موسوعۃ الفقہ الاسلامی المصریہ: ایک تجزیاتی مطالعہ

کتابیات

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

 =========

’’فقہ اسلامی‘‘ قرآن وسنت کا عطر وخلاصہ ہے، انسانی زندگی کے لئے چراغ راہ ہےاوراصول شریعت سے ماخوذ ومستنبط ایسا جامع دستور حیات ہے جس نےانسانی زندگی کے تمام شعبوں کواپنے اندراس طرح سمولیا ہےکہ عقائد،عبادات، معاملات ، معاشرت، مرافعات، معاہدات اور تعلقات وغیرہ کے ہمہ جہت مسائل میں اس فن کے ذریعہ رہنمائی ملتی ہے، اسی لئے طلوع اسلام کے ساتھ ہی اس کا آغاز ہوا ور پھر خیر القرون ہی میں قرآن وحدیث کے علوم میں ماہر، فہم وبصیرت میں اعلی، تقویٰ اورطہارت میں فائق اورحافظہ وذکاوت میںبے مثل وبے نظیر اولوالعزم فقہاء اور مخلص وحوصلہ مند مجتہدین نےاحکام شریعت کے استنباط میں اپنی شبانہ روز محنتیں صرف کرکےباضابطہ’’ فقہ اسلامی‘‘ کی ترتیب وتدوین کا فریضہ انجام دیا اورپھر ان مجتہدین میں سے ائمہ اربعہ کی فقہ واجتہاد کو من جانب اللہ ایسا بقا حاصل ہوا کہ ہردور میں ان مکاتب فکر کی شخصیتوں کا تسلسل رہا جنہوں نے ہر دور کےتقاضو ں کے مطابق علم وتحقیق کا فریضہ انجام دے کر ایسے فقہی ذخیرے مرتب کئےکہ زندگی کا کوئی شعبہ اور کسی شعبہ کا کوئی گوشہ ان مذاہب اربعہ میں تشنہ نہ رہا۔

فقہ اسلامی زمانہٴ تدوین سے لے کر عصرِ حاضر تک مختلف مراحل سے گزری ،احوال زمانہ اور انقلابات وتغیرات کے زیراثر پیش آمدہ احوال ومسائل کا شرعی حل امت کے سامنے پیش کرنے کے لئے اور فقہی ذخائر سے استفادہ کو آسان بنانے کے لئے حضرات فقہائے کرام نے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق فقہ اسلامی کے گرانقدر ذخیرے کی تہذیب وتنقیح کی اور ہر دور کے علمی مزاج و مذاق کے مطابق کتبِ فقہ کے طرزِتصنیف،اسلوبِ تحریر، ترتیب مباحث، تحریر مسائل اورتقریر ادلہ میں فقہ اسلامی کے دائرے میں رہتے ہوے مفید سے مفید تر تبدیدلیاں کیں، جس سے فقہ اسلامی کی جامعیت و افادیت میں اضافہ ہوا اور انسانی زندگی سے اس کا ربط ہردور میں مستحکم رہا۔

فقہ اسلامی کی افادیت کو عام کرنے اور اس سے استفادہ کو آسان بنانے کی خاطرجو مختلف النوع کوششیں ہوئیں، ان میں یہ کوششیں بہت اہمیت کی حامل ہیں:

۱۔ جدید قانونی طرز کے مطابق فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین جس کی پہلی کوشش عہد عثمانی میں ہوئی اور’’ مجلۃ الاحکام العدلیۃ‘‘ اس طرز پر تصنیف کی گئی۔

۲۔ قواعد فقہیہ اور مقاصد الشریعہ کا احیاء،جیسے علامہ شاطبی کی الموافقات، شافعی فقیہ عز الدین بن عبد السلام کی قواعد الاحکام فی مصالح الانام اور علامہ ابن نجیم کی الاشباہ و النظائراور عصر حاضر کی اہم ترین کتاب موسوعۃ القواعد الفقہیہ  جو کہ تیرہ جلدوں پر مشتمل ہے۔

۳۔ الفقہ المقارن یعنی فقہ و اصول فقہ کے تقابلی مطالعہ پر مشتمل تصانیف، جیسے:ہدایہ ، بدائع الصنائع اورعصر حاضر کے نامور فقیہ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی کی مایہ ناز کتاب”الفقہ الاسلامی و ادلتہ“، علامہ عبد الرحمن الجزیری کی کتاب”الفقہ علی المذاہب الاربعہ“۔

۴۔فقہ و اصول فقہ کی تاریخ اور جامع تعارف پر مبنی مفیدکتابوں کی تصنیف، جیسے : معروف عالم و مشہور مورخ شیخ محمد خُضَرِی بِک کی تاریخ التشریع الاسلامی، قطان کی تاریخ التشریع الاسلامی، شیخ مصطفی زرقا کی المَدخل الفقہی العام وغیرہ۔

۵۔ مذاہب اربعہ کا مفصل تعارف تاکہ عصرِ حاضر میں نت نئے مسائل کے حل کے لیے مذاہب اربعہ سے استفادہ کیا جاسکے۔جیسے : شیخ ابوزہرہ کی ”تاریخ المذاہب الاسلامیہ“ اور ”محاضرات فی تاریخ المذاہب الفقھیہ“اور معروف اردنی عالم ڈاکٹر احمد سعید کی المدخل الی مذہب ابی حنیفۃ۔

۶۔ متفرق فتاوی کی فقہی ابواب پر ترتیب، جیسے فتاوی ہندیہ وغیرہ اس سلسلہ میں اردو زبان میں بھی اکابر علمااور دارالافتاء سے جاری ہونے فتاوی کو مرتب کرنے پر بڑا کام ہوا ہے اور بہت سے کتب فتاوی مرتب ہوئے، جیسے فتاوی درالعلوم دیوبند، امداد الاحکام،فتاوی رحیمیہ، احسن الفتاوی، کتاب الفتاوی، کتاب المسائل، فتاوی قاسمیہ، فتاوی عثمانی اور فتاوی علماء ہند وغیرہ۔

۷۔ فقہی موسوعات اور انسائیکلو پیڈیازکی تیاری۔ یعنی دیگر فنون کی طرح فقہی دخیرہ کی موسوعاتی انداز میں ترتیب تاکہ فقہ اسلامی سے اس شخص کےلئے استفادہ بھی آسان ہو جسے فقہی مسائل اور ابواب کی ترتیب کا علم نہیں ہے اور اسے فقہی کتابوں سے ممارست نہیں ہے۔موسوعہ فقہیہ کویتیہ اور اس مقالہ میں زیر تعارف کتاب:  ’’موسوعۃ الفقہ الاسلامی ‘‘ اس سلسلہ کی نمایاں اور قابل ذکر کوشش ہے۔

موسوعۃ کیا ہے؟

’’  موسوعہ‘‘ ،جس کا انگریزی متبادل’’ انسا ئیکلو پیڈیا‘‘ ہےاس جامع تصنیف کو کہتے ہیں جس میں علم وآگہی کے چند ایک یا تمام موضوع سے متعلق مکمل معلومات حروف تہجی پر ترتیب دی گئی ہوں۔المعجم الوسیط میں لکھتے ہیں:

كتاب يجمع مَعْلُومَات فِي كل ميادين الْمعرفَة أَو فِي ميدان مِنْهَا مرتبَة ترتيبا أبجديا { المعجم الوسیط:۲؍۱۰۳۱}

’’موسوعہ ایسی کتاب ہے جس میں علم وآگہی کے تمام میدانوں یا کسی ایک میدان کی معلومات حروف کی تہجی کی ترتیب پر مرتب ہوں‘‘

معجم اللغۃ العربیہ المعاصرہ میں موسوعہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:

مَوْسوعة [مفرد] دائرة معارف؛ كتاب يجمع معلومات في كلّ ميادين المعرفة والفنون، أو فى ميدان منها، تُعرض المواد فيه مرتَّبة ترتيبًا هجائيًّا أو بحسب الموضوعات{ معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرہ: ۳؍۲۴۴۰ }

’’موسوعہ [مفرد]  دائرہ معارف ہے ، یعنی ایسی کتابجس میں علم وفنون کے ہر میدان کی یا ان میں سے کسی ایک میدان کی معلومات جمع ہوں، اس میں مواد حروف تہجی کی ترتیب پریا موضوعات کے مطابق پیش کئے جاتے ہیں‘‘

موسوعہ کی اس تعریف سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عام طور پر موسوعہ میں الف بائی ترتیب ہوتی ہے جیسا کہ مشہور موساعات میں ہے لیکن بعض موسوعات میں الف بائی ترتیب نہیں بھی ہوتی ہے ،لیکن اس کی کتاب جامعیت وغیرہ کے پیش نظر اسے موسوعہ کے نام سے موسوم کردیا جاتا ہے، جیسا کہ موسوعۃ التفسیر بالماثور ، ابراہیم ابیاری کی الموسوعۃ القرآنیہ اورعلامہ محمد بن ابراہیم التويجْرِی کی موسوعۃ الفقہ الاسلامی وغیرہ۔

لیکن عصر حاضر میں فن سے استفادہ کو آسان بنانے کے رجحان نےجس ’’موسوعہ ‘‘کو متعارف کرایا وہ در اصل موسوعہ کی الف بائی ترتیب ہے؛ کیونکہ اس کی  وجہ سے اس فن سے استفادہ آسان ہوجاتا ہے ،کم محنت میں مطلوبہ معلومات تک جلد رسائی ہوجاتی ہے،اور فن سے کامل واقفیت وممارست کے بغیر بھی اس فن کے فروع و مصطلحات سے واقفیت معمولی کوشش ومحنت سے حاصل ہوجاتی ہے۔

موسوعہ فقہیہ  

 فقہ اسلامی کی موسوعہ کی تیاری ایک قدیم اسلامی آرزو تھی،جو ہر زمانہ میں محسوس کی گئی اور اس سلسلہ میں سب پہلی کوشش علامہ ابن حزم اندلسی ؒکی طرف سے ہوئی ، انہوں نے  كتاب الْخِصَال الجامعة لجمل شرائع الْإِسْلَام کے نام سے ایک نہایت جامع کتاب تصنیف کی جس میں انہوں نے اپنے زمانے تک کے تمام فقہاء کے اقوال وآراء کو ان کے مستدلات کے ساتھ جمع کیا ، علامہ ابن حزم اندلسیؒ کے معاصر اخبار الحکماء کے مصنف علامہ حکیم صاعد اندلسیؒ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب ابن حزم کی تحریر میں۲۴ جلدوں میں دیکھی ، اسے ابن حزم نے بہتباریک تحریرمیں لکھی تھی، اور علامہ ذہبی کہتے ہیں کہ یہ کتاب ۲۵ جلدوں پر مشمل تھی، لیکن افسوس کہ یہ کتاب ضائع ہوگئی۔{ موسوعات الفقہ الاسلامی اومعاجم القوانین الفقہیہ: محمد منتصر الکتانی، ط: الجامعۃ الاسلامیہ ، مدینہ منورہ۔}

عصر حاضرمیں فقہ اسلامی کو الف بائی ترتیب پر مرتب کرکے جامع فقہی موسوعہ تیار کرنے کی تحریک ۱۳۷۰؁ھ مطابق ۱۹۵۱ء؁ میںپیرس میں منعقد ہونے والے کانفرس سے شروع ہوئی جس میں عالم اسلام کے بہت سے فقہانے شرکت کی تھی، کانفرنس کی سفارشات میں ایک ایسے فقہی موسوعہ کی تالیف کی اپیل کی گئی تھی کہ جس میں ’’فقہ اسلامی ‘‘ جدید طرز پر  حروفِ تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی جائے۔

موسوعۃالفقہ الاسلامی سے موسوعۃ جمال عبد الناصر تک 

پیرس کی اس کانفرس کی اپیل اور سفارش پر لبیک کہتے ہوئے فقہی موسوعہ ترتیب دینے پرمشہور فقیہ اور ممتاز مفکر داکٹر مصطفی سباعی نےتوجہ دی، دمشق یونیورسٹی میں کلیۃ الشریعہ کا قیام عمل میں آیا، داکٹر مصطفی سباعی اس کے صدر بنے اور انہوں نے ایک ضخیم فقہی موسوعہ تیار کرنے کا منصوبہ حکومت شام کے سامنے پیش کیا جسے حکومت نے منظور کیااورعالم عرب کے ممتاز محققین پر مشتمل کی ایک کمیٹی تشکیل دی،اس موسوعہ کا خطہ اور اس کی ترتیب ومنہج پرمشتمل جمہوری فرمان ۳؍۵؍۱۹۵۶ء میں جاری ہوا، جس میں فقہ حنفی کو اساسی درجہ دیا گیا تھا اور ممکنہ حد تک تمام فقہی آراء کو جمع کرنے کی ہدایت تھی۔ اس ہدایت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کچھ کام ہوا لیکن چند وجوہات کی بنا پر یہ کام ابتدائی کوششوں سے بھی آگے نہ بڑھ سکا۔ { تفصیل کے لئے دیکھیں: تاریخ التشریع الاسلامی للقطان: ۴۱۲ }

 ۱۹۵۸؁ء میں مصر وشام میں اتحاد کے بعد مصری اور شامی علما میں قربت بڑھی تو مصر اور شام نے مل کر اس موسوعۃ کی ترتیب کا ذمہ لیا اور مصر ی وزیر اوقاف نے مجلس اعلی برائے اسلامی امور تشکیل دی جس کے تحت  ۱۹۶۱؁ء میں شامی اور مصری علماء پر مشتمل ’’موسوعۃ الفقہ الاسلامی کمیٹی ‘‘بنائی گئی، جس کو موسوعہ تیار کرنے کی ذمہ داری گئی ، ان حضرات کی کوششوں سے پہلی جلد ۱۹۶۶ ؁ء میں شائع ہوئی ،اور اس وقت کے مصری صدر جمال عندالناصر کے نام سے جوڑتے ہوئے اسے’’ موسوعۃ جمال عبدِ الناصر فی الفقہ الاسلامی ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا، اس عظیم فقہی اور سرایا دینی کارنامے کو جمال عبد الناصر جیسے شخص سے منسوب کرنا یقینا ایک مضحکہ خیز سیاسی عمل تھا{ قاموس الفقہ : حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: ۱؍۳۷۲ } اس لئے یہ نام صرف اس کی حیات تک ہی رہا اور گیارہویں جلد کے بعد اسے پرانے نام ’’موسوعۃ الفقہ الاسلامی ‘‘ سے ہی موسوم کیا گیا اور اب اسی نا م سےیہ شائع ہورہی ہے،اہل علم کے درمیان یہ کتاب موسوعۃ جمال عبد الناصرفی الفقہ الاسلامی، موسوعۃ الفقہ الاسلامی، اورالموسوعۃ الفقہیہ المصریہ کے ناموں سے معروف ہے۔

موسوعۃ الفقہ الاسلا می کامنہج تالیف

’’موسوعۃ الفقہ الاسلامی‘‘ یعنی موسوعۃ جمال عبد الناصر کا کام جب مصر کی مجلس اعلی برائے اسلامی امورکی نگرانی میں شروع ہوا تو اس گرانقدر  علمی اور فقہی کارنامہ  کو انجام دینے کا جو خطہ اور منہج تالیف تیار کیا گیا وہ مندرجہ ذیل ہے{ تفصیل کے لئے اس موسوعۃ کی جلد ۱ صفحہ ۵۹ دیکھیں۔} :

(الف) موسوعۃ کو الف بائی ترتیب پرمرتب کیا جائے اور اس میں لفظ کے اصلی مادے اور تعلیل سے صرف نظر کرتے ہوئے اس لفظ کے تلفظ کے اعتبار سےاس کے پہلے اور دوسرے حرف کی رعایت ہو۔

(ب )فقہی ابواب واصطلات کو مستقل ذکر کیا جائے اور ان کو حروف تہجی کی ترتیب میں رکھا جائے۔

(ج) موسوعہ میں آٹھ فقہی مذاہب : حنفیہ ،مالکیہ ، شافعیہ، حنابلہ، ظاہریہ ، شیعہ امامیہ، زیدیہ اور اباضیہ کے احکام وآراء ذکر کئے جائیں اور ہر مذہب کے قول ِشاذ سے صرف نظر کیا جائے۔

(د) احکام کے دلائل کو نقل کرنے میں اعتدال ہو اور اسے صرف اسی حد تک ذکر کیا جائے جتنی کسی رائے کی وضاحت میں ضرورت ہو۔

(ہ) موسوعہ میں اصول فقہ اور قواعد فقہیہ کو بھی جمع کیا جائے ؛ کیونکہ فقہی احکام سے ان کا بہت گہرا ربط ہے۔

(و) موسوعہ کا کام فقہی مذاہب اور شرائع کے مابین موازنہ ، بعض اقوال کو بعض پر ترجیح دینا نہیں ہے ، بلکہ اس کا مقصد صرف فقہی احکام کو جمع کرنا اور دقت نظراور پوری امانت داری کے ساتھ آسان انداز میں نقل کرنا ہے۔

ان اصولوں پر موسوعہ کا کام مجلس اعلی برائے اسلامی امور ، مصر کی نگرانی میں منتخب علماء نے شروع کیا ، اسی دوران  ۱۹۶۱؁ء میں شام اور مصر کے تعلقات کی کشیدگی نے کمیٹی کے شامی علما کا مصری علماکے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل کردیا جس کی وجہ سے ۱۹۶۲ء میں دوبارہ نئے افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی اور انہوں نے اس کا م کو آگے بڑھایا،بعض جلدیں تیار ہوئیں ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کام مختلف وجوہات کی وجہ سے بہت سست رفتاری کا شکار رہا ، شیخ قطان کے مطابق ۱۹۸۰؁ء تک اس کی صرف چودہ جلدیں شائع ہوئیں، جس میں ’’ اطعمۃ‘‘ تک کے مسائل لکھے گئے، اور اب (نومبر۲۰۲۱؁ء)تک ساٹھ سال کے عرصہ میں اس کی ۴۸ جلدیں شائع ہوئیں ہیں، اس کے اڑتالیسویں جلد اسی سال اگست ۲۰۲۱؁ء میں شائع کی گئی ہے جو ۲۲؍ فقہی اور اصولی اصطلاحات پر مشتمل ہے اور لفظ’’ تنازع‘‘ سے شروع ہوتی ہوکر’’تیمم ‘‘پر ختم ہوتی ہے، اس سے اندازہہوتا ہے کہ ابھی بہت کام باقی ہے ، اللہ عظیم کام کی تکمیل کو آسان کردے۔اس کتاب کی اشاعت میں سست رفتاری سے اس کی قبولیت و افادیت بھی متاثر ہورہی ہے ، اسی لئے اس کی اب تک کی تمام مطبوعہ جلدیں بہت سی اہم لائبریریں میں نہیں پہونچ سکی ہیں، مسجد نبوی کی عظیم لائبریری میں اس کی صرف ۲۶؍ جلدیں دستیاب ہیں، ایک ایرانی ویب سائٹ{ www.noorlib.ir  } پر اس کی ۲۵ جلدیں پڑھنے والوں کے لئے فیس کے ساتھ دستیاب ہیں، جبکہ حکومت کی نگرانی میں ہونے والے اس عظیم خدمت کو اس طرح عام کیا جانا چاہئے کہ اس سے بآسانی استفادہ ممکن ہوتا ، جیسا کہ الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ ہے کہ یہ کتاب مکمل شائع ہوکر ہر قابل ذکر لائبریری کی زینت بن چکی ہے،  آن لائن بھی دستیاب ہے اور اسلامک فقہ اکیڈمی کی نگرانی میں اردوداں حلقہ کے لئے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔

کتاب کے محاسن اور قابل توجہ امور

یہ کتاب فقہی مواد پر مشتمل بہت وسیع اور جامع موسوعہ ہے، جس میں مواد ومضامین کی وسعت بہت مفید اور لائق تعریف ہے، بڑی جامعیت کے ساتھ مسائل اور اس سے متعلقہ جزئیات کے احاطہ کی کوشش کی گئی ہے۔اسی لئے بہت سے حضرات اسےموسوعہ فقہیہ کویتیہ سے زیادہ جامع مانتے ہیں، مسائل کی وسعت کے ساتھ اس اعتبار سے یہ زیادہ ضخیم ، وسیع اور جامع ضرور ہے کہ اس میں آٹھ فقہی مذاہب کو جمع کیا گیا ہے،جبکہ موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ائمہ اربعہ کے مذاہب ہیں، تاہم موسوعہ فقہیہ کویتیہ کی اپنی کئی اہم خصوصیتیں ہیں۔

کتاب میں آٹھ مذاہب: حنفیہ، مالکیہ ، شافعیہ، حنابلہ، ظاہریہ ، شیعہ امامیہ، زیدیہ اور اباضیہ کی فقہی آراء کو ترتیب وار ذکر کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،پوری کتاب میں مذاہب کی ترتیب میں یکسانیت ہے ، جس میں فقہ حنفی کو اولیت دی گئی ہے۔ نیزعموما تمہیدی کلمات اور تعریفات وغیرہ میں مذاہب اربعہ بالخصوص احناف کی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔

  اس کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ ہر مسئلہ اور اصطلاح سے متعلق فقہی مذاہب کو الگ الگ مذاہب کے جلی عنوان کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ، جس سے بآسانی مذاہب کی آراء تک رسائی ہوجاتی ہےاورواضح طور پر کسی بھی مذہب کا نقطہ نظر معلوم ہوجاتا ہے۔

تمام مسائل میں مذاہب اربعہ کی آراء تو جلی عنوان سے مذکور ہیں، لیکن بعض بعض مسائل میں دیگر مذاہب کی آراء کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ اس سے واقفیت نہ ہوسکی ، جب کہ بعض مسائل میں ان کی رائے کے لئے عنوان ہی قائم نہیں کیا گیا ہے ۔

کتاب میں جن شخصیات کے نام آئے ہیںان کا تعارف کتاب کے اخیر میں ’’ التعریف بالاعلام ‘‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے اور اس میں بھی الف بائی ترتیب ہے اور تکرار سے بچنے کے لئے سابقہ جلدوں میں جن کا تذکرہ گزر چکا ہے ان کا نام ذکرکر کےمتعلقہ سابقہ جلدکا حوالہ دے دیا گیا ہے، ماضی کے متعدد ہندوستانی فقہاء ومحققین جیسے ملا جیون اورصاحب مسلم الثبوت ملا محب اللہ وغیرہ کا بھی اس میں تذکرہ ہے۔واضح رہے کہ شخصیات کے تعارف پر ’’ موسوعۃ الاعلام ‘‘ کے نام سے مستقل کتاب بھی مجلس اعلی برائے اسلامی امور مصرنے شائع کی ہے۔

موسوعہ الفقہ الاسلامی میں فقہی مذاہب کو براہِ راست ان مذاہب کی اہم اور مستند کتابوں کے الفاظ میں نقل کرنے کا اہتمام کیا گیا یا مسئلہ  ذکر کرنے کے بعد مذاہب کی کتابوں کی عبارات اور شخصیات کے اقوال کو تائید کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور حاشیہ میں اس کا حوالہ بھی تحریر کیا گیا ہے ، جس سے اصل کتاب سے مراجعت کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔اور احتیاط اسی میں ہے کہ کچھ تحریر کرنے یا فتوی نویسی میں اصل کتاب سے مراجعت کرلی جائے ؛ کیونکہ تمام تر احتیاط کے باوجود بعض جگہوں پر موسوعات میں مذہب کا غیر مفتی بہ قول اس انداز میں ذکر ہوجاتا ہے جو دیکھنے میں اصل مذہب معلوم ہوتا ہے ، یا بعض جگہوں پر کسی مذہب کی وہ رائے تحریر ہوجاتی ہے جو اس مذہب کی نہیں ہوتی ، لیکن ایسا شاذ ونادر ہی ہے، عام طور پر مذاہب کے نقل کرنے میں احتیاط اور دقت ِ نظر کا اہتمام ہے۔

مسائل کو نقل کرنے میں قدیم فقہی کتابوں کی مثالوں کے ساتھ عصر حاضر میں مروج چیزوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں اور نئے مسائل کو بھی ذکر کیا گیا ہے ۔جیسے استصناع کی بحث میں موبیلیا (اثاث منزلی ، فرنیچر ) میں استصناع کی مثال دی ہےاور اس میں استصناع کے تعامل ورواج کی وجہ سے اس کو جائز کہا ہے۔{ موسوعہ : ۷؍۹۳ }

بعض مقامات پر کسی اہم مسئلہ کو جلی عنوان سے ذکر نہ کرکے شاید اس سے متعلق عنوان کے لئے اس مسئلہ کو چھوڑ دیا گیا ، لیکن تشنگی اس سے محسوس ہوتی ہے کہ وہاں اس مسئلہ کی بحث بھی چھیڑی گئی اور پھراس کے بارے میں صرف کسی ایک دو کی رائے ذکر کی گئی، مثلاً ’’الاب واحکام الہبۃ‘‘  کے تحت نابالغ ومجنون کی طرف سے والد ہبہ قبول کرسکتا یا نہیں اسی طرح ہبہ میں رجوع درست ہے یا نہیں اس کے بارے میں مذاہب مذکور ہیں، لیکن اولاد کو ہبہ دینے میں برابری کے مسئلہ کے بارے میں صرف زیدیہ کی رائے تحریر کی گئی اور التاج المذہب کی پوری عبارت نقل کی گئی،یا تو یہاں اس مسئلہ کے بارے میں دیگر مذاہب کو بھی نقل کیا جاتااور وہ بہتر ہوتا کیونکہ اس باب میں ہبہ کے احکام مذکور تھے یاپھر التاج المذہب کی طویل عبارت بھی ذکر نہ کی جاتی ۔

اسی طرح جلد ۲۳ صفحہ ۲۳۸ میں حکم لحوق المدبر وسیدہ کے ضمن میں ہند، سند، چین جیسے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے حوالے سے ابن حزمؒ کی تکفیر کی رائے اور محلی کی عبارت کو ذکر کیاہے { المحلی لابن حزم: ۱۱؍۱۹۸ }، جب کہ ابن حزم کی اس رائے میں سراسر افراط اور غلو ہے ،حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی تھانوی علیہ الرحمۃ نے اعلاء السنن میں تفصیل سے اس کا جواب دیا ہے{ اعلاء السنن : ۱۲؍۶۷۹} اور ثابت کیا ہے کہ ہندوستان وغیرہ ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں ابن حزم کی بات بالکل ہی درست نہیں ہے، ا س اہم موسوعہ میں یا تو ابن حزم کے اس قول کو ذکر کرنے سے اعراض کیا جاتا (جو کہ عصر حاضر کی تقاضا بھی ہے ) یاپھر اس سلسلہ میں ائمہ اربعہ کا مسلک بھی واضح کردیا جاتا ہےتاکہ اس افراط کا ازالہ ہوتا ۔شاید لفظ  ’’ہجرت ‘‘ کی تحریر کے وقت اس سلسلہ میں ائمہ اربعہ کی متفقہ رائے ذکر کی جائے۔

یہ کتاب چونکہ انسانی کوشش ہے جس میں وہم یا کسی انسانی فکرو تفرد کا درآنا کوئی بعید نہیں ہے ، چناں چہ اس کتاب میں بھی بعض مقامات پر ایسی باتیں ہیں جسے ناقل وکاتب کا وہم کہا جاسکتا ہے ، مثلا اس کی پہلی جلد میں علمی سرقہ کا عنوان قائم کیا گیا اور بعض کتابوں اور مصنفین کے حوالے سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ انہوں نے فلاں مصنف کی کتاب اپنی طرف منسوب کرلی، اسی میں بہت سخت اور الفاظ میںیہ دعوی کیا گیا ہے کہ علاء الدین علی بن خلیل طرابلسی حنفی قاضی قدس (م۸۴۴ھ)نے ابن فرحون (م۷۹۹ھ) کی کتاب’’ تبصرۃ الحکام ‘‘ میں بعض مقامات پر جزوی تبدیلی کرکے اسےمعین الحکام کے نام دے دیا اور اسے اپنے نام سے شائع کردیا۔حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کتابوں کے مطالعہ کے بعد یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی ہے ،میں نے کتاب کے اکثر حصہ کا موازنہ اور تقابلی مطالعہ کیا ہے ، ہاں یہ بات درست ہے کہ معین الحکام کی تصنیف تبصرۃ الحکام کے طرز پر اس سے استفادہ کرتے ہوئے کی گئی معلوم ہوتی ہے ، بنیادی عناوین میں بہت حد تک یکسانیت ہے لیکن کتاب کی عبارتیں اور ذیلی عناوین بہت سی جگہوں پر بالکل ہی مختلف ہیں ،سب سے بڑا بین فرق یہ ہے کہ ابن فرحون مالکی فقیہ ہیں اور انہوں مالکی مسلک کے مطابق قوانین لکھے ہیں،جب کہ علاء الدین طرابلسی حنفی فقیہ ہیں اور انہوں نے تمام مسائل وقوانین کو فقہ حنفی کے مطابق فقہاء احناف کے اقوال کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں ابن فرحون کی کتاب کو مزید اضافہ کے ساتھ علامہ علاء الدین طرابلسی نے حنفی مسلک میں منتقل کیا ہے۔اس عمل کے بعد اس کتاب کی ابن فرحون کی طرف کیا درست ہوسکتی تھی ؟!

علامہ رملی شافعی کی نہایۃ المحتاج اورعلامہ ابن حجر ہیتمی کی تحفۃ المحتاج کے بارے میں بھی یہ دعوی ہے کہ ان دونوں میں اتنی یکسانیت ہے کہ اتفاقی طور پر دو مصنف کی تحریر من وعن ایک نہیں ہوسکتی،لیکن دونوں کتابوں سے مراجعت کے بعد یہ دعوی بھی صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم

بہر حال یہ کتاب فقہی موسوعہ کی تیاری کی پہلی اور اچھی کوشش ہے اس کے بعد شروع ہونے والی متعدد موسوعات تکمیل پاکر قبولیت حاصل کرچکی ہیں، لیکن یہ ابھی زیر تصنیف ہی ہے اور صرف حرف تاء تک ۴۸ جلدوں میں لکھی گئی ہے، امید ہے کہ بقیہ حصوں کی جلد تکمیل ہوگی اور یقینا یہ کتاب ایک جامع ترین نہایت قیمتی فقہی ذخیرہ ثابت ہوگی۔ واللہ الموفق وہو المستعان وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین والحمد للہ رب العالمین۔

محمد عارف باللہ القاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان، حیدرآباد ، الہند

Login Required to interact.