مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
===========
عن ابی هریرۃ ان النبی ﷺ قال: ایاکم والحسد فان الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب (سنن ابی داؤد:۴۲۵۷)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم حسد سے بچو؛کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاجاتی ہے ‘‘
اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ایک انتہائی خطرناک روحانی بیماری سے بچنے کی تعلیم دی ہے ،جس کی تباہی دین واخلاق تک ہی محدود نہیں ہے ،بلکہ اس کی ہلاکت خیری کا دائرہ اتناوسیع ہے کہ جب وہ کسی کے اندر پیدا ہوجاتی ہے تو اس کے دین واخلاق کو بھی بگاڑ دیتی ہے اور اس کی دنیا کو بھی تباہی سے ہمکنار کردیتی ہے ،بلفظ دیگر اس کے دین اور اس کی دنیا دونوں ہی کو برباد کردیتی ہے ۔ وہ روحانی بیماری حسد ہے ، کہ جب انسان اس روحانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے دین وایمان اور اپنی دنیا دونوں کو یقینی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
اس کی اسی خطرنا کی کی وجہ سے متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس سے بچنے کی تعلیم دی ہے اور علماء اور شارحین حدیث نے تعلیم نبوی کی روشنی میں اس کی حقیقت اور اس کی ہلاکت خیزی کو مزید نمایاں کیا ہے ۔ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے اس کی خطرنا کی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
دب الیکم داء الامم قبلکم الحسد والبغضاء ، ہی الحالقۃ ، حالقۃ الدین لا حالقۃ الشعر، والذی نفس محمد بیدہ لا تؤمنوا حتی تحابوا ألا أنبئکم بأمر اذا فعلتموہ تحاببتم ، أفشوا السلام بینکم (السنن الکبری للبیہقی:۲۱۵۹۶)
’’تمہارے اندر پچھلی امتوں کی بیماری : بغض وحسدپیدا ہوگئی ہے، وہ مونڈنے والی ہے ، دین کو مونڈنے والی ،نہ کہ بال کو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ، تم مؤمن کامل اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اسے اختیار کرلوگے تو آپس میںمحبت کرنے لگوگے، وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرو‘‘
اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے بغض وحسد کی خطرنا کی کو بیان کیا اور اس سے بچنے کی تدبیر بھی بتادی کہ آپس میں سلام کو عام کرنے سے اس روحانی بیماری کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور آپس میں الفت ومحبت کا ماحول پیدا ہوتا ہے ۔
آج یہی سنت :’’سلام‘‘ لوگوں کی زندگی سے بالکل رخصت ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے بغض وحسدنے معاشرہ کو اپنے شکنجہ میں لے رکھا ہے اور پھر اس کی وجہ سے رات دن فتنے اور حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں، معاشرہ میں امن سکون کے بجائے قتل وغارت گری اوردہشت ووحشت کا راج ہوتا جارہا ہے اوروہ انسان جس کی زندگی محبت ریز اور الفت وانسیت سے لبریز ہونی چاہئے ،اس نے اپنا شیوہ نفرت انگیزی اور دہشت گردی بنالیا اور پھر آپسی نفرت کا اتنا زور بڑھا کہ آپسی خونی رشتے کی حرمت بھی پامال ہوگئی اور چند دنیوی مفاد کو حاصل کرنے کے لئیبھائی کے ہاتھوں سے بھائی اور بہن کا اور بیٹے کے ہاتھ سے باپ اور ماں کا قتل بھی عام ہوگیا۔
نبی اکرم ﷺ نے امت کو اسی ’’درندہ صفت زندگی‘‘ سے بچانے کے لئے بغض وحسد سے دور رہنے کی تلقین کی اور ان طریقوں کو اختیار کرنے کی تعلیم دی جن سے آپسی محبت کا ماحول پیدا ہوتا ہے ۔اور محبت پیدا کرنے والی چیزوں میں سے ایک چیز سلام بھی ہے کہ اس سے خود بخود نفرت کے ماحول کی جگہ محبت کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے ،ایک عربی شاعرنے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
قد یلبث الناس حینا لیس بینہم
ود، فیزرعہ التسلیم واللطف
’’بسا اوقات لوگ ایک طویل عرصہ اس طرح گزار دیتے ہیں کہ ان کے درمیان محبت نہیں ہوتی ہے ،پھر سلام اور لطف ومہربانی ان کے درمیان محبت پیدا کردیتی ہے ‘‘
بہرحال رسول اکرم ﷺ نے ایک مربی اور دانا حکیم کی حیثیت سے بیماری کی تعیین کی اور اس کا علاج بھی بتا یا ، اب ہم مریضوں کی ذمہ داری ہے کہ اس نسخہ نبوی کو قبول کرکے اپنی اس روحانی بیماری کا علاج کریں ،تاکہ برے انجام سے بچ سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حسد تمام روحانی بیماریوں میں سب سے بڑی اور خطرناک بیماری ہے، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’بری خصلتوں میں سے کوئی بھی خصلت حسد کے برابر نہیں،یہ بیماری ،حاسد کو اس شخص تک رسائی سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتاردیتی ہے جس سے یہ حسد کرتا ہے ‘‘ (ادب الدنیا والدین:۳۳۴)
محققین علماء نے لکھا ہے کہ آسمان و زمین :دونوں جگہوں پر سب سے پہلے اللہ کی نافرمانی حسد کے زیر اثر وجود میں آئی ۔آسمان پر ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے سجدہ سے انکار کرکے سب سے پہلے اللہ کی نافرمانی کی اور زمین پر قابیل نے ہابیل کو قتل کرکے سب اللہ کی نافرمانی کی ،ان دونوں نافرمانیوں کے پیچھے درحقیقت حسد کا رفرماتھا۔(النکت والعیون:۴؍۴۷۴)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسد متعدد برائیوں کی بنیاد ہے اور اس سے انسان کا دین وایمان خطرہ میں پڑجاتا ہے ،بلکہ انسانی جان کو بھی اس سے خطرات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،اور کچھ ہو یا نہ ہو اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ حسد کرنے والا اپنے حسد کی آگ میں مسلسل جلتا رہتا ہے اور وہ اپنے حسد کی وجہ سے خود ذہنی طور پرپریشان رہتا ہے اور تناؤ اور بے چینی کا شکار رہتا ہے ،خاص طور پر اس وقت جب کہ وہ اس شخص کو جس سے یہ حسد کررہا ہے خوش دیکھتا ہے ،تو اس کی بے چینی اور بھی بڑھ جاتی ہے، اسی لئے عبداللہ بن المعتز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’اگر کوئی تم سے حسد کرتاہوتو تم اس کے مکر وفریب پر صبر کرو ، تمہارا صبر ہی اسے مارڈالے گا‘‘(ادب الدنیا والدین)
یہ تو ہے حسد اور انسان کے دین ودنیا کے لئے اس کی خطرنا کی !کہ وہ انسان کی نیکیوں کے لئے زہر قاتل ہے اور وہ انسان کی نیکیوںں کو چلا ڈالنے کے ساتھ ساتھ انسان کے وجود کے لئے بھی خطرہ ہے ، اس لئے اس بچنا بہت ضروری ہے ۔
اسی جیسی ایک چیز اور ہے، جسے رشک کہتے ہیں، ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ حسد کرنے والے کی تمنا اور خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ جس سے حسد کررہا ہے اس سے نعمت چھین لی جائے اور وہ نعمت اسے حاصل ہوجائے، جبکہ رشک کی حقیقت یہ ہے کہ رشک کرنے والاکسی کی حاصل شدہ نعمت کے ختم ہونے کی تمنا کرنے کے بجائے صرف یہ تمنا کرتا ہے کہ ا س جیسی نعمت اسے بھی حاصل ہوجائے، اس فرق کی وجہ سے شریعت اسلامیہ میں حسد کی طرح ’’رشک ‘‘ ممنوع نہیں ہے ۔کیونکہ جس طرح حسد میں بہت سے برائیاں پوشیدہ ہیں ’’رشک ‘‘ میں نہیں ہیں اور اس کی طرح اس کا انجام بھی برا نہیں ہے ،بلکہ بہت سی مرتبہ رشک کے اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہیں،اسی لئے اچھی اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ چیزوں میں رشک کو اسلام میں پسند کیا گیا ہے ، مثلا کو ئی کسی کی کسی نیکی کو دیکھ کر رشک کرے کہ اس جیسی نیکی کا موقع اور اس کی توفیق اسے بھی مل جائے۔
رشک وحسد کے درمیان اسی فرق کے پیش نظر رسو ل اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
المؤمن یغبط والمنافق یحسد (احکام القرآن للقرطبی:سورۃ الفلق)
’’مؤمن رشک کرتا ہے اور منافق حسد کرتا ہے‘‘
اسی رشک کے معنی میں حسد کالفظ استعمال کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی ہے، جس میں آپ نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور علم وحکمت پر رشک کرنے کی ترغیب دی ہے ، آپ فرماتے ہیں:
لا حسد الا فی اثنین : رجل آتاہ اللہ مالا فسلطہ علی ہلکتہ فی الحق ورجل آتاہ اللہ الحکمۃ فہو یقضی بہا ویعلمہا (بخاری:۶۶۰۸)
دو چیزوں کے سوا کسی بھی چیز میں حسد جائز نہیں، ایک تواس شخص پر رشک کرنا (جائزہے) جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق کے سلسلہ میں اس مال کو خرچ کرنے کی توفیق دی،دوسرے وہ شحص جسے اللہ نے حکمت سے نوازا ،اور وہ اس حکمت کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اسے دوسروں کو سکھاتا ہے‘‘
اس فرمان نبوی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کی اچھائیوں کو دیکھ کر رشک کرنا اور یہ تمنا کرنا کہ اس جیسی صلاحیت مجھے بھی حاصل ہوجائے تاکہ میں بھی ان اچھائیوں پر عمل پیرا ہوسکوں اور مجھے بھی یہ فضیلت حاصل ہوجائے،شرعا ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ومحمود ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ رشک وحسد کے درمیان فرق ہے ، حسد اسلام میں ممنوع ہے اور رشک کی اجازت ہے ،اس لئے اس فرق کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود کو حسد کی بیماری سے بچانے کی تدبیر اورکوشش کرنی چاہئے اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کے جب اللہ کا در ہر ایک کے لئے کھلا ہوا ہے ،تو جس ذات نے اس بندے کو نواز رکھاہے ،جس کی نعمت کی طرف ہماری نگاہ اٹھ رہی ہے ، وہ ہمیں بھی اس جیسی بلکہ اس سے بھی اعلی نعمت سے نوازنے پر قادر ہے ،اس لئے ہم رشک کرتے ہوئے خود کو حسد سے بچائیں گے اور اس رشک کی تکمیل کی فریاداس بے پایاں نوازنے اور دادودہش کرنے والے اللہ سے کریں گے،جس کے درپر ہر سوال کنندہ کی قدر کی جاتی ہے ۔
علماء نے لکھا ہے کہ اللہ نے انسان کو جن نعمتوں سے نواز رکھا ہے اس کی قدر کرنے ، اس پراللہ کا شکر ادا کرنے اور تقسیم الہی سے خودکو راضی رکھنے سے انسان حسد جیسی بیماری سے بچ جاتا ہے ۔
اس لئے ہمیں چاہئے کہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے رہیں اور اپنی تمناؤںکو اسی سے وابستہ رکھیں تاکہ حسد جیسی مہلک بیماری سے بچنے کے ساتھ ساتھ ہماری تمناؤں کو تکمیل بھی ہو ۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب وہو حسبی ونعم الوکیل

