہ اشتراک ہوتا ہے ، ان حالات میں بہتر یہ ہے کہ بیوی کی طرف سے شوہر زکوۃ ادا کردے اور دنیوی معاملات کی طرح دینی امور میں بھی شرکت ورفاقت کا حق ادا کرے۔
زکوۃ کی ادائیگی میں زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے ۔چاہے یہ نیت مستحق کو دینے کے وقت ہو یا مال ِزکوۃ کو بقیہ مالوں سے جدا کرتے وقت ہو ۔ اس لئے اگر کسی کو پہلے سے قرض دے رکھا ہے اور وہ مستحق ہے تو اس واجب الاداء قرض میں زکوۃ کی نیت کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی ، البتہ ایسے صورت میں یہ کیا جاسکتا ہے کہ زکوۃ کی رقم اس کو دے کر پھر اس سیقرض وصول کرلے۔
زکوۃ کے مصارف
قرآن مجید میں زکوۃ کے کل آٹھ مصارف کا ذکر کیا گیا ہے:
(الف) فقیر: یعنی وہ شخص جو بالکل نادار ہو۔
(ب) مسکین: جس کے پاس سامان کفایت کا کچھ حصہ ہو، لیکن پورا نہیں اور ابھی اس کی حاجت باقی ہو ۔
(ج) ’’عاملین‘‘ : یعنی جن کو زکوۃ و عشر وغیرہ کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔ یہ صاحب نصاب ہوں تب بھی انہیں زکوۃ میں سے ان کے کام کی اجرت کے طور پر زکوۃ دی جاسکتی ہے ، اور وہ لے سکتے ہیں۔
(د) مقروض: جس کو قرآن نے ’’غارمین‘‘ کہا ہے ،یعنی ایک شخص صاحب نصاب ہو، لیکن اس پر لوگوں کے اتنے قرض ہوں کہ ان کو ادا کرے تو صاحب نصاب باقی نہ رہے ،ایسے شخص کو زکوۃ دی جاسکتی ہے۔
(ہ) فی سبیل اللہ : احناف کے یہاں اس سے خصوصیت کے ساتھ وہ اہل حاجت مراد ہیں جو جہادیا دینی تعلیم کے حصول میں لگے ہوئے ہوں ۔
(د) مسافرین: یعنی وہ لوگ جو اصلاً تو زکوۃ کے حقدار نہ ہوں، لیکن سفر کی حالت میں ضرورت مند ہوگئے ہوں، یہ زکوۃ لے سکتے ہیں مگر اتنا ہی لیں جتنا سے کام چل جائے ۔
زکوۃ کی رقم صرف مسلمانوں ہی کو دی جائے گی، اس لئے مسلکی اختلافات اور نظریات وعقائد سے قطع نظر تمام مسلمانوں کو زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے، البتہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور ان میں جو حاجت مند ہوں ان کی حاجت روائی اور مدد کی تعلیم دیتا ہے اس لئے نفلی صدقات ان کو دے سکتے ہیں ، اور اسلام کی تعلیم یہ بھی ہے کہ مسلمان اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے زکوۃ کے علاوہ نفلی صدقات بھی اپنے مال سے نکالیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: إِنَّ فِي المَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ (ترمذی:۶۵۹) ’’ مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔
بنو ہاشم و سادات کو (جن کی حاجت کسی اور مد سے پوری نہ ہو پائے) زکوۃ دی جاسکتی ہے، عصر حاضر میں متعدد علماء اس کے قائل ہیں؛ کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ عام فقراء کی ضرورت پوری ہو اور بنو ہاشم اور سادات کے فقراء پریشان رہیں، البتہ یہ بہتر ہوگا کہ ان کے اکرام میں ان کو زکوۃ کی رقم زکوۃ بولے بغیر دی دی جائے؛ کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے دینے والے کی صرف نیت کافی ہے۔
والدین، دادا، دادی، نانا، نانی، اولاد اور ان کا سلسلہ اولاد، شوہر، بیوی، ان اقرباء میں شامل ہیں جنہیں زکوۃ نہیں دی جاسکتی ۔ ہاں چچا ،چچی، ماموں ،ممانی ،بہن ،بہنوئی، بھائی ،بھابھی ، خسر، خوش دامن اور ان کی اولاد وغیرہ کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ۔ بلکہ حاجت کی صورت میں ان کو دینے میں زیادہ اجر ہے۔البتہ ان قرابت داروں کو اسی طرح بنوہاشم وسادات زکوۃ دینے میں ان کی عزت کی خاطر یہ خیال رکھا جائے کہ ان کو زکوۃ کہہ کر نہ دیا جائے ،بلکہ دل میں نیت کرکے دے دیا جائے ، اور اصل اسی نیت کا اعتبار ہے ۔
جو شخص بنیادی ضروریات کے علاوہ زمین، کھیت، فاضل مکان، غیر استعمالی کپڑے وغیرہ اشیاء میں اتنی جائیداد کا مالک ہو کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچ جاتی ہوتو اس کے لئے ز کوۃ لینی جائز نہیں ۔
محتاج اور مالدار ہونے میں نابالغ بچوں کا وہی درجہ ہوگا جو ان کے باپ کا ہے، باپ کے لئے زکوۃ جائز ہوتو ان کے لئے بھی زکوۃ جائز ہوگی، اور باپ کے لئے زکوۃ جائز نہ ہوتو ان کے لئے بھی زکوۃ جائز نہ ہوگی۔ بالغ لڑکوں کے فقیر و مالدار ہونے میں خود ان کا اعتبار ہے، باپ گو مالدار ہو، لیکن لڑکے محتاج ہوں تو زکوۃ لے سکتے ہیں۔
محتاج علماء ، علوم دینیہ کے طلباء اور دین دارمحتاج کو زکوۃ دینے میں زیادہ ثواب ہے۔
یہ بات بہتر ہے کہ اہل شہر کو زکوۃ دینے میں اولیت دی جائے، ہاں ! اگر دوسری جگہ زیادہ محتاج لوگ ہوں، دینی ادارے ہوں، اقرباء ہوں، تو دوسرے شہر کو زکوۃ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ زیادہ بہتر ہے۔
زکوۃ کے جو مدات قرآن مجید نے متعین کئے ہیں اگر ان میں سے ایک یا بعض ہی پر پوری زکوۃ صرف کردیں تو کوئی حرج نہیں۔
بہتر ہے کہ زکوۃ اتنی مقدار میں دی جائے کہ ضرورت پوری ہو جائے، مقروض ہوتو قرض ادا ہو جائے، مسافر ہوتو منزل تک پہنچ جائے، فقراء کو امام ابو حنیفہؒ کے یہاں بہتر ہے کہ ایک مقدار نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم دے ، مقدار نصاب سے زیادہ دے تو زکوۃ ادا ہو جائے گی، لیکن ایسا کرنا ان کے نزدیک مکروہ ہے۔ کثیر العیال شخص کو مقدار نصاب سے زیادہ زکوۃ دی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس کے زیر پرورش لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو فی کس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہر ایک کے حصہ میںآتی ہوتو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
مردوں کی تجہیز و تکفین اور مسجدوں کی تعمیر میں زکوۃ کی رقم صرف نہیں کی جاسکتی۔ پلوں کی تعمیر، سڑکوں کی مرمت اور اس طرح کی دوسری چیزوں میں بھی زکوۃ صرف نہیں کی جاسکتی۔
زکوۃ کی رقم کو قرض کے لین دین کے لئے محفوظ کرنا، یا کاروبار میں لگانا اور اس کا نفع فقراء پر تقسیم کرنا درست نہیں اور اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔
ایسے ضروری دینی اور قومی کام جن پر زکوۃ کی رقم صرف نہیں کی جاسکتی، اس کا اگر کسی فقیر کو مالک بنادیا جائے اور وہ زکوۃ کی وہ رقم ایسے کاموں پر صرف کرے، یا کسی کو خرچ کرنے کے لئے دے دے تو کوئی حرج نہیں۔
زکوۃ کے مال سے کوئی کتاب چھپواکر یا اسلامی سی ڈی وغیرہ بنواکر عام لوگوں میں تقسیم کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔
یہ ہیں زکوۃ کے چند اہم مسائل ، ہمیں چاہئے کہ ہم محض اللہ کی رضا کی خاطر اس عبادت کو انجام دیں اور احسان جتاکر یا دکھلاوا کرکے اس عبادت کو ضائع نہ کریں ؛ کیونکہ اللہ غنی ہے اور شرک سے پاک ہے ،وہ کسی ایسے عمل کو قبول نہیں کرتا جس میں اس کے علاوہ کوئی اور مقصد عمل کرنے والے کے پیش نظر ہو۔
٭٭٭
Login Required to interact.

