ہاتھ دھونے کی اہمیت وفوائد

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
 === 
 پندرہ اکتوبر کو  ہاتھ دھونے کا دن منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد ہاتھ دھونے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اوراس کا رواج عام کرنا ہے، تاکہ ہاتھ نہ دھونے سے انسانی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات سے انسانی صحت کا تحفظ ہوسکے،بلاشبہ یہ ایک اچھا عمل ہے اور اس میں صحت کی بہتری کا راز پوشیدہ ہے ۔
تحقیق کنندگان کے بقول ہاتھ نہ دھونا ہی بچوں میں پائے جانے والے امراض کے وجوہات میںسے ایک اہم وجہ ہے، اور تقریبا بچوں کے 33% امراض ہاتھ نہ دھلنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
اسی طرح اطباء کے بقولNorwalk Virus   جوکہ معدہ کے سینکڑوں امراض کا باعث ہے ، ہاتھ نہ دھلنے کی وجہ سے ہی پیدا ہوتا ہے ۔
نیز مختلف چیزوں سے ہاتھ کے متصل ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کے جراثیم ہاتھ میں پیدا ہوجاتے ہیں،جو ہاتھ نہ دھلنے کی وجہ سے کھانے میں منتقل ہوجاتے ہیں،جو مختلف امراض کا سبب بنتے ہیں، اسی طرح ان جراثیم سے آلودہ ہاتھ جب چہرہ ، آنکھ،اور دیگر جسمانی اعضاء سے لگتا ہے تو وہ جراثیم ان اعضاء میں منتقل ہوجاتے ہیں اور ان کی وجہ جلدکے متعدد امراض پیدا ہوتے ہیں،اسی لئے اس عمل کے فوائد پر تحقیق کرنے والوں کے بقول ہاتھ دھلنا حفظان صحت کا آسان نسخہ ہے اور اس ایک آسان سے عمل میں بہت سے امراض سے تحفظ ہے ۔
ہاتھ دھلنے کے فوائد کے پیش نظر ہاتھ دھلنے کی اہمیت کو آج اطباء نے محسوس کیا اور اس کی جانب لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے ہاتھ دھونے کا دن منانے کا اہتمام کیا، ظاہر ہے کہ کسی چیز سے متعلق دن منانے سے یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز انسانی عمل اور انسانی تہذیب کا حصہ بن ہی جائے ۔بلکہ اس کے لئے تعلیم اور ذہن سازی کی ضرورت ہوتی ہے ،تاکہ انسانی مزاج اس کاخوگر ہوجائے اور پھر وہ عمل اس کی طبیعت کا حصہ بن جائے۔
نبی اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے آج کے موجودہ سائنسی انقلاب کے دور سے بہت پہلے امت کو ہاتھ دھونے کی طرف متوجہ فرمایا، اور اس انسانی عمل کو مذہب سے جوڑ کراس طرح پیش کیا کہ امت نے اسے فکر آخرت کے پیش نظر قبول کیا ، گویا رسول اللہ ﷺ نے اس دنیاوی عمل کو بھی آخرت کا ذخیرہ بنادیا کہ ایک انسان جب رسول اللہ  ﷺ کے بتائے ہوئے مواقع پر ہاتھ دھلتا ہے تو اس کو دنیاوی فوائد کے حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ حکم الہی کی پیروی اوراتباع سنت کا ثواب ملتا ہے ۔سچ ہے کہ آپ  ﷺ نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو ’’دین‘‘ بنادیا ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نیمتعدد مواقع پر ہاتھ دھلنے کی تعلیم دی ہے اور خود اہتمام فرمایا ہے ۔
نیند سے بیداری کے بعد
رسول اللہ ﷺ نے سوکر بیدار ہونے کے بعد ہاتھ دھلنے کی تعلیم دی ہے ،اور آپ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ سونے والے کو نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ نیند کی غفلت میں کن کن چیزوں سے ملوث ہوئے ہیں، آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
اذا استیقظ احدکم من منامہ  فلا یغمسن یدہ فی الاناء حتی یغسلہا ثلاثا؛ فانه لایدری این باتت یدہ (صحیح ابن خزیمۃ : ۱۴۶)
’’جب تم میں کا کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو تین مرتبہ دھلنے سے قبل ہرگز اسے برتن میں میں داخل کرے ؛ کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے ‘‘
ہوسکتا ہے کہ ہاتھ کسی مضر چیزسے مس ہوکر اس کے جراثیم سے آلودہ ہوںاور پھر بغیر دھوئے وہی ہاتھ پانی کے برتن یاکسی اور چیز میں ڈالدینے سے وہ ان جراثیم سے آلودہ ہوجائے اور پھراس کی آلودگی انسانی صحت کو متأثر کرے۔
اسی طرح غفلت میں ہاتھ کا جسم کے ان حصوں سے متصل ہونا بھی ممکن ہے جہاں سے ناپاکی نکلتی ہے ،ہوسکتا ہے غفلت میں کوئی ناپاکی ہاتھ میں لگ گئی ہو۔
مزید یہ کہ انسان سونے کی حالت میں بسااوقات اپنے جسم کے کسی حصہ کو کھجاتا ہے اور وہاں سے خون نکل جاتا ہے ،جس سے ہاتھ بھی آلودہ ہوتا ہے ،اور اگر خون نہ بھی نکلے تو بھی ہاتھ اس حصہ کے جراثیم سے توضرور آلودہ ہوتا ہے ۔
اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے نیند سے بیداری کے بعد ہاتھ دھلنے کی تعلیم دی جس میں اتباع سنت کے ساتھ حفظان صحت بھی ہے اور پاکیزگی بھی۔
کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
برکة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعدہ (ترمذی : ۱۷۶۹)
’’کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھلنے میں ہے ‘‘
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے کھانے سے پہلے ہاتھ دھلنے کا حکم دیا جس میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ جراثیم اور میل کچیل وغیرہ سے آلودہ ہاتھ صاف ہوجائے گا ،ورنہ ہاتھ نہ دھلنے کی صورت میں وہ تمام چیزیں کھانے میں شامل ہوکر اس کے معدہ میں پہونچ جائیں گی، جو بہت سے امراض کا باعث ہوں گی،اور آپ  ﷺ نے کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کا حکم دیا تاکہ ہاتھ میں کھانے کے لگے ہوئے اجزاء دھل جائیں اورہاتھ صاف ہوجائے ورنہ ان پر مکھیاں وغیرہ لگیں گی اور پھر اس سے کئی جراثیم پیدا ہوں گے۔اسی طرح ہوسکتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں شیرینی وغیرہ لگی ہوئی ہو اور وہ ہاتھ دھلے بغیر سو جائے اور نیند کی حالت میں کوئی زہریلی چیزاس کی بو پاکر اس کے ہاتھ میں کاٹ لے اور وہ اس کے کسی مرض یا موت کا ذریعہ بن جائے ،  ظاہر ہے کہ اس کی اس پریشانی کی وجہ اس کی یہی غفلت ہوگی ،چناں چہ رسول اللہ  ﷺ نے ایک روایت میں فرمایا ہے :
ان الشیطان حساس لحساس فاحذروہ علی انفسکم ، من بات وفی یدہ ریح غمر فاصابہ شییء فلا يلومن الا نفسه (ترمذی:۱۷۸۲)
’’بے شک شیطان بہت ہی حساس ہے ، اور انسانوں کے (تر ہاتھوں) کو چاٹتا ہے ، اس لئے اپنے بارے میں اس سے محتاط رہو ، جو شخص اس حال میں سو گیا کہ اس کے ہاتھ میں چربی کی خوشبو موجود تھی اوراس کی وجہ  اسے کچھ ہوجائے تو اسے خود کو ہی ملامت کرنی چاہئے‘‘
آپ ﷺ نے کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعدہاتھ دھلنے کے مذکورہ فوائد کے بجائے جس فائدہ کی جانب توجہ دلائی وہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے برکت ہوتی ہے ، برکت کے جامع مفہوم میں بہت سی چیزیں جمع ہیں، مثلاً کم کھانے سے سیرابی حاصل ہوجائے ، اور اطباء کے نزدیک کم کھانا بھی حفظان صحت کا ایک مؤثر نسخہ ہے ۔اور کم کھانے کے فوائد ہی کے پیش نظراقوال حکمت میں سے فارسی کا مشہور مقولہ ہے:
’’ کم خفتن کم گفتن کم خوردن عادت بگیر‘‘
کم سونے کم بولنے اور کم کھانے کی عادت ڈالو
اسی طرح برکت کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ کھانا صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہونے کے بجائے صحت بخش ثابت ہواور اس میں موجود نقصاندہ اجزاء ہاتھ دھونے کی وجہ سے اثر انداز نہ ہوں۔
وضو اور غسل کی ابتداء ہاتھ دھلنے سے 
رسو ل اللہ ﷺ کی تعلیم میں وضو اور غسل کے قبل بھی ہاتھ دھونے کا حکم ہے ، چناں چہ غسل کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پورے بدن پر پانی بہانے سے قبل وضو کیا جائے اور وضو کی ابتداء چاہے وہ غسل سے پہلے کا وضو ہو یا عام وضو، ہاتھ دھونے ہی سے ہوتی ہے ،اور سب سے پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھلنا وضو کے مسنون اعمال میں سے ایک عمل ہے ۔اور یہ ایسا عمل ہے جو ہر نمازی مسلمان عبادت کی نیت سے کم ازکم روزانہ پانچ مرتبہ انجام دیتا ہے ۔
اس تعلیم میں بھی پانی کی پاکی اور ہاتھ میں موجود نقصان دہ جراثیم سے پانی کے تحفظ کا فائدہ موجود ہے ،جو پا کیزگی اور صحت کے لئے ضروری ہے ۔
قضائے حاجت کے بعد ہاتھ دھونا
قضائے حاجت اور اس کے بعد جسم میں لگی ہوئی غلاطت کی صفائی انسان کی فطری ضرورت ہے ، عموما قضائے حاجت کے بعد صاف کی گئی غلاظت کے اثرات ہاتھ میں جزوی طور پربدبویا  چکناہٹ وغیرہ کی شکل میںباقی رہ جاتے ہیں، جن کا باقی رہنا نظافت کے خلاف ہے اور بہت سے امراض کا سبب بھی ہے ۔اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے امت کو عملی تعلیم دی کہ اس کے بعد ہاتھ کو مٹی وغیرہ سے رگڑ کراچھی طرح صاف کیا جائے ، تاکہ غلاظت کی ذرا بھی اثرباقی نہ رہے، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ان رسول اللہ ﷺ دخل الخلاء فاتیته بماء فاستنجی ومسح یدہ بالتراب ثم غسل یدہ (مسند ابویعلی الموصلی : ۶۱۳۶)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کوجانے لگے تو میں آپ کے لئے پانی لایا ، آپ نے اس سے استنجاء (غلاظت کی صفائی ) کیا اور اپنے ہاتھ کو مٹی سے پوچھا، پھر اسے  دھویا‘‘
یہ ہے وہ اہم مواقع جن میں رسول اللہ  ﷺ نے ہاتھ دھلنے کی عملی یا قولی تعلیم دی ہے ،آپ کی ہر سنت انسانوں کو دنیوی واخروی بھلائیوں سے ہم کنار کرتی ہے،اس لئے اس سنت کو بھی سنت سمجھ کر ہمیں اپنی زندگی میں اپنا معمول بنانا چاہئے، تاکہ اس میں پوشیدہ دنیوی واخروی فوائد ہمیں حاصل ہوں۔
Login Required to interact.