مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
====
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام پیشین گوئیاں چونکہ خداے علام کی اطلاع کی روشنی میں ہیں اس لئے آپ کی تمام پیشین گوئیاں حرف بحرف صادق ہوئیں ، ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی ہونگی۔ آپ ﷺ نے اپنی پیشین گوئی کے ذریعہ امت کو بہت سی چیزوں سے اس لئے باخبر کیا تا کہ امت کے افراد اس کی روشنی میں اس سے اجتناب کریں اور اس جرم میں ملوث نہ ہونے پائیں اور اگر اس میں ملوث ہوگئے تو اس سلسلہ میں آپ کی تعلیم کو اپنا راہ نما بنا کر راہ ہدایت اختیار کریں گویا آپ ﷺ نے اپنی بہت سی پیشین گوئیوں کے ذریعہ امت کو قبل از وقت کسی مہلک چیز سے خبردار کردیا ہے تا کہ وہ اس کی زد میں آنے سے بچ جائیں ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
اربع فی امتی من امر الجاھلیة لایترکونھن الفخر فی الاحساب والطعن فی الانساب والاستسقاء بالنجوم والنیاحة ( مسلم شریف : ۱؍۳۰۳)
میری امت میں جاہلیت کی چار چیزیں ہیںجن کو لوگ نہیں چھوڑیں گے (۱) اپنے حسب پر فخر (۲) دوسرے کے نسب پر طعنہ زنی (۳) ستاروں سے بارش کی طلب (۴) اور نوحہ خوانی
آج جب ہم اپنے معاشرے میں غور کرتے ہیں تو یہ تینوں باتیں ہم میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بدعات وخرافات ہمارے گھروں اور زندگیوں میں داخل ہوچکے ہیں اور اس طرح جڑ پکڑ چکے ہیں کہ ان کی مخالفت کو بدعت اور بے دینی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان پر عمل کرنے کو اتباع شریعت اور دینداری سمجھا جاتا ہے۔
آج جب کہ پوری دنیا ایک عجیب کش مکش کا شکار ہے اور اتحاد واتفاق کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں تو دوسری طرف دشمنوں نے مسلمانوں میں طرح طرح کی عصبیتیں پیدا کر رکھی ہیں، کہیں عرب وعجم کی عصبیت کام کر رہی ہے، کہیں عربوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے، کہیں مذہب کے نام پر لوگوں کو بھڑکایا جارہا ہے، کہیں خاندان و ذات وپات کے مسئلہ پر محاذ آرائیاں ہو رہی ہیں، کہیں علاقائی اور صوبائی عصبیتیں کام کر رہی ہیں، کہیں لسانی عصبیتوں نے بصیرت اور بصارت ختم کردی ہیں اور کہیں مہاجر اور غیر مہاجر کا ہنگامہ برپا ہے اور ان عصبیتوں کی وجہ سے جو فی الواقع ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور جن کو ایک دوسرے کا شریک غم ہونا چاہئے تھا ایک دوسرے کے جان لیوا بن رہے ہیں اور محض عصبیت کی بنا پر ظلم کر رہے ہیں اور اپنی قوم کے ظالموں کی پشت پناہی اور تعاون کر رہے ہیں اور اس کو عصبیت کے بجائے اپنی قوم کے ساتھ وفاداری اور محبت تصور کر رہے ہیں حالانکہ یہ محبت نہیں ہے بلکہ عصبیت ہے اور اسلام میں اس کی بالکل ہی گنجائش نہیں ہے ۔
ایک صحابی ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ عصبیت کی بات ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم سے محبت کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عصبیت نہیں ،لیکن عصبیت کی ایک صورت یہ ہے کہ ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے ۔ ( ابن ماجہ ۳۹۳۹ ۔ کتاب الفتن باب العصبیۃ )
حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے خون خرابے کے پیچھے عصبیت ہی ہوتی ہے اور معمولی ناچاقی عصبیت کی وجہ سے طول پکڑ لیتی ہے، جب دو آدمیوں میں کوئی مخالفت ہوتی ہے تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ان دونوں میں حق پر کون ہے اور کون ظالم ہے۔ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان میں کون میرا ہم زبان یا ہم وطن یا ہم قوم ہے اور اسی بنیاد پر مدد کی جانے لگتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لڑائی پھر دو آدمیوں کی نہیں رہتی بلکہ قبیلوں ، خاندانوں اور جماعتوں کی لڑائی بن جاتی ہے اور وحدت امت پارہ پارہ ہوجاتی ہے۔
حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ظالم کے ظلم کو شہ نہ دیا جائے بلکہ اسے ظلم سے باز رکھا جائے ،چاہے وہ اپنا قریبی کیوں نہ ہو اور مظلوم کی مدد کی جائے اور اس سے ظلم کا دفاع کیا جائے چاہے وہ اجنبی کیوں نہ ہو ، لیکن عصبیت کی دبیز پٹی جب آنکھ پر پڑجاتی ہے تو اسلام کی اس تعلیم سے انسان غافل ہوجاتا ہے ۔ بالآخر انسان ظالموں کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے اور اپنی آخرت کو دوسرے شخص کی دنیا کے لئے برباد اور تباہ کرلیتا ہے ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
من شرالناس منزلة یوم القیامۃ عبد اذھب آخرته لدنیا غیرہ (مشکوۃ المصابیح : ۴۳۵)
قیامت کے دن لوگوں میں سب سے برا آدمی وہ بندہ ہوگا جو اپنی آخرت کو دوسرے کی دنیا کی وجہ سے برباد کرلیتا ہے۔
اس لئے عصبیت کو دل سے نکال کر حق پسند ہونے کی ضرورت ہے تا کہ ہر قسم کے اختلاف سے پاک اور محبت والفت سے بھر پور معاشرہ کی تشکیل ہو اور ہم جو حقیقتا ایک دوسرے کے بھائی ہیں ظاہرا وباطنا بھی ایک دوسرے کے بھائی ہوجائیں۔ اور دشمنوں کی سازشوں کے زیر اثر ہمارے مابین پیدا ہونے والی دوریاں نزدیکیوں میں تبدیل ہوجائیں۔
آغیریت کے پردے ایک بار پھر اٹھادیں
بچھڑوں کو پھر ملادیں نقش دوئی مٹادیں
Login Required to interact.

