مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
اسلام نے انسانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے عقائد اور اعمال کو درست رکھیں ؛کیونکہ ان میں بگاڑ اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے ۔
عقائد میں بگا ڑ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اللہ اور اس کے رسول کی تعلیم کے برخلاف کسی ایسی بات پر یقین کرے ،یا کوئی ایسی بات دل میں بٹھالے، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،یا جس سے اسلام نے منع کیا ہے ۔
جب ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار برائیاں اور غلط خیالات نے معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، جیسے کہ ایک برا خیال یہ ہے کہ ماہ صفر منحوس ہے اور اس میں کوئی اہم کام کرنا بے برکت ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ محرم اور صفر کے مہینوں میں شادی وغیرہ کا اہتمام کرنے سے پرہیز کیا جاتا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت ہی غلط خیال ہے ، اور مسلمانوں کو اس سے بچنا لازم ہے ، اصل بات یہ ہے کہ اسلام نے کسی بھی چیز کو منحوس تصور کرنے یا کسی چیز سے بدشگونی لینے سے سختی سے روکا ہے ،اور یہ تعلیم دی ہے کہ کسی چیز سے برافال لینے کے بجائے نیک فال لیا جائے ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
کسی کی بیماری کسی کو لگ جانے اور بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے (یعنی یہ غلط خیال ہے) اور مجھے نیک فال پسند ہے (بخاری : ۵۳۱۵)
نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نیک فال کو پسند کرتے تھے اور برے فال کو ناپسند کرتے تھے ( ابن ماجہ : ۸۰۴۳)
یعنی کسی چیز کو دیکھ کر یا سن رسول اللہ ﷺ اس کو کسی خیر پرتو محمول کرتے ، لیکن کسی چیز کو کسی شر اور برائی پر محمول نہیں کرتے تھے ، جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ راستہ سے بلی گزر گئی تو سفر کو نقصاندہ سمجھتے ہیں یا کسی خاص چڑیا کی آواز کو ہلاکت وبربادی کی علامت سمجھتے ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس کسی شخص نے ایک چڑیا کی آواز سنی تو اس شخص نے کہا : خیر ، خیر، یعنی کوئی خیر ملے گی ۔ تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ اس کے پاس نہ خیر کا علم ہے اور نہ شر کا ،بلکہ وہ تو اپنی فطرت کے موافق اپنی خواہش سے بول رہی ہے ، اس کی آوازکسی خیر یاشر کی اطلاع نہیں ہے ۔ (فتح الباری : ۱۶؍۲۸۹)
اسی یہ معلوم ہوگیا کہ طوطے سے یا گائے سے فال نکلوانااور مستقبل کی کوئی بات معلوم کرنا کس قدر بری بات ہے ، طوطا اور گائے بھی اللہ کی مخلوق ہیں ، اور ان کو کسی کے خیر وشر یا کسی کے مستقبل کا کچھ بھی علم نہیں ہے ۔اور ان کے بارے میں ایسا تصور کرنا کہ ان کے ذریعہ مستقبل کی کوئی بات معلوم ہوجاتی ہے ،سراسر شرک ہے ، کیونکہ مستقبل کی باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے ، اللہ کا ارشاد ہے :
وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمها الا هو (سورہ انعام : ۵۹)
’’اسی کے پاس غیب کے خزانے ہیں ان کو صرف وہی جانتا ہے ‘‘
اس لئے ہمیں نہ تو کسی چیز سے برا فال لینا چاہئے اور نہ ہی فال نکلوانے کے لئے کسی کاہن یا کسی فال نکالنے والے کے پاس جانا چاہئے ، کیونکہ اسلام میں اس کو بہت ہی براعمل کہا گیا ہے ، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کاہن کے پاس گیا ،اور اس کی بات کو سچا مان لیا ،تو گویا اس نے رسول اللہ ﷺ کی شریعت کا انکار کردیا ۔(سنن ابن ماجہ: ۶۳۱)
غور کیجئے کہ کتنی سخت وعید ہے کسی کاہن ، نجومی وغیرہ کہ پاس جانے اور اس کی باتو ں تصدیق کرنے پر ، اس کا تقاضا یہ کہ ہم مسلمانوں کے اندر یہ خرابی نہیں ہونی چاہئے بلکہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہونا چاہئے کہ خیر وشر اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے ، وہ اگر کسی کو خیر سے نوازنا چاہے تو کوئی اس کو اس خیر سے محروم نہیں کرسکتا اور اگر وہ کسی کو شر سے دوچار کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی چیز اسے اس شر سے بچا نہیں سکتی ۔کیونکہ اس کے فیصلہ کو تبدیل کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔
Login Required to interact.

