دعاء انس : ہر قسم کے دشمن سے حفاظت کے لئے مجرب دعا

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
 ===

سیاسی اور سماجی بگاڑ کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا کا جو منظر ہے وہ ہر اس شخص کے لئے تکلیف دہ ہے جس کے سینہ میں دل دردمند ہے، اندرونِ ملک کے حالات ہوں یا دنیا کے مختلف ممالک کے احوال ہوں شریف اور انسانیت کے اخلاقی اوصاف پر قائم انسان کے لئے یقیناً صدمہ کا باعث بنتے ہیں،اور ان حالات سے خوف ووحشت کی فضا بھی قائم ہورہی ، اور روز مرہ پرنٹ ، الکٹرانک اور شوشل میڈیا میں آنے والی خبروں اور انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعات سے ہرانسان میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔

ان حالات میں ہرانسان کو حفاظت کی فکر لاحق ہے اور ہونی بھی چاہئے ؛ کیونکہ فتنون سے حفاظت اللہ کی عظیم نعمت ہے ، اور یہ ایک حقیقت ہے جو کہ ہر مسلمان کے عقیدہ وایمان کا بنیادی حصہ ہے کہ اللہ کی حفاظت نصیب ہوجائے تو پھر پوری دنیا مل کر بھی نقصان نہیں پہونچا سکتی۔
نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایسی کئی دعائیں سکھلائی جن کا صبح وشام ورد جان ومال کی حفاظت کے لئے بہت مفید ہے اور ہردور میں اس کی برکت سے امت مستفیض ہوئی ہے ، ان ہی دعاؤں میں سے ایک بہت ہی اہم اور بہت ہی مجرب دعا وہ ہے جو’’ دعاء انس ‘‘ کے نام سے موسوم ہے ؛ کیونکہ یہ دعا رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو سکھلائی تھی ، اس لئے آج کل کے حالات میں تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اس دعا کو ضرور یاد کریں اور اہل وعیال اور دوست واحباب کو یاد کرائیں اور صبح وشام اس کو ضرور پڑھیں ان شاء اللہ ہر قدم پر اللہ کی حفاظت آپ کے ساتھ ہوگی ۔ عام طور اکابرین امت اس کی تلقین کرتے ہیں ۔  دعا یہ ہے :

بِسْمِ اللهِ عَلٰی نَفْسِیْ وَدِیْنِیْ، بِسْمِ اللهِ عَلٰی اَھْلِیْ وَمَالِیْ وَوَلَدِیْ، بِسْمِ اللهِ عَلٰی مَا اَعْطَانِیَ اللهُ، اَللهُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِهِ  شَیْئًا۔ اَللهُ اَکْبَرُ، اَللهُ اَکْبَرُ، اَللهُ اَکْبَرُ وَاَعَزُّ وَاَجَلُّ وَاَعْظَمُ مِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ ، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاوٴُکَ وَلَا اِلٰهَ غَیْرُکَ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطَانٍ مَّرِیْدٍ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ، فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ عَلَيْهِ وَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اِنَّ وَلِیِّیْ اللهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ۔  (کنز العمال : ۲؍ ۲۲۱، حدیث نمبر: ۳۸۵۰، عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی:۳۰۷)
دعاء انس کی برکت سے حجاج بن یوسف کا غصہ ختم 
عمر بن ابان کہتے ہیں کہ (انتہائی سفاک حاکم وقت)حجاج بن یوسف نے مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو لانے کے لئے بھیجا، اور میرے ساتھ کچھ گھڑ سواراور کچھ پیادہ فوج تھی، ہم ان کو لے کرحجاج بن یوسف کے پاس پہونچے، تو ان سے حجاج نے پوچھا: کیا تو انس بن مالک ہے؟ کہا: ہاں ، حجاج نے کہا: کیا تو وہ شخص ہے جو مجھے برا بھلا کہتا ہے ؟ انس بن مالکؓ نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ تو مجھ پر اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے ؛ کیونکہ تو اسلام کا دشمن ہے ، تو نے اللہ کے دشمنوں کی عزت افزائی کی ہے اور اللہ تعالی کے دوستوں اور ولیوں کو ذلیل کیا ہے ، حجاج نے کہا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں بلایا ہے ؟ فرمایا : نہیں معلوم ہے ، حجاج نے کہا : میں تجھے بری طرح قتل کرنا چاہتا ہوں، حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا: اگر میں تیری بات کے صحیح ہونے کا یقین رکھتا تو اللہ کو چھوڑ کر تیری عبادت کرتا اور رسول اللہ ﷺ کا بات میں شک کرتا ، مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات پر کامل یقین ہے ، آپ ﷺ نے مجھے ایک دعا سکھائی تھی اور فرمایا تھا: ’’جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھ لے گاکوئی شخص اس کو تکلیف پہونچانے پر قادر نہیں ہوگااور نہ کسی کو اس پر قدر ت حاصل ہوسکتی ہے‘‘اور میں آج صبح یہ دعا پڑھ چکا ہوں۔حجاج نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے وہ دعا سکھادیں ، انس بن مالک ؓ نے فرمایا : تو اس کا اہل نہیں ہے ، حجاج نے کہا : ان کا راستہ چھوڑ دو یعنی ان کو جانے دو،جب حضرت انس وہاں سے نکلے تو دربان نے حجاج سے کہا : اللہ امیر کی اصلاح کرے ، آپ تو کئی دنوں سے ان کی تلاش میں تھے، جب آپ نے ان کو پالیا تو چھوڑدیا؟ حجاج نے کہا: اللہ کی قسم میں نے ان کے کندھے پر دو شیر دیکھے، جب بھی میں ان سے گفتگو کرتا تھا تو وہ میری طرف لپکتے تھے،تو اگر میں ان کے ساتھ کچھ کرتا تو میرا کیا حال ہوتا۔جب حضرت انس ؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وہ دعا اپنے بیٹے کو سکھائی ۔
دعاء انس کے بارے میں کچھ تحقیقی باتیں اہل علم کی خدمت میں:
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ  نے فارسی میں اس کی تحقیق وتشریح لکھی ہے ، جس کو ’’استیناس انوار القبس فی شرح دعاء انس ‘‘کے نام سے موسوم کیا ہے ، مولانا یوسف لدھیانوی علیہ الرحمۃ نے آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ایک سوال کے جواب میں اس دعا کو نقل کیا ہے اور  حضرت شیخ کی پوری فارسی تشریح کو نقل کرکے اس کا ترجمہ تحریر کیا ہے ، ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں بھی بعینہ وہی اوپر والے الفاظ ہیں جو آوپر میں نے تحریر کی ہے ۔ ( آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸؍۲۵۲)
اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒنے اس دعا کو علامہ سیوطی ؒکی جمع الجوامع سے نقل کیا ہے، جب کہ علامہ سیوطی ؒ نے اس روایت کو ابوالشیخ اصفہانی کی کتاب الثواب سے اور ابن عساکر ؒ کی تاریخ دمشق سے نقل کیا ہے ؛کیونکہ حضرت شیخ عبد الحقؒ لکھتے ہیں:
’’شیخ جلال الدین سیوطی کہ از اعاظم علماء حدیث است در کتاب جمع الجوامع مے آرد کہ ابوالشیخ در کتاب ثواب و ابن عساکر در تاریخ آوردند کہ روزے انس رضی اللہ عنہ نزد حجاج بن یوسف ثقفی نشستہ بود الخ‘‘
تو اس سلسلہ کے پیش نظر میں نے علامہ سیوطیؒ کی جمع الجوامع دیکھی تواس میں ابوالشیخ کی کتاب ’’ الثواب‘‘ سے جو روایت سیوطیؒ نے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہےہیں:
بِسْم الله، والْحَمْدُ لله، مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله، لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِالله، باسْم الله عَلَى دِينى، وَنَفْسى، بِاسْم الله عَلَى أهْلِى وَمَالِى بِاسْم اللهِ عَلَى كل شَيء أعْطَانِى رَبِّي، بِسْم اللهِ خَيْرِ الأسْمَاءِ، بِسْم الله رَبِّ الأرْضِ والسَّمَاءِ، بِسْم الله الَّذِى لاَ يَضُر مَعَ اسْمِهِ دَاءٌ، بِاسْمِ الله افْتَتَحْتُ وَعَلَى الله تَوَكَّلتُ لاَ قُوَةَ إِلاَّ بالله، لاَ قُوَةَ إِلاَّ بِالله، لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بالله، والله أَكْبَرُ، الله أكبَرُ، الله أكْبَرُ، لاَ إِلَهَ إِلاَ الله الْحَليمُ الْكَرِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ الله الْعَلِىُّ الْعَظِيمُ، تَبَارَكَ الله رَبُّ السَّمَواتِ السَّبْع وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظَيم، وَرَبُّ الأرَضينَ، وَمَا بَيْنهُمَا، والْحَمْدُ لله رَبِّ العَالَمِينَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ، اجْعَلنِى فِى جِوارِكَ مِنْ شَرِّ كلِّ ذِى شَرٍّ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم، إِن وَلِيِّىَ الله الّذى نَزَّل الْكتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالحِينَ، فإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبى الله لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيم”. (جمع الجوامع: ۱۹۔۱۷۱)
جب کہ اسی جمع الجوامع میں علامہ سیوطی نے ابن عساکر سے جو نقل کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
 الله أَكبَرُ، الله أكبَرُ، الله أَكْبَرُ، بِاسْم اللهِ عَلَى نَفْسِى وَدِينى، بِاسْم اللهِ عَلَى أَهْلِى وَمَالِى، بِاسْم الله عَلَى كُلِّ شَىْءٍ أَعْطَانِى، بِسْم الله خَيْرِ الأسْمَاءِ، بِسْمِ الله ربِّ الأرْضِ وَالسَّمَاءِ، بِسْم الله الَّذى لاَ يَضُرُّ مَع اسْمه دَاءٌ، بِسْم الله افْتَتَحْتُ، وَعَلَى الله تَوَكَّلتُ، الله الله ربِّى لاَ أُشْرِكُ بِهِ أحَدًا، أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِكَ الَّذِى لاَ يُعْطيهِ غَيْرُكَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلاَ إِلَهَ إلَّا أَنْتَ، اجْعَلنِىَ في عِيَاذِكَ وَجِوَارِكَ مِنْ كُلِّ سُوءٍ وَمِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجيم، اللَّهُمَّ إِنِّى اسْتَجِيرُكَ مِنْ جَمِيع كُلِّ شَىْء خَلَقْتَ، وَاحْتَرِسُ بِكَ مِنْهُنَّ، وَأُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَى بِسْم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قُلْ هُوَ الله أَحَدٌ، الله الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كفُوًا أحدٌ عَنْ أَمَامِى، وَمِنْ خَلفِى، وَعَنْ يَمِينِى وَعَنْ شِمَالِى، وَمِنْ فَوْقِى وَمِنْ تَحْتِى، يَقْرَأُ في هَذِهِ السِّتِّ (قُلْ هُوَ الله أحَدٌ) إِلَى آخِرِ السُّورَةِ”.(جمع الجوامع : ۱۹۔ ۲۷۸)
ابن عساکرؒ نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے اس کے الفاظ میں کچھ فرق کو بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ مجھ سے متعدد ثقات نے بیان فرمایا ہے ، گویا کہ ان تک یہ روایت متعدد ثقات کے ذریعہ پہونچی ہے ۔ وأخبرني غير واحد من الثقات أن فيها وجل ثناؤك ثم عاد إلى حديث أبي موسى عن ابان ولا إله إلا أنت أجعلني في عياذك وجوارك من كل سوء ومن الشيطان الرجيم الخ (تاریخ دمشق : ۲۵؍۲۶۰)
تیسرے مقام پر جمع الجوامع میں علامہ سیوطی نے ابن سعد اور ابن السنی کی عمل الیوم واللیل سے ان الفاظ میں اس روایت کو نقل کیا ہے :
"اللهُ أكْبَرُ، اللهُ أكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، بِسْم اللهِ عَلَى نَفْسِى وَدِينى، بِسْم اللهِ عَلَى أَهْلى وَمَالِى، بِسْم اللهِ عَلَى كلِّ شَيء أعْطَانِى رَبي، بِسْم اللهِ خَير الأسمَاءِ، بِسْم اللهِ رَب الأرْضِ، وَرَبِّ السمَاءِ، بِسْم اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاء، بِسم اللهِ افْتَتَحْتُ وَعَلَى اللهِ تَوَكَّلتُ، اللهُ ربِّي لَا أشْرِكُ بِهِ أحَدًا، أسْألُكَ اللَّهُمَّ بخيركَ مِنْ خيرِكَ الذي لَا يُعْطِيهِ أحَد غيرُكَ عَزَّ جَارُكَ وَجَلّ ثَناؤُكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا أنْتَ، اجعلنى في عِيَاذِكَ وَجوَاركَ مِنْ كل سُوءٍ مِن الشَّيطَانِ الرَّجِيم، اللهُمَّ إِنى أسْتَجِيرُكَ من جميع كل شيء خَلَقْتَ، وأَحْتَرِسُ بِكَ مِنْهُنَّ، وأَقَدِّمُ بَينَ يَدَيَّ بِسْم اللهِ الرحمَنِ الرَّحِيم، قُلْ هُوَ اللهُ أحَدٌ، اللهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُن لَهُ كُفْوًا أحدٌ، من خَلفِى، وَعَنْ يَمِينِى، وَعَنْ شَمَالِى، وَمِنْ فَوْقِى، وَمِنْ تَحْتِى” يُقْرَأ فِي هَذ السِّت: قل هو الله أَحد، إِلى آخرِ السُّورَةِ”.(جمع الجوامع : ۳۔ ۴۴۹)
ان تینوں روایات کو جمع کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابن سعدؒ ، ابن السنیؒ اور ابن عساکرؒ کی روایت ایک جیسی ہے جبکہ ابو الشیخؒ کی روایت اس سے مختلف ہے اور شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلویؒ کے ذکر کردہ الفاظ جمع الجوامع کی تینوں روایتوں سے مختلف ہیں، البتہ ابوالشیخ کی روایت کے قریب ہیں۔ ابوالشیخ نے جن الفاظ میں اس دعا کو نقل کیا ہےاسی کے قریب قریب الفاظ میں محدث طبرانی نے بھی اس دعا کو نقل کیا ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں:
بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مَا أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ رَبِّي، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، أَجِرْنِي مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ، وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (الدعاء للطبرانی :  حدیث : ۹۷۷)
صاحب کنز العمال نے دونوں کی روایتوں کوادعیة الحرز کے باب میں نقل کیا ہے، اورسند کہ اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں ہی روایت ضعیف ہے ؛ کیونکہ جہاں ابان بن ابی عیاش متروک راوی ہیں جوکہ حضرت انس سے اس کو نقل کرتے ہیں ، وہیں بعض راوی مجہول الحال ہیں، البتہ ابوالشیخ کی کتاب میں مذکور دعا کی تائید طبرانی کی روایت سے ہوتی ہے ، اور وہ خود بھی ضعیف ہے ۔ شاید اسی بنیاد پر حضرت شیخ عبد الحق صاحب ؒنے اسی روایت کو اختیار کیا ہے ۔ واللہ اعلم
Login Required to interact.