مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
===
عَنْ ابنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَقِیْمُوْالصُّفُوْفَ وَحَاذُوْا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَسدُّوْا الْخَلَلَ وَلِیْنُوا بِاَیْدِیْ اِخْوَانِکُم وَلاَ تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللّٰہُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللّٰہُ ۔
(سنن ابوداؤد : کتاب الصلاۃ: باب تسویۃ الصفوف، حدیث نمبر: ۵۷۰، مسند احمد، حدیث نمبر: ۵۴۶۶ ، سنن کبری للبیہقی: باب اقامۃ الصفوف وتسویتہا ، حدیث نمبر: ۵۳۹۱ ، مسند الشامیین : حدیث نمبر: ۱۹۳۱ ، درجۂ حدیث: صحیح )
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفوں کو سیدھی کرو اور کندھوں کو دوسرے (بازوکے مصلّی)کے کندھوں کے برابر کرو ، اور درمیان کی خالی جگہوں کو بند کرو ، اور (صف کی درستگی کے لئے اگر کوئی تمہیں آگے یا پیچھے کرے تو) اپنے بھائی کے ہاتھ میں خود کو نرم بناؤ (تاکہ صف سیدھی ہوسکے) اور شیطان کے لئے (اپنے درمیان ) دراز مت چھوڑو (بلکہ بالکل مل کرکھڑے ہو) جو صف کو ملائے اللہ اسے اپنی رحمت سے ملائیں گے اور جو صف کو کاٹے گا اسے اللہ اپنی رحمت سے کاٹ دیں گے ‘‘
عن انس بن مالک رضی اللہ عنه عن رسول اللہ ﷺ قال: رَصُّوْا صُفُوْفَکُمْ وَقَارِبُوْا بَیْنَهَا وَحَاذُوْا بِالْاَعْنَاقِ ، فَوَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ اِنِّیْ لَأرَی الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ کَأنَّهَا الْحَذَفُ ۔ (سنن ابوداؤد: کتاب الصلاۃ : باب تسویۃ الصفوف حدیث نمبر: ۵۷۱ ، سنن النسائی: باب حث الامام علی رص الصفوف ، حدیث نمبر: ۸۰۶، مسند احمد ، حدیث نمبر: ۱۳۲۳۸ ، صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر: ۱۴۵۹، صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر: ۲۱۶۶ ، شرح السنۃ : باب فضل الصف الاول، درجۂ حدیث : صحیح)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفوں کو مضبوط بناؤ ، اور صف میں ایک دوسرے سے قریب (مل کر) رہو ، اور گردنوں کو گردنوں کے برابر اور قریب کرو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے میں نے صف کے بیچ خالی جگہوں میں سیاہ چھوٹی بکری کے مانند شیطان کو داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے ‘‘
ان دونوں روایتوں سے صف کی درستگی کے بارے میں دو بنیادی باتیں معلوم ہوئیں :
(۱)کندھو ںکو کندھوں کے بالمقابل اورگردن کو گردن کے بالکل بالمقابل رکھا جائے ۔
(۲) دونمازیوں کے درمیان صف میں سوراخ اور شیطان کے لئے جگہ نہ ہو اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ کندھوں کو کندھوں سے ملالیاجائے۔
گویا صف کی درستگی میں بنیادی قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ کندھے کندھوں کے بالمقابل ہوں اور ملے ہوئے ہوں۔اسی لئے رسول اللہ ﷺ سے صف کی درستگی کے حوالے سے کندھوں کے ملانے کا حکم متعدد روایات میںمنقول ہے، قدم کوقدم سے ملانے کا حکم آپ سے منقول نہیں ہے،بلکہ جب آپ بذات خودصحابہ کی صفوں کو سیدھی کرتے تو بھی آپ کی توجہ کندھوں کے ملانے پر ہی ہوتی تھی، جیسا کہ کئی روایات میں یہ مذکور ہے ۔
عن اَبِیْ مسعودٍ رضی اللّٰہُ عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہُ ﷺ یَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلاَۃِ وَیَقُوْلُ : اِسْتَوُّوْا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ۔ (صحیح مسلم : باب تسویۃ الصفوف واقامتہا ، حدیث نمبر: ۶۵۴ ، سنن ابن ماجہ : باب من یستحب ان یلی الامام، حدیث نمبر: ۹۶۶ ، سنن دارمی : باب من یلی الامام من الناس ، حدیث نمبر: ۱۳۱۴ ، سنن نسائی: باب من یلی الامام ثم الذی یلیہ، حدیث نمبر: ۷۹۸ ، مسند احمد حدیث نمبر: ۱۶۴۸۲، صحیح ابن حبان: حدیث نمبر: ۲۱۷۸ ، صحیح ابن خزیمۃ: حدیث نمبر: ۱۴۵۶، معجم طبرانی کبیر: حدیث نمبر: ۴۰۱۲ ۱، معجم طبرانی اوسط: حدیث نمبر: ۱۱۵۲۷، السنن الکبری للبیہقی : باب الرجل یأتمون بالرجال، حدیث نمبر: ۵۳۶۷، درجہ حدیث: صحیح علی شرط الشیخین )
’’حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے کندھوں کو برابر اور قریب کرتے اور فرماتے : تم سب سیدھے ہوجاؤ ، اور آگے پیچھے کھڑے ہوکر اختلاف مت کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دیاجائے گا ‘‘
عن البَراءِ بنِ عازبٍ رضی اللہ عنہ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَخَلَّلُ الصُّفُوْفَ مِنْ نَاحِیَةٍ اِلَی نَاحِیَةٍ یَمْسَحُ مَنَاکِبَناَ وَصُدُوْرَنَا وَیَقُوْلُ لَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفُ قُلُوْبُکُمْ ، وَکَانَ یَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلاَئِکَتَهُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصُّفُوْفِ الْمُتَقَدِّمَةِ ۔ (سنن النسائی :باب کیف یقوم الامام الصفوف ، حدیث نمبر: ۸۰۲، صحیح ابن حبان حدیث نمبر: ۲۱۶۱، مستد رک حاکم : حدیث نمبر: ۲۰۷۱ ، درجہ حدیث: صحیح )
’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک صف کے خلاء کو دور کرتے اور ہمارے کندھوں اور سینوں کو برابر کرتے اور فرماتے : آگے پیچھے کھڑے ہوکر اختلاف مت کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دیاجائے گا ، اور یہ بھی فرماتے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اگلی صفوں پر رحمت بھیجتے ہیں‘‘
ان تمام روایات میں صف کی درستگی میں کندھوں کے ملانے کو بنیاد بنایا گیا گیا ہے، چاہے وہ قولی روایت ہو یا فعلی ، اس لئے یہ بات بجاطور پر کہی جاسکتی ہے کہ کندھوں کو ملانا ہی اصل ہے اور اسی سے صف کے مابین خلاء ختم ہوتا ہے ۔جس کا خصوصی حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے ۔ ورنہ جس طرح آپ ﷺ سے کندھوں کے ملانے کا حکم قولاً وفعلاً دونوں منقول ہے، قدم کے بارے میں بھی منقول ہوتا ، قدم کے ملانے کی بات صرف حضرت نعما ن بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ کندھوں کو کندھوں سے اور قدم کو قدم سے ملایا کرتے تھے ،(بخاری: باب الزاق المنکب بالمنکب) اس کی حقیقت علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں یہ بیان کی ہے کہ اس سے مراد قدم کو قدم سے واقعی ملانا نہیں ہے ،بلکہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ صحابہؓ کے صف کی درستگی کے اہتمام کو بیان کرتے ہیں کہ وہ اتنے قریب ہوکر کھڑے ہوتے تھے کے ان کندھے مل جاتے تھے اور قربت کی وجہ سے پاؤں بھی ملنے کے قریب ہوجاتے تھے ، فرماتے ہیں: المراد بذلک المبالغۃ فی تعدیل الصف وسد خللہ (فتح الباری: باب الزاق المنکب بالمنکب )علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: چاروں فقہاء نے بھی یہی مراد لیا ہے ، مکمل ملانا کسی نے مراد نہیں لیا ہے ، یعنی اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ درمیان میں اتنی جگہ نہ چھوڑی جائے کہ جس میں کوئی تیسرا داخل ہوسکے… میںنے اسلاف میں سے کسی کو بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والے اور منفرد کے درمیان پاؤں کو پھیلانے کے مسئلہ میں اس طور پر فرق کرتے ہوئے نہیں پایاکہ جماعت میں انفرادی نماز کے بالمقابل پاؤں کو زیادہ پھیلایا جائے (بلکہ انفرادی حالت میں جتنا فاصلہ ہوتا ہے جماعت کی حالت میں بھی اتناہی فاصلہ ہوگا ) (فیض الباری: باب الزاق المنکب بالمنکب)
Login Required to interact.

