مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
پورے عالم میں پھیلے ہوئے ’’کرونا وائرس‘‘ سے حفاظت کے لئے احتیاطی تدبیر وں کے ساتھ توبہ واستغفار اور دعاؤں کا اہتمام کیا جارہا ہے اور اس کی ترغیب دی جارہی ہے ، اسی بیچ ایک اپیل شوشل میڈیا پر گشت کررہی ہےکہ پورے عالم کے مسلمان رات کے ایک خاص حصہ میں اپنے گھر کی چھت سے اذان کی صدائیں بلند کریں؛ تاکہ اس کی برکت سے عذاب الہی کی شکل میں نازل ہونے والے اس مرض کا خاتمہ ہو، قابل غور بات یہ ہے کہ وبا کو دور کرنے اور اس سے نجات پانے کی غرض سے جس اذان کی ترغیب دی جارہی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور تعلیمات شریعت میں اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟
اذان کا مقصدِ اصلی نماز کے وقت کی اطلاع اور نماز کی دعوت ہے ، اسی لئے اس میں اللہ کی کبریائی ووحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی شہادت کے اعلان کے بعد حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کی ’’ندا‘‘ ہے اور فجر کی اذان میں اس وقت کی میٹھی نیند کو ترک کرکے نماز پر آمادہ کرنے کے لئے ’’الصلاۃ خیر من النوم‘‘ کا اضافہ ہے ۔
اذان کے مقصدِ اصلی کے تقاضے کے برخلاف نماز کے علاوہ جن دیگر مواقع پر اذان کی تعلیم ہے یا جن کا ذکر کسی روایتِ حدیث میں ہے ان میں سے ایک موقع بچوں کی ولادت کے بعد کا ہے کہ ولادت کے بعد ایک کان میں اذان دینا اور ایک کان میں اقامت کہنا مسنون ہے ، اس کے علاوہ ایک اور موقع پر اذان دینے کا ذکر احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا : جب تم شیطان کو دیکھو تو اذان دو ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۷۷)اسی طرح مسلم شریف کی ایک روایت سے شیطانی حرکتوں اور آسیبی اعمال کے ظاہر ہونے کے وقت شیطان کو بھگانے کے لئے اذان دینےکاثبوت ملتا ہے۔(مسلم شریف: ۳۸۹) نیز ایک روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں غمزدہ دیکھ کر ان کے کان میں اذان دینے کا حکم دیااور فرمایا کہ اس سے غم دور ہوتا ہے۔ (مسند الفردوس للدیلمی ، درجہ : ضعیف) اگر غور کیا جائے تو اس اذان کا تعلق بھی شیطانی اثر کو زائل کرنے سے ہی ہے؛ کیونکہ شیطان انسان کو تفکرات وہموم میں الجھا کر وساوس ، اندیشوں اور وحشت ودہشت سے دوچار کرتا ہے ۔
اس طرح احادیث سے اذان کے تین مواقع معلوم ہوتے ہیں: (۱) نماز کے وقت (۲) نومولود کے کان میں ( ۳) شیطان کو دورکرنے اور اس کے شر سے حفاظت کے لئے ۔
ان تین مواقع کے علاوہ کسی اور موقع پر بالخصوص آفات وبلیات اور مصائب کے وقت اذان دینے کا ذکر احادیث میں یا عملِ صحابہ میں نہیں ملتا ، رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں متعدد بار مختلف قسم کے مشکل حالات آئے ، ان مواقع پرآپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ نماز کا اہتمام فرماتے، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كَان النَّبِيُّ – صَلَّی اللهُ عَليه وسلم – إذا حَزَبَهُ أمْرٌ صَلّی ( نبی اکرم ﷺ کے سامنے جب بھی کوئی مشکل معاملہ پیش آتا تو آپ ﷺ نمازکا اہتمام فرماتے) جیسے کہ آپ ﷺ کی زندگی میں سورج گہن ہوا تو آپ ﷺ نے ’’نمازخسوف‘‘ کا اہتمام فرمایا ،بارش کی ضرورت وطلب بڑھی تو’’نماز استسقاء‘‘ کا اہتمام فرمایا، غزوات میں دشمنوں کا سامنا ہوا تو بھی نماز اور دعاؤں کے ذریعہ اللہ سےمدد ونصرت حاصل کیا، لیکن ایسا کسی روایت میں نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے کسی خاص مصیبت یا پریشانی کے وقت اذان دینے کا حکم دیا ، جب کہ آپ ﷺ کی زندگی میں کتنی ہی بار خطرناک مشکل ترین حالات آئے، اسی لئے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی کسی فتنہ ووبا کے موقع پر اذان دینے کا اہتمام نہیں کیا، بلکہ توبہ واستغفار، عبادت وانابت اور دعاؤں اور اذکار کو اختیار کیا، حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تاریخ کا مشہور طاعون : ’’طاعون عمواس‘‘ شام اور دیگر علاقوں میں پھیل گیا، اس میں تقریبا پچیس ہزار مسلمانوں نے داعی ٔاجل کو لبیک کہا ، لیکن اس موقع پر حضرت عمرؓ نے یا کسی اور صحابی ؓ نے اس طاعون سے نجات کے لئے اذان کا اہتمام نہ کیا اور نہ کرنے کو کہا ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصائب اور وباؤں کے وقت اذان دینا یا اس کی ترغیب دینا تعلیم شریعت اور نبوی سنت نہیں ہے، اور جوعمل کسی دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو اسے تقرب کی نیت سے کرنا اور اس کی ترغیب دینا شریعت کی نظر میں ’’اِحْدَاث فی الدِّین‘‘ (بدعت ) ہے، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ (ابن ماجۃ : ۱۴) ’’ جو شخص ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کرے جو (اصل میں) اس میں (شامل) نہیں ہے تووہ ناقابل قبول ہے ‘‘
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وبا کے زمانہ میں اذان دینے کو جن روایات کی بنیاد پر مستحب کہا جارہا ہے حقیقت یہ ہے کہ علمی اور فنی اعتبار سے وہ درست نہیں ہے ،حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت جس میں یہ ذکر ہے کہ جس بستی میں اذان ہو وہ بستی اس دن عذاب سے محفوظ ہوجاتی ہے محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، علامہ مناوی علیہ الرحمۃ نے فیض القدیر میں لکھا ہے کہ علامہ منذری علیہ الرحمۃ نے اسے ضعیف شمار کیاہے۔(فیض القدیر: ۱؍۲۵۳) اور اگر یہ کہا جائے کہ فضیلت کے باب میں حدیث ضعیف پر بھی عمل کیا جاتا ہے تو بھی اس روایت سےپنجوقتہ نماز وں کی اذان کی فضیلت ثابت ہوگی ، نہ کہ ان اذانوں کے علاو ہ کسی مخصوص اذان کی ؛ کیونکہ اس روایت میں کہیں بھی نمازوں کی اذان کے علاوہ اذان کاذکر یا اس کی ترغیب نہیں ہے۔
دوسری روایت جس میں یہ مذکور ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر نزول کے بعد وحشت محسوس کیا تو حضرت جبرئیل نے انہیں اذان دینے کو کہا، وہ روایت بھی حد درجہ ضعیف ہے ، علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس روایت کی سند میں متعدد مجہول راوی ہیں(فتح الباری: ۲؍۷۹)
اس لئے ایسے نازک حالات میں ہمیں سنت نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کی پیروی کرنی چاہئے ، اور راہ اتباع میں حضرات صحابہ کرام ؓ کو رہبر بناکر روح شریعت سے ہم آہنگ اعمال کی فکر کرنی چاہئے اور وہ یہ ہیں کہ ہم گناہوں سے توبہ کریں، استغفار کی کثرت کریں، نمازوں کا اہتمام کریں، رزق حلال کی فکر کریں ، روزہ مرہ کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے منکرات سے خود کو اور اپنے اہل وعیال کو بچائیں، صبح وشام کے اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کریں، اور اپنےرحیم وکریم رب کے درپر حالات کی بہتری کی فریاد لئے احساس عجز وندامت کے ساتھ بار بار حاضری لگائیں، بے شک وہی مشکل کشا اور مضطر کی فریادرسی کرنے والا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں ہر فتنے سے بچائے آمین، وَصَلَّی اللہُ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہِ وَصَحْبِہِ اَجْمَعِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
Login Required to interact.

