ماحولیاتی آلودگی اور اسلام

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
تمہید موضوع
انسان کے اطراف موجود کائنات اور اس کی تمام چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ نے اس کائنات کو پہاڑوں، جنگلوں ، دریاؤں ،ندی نالاؤں، ہواؤوں اور دیگر مختلف چیزوں سے آباد کیا ہے اور زمین کو ان کا مستقر بنایا ہے ، اورآسمان کو اس پرمانند چھت بناکر خوبصورت ستاروں اور سیاروں سے اسے مزین کیا ہے، اور اس کے نیچے بادلوں کو انسان کی بنیادی ضرورت پانی سے بھر کر انسانوں کی آبی ضرورتوں کی تکمیل کی ہے، پھر زمین پر مختلف قسم کے چرند وپرند اور سمندر میں مختلف قسم کی مچھلیوں اور آبی حیوانات کو پیداکرکے انسانی کی غذائی ضرورتوں کے ساتھ ماحولیاتی ضرورتوں کی بھی تکمیل کی ہے ،کائنات کی یہ ساری ان گنت چیزیں خدائے قادر مطلق کی مخلوق ہیں ،جنہیں اس نے مناسب اور موزوں طریقہ پر استحکام کے ساتھ بنایا ہے ۔اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ(النمل : ۸۸)
’’اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو (مناسب انداز پر) مضبوط بنا رکھا ہے ‘‘
اللہ عزوجل نے کائنات کی ہر چیز کی تخلیق وابداع میں اس خصوصیت کا بھرپور خیال رکھا ہے کہ وہ چیز انسانی حیات اور انسان کے ساتھ زمین پر رہنے والی زندہ مخلوق کی حیات کے لئے مفید ہو،چناں چہ اللہ نے ہر چیز کی تخلیق صحیح متعین مقداروکمیت میں مناسب انداز وکیفیت پر مکمل موزونیت کے ساتھ کی ہے ، تاکہ وہ چیز اس متعین مقدار وکمیت میں اور اس مخصوص صفت وکیفیت کے ساتھ انسان کے اطراف آباد دنیا کی فضاء اور اس کے ماحول کے موافق فطرت رہنے میں مددگار بنے اور اس سے انسان کو ایک خوشگوار صحت بخش ماحول مل سکے ،جس میں وہ اپنی جان وصحت کے تحفظ کے ساتھ اپنے رب کی عبادت میں ہمہ وقت مصروف رہ سکے،اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (سورۃ القمر: ۴۹)
’’اور ہم نے پر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے ‘‘
نیز اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:
وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ (الحجر: ۱۹)
’’اور ہم نے زمین کو پھیلا یا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئے ، اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی ) نباتی چیز ایک متعین مقدار سے اگائی‘‘
موزوں اور مناسب انداز ومقدار میں کائنات کی یہ چیزیں جو انسان کے اطراف کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں جب تک ان میں فطری موزونیت اور کمیت وکیفیت باقی رہتی ہے، اس سے پیدا ہونے والا ماحول بھی فطری ہوتا ہے اور وہ انسان اور جاندار مخلوق کے لئے مفید ہوتا ہے ، اور جب فطری تخلیق میں انسانی الٹ پھیر شروع ہوتی ہے ، اور اس سے خدائی تخلیق کی کمیت وکیفیت میں تبدیلی ہوتی ہے تو اس سے کائنات کا ماحول غیر فطری ہوجاتا ہے جو کائنات کے لئے اور اس میں آباد انسان اور دیگر مخلوق کے لئے نقصاندہ ہوجاتا ہے ؛ کیونکہ غیر فطری چیزیں نقصاندہ ہی ہوتی ہیں۔
موجودہ زمانہ جو کہ نقل پر عقل کے غلبہ اور روحانیت پر مادیت کے غلبہ کا زمانہ ہے،اور مشینی دور ہے ، اس میں انسانی زندگی کے تمام اقدار یکسر تبدیل ہوچکے ہیں،اور انسانی فکر وعمل نے مختلف قسم کے حالات پیدا کردئے ہیں ، اوراس کی وجہ سے بہت سے وہ مسائل جو ماضی میں کبھی زیر بحث نہیں آئے اب آچکے ہیںیا آرہے ہیں، ان ہی مسائل میں سے ایک مسئلہ ماحولیاتی آلودگی (Environmental Pollution)کا مسئلہ بھی ہے ۔ بیسویں صدی کے نصف سے یہ مسئلہ عالمی مسئلہ بن کر ابھرا ہے،اور ۱۹۷۱ء ؁میں ماحولیات کا علم عالمی سیاست کا حصہ بن گیاہے ، ۱۹۷۲ ؁ء میں اقوام متحدہ نے سویڈن کی راجدھانی’’اسٹاک ہوم‘‘ (Stokholm) میں اس موضوع پر پہلا سمینار منعقد کیا، اور پھر ۱۹۹۷ ؁ء میں کائنات اور بالخصوص ’’کرۂ ہوا‘‘کے لئے ماحولیات کے خلاف انسانی حرکتوں کے نقصاندہ ہونے کا عالمی سطح پراعتراف کیا گیا ،اوردن بدن اس کی خطرناکیوں اور اس کے منفی نتائج سے پوری دنیا متحر ہے ، بالخصوص ٹکنالوجی سے مربوط وسیع صنعت کے فروغ کے بعد سے یہ مسئلہ حکومتوں کی توجہات کا مرکز بن گیا ہے ۔( تفصیل کے لئے دیکھئے: www.ar.wikipedia.org ، علم البےءۃ)
ماحولیاتی آلودگی بھی انسانی الٹ پھیر اور خدائی تخلیق کی کمیت وکیفیت میں رد وبدل کا انجام ہے ،نہ کہ آبادی اور انسانی نسلوں کے اضافہ کی وجہ سے ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے کائنات میں جو موزونیت رکھی ہے وہ قیامت تک کے لئے ہے ،اور اللہ کے نظام میں انسانی نسلوں کی کثرت مطلوب ہے ،یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ہر وہ عمل ممنوع ہے جس سے انسانی نسلوں کا تسلسل متأثر ہوتا ہو،اس لئے بجا طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر انسانی حرکتوں کے ذریعہ ماحول کو آلودہ نہ کیا جائے اور انسان ان چیزوں سے بچے جن سے ماحول آلودہ ہوتا ہے تو یقیناًکائنات کا نظام اور اس کا ماحول فطرت کے موافق قیامت تک برقرار رہے گا۔اوریہ حقیقت ہے کہ ماضی اور حال میں یہ مسئلہ زیر بحث صرف اس لئے بنا ہے کہ ماضی میں بہت سی ایسی انسانی غلطیاں ہوئی ہیں جنہوں نے ماحولیات پر برا اثر چھوڑا ہے ، مثلا:
دن بدن جنگلوں کی تعداد کو کم کیا گیا ، ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۰۰ ؁ء کے بعدسے ایتھوپیا کے ۹۰ فیصد جنگلات ختم ہوگئے ،اسی طری خلیجی جنگوں کے دوران سمندر میں بہائے گئے پٹرول سے پیدا ہونے والی آبی آلودگی سے پاکی کے لئے خلیج فارس کو ۱۸۰ ؍سال کی مدت درکار ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں نے کتنے بڑے پیمانے پر آلودگی کو پیدا کرنے کی سعی کی ہے ،اور اب اسی کے برے اثرات کو بھگتنا اس کا مقدر بن گیاہے ۔
اسی طرح زمینی ، فضائی اور بحری جنگ وجدال اور اس کے لئے طرح طرح کے آلات کی ایجاد اور اس کی مشق کی بھیانک غلطیوں نے بھی ماحولیات کی آلودگی کو پڑے پیمانے پر پیدا کیا ہے ، اور ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کاانجام مختلف امراض کی شکل میں ظاہر ہوا ہے ،عراق کویت جنگ کے دوران عراقی فوج کی جانب سے کویت کے ۷۲۷ سے زیادہ پٹرول کے کنویں جلائے گئے ، اور اس سے پیدا ہونے والے زہریلے دھواں نے بہت سے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ان جگہوں پر اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی نے انسانی صحت کو متأثر کیا ،اس کی وجہ سے لوگوں میں تنفس کی بیماریوں کے ساتھ قبل از وقت حمل کے ساقط ہونے اور پیدائشی نقائص کے ساتھ ولادت کی شکایتیں عام ہوگئیں ۔ (وییکیپیڈیا ،الموسوعۃالحرۃ) عراق میں امریکہ کی جانب سے نیوکلیر ہتھیاروں اور دیگر مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا شدہ فضائی آلودگی کی وجہ سے بہت سے امراض پیدا ہوئے ہیں اورناقص اور معذور بچوں کی شرح پیدائش میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ،۲۰۰۹ ؁ء سے پہلے کی ایک رپوڑٹ کے مطابق عراق جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کی وجہ سے چارہزار سات سو گیارہ عراقی کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے ہیں ، جبکہ ستر فیصد عراقی پھیپھڑے کے کینسر سے دوچار ہوچکے ہیں ، ۳۵؍ فیصد عراقی بچے دماغی کینسر میں مبتلا ہیں ، اور یہ تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے ( http://mosul-network.org/index.php?do=article&id=16938 )
نیز افغانستا ن کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے ، وہاں روز وشب کی بمباری کی وجہ سے ماحول اتنا آلودہ ہوچکا ہے کہ پاگل پن کے امراض بھی بہت بڑھ چکے ہیں۔ماہرین ماحولیات کے بقول وہاں جنگ کی وجہ سے آلودگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اگر یہ سلسلہ مزید جاری رہا تو وہاں کے باشندگان کی جتنی بڑی تعداد اب تک لقمہ جنگ بنی ہے اس سے بھی بڑی تعداد آلودگی کی وجہ سے مختلف امراض بالخصوص کینسر اور جلدی امراض میں مبتلا ہوکرلقمہ موت بنے گی۔ (www.sana.sy/ara/8/2010/12/03/321979.htm)
یہ انسانیت سوز حالات اس لئے رونما ہوئے کہ انسانوں نے زمین پر آباد ہوکر اس ذمہ داری کو فراموش کردیا جو اللہ کی طرف سے اس پر عائد کی گئی تھی ، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا ( ہود : ۶۱)
’’اس نے تمہیں زمین (کے مادے ) سے بنایا ہے اور اس میں تمہیں اس کو آباد کرنے والا بنایا ہے ‘‘
اس آیت کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ اس دنیا کو آباد کرنے کی سعی کرے ، اور فریضہ کی ادائیگی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جبکہ انسان ان چیزوں کو اختیار کرے جو آبادی کی راہ میں معاون ہو اور ان چیزوں سے مکمل اجتناب کرے جو اس کی آبادی اور اس میں آباد مخلوق کی صلاح وفلاح کے مغائر ہو، اور اگر کوئی چیز ایسی پیدا ہوجائے جس سے کائنات میں آباد مخلوق کی صلاح وفلاح متأثر ہو تو وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔
اسلام میں ماحولیات کے تحفظ کے اقدامات
اسلامی تعلیمات میں غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کائنات کے ماحول کی اہمیت کے پیش نظر اس نے روز اول سے ہی ایسی تعلیم دی ہے جس سے ماحولیات کی ہر قسم کی آلودگی سے پاک وصاف معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔اور اس نے ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو ماحول کو آلودہ کرتا ہے اور جس کے منفی نتائج انسان یا کسی مخلوق پر پڑتے ہیں۔اور ان چیزوں کی تاکیدی تعلیم دی ہے جو ماحول اورمعاشرہ کو پاکیزہ اور غیر آلودہ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔
(۱) صفائی اور نظافت ، حفظان صحت کے اہم اسباب میں سے ہے، نیز آلودگی کے خاتمہ کے لئے بھی صفائی لاز م ہے ، اسلام نے اس کی اہمیت کو اتنا بڑھایا کہ اسے مسلمانوں کا شعار اور ان کی پہچان بنادیا اور اس کا ترغیبی وتاکیدی حکم دیا، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
ان اللہ طیب یحب الطیب ، نظیف یحب النظافة ، کریم یحب الکرم ، جواد یحب الجود ، فنظفوا بیوتکم ، ولاتشبهوا بالیهود التی تجمع الأکناف فی دورها (مسند ابویعلی الموصلی :۷۹۰)
’’بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے ، صاف ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے ، کریم ہے کرم کو پسند کرتا ہے ، اور سخی ہے سخاوت کو پسند کرتا ہے ، اس لئے تم لوگ اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھا کرو ، اوران یہود کی مشابہت اختیار مت کرو جو اپنے گھروں میں کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں‘‘
نیز آپ ﷺ کا ارشادہے :
تنظفوا بکل ما استطعتم ؛ فان اللہ تعالی بنی الاسلام علی النظافة ، ولن یدخل الجنة الا کل نظیف (کنز العمال : ۲۶۰۰۲)
’’جہاں تک تم سے ہوسکے صفائی کرو ، کیونکہ اسلام کی بنیاد صفائی پر ہے اور جنت میں صرف صاف رہنے والے ہی داخل ہوں گے ‘‘
اس طرح اسلام نے پاکیزگی اور صفائی کو مومن کی پہچان بناکر ماحولیات کے تحفظ اورگندگی کے ذریعہ پیدا ہونے والی ہرقسم کی آلودگی کے خاتمہ کی بنیاد رکھ دی، کیونکہ صفائی کسی ماحول کے غیر آلودہ ہونے کے لئے لازم وضروری ہے۔
(۲) راستوں اور عوامی مقامات کوغلاظتوں سے گندہ کرنا بھی آلودگی کے اہم اسباب میں سے ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اتقوا الملاعن الثلاث : البراز فی الموارد والظل وقارعة الطریق (سنن ابن ماجۃ : ۳۲۸)
تین لعنت کی چیزوں: یعنی پانی لینے کی جگہ پر، سایہ میں (جہاں لوگ بیٹھتے ہوں ) اور راستہ میں قضائے حاجت کرنے سے بچو‘‘
نیز اگرکسی اور نے یہ غلطی کردی ہے تواس کے خاتمہ کے لئے راستوں سے گندی اور تکلیف دہ چیزوں کو صاف کردینے کو ایمان کا شعبہ بتاکر مسلمانوں کو اس کے صاف کردینے پر آمادہ کیا تاکہ راستے صاف ہوں اور زمینی اور فضائی آلودگی پیدا نہ ہو۔ آپ کا ارشاد ہے :
من اماط اذی عن طریق المسلمین کتبت له حسنة ومن تقبلت منه حسنة دخل الجنة (معجم طبرانی کبیر : ۱۶۸۹۶)
’’جس نے مسلمانوں کی راہ سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی ، اور جس کی ایک نیکی قبول ہوگئی تو وہ جنت میں داخل ہوگا ‘‘
ایک روایت میں تو اس کا ثواب دس گنا تک بیان کیا گیا ، آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
من عاد مریضا او انفق علی اهله اور ماز اذی عن طریق فحسنة بعشر امثالها (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۲۶۸۷۲)
’’جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا یا کسی راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا تو اس کی نیکی دس گنا ہے ‘‘
راستہ کی صفائی ہی کے حکم میں عوامی مقامات کی صفائی داخل ہے ، رسول اللہ ﷺ کی ان تعلیمات نے ماحول کو گندگی سے بچانے کی اہمیت کو اجاگر کردیا اور اس کی حقیقی فضیلت سناکر لوگوں کواس پر آمادہ کیا تا کہ ماحول کو پاک وصاف رکھنے کی فکر پیدا ہو اور پھر اس کی وجہ سے ماحول آلودگی سے مکمل پاک ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے راستہ سے ہٹانے والی چیز کو ’’اذی ‘‘ کا نام دے کر اس بات کی جانب اشارہ کردیا کہ صرف مخصوص گندگیوں کو راستوں سے دور کردینا کافی نہیں ہے ، بلکہ راستہ کو ہر اس چیز سے صاف رکھناضروری ہے جو باعث اذیت ہو،چاہے وہ محسوس اور مرئی ہو یا غیر محسوس اور غیر مرئی ہو۔ موجودہ پٹرولیم کے دور میں پٹرول سے پیدا ہونے والی آلودگی بھی بہت سے امراض کا سبب اور باعث اذیت ہے ، اس لئے ’’اذی ‘‘کے مفہوم میں وہ بھی داخل ہے ،جس کے دور کرنے کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی ہے ۔ اس لئے گاڑی چلانے کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ دینا ایک مومن کی ذمہ داری ہے کہ اس کی گاڑی ماحول کو آلودہ کرنے والے دھواں سے پاک ہو۔
راستوں کے ساتھ ساتھ گھریلو ماحول کو صاف رکھنا بھی ماحول کے بہتر ہونے کے لئے ضروری ہے اور راستوں کے بجائے گھر میں غلاظت اورپیشاب رکھنا بھی سائنسی تحقیق کے مطابق بہت برا اور نقصان دہ ہے ، سائنسی تحقیق کے وجود سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
لا ینقع بول فی طست فی البیت ؛ فان الملائکة لا تدخل بیتا فیه بول ینقع ، ولا تبولن فی مغتسلک (معجم اوسط طبرانی : ۲۰۷۷
’’گھر میں کسی طشت میں پیشاب نہ رکھا جائے ؛ کیونکہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں پیشاب ہو ، اور تم ہرگز اپنے غسل خانہ میں پیشاب مت کرو‘‘
(۳) آبی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر روک لگانے کے لئے آپ نے پانی کو گندگیوں سے آلودہ کرنے سے منع فرمایا، آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
لا یبولن احدکم فی الماء الدائم ثم یغتسل منه (بخاری : ۴۲۴)
’’ٹہرے ہوئے پانی میں کوئی ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اسی میں غسل کرے گا‘‘
اسی طرح پانی کو بلاوجہ ضائع کرنے سے بھی آبی آلودگی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات میں صرف بقدر ضرورت پانی کے استعمال کی تاکید کی ، حتی کہ وضو اور غسل کم سے کم پانی میں کرنے کی قولی وعملی تعلیم دی ، حضرت عبد اللہ بن عمرو فرماتے ہیں:
ان رسول اللہ ﷺ مر بسعد وهو یتوضأ ، فقال ماهذا السرف ؟فقال أفی الوضوء اسراف ؟ قال نعم وان کنت علی نهر جار (ابن ماجۃ : ۴۱۹)
’’رسول اللہ ﷺ حضرت سعدکے پاس سے گزرے اور وہ وضو کررہے تھے، تو آپ نے فرمایا: یہ کیسا اسراف ہے؟ حضرت سعد نے کہا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں (اس میں بھی اسراف ہے ) اگرچہ کہ تم بہتی ہوئی نہر سے وضو کرو‘‘
خود رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ایک لیٹر سے بھی کم صرف ایک ’’ مد ‘‘ ( ۶۸۸ ملی لیٹر) پانی سے وضو اور چار لیٹر پانی سے بھی کم صرف اور صرف ایک ’’صاع‘‘ ( ۳۸۰۰ ملی لیٹر) پانی سے غسل فرمالیا کرتے تھے ۔(بخاری : ۱۹۴)
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پانی کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کتنے محتاط تھے کہ آج یہ بات ناقابل تصور سی لگتی ہے کہ اتنے کم پانی میں غسل کیسے ہوسکتا ہے ؟!! جب کہ آپ ﷺ کے سر مبارک کے بال بھی بڑے ہوا کرتے تھے، جس میں پانی کچھ زیادہ ہی لگتا ہے ، اس کہ باوجود آپ ﷺ نے امت کو پانی کے کم سے کم خرچ کرنے کی ایسی عملی تعلیم دی کہ آج آبی آلودگی کو موضوع بناکر بحث ومباحثہ کرنے والے اپنی عملی زندگی میں پانی کے اتنے کم خرچ کو سونچ بھی نہیں سکتے ۔ فللّٰہ درہ وفداہ أبی وأمی ۔
(۴) آلودگی بلاضرورت فصلوں اور باغات کو کاٹنے اور خون خرابہ کرنے سے بھی پیدا ہوتی ہے ، اسلا م نے ایسے عمل کو فساد کہہ کر انسانوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی ، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرۃ : ۲۰۵)
’’اور جب پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھرتا رہتا ہے کہ اس (شہر) میں فساد کرے ، اور( کسی کے )کھیت یا مویشی کو ہلاک کرے اور اللہ تعالی فساد کو پسند نہیں فرماتے‘‘
اسی لئے رسول اللہ ﷺ غزوات وسرایا میں صحابہ کرام کو روانہ کرتے وقت اس بات کی خصوصی وصیت کرتے تھے کہ وہ دوران جنگ فصلوں اور باغوں کو تباہ نہ کریں اور بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی قتل نہ کریں (سنن کبری بیہقی : ۱۶۶۹۸، الرحیق المختوم : نظرۃ علی الغزوات ) اور آپ ہی کے نقش قدم پر بعد کے امیر المؤمین بھی جنگوں میں ان باتوں کا خصوصی خیال رکھتے تھے اور امیر لشکر کو اس کی ہدایت دیتے تھے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب کسی لشکر کو روانہ کرتے تو یہ وصیت فرماتے کہ کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹو اور کسی آباد مکان اور جگہ کو ویران نہ کرو ۔ ( ترمذی : ۱۵۵۲)
اس کے برخلاف آج کے امن دعویداروں کی جنگوں کا حال یہ ہے کہ ان کی جنگوں میں بڑے پیمانے پر بچوں بوڑھوں اور عورتوں کوبڑے ہی دردناک انداز میں موت کی نیند سلایا جاتا ہے ،کئی علاقے ویران ہوجاتے ہیں ،اور فصلیں تباہ ہوتی ہیں ، اور وہ ایسے زہریلے کیمیاوی مادوں کو جنگوں میں استعمال کرتے ہیں کہ اس سے پورا ماحول زہریلا ہوجاتا ہے جس کے اثرات سے عام حیوانات کے ساتھ ساتھ شکم مادر میں پلنے والے بے قصور جنین بھی متأثر ہوجاتے ہیں۔ اور پھر یہی لوگ اپنی امن پسندی کے نعرے لگاتے ہیں اور ماحول کو زہر سے بھر کر ماحولیاتی آلودگی کے نام پر ہنگامے کرکے دنیا کو اس سے بچانے کے لئے اپنی قربانیوں اور محنتوں کی راگ الاپتے ہیں۔
(۵)آلودگی کے خاتمہ کے لئے باغات اور درختوں کا ہونا ضروری ہے ، اسی لئے بہت سے ممالک اس کے لئے اسکیمیں نکالتے ہیں ، اور اس کی خاطر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں، تاکہ آلودگی کا خاتمہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سے زائد عرصہ پیشتر لوگوں کو اس کی تعلیم دی ، اور اس پر عمل کرنے والوں کو بہتر اجر کی بشارت سنائی، آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
ما من مسلم یغرس غرسا او یزرع زرعا فیاکل منه طیر او انسان او بهیمة الا کان له به صدقة (بخاری : ۲۱۵۲)
’’جو مسلمان کو ئی درخت لگاتا ہے یا کسی چیز کی کھیتی کرتا ہے پھر اس درخت یا کھیت سے کوئی پرندہ یا کوئی انسان یا کوئی جانور کچھ کھاتا ہے ،تو اس کے لئے صدقہ ہے ‘‘
ایک حدیث میں غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کی فضیلت کو ان الفاظ میں رسول اللہ ﷺ نے بیان کرکے لوگوں کو اس پر آمادہ کیا ، آپ کا ارشاد ہے :
من احیا ارضا میتة فله فیها اجر وما اکلت العافیة منها فهو له صدقة (مسند احمد : ۱۳۹۷۶)
’’جس نے کسی مردہ زمین کو آباد قابل کاشت بنایا تو اس کے لئے اس میں اجر ہے ، اور چرند وپرند یا انسانوں میں سے رزق کا طالب اس میں سے جتنا کھایا اس کے لئے اتنے صدقہ کا ثواب ہے ‘‘
(۶) مختلف اقسام کے چرند وپرندوغیرہ مخلوق کے وجود میں بھی ماحولیات کا تحفظ مضمر ہے ، اور بلاضرورت چرند وپرندوغیرہ کو مارنے سے ماحولیات کا توازن بگڑ جاتا ہے ، جیسا کے زہریلی دواؤں کی وجہ سے مچھلیوں کو مارنے سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے ،اسی لئے بلاضرورت جانوروں اور پرنددوں کو مارنے بالخصوص ایسے جانوروں اور پرندوں کو مارنے سے اسلام نے منع کیا ہے جن کا گوشت حلال نہیں ہے ، اور جن سے کسی مضرت کا اندیشہ لاحق نہیں ہے ،کیونکہ ان کا گوشت حلال نہ ہونے اور مضرت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ضرورت ان کو مارنے کی داعی نہیں ہے ۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان النبی ﷺ نہی عن قتل اربع من الدوات : النملة والنحلة والهدهد والصرد ( سنن ابوداؤد : باب فی قتل الذر ، مسند احمد : ۲۹۰۷
’’نبی ﷺ نے چار جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا: چیونٹی ، شہد کی مکھی ، ہدہد اور لٹورا‘‘
ان چاروں کے قتل کی ممانعت کی وجہ لکھتے ہوئے علامہ سندی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
ان المذکورات محرمة لایجوز تناولها والا لجاز اخذها وذبحها للاکل (حاشیہ ابن ماجہ : ۶؍ ۲۴۰)
’’مذکورہ چاروں حرام ہیں ان کو کھانا ناجائز ہے ، ورنہ ان کو پکڑنا اور کھانے کے لئے ذبح کرنا حلال ہوتا ‘‘
نیز اسلام نے حلال جانوروں کے شکار کرنے اور اس کو ذبح کرنے کی اجازت کے ساتھ یہ قید بھی لگائی کہ ان کو ان سے منفعت کے حصول کی غرض سے ذبح کیا جائے ،بلاوجہ ان کو قتل نہ کیا جائے ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
من قتل عصفورا عبثا عج الی اللہ عزوجل یوم القیامة یقول یارب ان فلانا قتلنی عبثا ولم یقتلنی لمنفعة ( سنن نسائی : ۴۳۷۰)
’’جس نے عصفور کو بلاوجہ قتل کیا تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سامنے بولے گی کہ اے میرے رب فلاں نے مجھے اپنی منفعت کی خاطر نہیں بلکہ بلاوجہ قتل کیا تھا ‘‘
واضح رہے کہ یہ حکم صرف’’ عصفور‘‘ ہی کا نہیں ہے ،بلکہ ان سارے جانوروں کا ہے جن کا گوشت حلال ہے ، کہ ان کو انتفاع کے مقصد سے ہی ذبح کرنا اسلام میں درست ہے ، ورنہ ممنوع ہے ، چنا ں ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
من قتل عصفورا فما فوقها بغیر حقها سال اللہ عزوجل عنها یوم القیامة قیل یا رسول اللہ فما حقها ؟ قال حقها ان یذبها فیاکلها ولا یقطع راسها یرمی بها (سنن نسائی : ۴۲۷۴)
’’جس نے عصفور کا یا اس سے بڑے کسی (چرند وپرند) کا ناحق قتل کیا تو قیامت کے دن اللہ اس کے بارے میں پوچھے گا ، (راوی کہتے ہیں) رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اس کا کیا حق ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایاکہ اس کا حق یہ ہے کہ اس کو ذبح کرے تو اسے کھائے اور اس کے سرکو (ذبح کرتے وقت) کاٹ کر نہ پھینکے‘‘
ان روایات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام بلاضرورت کسی بھی جانور کے مارنے اور ذبح کرنے سے منع کرتا ہے ، تاکہ ان کی حیات خطرات سے دوچار نہ ہو ، جبکہ ان کی حیات وبقا میں حکمت الہی مضمر ہے ، بالخصوص ماحولیات کے تحفظ میں ان کے وجود کو بھی اہمیت حاصل ہے ۔
(۷) زمین پر آباد ہونے اور بسنے کے سلسلہ میں انسانوں کے غلط طرز نے بھی ماحولیات کو غیر فطری بنایا ہے ، انسان کو اللہ نے بسانے کے لئے زمین کو ایسی وسعت بخشی ہے کہ انسان اس کی وسعت کو اپنی آبادی سے بھرنہیں سکتا ، لیکن انسانوں نے مختصر جگہ میں لمبی لمبی بلڈنگیں بناکر محدود فضاء میں زیادہ لوگوں کے رہنے کی تدبیر کی ہے ،جبکہ اسلام نے اس طرح کی طرز رہائش کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے،رسول اللہ ﷺ نے اس کو علامات قیامت میں شمار کیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ لوگ لمبی لمبی عمارتوں کے بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے ۔ اسلام نے اس کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے اس لئے دیکھا ہے کہ محدود فضاء میں زیادہ لوگوں کی رہائش اس فضاء کی فطری خوشگواری کو متأثر کردیتی ہے ،چناں چہ وہ ممالک جہاں اس طرح کی بلڈنگیں بکثرت ہیں وہاں کا ماحول ایسا غیر فطری ہوچکا ہے کہ وہاں کے باشندگان فطری اور قدرتی ہواؤں اور اس کی لذتوں سے محروم ہیں اور چند لمحوں کی برقی سربراہی کی مسدودی ان کی زندگیوں میں کرب والم پیدا کردیتی ہے ۔
ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے ماحولیات کی آلودگی کو حد درجہ ناپسندیدگی کی نگا ہ سے دیکھا ہے اور اس نے آلودگی سے ماحولیات کے تحفظ کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں اور اپنی تعلیمات میں اس کو بڑی اہمیت دی ہے ، مذکورہ تفصیلات آلودگی سے ماحولیات کے تحفظ کی ضامن اسلامی تعلیمات کے صرف چند نمونے ہیں ، جنہیں جامعیت کے ساتھ اختیار کرلینے سے موجودہ دور میں زیر بحث آلودگیوں کا خاتمہ اور سد باب یقیناًہوسکتا ہے ، اور کیوں نہ ہو کہ اسلامی تعلیمات اسی اللہ کی تعلیمات ہیں جس نے کائنات اور اس کے ماحول کو توازن کے ساتھ وجود بخشا ہے ۔
نیز اسلام نے جہاں ماحولیات کو آلودگی سے بچانے کے اقدامات کئے ہیں وہیں آلودہ ماحول سے انسانوں کی حفاظت کی خاطر پر حکمت اعمال انسانوں کی عبادات اور عادات میں شامل کردیا ہے جن کی وجہ سے انسان آلودگی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتا ہے ۔مثلا:
اسلام میں وضو کی فضیلت بیان کی گئی ہے ، عموما تمام نمازی روزانہ پانچ مرتبہ وضو کرتے ہیں، اور ہاتھ دھلنا ، ناک صاف کرنا وضوکے اعمال میں سے ہے، ہاتھ دھلنا ماہرین کی تحقیق کے مطابق بہت ہی مفید عمل ہے اور اس کی وجہ سے انسان بہت سے نقصاندہ جراثیم اور آلودگی کے اثرات سے محفوظ ہوجاتا ہے ، اسی لئے اقوام متحدہ کی جانب سے اس کی بیداری کی خاطر۱۵؍ اکتوبر کو (Hand washing Day) منایا جاتا ہے ،اسلام نے ہاتھ دھلنے کے عمل کو مسلمانوں کی زندگی میں جامعیت کے ساتھ رکھ دیا ہے، وضو میں ، کھانے سے قبل اور کھانے کے بعد ،قضائے حاجت کے بعد مٹی یا صابن سے ہاتھ دھلنے کی اسلام تعلیم دیتا ہے ، اس طرح دن میں کئی بار ایک مسلمان ہاتھ دھل کر آلودگی سے متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے ۔
وضو کے اعمال میں سے ناک صاف کرنا بھی مسنون عمل ہے ، اس عمل سے بھی انسان فضائی آلودگی کے اثر سے محفوظ رہتا ہے ، ماہرین کے بقول انسان ناک صاف کرتا ہے تو اس کی وجہ سے آلودگی صاف ہوجاتی ہے اور اس کی سانس کے ذریعہ اس کے جسم میں داخل نہیں ہوپاتی ہے ۔
نیز کھانے پینے کی چیزوں اور ان کے برتنوں کو ڈھک کررکھنا اسلام میں مستحب ہے ، اس میں بھی یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ڈھکے ہونے کی وجہ سے یہ چیزیں آلودگی سے محفوظ رہیں گی ۔
بہرحال فضائی آلودگی ، زمین کی آلودگی اور آبی آلودگی کے پس منظر میں اسلامی تعلیمات کے یہ چند نمونے ہیں،جن کو اختیار کرنے سے یقیناًان آلودگیوں کی بحث ہی ختم ہوجائے گی،جن کو آج موضوع بحث بنایا گیا ہے،اسی طرح اسلامی تعلیمات میں ان آلودگیوں کے علاوہ دیگر آلودگیوں پر بھی روک لگائی گئی ہے ۔جیسے کہ صوتی آلودگی وغیرہ ۔
اسلام میں صوتی آلودگی سے ماحولیات کا تحفظ
شور وغل اور چیخ وپکار سماعت کے لئے نقصاندہ ہیں ، اعصاب وجوارح کو تھکاتے ہیں ،عقل وفکر کو مبتلائے تشویش کرتے ہیں ،سکون وطمانینیت کو ختم کرتے ہیں ، نیند کو خراب کرتے ہیں ، لوگوں کو بے خوابی سے دوچار کرتے ہیں ، اورعام انسانی زندگی پر منفی اثرات ڈالتے ہیں، بلکہ مریضوں ، بچوں اور یکسوئی کے ماحول میں علم وتحقیق کا کام کرنے والوں کے لئے تو بہت ہی بے سکونی اور کرب والم کا باعث بنتے ہیں ، شور وغل اور ہنگاموں کی ان خطرنا کیوں کے باوجود موجودہ زمانے میں اس کے اسباب بہت ہوچکے ہیں ، کار خانوں میں بلند آواز سے چلنے والی مشینوں ، راستوں پر دوڑنے والی گاڑیوں،ٹرینوں،تعمیراتی کاموں میں استعمال کی جانے والی مشینوں ،لاؤڈ اسپیکر ،ٹیلی ویژن،وغیرہ کی آواز نے موجودہ زمانے میں شہری ماحول کو صوتی آلودگی میں مبتلا کردیا ہے ، اور وہاں کے رہنے والوں کو شور وہنگامے سے پیدا ہونے والے قلق واضطراب سے ہمکنار کردیا ہے ،جس کی وجہ سے بہت سے سکون کے متلاشی شہر کے بجائے دیہاتوں کی رہائش کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اسلام تکلیف دہ ہنگاموں اور شوروغل کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے ،اور اس نے ماحول کو معتدل رکھنے کے لئے آواز میں اعتدال کی تعلیم دی ہے ،تاکہ شور وہنگامے کی کیفیت پیدا نہ ہو،اور کسی کی آواز کسی کے لئے باعث اذیت نہ ہو ، قرآن کریم میں حضرت لقمان علیہ السلام کی حکایت کرتے ہوئے اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ (لقمان : ۱۹)
’’اور اپنی رفتار میں اعتدال اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست کرو ، بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے‘‘
اسلامی کی ترجمانی کرنے والے فقہاء کرام کی تحریروں میں یہ بات صراحت کے ساتھ ملتی ہے کہ انہوں سے باعث اذیت آواز او ر ہنگاموں کو ناجائز لکھا ہے اور ایسے عمل سے روکا ہے جس سے پڑوسی کو تکلیف دہ آواز پہونچتی ہو ۔ابن رشد قرطبی مالکی علیہ الرحمۃلکھتے ہیں:
یمنع من ضرر الاصوات (۹؍۲۶۸)
’’آواز کے ضرر سے روکا جائے گا‘‘
قاضی ابن رافع کے سامنے ایک مقدمہ آیا کہ لوگوں کی آبادی کے قریب جانوروں کا اصطبل بنایا جائے یا نہیں؟ انہوں اس مسئلہ میں فتوی اور فیصلہ یہ صادر کیا کہ اس اصطبل میں رہنے والے جانوروں کی آواز سے اس کے قریب کے مکینوں کو دشواری ہوگی اور ان کی نیندیں خراب ہوں گی اس لئے اسے آبادی سے الگ تعمیر کیا جائے ۔ ( الاسکان فی المدینۃ الاسلامیۃ : ۲۸۵)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے لئے باعث اذیت شور وغل اسلام میں ناپسندیدہ ہے اور اسلام اس سے منع کرتا ہے ، اور اس طرح اسلام صوتی آلودگی سے ماحول کا تحفظ کرتا ہے ۔ 
ان تفصیلات سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے ان تمام ترآلودگیوں پر روک لگائی ہے، اور ایسے جامع احکام اور تعلیمات دئے ہیں ،جن سے ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگیاں ختم ہوتی ہیں اور پاک وصاف ماحول اور معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔اسی پس منظر میں مسائل جدید ہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں احکام اسلام کے انطباق کا فریضہ انجام دینے والی اکیڈمی : مجمع الفقہ الاسلامی الہند کی ان تجویزوں کوبھی پڑھیں جو اس نے اپنے سترہویں فقہی سمینار منعقدہ ۵۔۷ اپریل ۲۰۰۸ ؁ء میں ماحولیات کے حوالے سے پیشکئے تھے، جس سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلا م تمام تر آلودگیوں کا مخالف ہے ، اور وہ معاشرہ کو آلودگیوں سے پاک دیکھنا چاہتا ہے۔تجویز اور اعلامیہ کی عبارت یہ ہے:
’’۱۔ صنعت کاروں پر واجب ہے کہ اگر ایسی صنعتیں قائم کریں جو آلودگی پیدا کرتی ہوں تو ایسے وسائل بھی استعمال کریں جو ان آلودگیوں کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں، تاکہ ماحول کو اور ماحول کے واسطے سے دوسرے انسانوں کو اسکا نقصان نہیں پہونچے ۔
۲۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ملک میں آنا بعض جہتوں سے یقیناًمفید ہے کہ اس سے مارکیٹ میں مسابقت پیدا ہوتی ہے ، اور صارفین کو معیاری اشیاء فراہم ہوتی ہیں ، لیکن یہ صنعتیں اپنے ساتھ صنعتی فضلوں کا انبار اور مختلف نوع کی آلودگیاں بھی ساتھ لا رہی ہیں ، اس لئے سمینار حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملکی کمپنیاں ہوں یا غیر ملکی ،ان کے لئے ایسے قوانین بنائے جائیں اور ان پر عمل کا پابند کیا جائے جو ماحول کے تحفظ میں معاون ہو اور مضر اثرات سے بچاتے ہوں ۔
۳۔ اس وقت ماحولیاتی آلودگی کے سبب جن خطرات سے دنیا دوچار ہے یہ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کی دَین ہے، ان ممالک نے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور سستی سے سستی پیداوار حاصل کرنے کی غرض سے صنعتوں کو ماحول دوست بنانے پر توجہ نہیں دی اور آلودگیوں کو تحلیل کرنے کے وسائل اختیار نہیں کئے ، یہاں تک کہ اب جب کہ آلودگی کا مسئلہ ایک بھیانک صورت حال اختیار کرچکا ہے ، وہ اس کے اثرات کو دور کرنے کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں قبول کرنے سے گریز کررہے ہیں ، سمینار مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے تئیں اپنے رویہ کو درست کریں اور حکومت ہند سے اپیل کرتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک اہم عالمی طاقت ہونے کی حیثیت سے اس سلسلہ میں ترقی یافتہ ممالک کو ان کی ذمہ داریوں کا پابند کرنے کی کوشش کرے ۔ 
۴۔ تمام ابنائے وطن کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کا اہتمام کریں ، ایسی چیزیں جو آبادی میں آلودگی پیدا کرنے والی ہیں اور دوسروں کو تکلیف پہونچانے والی ہیں ، جیسے راستوں اور آبادیوں کے درمیان قضاء حاجت ، گھر سے سے باہر کھلی ہوئی نالیاں نکالنا ، صاف جمع شدہ پانی میں گندگیوں کا اخراج ، آبادی کے درمیان بھٹی اور چمنیاں قائم کرنا ، گاڑیوں میں کراسن تیل کا استعمال ، بے جا طریقہ پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال وغیرہ ،ان سے احتراز کریں ، تاکہ سماج خطرناک بیماریوں اور دوسرے نقصانات سے محفوظ رہے ۔ ‘‘ (نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے : ۲۱۲)
معاشرتی آلودگیوں سے ماحول کا تحفظ
ماحول کا معاشرتی آلودگیوں سے آلودہ ہونا بھی مہلک اور خطرناک ہے ، اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس کا خصوصی خیال رکھا ہے کہ معاشرہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو ماحول اور معاشرہ کو گندا کردے یا اس میں زندگی گزارنے والوں کو برائیوں کی طرف مائل کردے ، معاشرتی آلودگی سے ماحول کے تحفظ کی خاطر اسلام نے حسن اخلاق، عفوو در گزر، ایثار وقربانی اور حیاء کی تعلیم دی ہے ،بدنگاہی سے روکا ہے ، مردوں اور عورتوں کو باہم میل جول اور اختلاط سے منع کیا ہے،پردہ کا حکم دیا ہے ، گالی گلوج ، غیبت ، بہتان ، چوری ، خیانت اور دیگر منکرات سے کو حرام قراردیا ہے ، کیونکہ یہ چیزیں ماحول کوآلودہ کرکے اس ماحول میں رہنے والوں کو بہت ہی برے منفی حالات سے دوچار کرتے ہیں،چناں چہ وہ معاشرے اور ممالک جن میں ان چیزوں پر مکمل روک نہیں ہے،وہاں کے ماحول کی معاشرتی آلودگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ زنا (بالخصوص زنا بالجبر)،اور اس کی سزا ایڈز ، لوٹ مار اور قتل وغارت گری کی کثرت نے وہاں کے لوگوں کو پرامن زندگی سے محروم کررکھا ہے ،زنا کی کثرت سے خاندانی نظام درہم برہم ہوچکا ہے ، اور خاندانی اقدار پامال ہوچکے ہیں۔اوراس معاشرہ میں رہنے والے ان آلودگیوں کی تکلیف میں سسک رہے ہیں ، گرچہ بظاہر وہ ماحول بڑا چمکتا دمکتا نظر آتا ہے۔
خلاصہ ہے کہ اسلام نے جامعیت کے ساتھ آلودگی سے ماحولیات کے تحفظ کے اقدامات کئے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اسلامی تعلیمات واحکامات کو اختیار کرنے سے آلودگیوں سے نجات مل سکتی ہے ۔
Login Required to interact.