غلطیوں کا احساس شیوۂ انسانیت

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
=======
اچھے برے کی امتیاز کرنے والی عقل وخرد کی بنیاد پرہی انسان تمام حیوانات سے ممتاز ہے ، ورنہ نفس احساس وشعور تمام حیوانات کے اندرپائے جاتے ہیں،اور انسانوں کی ہی طرح ٹھنڈی ،گرمی، بھوک پیاس ،تکلیف وآرام وغیرہ عام حیوانات بھی  محسوس کرتے ہیں۔
ان کے اسی احساس وشعور کے پیش نظررحمت عالم رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے حقوق بھی بیان کئے ہیں،مثلا جس جانور کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا جارہاہو اس کے بارے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیم یہ ہے کہ ان کو ذبح کرنے سے پہلے چھری اچھی طرح تیز کرلی جائے، تاکہ چھری کے کند ہونے کی وجہ سے ذبح میںجانور کو زائد تکلیف سے دوچار ہونا نہ پڑے،بلکہ چھری کے تیز ہونے کی وجہ سے بآسانی اورجلداز جلد اس کی حلقوم کٹ جائے اوراس کے اندر موجود قوت شعور جلد ختم ہوجائے ۔ اور اس قوت شعور کے ختم ہونے کی وجہ سے ذبح کی تکلیف سے اسے نجات ملے۔آپ نے فرمایا:
ولیحد احدکم شفرتہ ولیرح ذبیحتہ(مسلم)
’’تم میں کا ہر شخص اپنی چھری کوتیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کوآرام و سکون بخشے‘‘
ان کے اس احساس وشعور کے باوجود ان میںاور انسانوں میں فرق اس بنیاد پر ہے کہ انسانوں کی عقل میں اچھے برے کی تمیز کرنے کی جو صلاحیت ہے ،وہ عام حیوانات میں نہیں ہے ،یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنی عقل وخرد سے اچھائی اور برائی کا امتیاز نہیں کرتے ان کو اللہ تعالی نے جانوروں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے ،اور اس غفلت اور بے عقلی کے وجہ سے انہیں جہنم کی وعیدسنائی ہے ، اللہ کا ارشاد ہے :
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (اعراف:۱۷۹)
بہت سے لوگوں کوہم نے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے ،یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس دل ہیںلیکن وہ ان سے( حق )نہیں سمجھتے، ان کے پاس آنکھیں ہیں، لیکن وہ ان سے (اللہ کی قدرت کے دلائل )نہیں دیکھتے،ان کے پاس کان ہیں،لیکن وہ ان سے (حق اور نصیحت کی باتیں )نہیں سنتے،یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں،یہی لوگ غافل ہیں‘‘
ایسے لوگوں کو جانور بلکہ ان سے بھی بدتر اس لئے کہا کیا ہے کہ جانوروں کے پاس اچھے برے کی تمیز کی صلاحیت نہیں ہے، پھربھی اپنی وسعت بھر حس وشعور کے ذریعہ وہ بھی اپنا نقصان جن چیزوں میں محسوس کرتے ہیں اور جن چیزوں سے تکلیف کا انہیں اندیشہ ہوتا ہے ان سے وہ بھی بھاگتے ہیں اور دور ہوتے ہیں،جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب انہیں قصائی مذبح کی جانب لے جاتا ہے تو وہ پیچھے قدم کھینچتے ہیں،اپنے مالک کے ہاتھ میں ڈنڈا یا چھڑی دیکھ کر دور بھاگتے ہیں۔ اس کے برخلاف  انسان جسے یہ معلوم ہے کہ میری برائیوں کا انجام جہنم اور غصب الہی ہے، پھر بھی وہ اس سے بھاگنے کی کوشش نہیں کرتا اور اپنی عقل کو اپنی مفید راہ کی تجویز میں استعمال کرنے کے بجائے اس سے اپنے برے انجام کی تلاش کرتا ہے،اپنی آنکھ سے اللہ کی قدرت کے دلائل کو دیکھ کھر اپنے ایمان ویقین کو پختہ کرنے کے بجائے ان سے ناجائز چیزوں کو دیکھ کر خود کو جہنم کا مستحق بناتا ہے،اور اپنے کانوں سے وعظ ونصیحت سن کر اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے ان سے غلط باتیں سنتا ہے اور خود کو غصب الہی کے قریب کرتا ہے اور اس طرح وہ ان خداد نعمتوںسے اپنی آبادی کی راہ تلاش کرنے کے بجائے اپنی بربادی اور بدانجامی کا سامان مہیا کرتا ہے، اس لئے وہ اپنی اس غلط روش کی وجہ سے جانور وںسے بھی بدتر ہے ۔
انسانوں کو اچھے برے کی امتیاز کرنے والی عقل وخرد دینے کے ساتھ ساتھ اللہ نے اسے باختیار بنایا ہے ، تاکہ نیکی اور بدی کے اختیار میں اسے اختیار رہے اور پھر اس کے اختیار کے مطابق جزاوسزا کا فیصلہ ہو،ساتھ ہی اللہ نے انسانوں کو غلطیوں کا مرکب بنایا ہے ،تاکہ اس کی غلطیوں کے ذریعہ اس کے فکر وخیال میں اعتدال باقی رہے اوراسے اپنی حقیقت عبدیت کا اعتراف باقی رہے ،ورنہ ہمیشہ اپنا فیصلہ درست اور اپنی سونچ کو صحیح  پاکر ایک انسان خود کو ’’عقل کل ‘‘ اوراصل ’’مدبر ‘‘سمجھ سکتا ہے ۔گویا غلطیوں کا صدور انسانی زندگی کا ایک لازمی اور مفید حصہ ہے، ،اسی وجہ سے انسانی ترقیات اور تہذیب و تمدن کی وسعت اور ارتقا میں غلطیوں کا حصہ صحیح اقدامات اور راست روی سے شاید کم نہیں۔ بلکہ بعض انسانی فتوحات اور کامیابیوں کا سہرا ان ہی غلطیوں کے سر ہے۔ اس طرح انسانی تاریخ جس طرح انسانوں کے صحیح فیصلوں اور صحیح عمل کی مرہون منت ہے۔ اسی طرح غلطیوں، لغزشوں اور نادانیوں کی بھی۔ اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے آپ کو تاریخ میں بہت سی مثالیں ملیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جزیرہ نمائے سینا میں صحیح سلامت پہنچنا اور فرعون کے لشکر کا بحرا حمر میں غرق ہونا، حضرت موسیٰ کے رات کے اندھیرے میں راستہ بھول جانے کا نتیجہ تھا، نئی دنیا (امریکہ) کی دریافت ’’کولمبس‘‘ کی غلطی اور غلط فہمی کی رہین منت ہے ، جو ہندوستان کی تلاش میں نکلا تھا۔ 
اس لئے انسانوںسے غلطیوں کا صدورزیادہ معیوب نہیں،ہاں غلطیوں کا احساس نہ کرنا صحیح الفطرت انسان کا شیوہ نہیں۔ اپنی غلطیوں کا احساس نہ کرنا اور اپنے تجربوں اور ناکامیوں سے فائدہ نہ اٹھانا، غلطیوں اور ناکامیوں کے اسباب و علل کو تلاش نہ کرنا، ایک ہی غلطی بار بار کرنا، اور ایک ہی سوراغ سے بار بار ڈسا جانا، ایک صحیح الفطرت اور صحیح الحواس انسان کا شیوہ نہیں ہے،اسی پس منظر میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے :
لا یلدع المومن من جحر واحد مرتین(بخاری:۵۷۸۲)
’’مومن ایک سوارخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا‘‘ 
بلکہ وہ ایک مرتبہ ڈسے جانے کے بعد اس پر غور کرتا ہے اور جس غفلت کی وجہ سے اسے اس تکلیف دہ مرحلہ سے گزرنا پڑا ہے، اس کی شناخت کرکے اسے دور کرتا ہے۔کیونکہ مومن کو تو یہ کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا، جس کو اللہ تعالیٰ نے فراست ایمانی عطا فرمائی ہے اور عقل و تجربے سے فائدہ اٹھانے کی سب سے زیادہ دعوت دی ہے۔
قرآن شریف نے گروہ منافقین کی اس کمزوری اور عیب کو بیان کیاہے کہ وہ واقعات اور تجربات سے بالکل فائدہ نہیں اٹھاتے اور سال میں کئی کئی بار آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں،اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ  (التوبہ ۱۲۶)
’’ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں مگر اس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اورنہ کوئی سبق لیتے ہیں‘‘ 
منافقین کے برخلاف مومن کی شان کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
 وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ 
’’(وہ لوگ(مومن ) جب کوئی برا کام کرلیتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرلیتے ہیں توپھر وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں‘‘ 
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی غلطیوں کا احساس کرنا اور اس سے توبہ کرکے باز آجانا ہی کمال ایمان ہے اور یہی اصل شیوۂ انسانیت ہے کہ گناہ کے ارتکاب کے بعداپنے گناہوں اور غلطیوں کو محسوس کرکے اللہ کے دروازۂ مغفرت پر اپنی ندامت کی پیشانی رکھ دی جائی اور توبہ کرلی جائے ،فرمان نبوی ہے :
 کل بنی آدم خطاء  وخیر الخطائین التوابون (ترمذی: ۲۴۹۹)
’’ہر انسان خطاکارہے اورتوبہ کرنے والے ہی بہترین خطاکار ہیں‘‘
اس کے برخلاف اپنی غلطیوں کا احسا س نہ ہونا انسان کی بے توفیقی اوربہت بڑی محرومی ہے اور یہ ایک ’’روحانی جنون ‘‘ہے ،جس طرح ’’جنون‘‘ میں مبتلا مریض کو اپنے مریض ہونے کا احسا س نہیں رہتا جبکہ وہ بیمار ہوتا ہے، لیکن وہ آپ کو صحت مند تصورکرتا رہتا ہے ،اس لئے اسے اپنے علاج کی فکر نہیں ہوتی ، اسی طرح بے توفیقی کے ’’روحانی جنون ‘‘میں مبتلا شخص کو’’ روحانی علا ج‘‘ کی ضرورت رہتی ہے اور وہ اپنے اس مرض کی وجہ سے دن بدن برباد سے برباد تر ہوتا جاتا ہے ،لیکن سر تا پا گناہوں میں دوبے ہوئے ہونے کے باوجودبے توفیقی اور’’ر وحانی جنون‘‘ کی وجہ سے اسے اپنی غلطیوں کا احسا س نہیں ہوتا اور جب تک احساس جرم نہ ہوتوبہ اور معافی کی طلب پیدا نہیں ہوتی،اور وہ غلطیوں پر غلطیاں کرتا جاتا ہے، اور اتنی دور نکل جاتا ہے کہ پھر صحیح راہ پر واپس آنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ غلط راہ ہی اس کے لئے صحیح بن جاتی ہے ،اور اسی کو صحیح سمجھتے ہوئے وہ اپنی زندگی گزاردیتا ہے ۔اللہ نہ کرے کوئی مسلمان ایسی محرومی اور بدبختی سے دوچارہو۔
بہر حال اپنی غلطیوں کا احسا س ہوجانے سے انسان کو صحیح راہ پر چلنا نصیب ہوتا ہے اور توبہ کی توفیق ملتی ہے اور گمراہی اور کج روی سے نجات ملتی ہے ، اس لئے یہ اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے ،اوریہی شیوہ انسانیت ہے ۔
Login Required to interact.