موجودہ حالات میں راہ عمل

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
 === 
اس وقت پورے عالم میں خوف اور بے اطمینانی کی کیفیت ہے اور روز مرہ پیش آنے والے واقعات سے ہر انسان دوسرے شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے اورامن عامہ کے بجائے ہرطرح بدامنی کا چلن ہو رہا ہے اور ان تمام تر بد امنیوں کواسلام اور مسلمانوں سے جوڑ کراورطرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا کرکے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ذہن بنایا جارہا ہے تاکہ اسلام کی فطری لچک اور حسن پروحشت ودہشت کاپردہ ڈال کر لوگوں کو اس سے دور رکھا جائے۔اور اسلام کی روشنی سے ان لوگوں کو محروم ہی رکھا جائے جو اس کی روشنی کے طالب ہیں۔حالانکہ عالمی حالات اور اسلام کے تئیں غیر مسلموں کی شازشیں اسلام کو مزید قوت پہونچارہی ہیں کیونکہ بقول شاعر:
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے 
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے
اس لئے بجا طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسلام کے چراغ کو ان نو خیز ہواؤں سے گل نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ان مخالف ہواؤں میں بھی اس کی زندگی اور بقا ء کا پیغام ہے :
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے 
ان حالات میںاسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی منظر نامہ سے دل برداشتہ ہونے ، جذبہ انتقام سے سرشار ہونے اوراسلام مخالف ذہنوں کی شازشوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ، مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس منظر کے پس منظر میں غور کریں اور پھر اس کی روشنی میں مستقبل کا ایسا راستہ تیار کریں جو ہر اعتبار سے قابل تعریف بھی ہو اور قابل قبول بھی۔اسلامی تعلیم کے مطابق بھی ہو اور عصر حاضر کے تقاضوں کی اس میں تکمیل بھی ہو۔
سنجیدگی کے ساتھ اگر اس مسئلہ ہر غور کیا جائے تو بنیادی طور پر تین چیزیں ہمارے لئے اس موڑ پر ضروری ہوتی ہیں:(۱) اللہ سے تعلق (۲)علم وعمل کی راہ میں ترقی(۳) دینی تعلیم سے واقفیت۔
اللہ سے تعلق کی تو یہ اہمیت ہے کہ جب تک اللہ سے ہمارا تعلق نہیں ہو گا کامیابی سے ہمکنار ہونا مشکل ہے، کیونکہ سارے فیصلے اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اورظاہر ہے کہ جب تک اللہ کی مرضی کی تکمیل نہ کی جائے گی اس وقت تک اللہ بھی اپنی خصوصی مدد سے محروم رکھے گا،امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی عمدہ بات کہی ہے :
اذا اردت ان یکون اللہ لک کما تحب فکن له کما یحب –
’’ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تمہاری مرضی کے مطابق تمہارا ہوجائے توپہلے تم اس کی پسند کے مطابق اس کے بن جاؤ‘‘
اسی کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
’’ اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤگے،خوشحالی کے دور میں اللہ سے مربوط رہو اللہ سختی اور تنگی کے حالات میں تمہارے ساتھ رہے گا،اور یہ جان لوکہ جو چیز تجھے نہ مل سکی وہ تمہیں ملنے والی نہ تھی ،اور جو چیزتجھے مل گئی وہ چھوٹنے والی نہ تھی اور یہ جان لو کہ بے شک مدد صبر کے ساتھ ہے،کشادگی، کرب کے ساتھ ہے اور آسانی ،سختی کے ساتھ ہے( مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس ارشاد کی تو ضیح میں شارحین حدیث نے یہ صراحت کی ہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شحص اللہ کے حقوق کی حفاظت نہیں کرتا ، اس کے شرعی حدود اور قوانین کی رعایت نہیں کرتا اورحرام وحلا ل کے امتیاز کی قیدسے آزادرہ کر من چاہی زندگی گزارتا ہے ،وہ شخص اس فرمان نبوی کے مطابق اللہ کی حفاظت کا مستحق نہیں ہوتا (الاربعین النوویۃ مع الشرح)
اور جس کو اللہ کی حفاطت حاصل نہ ہواس کا دشمنوں کا لقمہ بن جانا اورآفات ومصائب سے دوچار رہنا یقینی ہے ۔
 موجودہ تکلیف دہ حالات کے پس منظر میں کارفرما متعدد اسباب میں ایک اہم سب یہ بھی ہے کہ دین سے بیزاری ، غیر اسلامی تہذیب وثقافت سے ہماری مرعوبیت ،دنیا کی طلب اور اس کی تلاش میں حق وناحق کے حدود کی پامالی ،اور جائز اورناجائز کی شرعی تقسیم سے بے پرواہی اوراپنے آخری انجام : موت سے نفرت اور موت کے بعد کی دائمی زندگی سے غفلت کی وجہ سے ہم پر ان لوگوں کو مسلط کردیا گیا ہے جن کو ہمارا وجود حد درجہ ناپسند ہے۔اللہ عزوجل سے بے تعلق ہوکر دنیا کی طلب کے برے انجام کو بتائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’وہ زمانہ قریب ہی ہے کہ تم پر مختلف قومیں اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح کھانے والے اپنے پیا لے پر ٹوٹ پڑتے ہیں،کسی نے سوال کیا کہ یارسول اللہ! کیا ہم مسلمانوں کی یہ حالت اس وجہ سے ہوگی کہ ہماری تعداد کم ہوگی؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ ان دنوں تم لوگوں کی تعداد تو بہت ہوگی،البتہ تمہاری حیثیت پانی کے جھاگ کی سی ہوگی، اور اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارے رعب ودبدبہ کو نکال دیںگے اور تمہارے دلوں میں ’’وہن ‘‘ ڈال دیںگے،کسی صحابی نے پوچھا کہ یارسول اللہ ’’وہن ‘‘کیا چیزہے؟آپ نے فرمایا : دنیا کی محبت اور موت کی نفرت‘‘(ابوداؤد:۴۲۹۷)
یہ دونوں بیماریاں اس اعتبار سے ایک ہیں کہ اصل میں جب انسان کے اندر دنیا کی محبت رچ بس جاتی ہے تو موت کی نفرت اور موت سے گھبراہٹ مسحوس ہونے لگتی ہے ۔اور انسان دنیا کی نعمتوں میں اس طرح مست ہوجاتا ہے کہ اخروی دائمی نعمتوں پر بہت کم اس کی توجہ جاتی ہے اور دنیاوی نعمتوں کی لذتیں اسے اپنا خوگر بناکر موت سے متنفر بنادیتی ہیں۔جبکہ مومن کے نزدیک موت کی پرلذت حقیقت یہ ہے:
الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب
’’موت ایک پل ہے جو محب کو اپنے محبوب سے ملادیتی ہے‘‘
موجودہ برے انجام کے پیچھے محرک یہ دونوں بیماریاں قرآنی بیان کے مطابق درحقیقت قوم یہود کی فطری بیماریاں ہیںجن کی وجہ سے اللہ نے ان کو ذلت ومسکنت اور غضب الہی کا مستحق قرار دیا ،لیکن آج مسلمانوںنے ان کو اختیار کرکے خود کوذلت کا مستحق بنا لیا ہے ۔
اس لئے دنیاسے دل جوڑنے کے بجائے اللہ سے دل جوڑنا اور اللہ کی اطاعت کو اپناا شعار اور اپنی پہچان بنانا ضروری ہے، تاکہ اللہ کی طرف سے مسلط کردہ ناآشنائے رحم ظالموں سے نجات ملے ،جو درحقیقت عذاب الہی ہیں۔
(۲)علم وعمل کی راہ میں ترقی بھی اس کے ساتھ ضروری ہے ،کیونکہ علم اور عمل دو ایسی بنیادیں ہیں جن سے بہت سی قوموں کے عروج وزوال کی داستانیں وابستہ ہیں۔تعلیم اور محنت کے سلسلہ میں ہم لوگوںکو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔محلوں میں مستقبل کے معمار نوجوانوں کا بے کار پھرنااور راستوں اورچوراہوںپر قصہ گوئی اور ہنسی مذاق کرنے میں عمر کے قیمتی لمحات ضائع کرناکس قدر افسوسناک ہے !غور کیجئے کہ مستقبل کے محافظ اور نگراں اپنے مستقبل سے اس طرح بے خبر ہوں تو پھر ان کے مستقبل اور ان کی قوم کے مستقبل کی کامیابی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟!
موجودہ دور مقابلہ کا دور ہے اور اس میں کامیاب وہی ہے جو تقدیر پر نگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی کرنا جانتاہوں ،اور اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے کہ تدبیر کرکے تقدیر کی تلاش کی جائے ۔ صرف تقدیر پر بھروسہ کرکے عمل سے رک جانااسلام میں بھی ناپسند ہے ۔بلکہ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ انسان اپنی معیشت کو درست بنا نے کے لئے محنت کرے اور احادیث میں اس محنت کو بہت سراہا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے ،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
طلب کسب الحلال فریضة بعد الفریضة (کنز العمال)
’’حلال روزی کی تلاش کرنا دین کے اولین فریضہ کے بعد کا فریضہ ہے ‘‘
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
 جس شخص کی موت اس حال میں آئے کہ وہ حلا ل رزق کی تلاش میں مصروف ہوتو وہ اس حال میں مرتا ہے کہ اس کے سارے گناہ بخش دئے جاتے ہیں(ابن عساکر،شرح مسند امام اعظم:۱؍۶۳)
اس لئے تقدیر کے فیصلہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ممکنہ حد تک محنت کرنی چاہئے تاکہ اللہ کی نعمتیں حاصل ہوسکیں۔تقدیر پر اعتماد کرکے بیٹھ جانا بالکل ہی مناسب نہیں ہے۔کیا ہی خوب کہا ہے شاعر نے:
باعمل ہوگئے اوج ثریا پہ مقیم 
بے عمل ہاتھ کی ریکھا میں مقدر دیکھے
(۳) علمی ترقی کی راہ میںکوششیں صرف عصری علوم کے حصول تک محدودنہ ہوںبلکہ عصری تعلیم کے ساتھ اعلی دینی تعلیم کا حصول بھی پیش نظر ہو،کیونکہ اسلامی تعلیم سے بے تعلقی کا نتیجہ مذہب بیزاری کی شکل میں پیدا ہوتا ہے ،جس انسان دین وایمان سے بے تعلق ہوکر غصب الہی کا مستحق بن جاتا ہے ،اسی لئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
طلب العلم فریضة علی کل مسلم
’’علم دین کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ‘‘
تاکہ انسان اس علم کی وجہ سے ترقیات کے تمام مراحل پر اپنی حقیقت اور اپنی حیثیت سے آشنا رہے، اور اللہ کی اطاعت اور اس مرضی کی تکمیل کا جذبہ اس میں باقی رہے ۔
بلاشبہ موجودہ دور کو علمی انقلاب کا دور کہا جاسکتا ہے،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علمی ترقیات کی تمام تر کوششیں صرف دنیادی علوم کے حصول تک محدود ہیں، یہی وجہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان دین کی بنیادی باتوں سے ناواقف ہیں،حالانکہ ایک مومن کی حیثیت سے دین کی اتنی بنیادی باتوں کا جاننا اولین فریضہ ہے ،جن سے عقائد اور عبادتیں درست ہوسکیں،اس لئے عصری علوم کے انقلابی کی دوڑ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے علم دین کا حاصل کرنا بھی ضروری ہے ،تاکہ دنیا کے الحادی ماحول میں دینی تعلیم کی گرفت مذہب بیزاری سے باز رکھ سکے، ورنہ بے دین دنیاوی تعلیم کا نتیجہ لامذہبیت اور مغربیت پسندی کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔ اسی حقیقت کے پیش نظر ایک شاعر نے کہا ہے:
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
بہر حال اللہ سے تعلق اور علم وعمل کے ذریعہ ہی ہم اپنے مستقبل کو روشن بناسکتے ہیں اور عالمی نقشہ میں اپنا انمٹ وجود نقش کرسکتے ہیں۔
Login Required to interact.