تشہد میں انگلی سے اشارہ کب کرنا چاہئے؟

دینی ،علمی واصلاحی مضامین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تشہد میں انگلی سے اشارہ کب کرنا ہے اور اس کا وقت کیا ہے ؟ کیا  اَلتَّحِیَّات کے شروع سے اشارہ کرنا ہے یا جب تشہد میں اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھتے  ہیں اس وقت اشارہ کرنا ہے؟  چناں چہ اس کے حل کے لئے حدیث کی کتابوں میں غور کرنے سے اس کے بارے میں ایک روایت سے رہنمائی ملتی ہے جو کہ سنن ابی داؤد اور حدیث کی دیگر کتابوں میں ہے:

عَنْ ‌عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ‌يُشِيرُ ‌بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا، وَلَا يُحَرِّكُهَا (سنن ابی داؤد: ۹۸۹، ۲؍۲۳۲)

’’ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انہوں نے ذکر کیا کہ نبی ﷺ انگلی سے اشارہ اس وقت کرتے  جب دعا یعنی تشہد پڑھتے اور اسے حرکت نہ دیتے ۔‘‘

اسی طرح کی ایک روایت حضرت عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے : 

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَدَعَا، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ، ‌ثُمَّ ‌كَانَ ‌يُشِيرُ ‌بِأُصْبُعِهِ ‌إِذَا ‌دَعَا (مسند احمد:۲۴؍۸۴، ۱۵۳۷۰)

’’ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں تشہد کے لئے بیٹھتے تو اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے ران پر رکھتے پھرانگلی سے اس وقت اشارہ کرتے جب تشہد پڑھتے۔‘‘

 پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کی روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہے ،سنن ابی اؤد کے محقق شعیب ارناؤوط اس حدیث پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں : حدیث صحیح، نیز ملاعلی قاریؒ لکھتے ہیں کہ علامہ نووی علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے( مرقاۃ المفاتیح: ۲؍ ۷۳۵)  اسی طرح حضرت عبد الرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی صحیح ہے ۔جیسا کہ مسند احمد کے حاشیہ میں اس روایت کو صحیح کہا گیا ہے۔(مسند احمد: ۲۴؍۸۴)

ان دونوں روایات میں اشارہ کے بارے میں یہ ہے کہ تشہد پڑھتے وقت آپ ﷺ اشارہ فرماتے تھے، اس سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اَلتَّحِیَّات کے شروع سے ہی اشارہ فرماتے؛ کیونکہ اَلتَّحِیَّات  کی پوری دعا کو’’ تَشَہُّدْ‘‘کہا جاتا ہے ، تو اس سلسلہ میں ذہن میں رکھیں کہ کسی چیز کو کوئی نام کسی خاص جز ء کی وجہ سے مل جاتا ہے، مثلاً سورۃ البقرۃ جو کہ تقریبا ڈھائی پارے پر مشتمل ہے لیکن اس میں بقرہ کا واقعہ پہلے پارہ میں صرف آدھے پون صفحہ پر ہے اور اس واقعہ کے علاوہ بے شمار احکام ومسائل بالخصوص عائلی اور ازدواجی زندگی کے احکامات بہت تفصیل سے اس میں مذکور ہیں، اس کے باوجود پوری سورت کو سورہ بقرہ کہتے ہیں، اسی طرح اَلتَّحِیَّات سے شروع ہوکر عَبْدُ ہُ وَرَسُوْلُہُ پر ختم ہونے والی پوری دعا کو’’  تَشَہُّدْ ‘‘ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے اخیرمیں اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی شہادت ہے ، تو اصل تشہد کے الفاظ تو اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  سے شروع ہوتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے پوری دعا کو تشہد کہہ دیا گیا ہے ،تو اس تفصیل کی روشنی میں یہ سمجھیں کہ اوپر ذکر کی گئی دوونوںروایتوں کا مفہوم یہ ہے کہ اَلتَّحِیَّات  میں جب تشہد یعنی اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  پڑھتے تو زبان سے اللہ کی الوہیت ووحدانیت کے اقرار کے ساتھ عملی طور پر بھی غیر اللہ کے معبود ہونے کی نفی اور اللہ کی وحدانیت کا اثبات واقرار اشارہ کے ذریعہ کرتے تھے۔ چناں چہ حضرت خفاف بن ایما ء الغفاری رضی اللہ عنہ کی روایت سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے کہ اللہ کی وحدانیت کے عملی اقرار کے لئے آپ ﷺ اشارہ فرماتے تھے، حضرت خفاف بن ایما رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَن النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ كَانَ ‌يُشِير ‌بهَا ‌لِلتَّوْحِيْدِ(خلاصۃ الاحکام للنووی: ۱؍ ۴۲۹)

’’نبی اکرم ﷺ توحید( کے اقرار )کے لئےاشارہ فرماتے تھے‘‘

اسی لئے ان روایات کی روشنی میں حدیث کی شرح وتفصیل لکھنے والے محقق علماء کرام نے لکھا ہے کہ حدیث میں مذکوراشارہ سے مراداَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  کے وقت انگلی سے اشارہ کرنا ہے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ ابن رسلان مقدسی رملی شافعی (م ۸۴۴) لکھتے ہیں:

(كَانَ ‌يُشِيرُ ‌بِأُصْبُعِهِ) السبابة (إِذَا دَعَا) أيْ قَالَ: لَا إلٰهَ إلَّا اللهُ ۔ (شرح سنن ابی داؤد لابن رسلان: ۵؍۲۷۳)

’’رسول اللہ ﷺ اپنی انگلی سے اشارہ کرتے جب دعا پڑھتے یعنی جب  لَا إلٰهَ إلَّا اللهُ  کہتے۔‘‘

سنن ابی داؤد کی معروف ومقبول شرح عون المعبود میںہے:

(كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا) أَيْ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ فِي الْمِرْقَاةِ وَالْمُرَادُ إِذَا تَشَهَّدَ وَالتَّشَهُّدُ حَقِيقَةً النُّطْقُ بِالشَّهَادَةِ(عون المعبود: ۳؍ ۱۹۶) 

’’ رسول اللہ ﷺ اپنی انگلی سے اشارہ کرتے جب دعا پڑھتے، یعنی جب تشہد پڑھتے ، مرقات میں ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تشہد پڑھتے تو اشارہ کرتے ، اور تشہد در حقیقت شہادت کا تلفظ کرنا ہے ۔‘‘

علامہ ابومحمد حسین بغوی شافعی (م ۵۱۶ ) لکھتے ہیں:

وإذا ‌بلغ ‌في ‌التشهُّد قوله: "أشهد أن لا إله إلا الله” أشار بالمسبِّحة عند قوله: "إِلّا الله” (التہذیب فی فقہ الامام الشافعی: ۲؍۱۲۳)

’’جب تشہد میں اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پر پہونچے گا تو شہادت کے انگلی سے اِلَّا اللہ کہتے وقت اشارہ کرے گا‘‘

علامہ شمس الائمہ حلوانی سے بہت سے فقہاء جیسے ملا علی قاری، علامہ ابن ہما م ، علامہ زیلعی اور علامہ خلیل احمد رحہم اللہ نے انگلی کے اٹھانے اور رکھنے کی یہ تفصیل نقل کی ہے :

يُقِيمُ ‌الْأُصْبُعَ ‌عِنْدَ ‌لَا ‌إلَهَ ‌وَيَضَعُهَا ‌عِنْدَ ‌إلَّا ‌اللَّهُ (فتح القدیر: ۱؍۳۱۳، مرقات شرح مشکاح المصابیح: ۲؍۶۶۳، تبین الحقائق: ۱؍۱۲۰، بذل المجہود: ۴؍۷۶)

’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے وقت انگلی اٹھائے گا اور اِلَّا اللہ کہتے وقت رکھے گا ۔‘‘

خلاصہ یہ ہےکہ نمازی قعدہ میں اَلتَّحِیَّات کے شروع سے اشارہ کرنے کے بجائے جب تشہد میں اللہ کی وحدانیت کا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کے ذریعہ اقرار کرے گا تب اشارہ کرے گا۔ واللہ اعلم

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

(استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان، حیدرآباد)

Login Required to interact.