بدنظری اور اس کے نقصانات

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مولانا یونس صاحب پالنپوری
 === 
بدنظری سے انسان کے اندر نفسانی خواہشات کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور انسان اس سیلاب کی رو میں بہہ جاتا ہے۔ اس میں تین بڑے نقصانات وجود میں آتے ہیں۔
(۱) بدنظری کی وجہ سے انسان کے دل میں خیالی محبوب کا تصور پیدا ہو جاتا ہے۔ حسین چہرے اس کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ وہ شخص چانتا ہے کہ میں ان حسین شکلوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا ،مگر اس کے باوجود تنہائیوں میں ان کے تصور سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ تو گھنٹوں ان کے ساتھ خیال کی دنیا میں باتیں کرتا ہے، معاملہ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ 
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
بدنظری کے ساتھ ہی شیطان انسان کے دل و دماغ پر سوار ہو جاتا ہے اور اس شخص سے شیطانی حرکتیں کروانے میں جلدی کرتا ہے۔ جس طرح ویران اور خالی جگہ پر تندو تیز آندھی اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔ اسی طرح شیطان بھی اس شخص کے دل پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے تاکہ اس دیکھی ہوئی صورت کو خوب آراستہ و مزین کرکے اس کے سامنے پیش کرے اور اس کے سامنے ایک خوبصورت بت بنا دے۔ ایسے شخص کا دل رات دن اسی بت کی پوجا میں لگا رہتا ہے وہ خام آرزؤں اور تمناؤں میں الجھا رہتا ہے۔ اسی کا نام شہوت پرستی، خواہش پرستی، نفس پرستی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ولا تطع  من اغفلنا قلبه عن ذکرنا واتبع هواہ وکاں امرہ فرطا 
’’اور اس کا کہنا نہ مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے۔‘‘
ان خیال معبودوں سے جان چھڑائے بغیر نہ تو ایمان کی حلاوت نصیب ہوتی ہے نہ قرب الہٰی کی ہوالگتی ہے۔ بقول شاعر  ع  
بتوں کو توڑ ، تخیل کے ہوں کہ پتھر کے
(۲) بدنظری کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ انسان کا دل و دماغ متفرق چیزوں میں بٹ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مصالح و منافع کو بھول جاتا ہے۔ گھر میں حسین و جمیل نیکوکار اور وفادار بیوی موجود ہوتی ہے ،مگر اس شخص کا دل بیوی کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا۔ بیوی اچھی نہیں لگتی۔ ذرا ذرا سی بات پر اس سے الجھتا ہے، گھر کی فضا میں بے سکونی پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ یہی شخص بے پردہ گھومنے والی عورتوں کو اس طرح للچائی نظروں سے دیکھتا ہے جس طرح شکاری کتا اپنے شکار کو دیکھتا ہے۔ بسا اوقات تو اس شخص کا دل کام کاج میں بھی نہیں لگتا۔ اگر طالب علم ہے تو پڑھائی کے سواہر چیز اچھی لگتی ہے۔ اگرتاجر ہے توکا روبار سے دل اُکتا جاتا ہے۔ کئی گھنٹے سوتا ہے مگر پرسکون نیند سے محروم رہتا ہے۔ دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ سویا ہوا ہے جب کہ وہ خیالی محبوب کے تصور میں کھویا ہوا ہوتا ہے۔ 
(۳) بدنظری کا تیسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ دل حق و باطل اور سنت و بدعت میں تمیز کرنے سے عاری ہو جاتا ہے۔ قوتِ بصیرت چھن جاتی ہے۔ دین کے علوم و معارف سے محرومی ہونے لگتی ہے۔ گناہ کا کام اس کو گناہ نظر نہیں آتا۔ پھر ایسی صورت میں دین کے متعلق شیطان اس کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اسے دینی نیک لوگوں سے بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں حتیٰ کہ اسے دینی شکل و صورت والے لوگوں سے ہی نفرت ہو جاتی ہے۔ وہ باطل پہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور بالآخر ایمان سے محروم ہوکر دنیا سے جہنم رسید ہو جاتا ہے۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین
بدنظری سے توفیقِ عمل چھن جاتی ہے
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ فرماتے تھے:
’’بدنظری نہایت ہی مہلک مرض ہے۔ ایک تجربہ تو میرا بھی اپنے بہت سے احباب پر ہے کہ ذکر شغل کی ابتداء میں لذت و جوش کی کیفیت ہوتی ہے مگر بدنظری کی وجہ سے عبادت کی حلاوت اور لذت فنا ہو جاتی ہے اور اس کے بعد رفتہ رفتہ عبادات کے چھٹنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔‘‘(آپ بیتی ۶؍ ۴۱۸) 
مثال کے طور پر اگر صحت مند نوجوان شخص کو بخار ہو جائے اور اتر نے کا نام ہی نہ لے تو لاغری اور کمزوری کی وجہ سے اس کے لئے چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کوئی کام کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ بستر پر پڑے رہنے کو جی چاہتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کو بدنظری کی بیماری لگ جائے وہ باطنی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ نیک عمل کرنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس سے عمل کی توفیق چھین لی جاتی ہے نیک کام کرنے کی نیت بھی کرتا ہے تو بدنظری کی وجہ سے نیت میں فتور آجاتا ہے۔ بقول شاعر    ؎
تیار تھے نماز کو ہم سن کے ذکر حور
جلوہ بتوں کا دیکھ کر نیت بدل گئی
بدنظری سے قوتِ حافظہ کمزور ہوتی ہے
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ غیر محرم عورتوں کی طرف یا نو عمر لڑکوں کی طرف شہوت کی نظر ڈالنے سے قوتِ حافظہ کمزور ہو جاتی ہے ،اس کی تصدیق کے لئے یہ ثبوت کافی ہے کہ بدنظری کرنے والے حفاظ کو منزل یاد نہیں رہتی اور جو طلباء حفظ کررہے ہوں ان کے لئے سبق یاد کرنا مصیبت ہوتا ہے۔ امام شافعیؒ نے اپنے استاد امام وکیعؒ سے قوتِ حافظہ میں کمی کی شکایت کی تو انہوں نے معصیت سے بچنے کی وصیت کی۔ امام شافعیؒ نے اس گفتگو کو شعر کا جامہ پہناتے ہوئے فرمایا : 
شکوت الی وکیع سوء حفظی
فاوصانی الی ترک المعاصی
فاں العلم نور من الہی
ونور اللہ لا یعطی لعاصی
(میں نے امام وکیعؒ سے اپنے حافظے کی کمی کی شکایت کی۔ انہوں نے وصیت کی کہ اے طالب علم گناہوں سے بچ جاؤ کیوں کہ علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اللہ تعالیٰ کا نور کسی گنہگار کو عطا نہیں کیا جاتا۔ )
بدنظری سے پرہیز کا خاص انعام
جو شخص اپنی نگاہوں کی حفاظت کرلے اسے آخرت میں دو انعامات ملیں گے (۱) ہرنگاہ کی حفاظت پر اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا (۲) ایسی آنکھیں قیامت کے دن رونے سے محفوظ رہیں گی۔ حدیث پاک میں ہے۔
نبی کریم  ﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ ہر آن

کھ قیامت کے دن روئے گی سوائے اُس آنکھ کے جو خدا کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے بند رہے۔ اور وہ آنکھ جو خدا کی راہ میں جاگی رہے اور وہ آنکھ جو خدا کے خوف سے روئے گو اس میں سے مکھی کے سرکے برابر آنسوں نکلے۔

Login Required to interact.