دیدار الہی

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
====
دنیا امتحان کی جگہ ہے اور آخرت انعام کی جگہ ہے ، انسانی زندگی میں بھی اللہ جزوی طور پر انعام سے نوازتے ہیں ، لیکن حقیقی انعام آخرت میں ہی عطا کیا جائے۔
اللہ کی طرف سے نیک بندوں کے لئے جن انعامات کو تیار کرکے رکھاگیا ہے اور جن کا وعدہ کیا گیا ہے ان میں سے بعض کی اطلاع دی گئی ہے اور ان کا تذکرہ کیا گیا ہے، لیکن ان انعامات کی حقیقی لذت کاحصول و تصور اس دنیا میں محال وناممکن ہے ۔
اللہ نے اپنے متقین بندوں اور اہل ایمان کے لئے جن نعمتوں کا وعدہ کیا ہے،جن کی لذت سے وہ آخرت میں ہمکنارہوں گے ان میں سے سب سے عظیم تر نعمت یہ ہے کہ اللہ اپنا دیدار کرائیں گے، یہ نعمت جنت کی نعمتوں میں سے سب سے عظیم ہوگی اور اس کی لذت تمام نعمتوں کی لذت پر غالب ہوگی، بلکہ اس کی لذت پانے کے بعد جنتی جنت کی لذت کی تمام چیزوں اور ان کی لذتوں کو بھول جائیں گے،ایک روایت میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
’’جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو منادی پکارے گا : جنت والو ! اللہ کے پاس تمہارا ایک وعدہ ہے وہ اسے پورا کرنا چاہتا ہے، جنتی کہیں گے : وہ کیا وعدہ ہے ؟ کیا اللہ نے ہمارے نیک اعمال کو وزنی نہیں کیا ؟ ہمارے چہروں کو روشن اور تابناک نہیں کیا ؟ ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا ؟ اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی ؟  آپ ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے گا، لوگ اس کا دیدار کریں گے، اللہ کی قسم ! اللہ کے عطیات میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اس کے دیدار سے زیادہ محبوب اور ان کی نگاہ کو ٹھنڈی کرنے والی نہ ہوگی ‘‘(سنن ابن ماجۃ: ۱۸۷، سنن ترمذی:۲۵۵۲)
دنیامیں بیداری کی حالت میں تو اس نعمت کا حصول گرچہ ممکن ہے،لیکن انسانی آنکھوں میں یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے خالق کے دیدار کی تاب لاسکے، اس لئے علماء کا اتفاق ہے کہ ممکن ہونے کے باوجود بحالت بیداری دیدار الہی کا وقوع نہیں ہوا ہے ،علامہ نووی ؒ، علامہ ملاعلی قاریؒ نیز علامہ عینی  ؒلکھتے ہیں:
وأما رؤية الله في الدنيا فممكنة، ولكن الجمهور من السلف والخلف من المتكلمين وغيرهم أنها لا تقع في الدنيا( شرح مسلم للنووی : ۳؍۱۵، عمدۃ القاری : ۱۸؍۲۲۹، مرقاۃ المفاتیح: ۱۰؍۳۲۰)
’’دنیا میں اللہ کا دیدارممکن تو ہے لیکن متکلمین میں سے جمہور سلف وخلف کا اتفاق ہے کہ دنیا میں دیدار کا وقوع نہیں ہوا ہے ‘‘
ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ جب کہ انسانی نگاہوں میں ذات باری کے مشاہدہ کی تاب لانے کی صلاحیت نہیں ہے ، جب حضرت موسی علیہ السلام نے دنیا میں دیدار الہی کا سوال کی تو جواب ملا: لَنْ تَرَانِیْ (مجھے نہیں دیکھ سکتے)البتہ سفر معراج میں بحالت بیداری جسمانی آنکھ سے اللہ کے دیدار کی عظیم سعادت نبی اکرم ﷺ کو حاصل ہوئی ، اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے، جس کا متعدد روایات سے ثبوت ہوتا ہے ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے سفر معراج میں اپنے رب کو دیکھا تو جواب ملا:
نُوْرٌ اِنِّیْ اَرَاه (مسلم )
’’ایک نور سے جسے میں نے دیکھا ہے‘‘
بعض حضرات نے اس کو  نُوْرَانِیٌّ اَرَاہُ   پڑھا ہے جس کا ترجمہ ہوگا کہ وہ نورانی ہے میں نے اس کودیکھا ہے،جبکہ بعض حضرات اس کو  نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ   پڑھتے ہیں جس کا ترجمہ ہوگا کہ وہ نورہے میں اسےکیسے دیکھ سکتا؟!اس ترجمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دیدار نہیں ہوا لیکن اس روایت کے علاوہ اور بھی روایتیں ہیں جن میں دیدار کی واضح صراحت ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ایک روایت میںہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
رَأيْتُ رَبِّيْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى (السنن الکبری: ۲۵۸۰)
’’میں اپنے رب تبارک وتعالی کو دیکھا‘‘
خود حضرت ابن عباس ؓ ہی سے موقوفا ً حضرت عکرمہ ؒ ان کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (السنن الکبری: ۱۱۴۷۳)
’’محمد ﷺ نے اپنے عزوجل کو دیکھا‘‘
بہر حال یہ موضوع روز اول سے ہی امت میں مختلف فیہ رہا ہے اور ہر رائے کے قائل کا سامنے مضبوط دلیل ہے ،البتہ ہر زمانہ میں اکثر اہل علم دیدار کے قائل رہے ہیں،نیز علماء دیوبند بھی دیدار ہی کے قائل ہیں،تاہم اس مسئلہ میں بحث ومناظرہ سے گریز کرنا چاہئے۔علامہ ذہبی ؒنے سیر اعلام النبلاء میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے:
نقفُ عن هذه المسألة، فإن من حُسْن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه، فإثباتُ ذلك أو نفيه صعب، والوقوف سبيلُ السلامة(سیر اعلام النبلاء: ۱۰؍۱۱۴)
’’اس مسئلہ میں ہم توقف کرتے ہیں؛ کیونکہ ایسی چیزوں سے گریز کرنا جس کی ضرورت نہ ہواسلا م کا بہتر عمل ہے ،اور دیدار کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا دشوار ہے ، اور خاموشی سلامتی کی راہ ہے‘‘
دوسری صورت خواب میں دیدار الہی کی ہے ، تو قاضی عیاض ؒ وغیرہ کی صراحت کے مطابق متفقہ طور پر تمام علماء اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا میں خواب کی حالت میں اللہ کا دیدار ہوسکتا ہے، فرماتے ہیں:
لم يختلف العلماء في جواز صحة رؤية الله في المنام(اکمال المعلم:۷؍۲۲۰)
’’خواب میں اللہ کی رؤیت کی صحت کے جواز میں میں علماء اختلاف نہیں ہے ‘‘
علامہ محمد بن عربی تبانی ؒ فرماتے ہیں:
رؤية الله تعالى في المنام جائزة باتفاق العلماء(تحذير العبقري من محاضرات الخضري:۱؍۱۳۹)
’’باتفاق علماء خواب میں اللہ کی رؤیت جائز ہے ‘‘
اس کی تصدیق ان واقعات سے بھی ہوتی ہے جو متعدد علماء کرام اور ائمہ عظام کے بارے میں منقول ہے کہ انہیں خواب میں دیدار الہی کی سعادت نصیب ہوئی۔
امام اعظم امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ فرماتےہیں کہ میں نے اللہ رب العزت کو خواب میں ننانوے مرتبہ دیکھا ، اس کے بعد میرے دل میں خیال آیا کہ اگر آئندہ سویں مرتبہ دیکھوں گا تو اللہ سے پوچھوں گا کہ مخلوق اللہ کے عذاب سے کیسے بچ سکتی ہے؟ چناں سویں مرتبہ دیکھا تو میں نے کہاکہ اے رب بروز قیامت آپ کے عذاب سے آپ کے بندے کس چیز کے ذریعہ بچ سکتے ہیں؟تو اللہ نے فرمایا کہ جو صبح وشام یہ کہے گا میرے عذاب سے بچ جائے گا:
سُبْحَانَ الْأَبَدِيِّ الْأَبَدِ، سُبْحَانَ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ، سُبْحَانَ الْفَرْدِ الصَّمَدِ، سُبْحَانَ رَافِعِ السَّمَاءِ بِلَا عَمَدْ، سُبْحَانَ مَنْ بَسَطَ الْأَرْضَ عَلَى مَاءٍ جَمَدْ، سُبْحَانَ مَنْ خَلَقَ الْخَلْقَ فَأَحْصَاهُمْ عَدَدْ، سُبْحَانَ مَنْ قَسَمَ الرِّزْقَ وَلَمْ يَنْسَ أَحَدْ، سُبْحَانَ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدْ، سُبْحَانَ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدْ  (رد المحتارعلی الدر المختار:۱؍۵۱)
امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ نے بھی خواب میں اللہ کا دیدار کیا فرماتےہیں کہ میں نے اللہ سے عرض کیاکہ مقرب بندوں کو سب سے زیادہ کس چیز سے آپ کی قربت حاصل ہوتی ہے؟  اللہ عزوجل نے فرمایا کہ اے احمد! میرے کلام(قرآن ) کے ذریعہ ، میں نے پوچھا کہ سمجھ کر پڑھنے سے یا بغیر سمجھے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ چاہے سمجھ کر پڑھے یا بغیر سمجھے پڑھے (مختصر منہاج القاصدین:۵۱)
سریج بن یونسؒ بغداد کے بڑے زاہد گزرے ہیں، اپنے وقت کے بڑے فقیہ ومفسر اور محدث بھی تھےاور ائمہ حدیث میں ان کا شمار ہوتا ہے ، انہوں نے بھی خواب میں اللہ کا دیدار کیا، فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ کھڑے ہیں، اور میں بھی صف اول کے آخر میں ہوں، اور ہم سب اللہ عزوجل کو دیکھ رہے ہیں، اچانک اللہ نے فرمایا کہ تم سب کیا چاہتے ہو؟  سب کے سب خاموش رہے تو میں صف اول سے آگے بڑھا تو اللہ نے فرمایاتم کیا چاہتے ہو، میں نے کہا کہ آپ کا سامنا۔ اللہ نے فرمایاکہ میں نے تمہیں پیدا کیا ہے، اور میں تمہیں عذاب نہیں دونگا۔ پھر وہ آسمان میں نظروں سے اوجھل ہوگیا۔(تاریخ الاسلام للذہبی: ۱۷؍۱۶۹، صفوۃ الصفوۃ :۱؍۶۱۸)
تیسری صدی میںابوحامد احمد بن خضرویہ بلخی ؒبڑے متصوف وزاہد گزرے ہیں، وہ خراسان کے بڑے مشائخ اور اہل سنت والجماعت کے بڑے علماءمیں شمار کئے جاتے تھے، انہوں نے اللہ عزوجل کا خواب میں دیدار کیا ، اللہ نے ان سے فرمایا کہ ہرشخص مجھ سے اپنی حاجتوں کو مانگتا ہے اور ابویزید بسطامیؒ کا حال یہ ہے کہ ان کو میری طلب ہے۔(مختصر منہاج القاصدین: ۳۶۳، صفوۃ الصفوۃ لابن الجوزی: ۴؍۳۵۶)
ابوالقاسم قشیری ؒکہتے ہیں کہ میں نے خواب میں رب العزت کا دیدار کیا ، میں نے دیکھا کہ وہ مجھ سے بات کررہے اور میں ان سے بات کررہا ہوں، اسی دوران اللہ نے فرمایا کہ ’’رجل صالح‘‘ (نیک انسان) کو دیکھو، جوں ہی میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہ احمد ثعلبیؒ ہیں۔(معجم الادباء: ۳؍۳۶، تاریخ الاسلام للذہبی: ۲۹؍۱۸۵، مقدمہ تفسیر ثعلبی)  واضح رہے کہ یہ مشہور مفسر احمد بن محمد بن ابراہیم ثعلبی ہیں، جن کی دس جلدوں پر مشتمل مفصل تفسیر ہے ، جو تفسیر ثعلبی کے نام سے مشہور ہے۔
ان حضرات کے علاوہ اور بھی متعدد حضرات کے بارے میں کتابوں میں واقعات مذکور ہیں کہ انہیں خواب میں اللہ عزوجل کے دیدار کی سعادت حاصل ہوئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ خواب میں اللہ کا دیدار ہوسکتا ہے اور ہوا ہے جیسا کہ علماء وفقہاء کی رائے ہے ۔
خواب میں اللہ کا دیدار ہوجانا عظیم سعادت ہے ، جسے اللہ چاہے اس سعادت سے ہمکنار کردیتے ہیں:
ایں سعادت بزوربازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
لیکن آخرت میں اللہ کا دیدار تمام مؤمنین کا نصیبہ ہے ، ہر جنتی اللہ کا دیدار کرے گا، اور اہل جنت کو حاصل ہونے والی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت یہی ہوگی جس کی لذت پاکر جنتی جنت کی چیزوں کی لذتوں کو بھول جائیں گے۔اسی لئے نبی اکرم ﷺ اپنی دعاؤں میں یہ دعا بھی فرماتے تھے کہ اے اللہ میں آپ سے آپ کی ملاقات کا شوق مانگتا ہوں اور آپ کے روئے مبارک کے دیدار کی لذت مانگتا ہوں(سنن نسانی : ۱۳۰۵)
جب جنت میں اللہ اپنے جنتی بندوں کودیدار عطا کرنا چاہے گا تو اپنا حجاب ہٹاکر اپنے بندوں کو اپنا دیدار عطا فرمائے گا۔ وہ دیدار بے جہت، بے کیف، بے شبہ اور بے مثال ہوگا۔ پھر اللہ تعالی فرمائے گا ’’میرے بندو! تم راتوں کو میری یاد میں جاگتے تھے، تم دنوں کو میری محبت میں نیک عمل میں لگے رہتے تھے، تمھیں لوگ برائی کی طرف بلاتے تھے، مگر تم میری محبت کی وجہ سے برائی سے بچتے تھے۔ تمہاری نگاہیں جھکی رہتی تھیں، تم اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھتے تھے، تم کسی کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھتے تھے، تمہارے دل میں میرے دیدار کا شوق تھا، میری ملاقات کی تمنا تھی، تم نے برے دوستوں کو چھوڑدیا، برے کاموں کو چھوڑدیا، تم نے برائیوں سے اپنے آپ کو بچالیا، تم میری محبت میں زندگی گزارتے تھے۔ میرے بندو! تم نے میرے حسن وجمال کو دیکھنا پسند کیا، آج میں تمھیں اپنا دیدار عطا فرماتا ہوں‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالی جنتیوں کو اپنا دیدار عطا فرمائے گا۔
یہ دیدار ایسا ہوگا کہ جنت میں نور کی بارش ہوگی اور وہ بارش جنتیوں کے کپڑوں اور چہروں پر پہنچے گی۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جس طرح آندھی آتی ہے تو باہر جتنے لوگ ہوتے ہیں ان کے چہروں پر مٹی کی تہہ جم جاتی ہے۔ اسی طرح یہ نور کی آندھی ہوگی، جنتیوں کے چہروں پر نور کی ایک تہہ آجائے گی اور ان کا حسن اتنا بڑھ جائے گا کہ جب وہ کئی سال تک اللہ تعالی کے حسن کی لذت کے مزے لے کر اپنی اصل کیفیت میں واپس ہوں گے تو ان کا حسن اتنا بڑھ چکا ہوگا کہ اب جنتی مخلوق ستر سال تک ٹکٹکی باندھ کر ان کے حسن کو دیکھتی رہ جائے گی۔ اللہ تعالی کی طرف سے پھر جنتیوں کو حکم ہوگا ’’میرے بندو! یہ تمھیں میرا پہلی دفعہ دیدار ہوا ہے اور اب وقفہ وقفہ سے ہوتا رہے گا‘‘،جنتیوں کو یہ دیدار جمعہ کے دن کروایا جائے گا، کچھ لوگوں کو سال کے بعد ہوگا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے جن کو روزانہ دیدار کروایا جائے گا۔ جس کو جتنی مرتبہ دیدار نصیب ہوگا، وہ جنت میں اتنا عزت والا انسان ہوگا؛ کیونکہ اس کو جنت کی یہ سب سے بڑی نعمت سب سے زیادہ حاصل ہے۔
Login Required to interact.