بدترین گناہ؟

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
عن عبد الله بن مسعود – رضي الله عنه – قال: سألت النبي – صلى الله عليه وسلم – أي الذنب أعظم عند الله ؟ قال:  أن تجعل لله ندّاً وهو خلقك، قلت: إن ذلك لعظيم . قلت: ثم أي ؟ قال: وأن تقتل ولدك تخاف أن يطعم معك، قلت: ثم أي ؟ قال: أن تزاني حليلة جارك متفق عليه .
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جواب دیا یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر قرار دے دو، حالانکہ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے میں نے عرض کیا:یہ گناہ تو واقعی بڑا ہے، اور اس کے بعد دوسرا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :اپنی اولاد کو اس اندیشہ سے مار ڈالنا کہ ان کو کھلانا اور پرورش کرنا پڑے گا، میں نے کہا :  اس کے بعد پھر بڑا گناہ کیا ہے؟ فرمایا: اپنے ہمسایہ کی بیوی کے ساتھ زنا کرنا‘‘
مختصر تشریح
حضرات صحابہ کرام گناہوں سے بچنے کا مکمل اہتمام کرتے تھے، اور اسی مقصد سے وہ رسول اللہ ﷺ سے مختلف چیزوں کے بارے میں حکم شریعت دریافت کرتے تھے، تاکہ انجانے میں کوئی گناہ نہ ہونے پائے، اس حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ معلوم کیا کہ گناہ تو بہت سے اعمال ہیں ، لیکن ان میں سے کچھ ایسے گناہ ہیں جنہیں تمام گناہوں میں سب سے بڑا اور مہلک کہا گیا ہے ،مجھے یہ بتائیں کہ تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ شرک ہے ،آپ ﷺ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ بتانے کے لئے فرمایا: اَنْ تَجْعَلَ  لِلہِ نِدًّا۔ آپ ﷺ کے اس جملہ سے شرک کی حقیقت معلوم ہوگئی کہ اللہ کی ذات وصفات اور اس کے اسماء وافعال میں غیر اللہ کو اللہ کے مساوی ماننا یا خدائی اختیارات کو غیر اللہ کے ہاتھ میں دینا اور اس کا تصور رکھنا کہ انہیں یہ اختیار حاصل ہے ، شرک ہے،اور یہ تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ واقعی یہ گناہ تو سب سے بڑا ہے ہی؛ کیونکہ یہ بہت سے گناہوں کی بنیاد ہے اور اس خالق حقیقی کی احسان فراموشی ہے جس نے انسان کو  اور انسان کے اطراف کی کائنات اوراس کی تمامتر مخلوق کو تنہا پیدا کیا ہے، اور اس خالق کے اس احسان کا فطری تقاضا ہے کہ انسان اس کو پہچان کر اپنی عبدیت کا رشتہ صرف اسی سے جوڑے، اور اپنے خالق کے رتبہ کی بلندی کا اس طور پر قائل رہے کہ جس طرح اس نے اس کی تخلیق میں کسی سے مدد نہ لی، اسی طرح یہ انسان بھی اس کی ذات وصفات اور اعمال میںکسی کو اس کامساوی وشریک ماننے کے بجائے اس کی یکتائی کا قائل رہے۔
رسول اللہ ﷺ سے عبد اللہ بن مسعودؓ نے پوچھا کہ شرک کے بعد دوسرا سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اولاد کو (دنیا میں آنے کے  بعد یا دنیا میں آنے سے پہلے شکم مادر میں)  اس اندیشہ سے مار ڈالنا کہ ان کو کھلانا اور پرورش کرنا پڑے گا، اور اس کی وجہ سے معاشی مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا۔
اس گناہ کو شرک کے بعد دوسرا سب سے بڑا گناہ بتاکر رسول اللہ ﷺ نے اس جرم کی قباحت کو واضح کردیا ؛ کیونکہ اس گناہ کی جرأت کرنے والا بھی درحقیقت اللہ کی عظمت اور اس کی صفت رزاقیت کا انکار کرنے والا ہے اور  روزی ومعیشت کو اللہ کی نوازش اور تقدیر سے جوڑنے کے بجائے اپنی محنت اور تدبیر سے جوڑ کر شرک میں مبتلا ہے ۔حالانکہ اللہ نے قرآن کریم میں یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ بچہ کی روزی کا انتظام اس کے والدین یا سرپرست وغیرہ نہیں کرتے بلکہ اس کی روزی کا انتظام اس کا خالق ہی کرتا ہے،اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا (اسراء: ۳۱)
 اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل مت کرو (کیو نکہ) ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی ،بے شک ان کو قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ معاشی مسائل کو بنیاد بناکر فیملی پلاننگ کرنا حرام عمل ہے ، اور اس کی اسلام میں قطعا گنجائش نہیں ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ!  اس گناہ کے بعد پھر کونسا گناہ سب سے بڑاہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرنا؛ کیونکہ زنا اور بدکاری بذات خود حددرجہ برا اورہلاکت خیز عمل ہے ،اس کی قباحت اس وقت اوربھی بڑھ جاتی ہے جبکہ آدمی یہ برائی اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ انجام دے، اس لئے کہ یہ پڑوسی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات وآداب اور امانت و دیانت کے خلاف ہے جن کا مسلمانوں کو اسلام نے پابند بنایا ہے اور جنہیں ایمان کا جزء قرار دیا ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے:
والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، والله لا يؤمن،  قيل: ومن يا رسول الله؟ قال: الذي لا يأمن جاره بوايقه (بخاری: ۶۰۱۶)
’’واللہ وہ آدمی مومن نہیں ہے، واللہ وہ آدمی مومن نہیں ہے، واللہ وہ آدمی مومن نہیں ہے، پوچھا گیا کون یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے بے خوف نہ ہو‘‘
حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ تین مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے بڑے گناہ کے بارے میں پوچھا ، جس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ان تین گناہوں کو بیان کیا ، اسی حدیث کے بعض طرق میں ہے کہ اگر میں آپ سے مزید پوچھتا تو آپﷺ اور بھی بڑے گناہ بتاتے۔ کیونکہ بہت بڑے اور سنگین گناہ ان کے علاوہ اور بھی ہیں، مثلا ایک روایت میں والدین کی نافرمانی،ناحق کسی کا قتل، سحر وجادو، جھوٹی گواہی وغیرہ کو بھی بدترین گناہ کہا گیا ہے۔
Login Required to interact.