تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
ایک مضمون :’’ ظہور مہدی کے آثار وقرائن‘‘ شوشل میڈیا میں گشت کررہا ہے ، جس میں مختلف حوالوں اور بنیادوں کو پیش کرکے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دو تین سالوں میں امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہوگا، اور یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ۲۰۲۴ء یا ۲۰۲۵ ء میں امام مہدی کا ظہور ممکن ہے ،حتی کہ پیر طریقت حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی مدظلہ العالی کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نےحرم شریف میں قسم کھاکر کہا کہ ۲۰۲۵ ء میں امام مہدی کا ظہور ہوگا۔(واللہ اعلم)
امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور یقینی ہے ، لیکن کب ہوگا اس کا قطعی اورصحیح علم تو صرف اللہ ہی کو ہے البتہ احادیث میں ان کے ظہور کی جو بہت سی علامتیں ذکر کی گئی ہیں ان سے اس مضمون میں کیا گیا دعوی ابھی (یعنی ۲۰۲۳ میں) درست معلوم نہیں ہوتا ہے اوردعوی ہی کی طرح اس دعوی کے کئی دلائل بھی قابل غور ہیں۔
(۱) احادیث میں مذکور ہے کہ امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور سے قبل دریائے فرات خشک ہوجائے گا اور اس سے سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہوگاجسے لینے کے لئے لوگ جنگ کریں گے اور ہر سو میں ننانوے لوگ قتل کردئے جائیں گے ، ہر شخص یہ سمجھے گا کہ شاید میں بچ جاؤں ۔ (مسلم شریف: ۲۸۹۴) ۲۹۴۰ کیلو میٹر لمبی یہ نہر جو کئی ملکوں سے گزرتی ہے ابھی خشک نہیں ہوئی ہے، ہاں رفتہ رفتہ اس میں پانی کی کمی ضرور ہورہی ہے ، یہ نہر جس کی چوڑائی بعض جگہوں پر دوہزارمیٹر تک ہے تو بعض جگہوں پر اس کی چورائی دو سو میٹر کے قریب ہے ۲۰۲۱ ء میں ترکی کی جانب سے ڈیم نہ کھولنے کی وجہ سے اس میں اچانک پانچ میٹر کی کمی آگئی، جس پر حقوق انسانی کی تنظیموں نے تنقید واحتجاج کیا۔بہر حال ابھی کی کیفیت سے بظاہرایسا نہیں لگتا ہے کہ دو تین سالوں میں یہ علامت پوری ہوجائے،البتہ ایک وقت ایسا ضرور ہوگا ۔
(۲) امام مہدی قسطنطنیہ کو فتح کریں گے یعنی اس پر غیر مسلموں کی حکومت ہوجائے گی، قسطنطنیہ کو آج کل استنبول کہتے ہیں جو تر کی کا دارالحکومت ہے، ترکی کی موجودہ صورت حال سے ایسا نہیں لگتا کہ دو تین سال میں ہی ایسے حالات آجائیں کہ اس پر غیر مسلموں کا تسلط ہوجائے اور پھر امام مہدی اسے فتح کریں، گویااس دعوی کے مطابق اب(۲۰۲۳) سے تقریبا دو سالوں کے اندر قسطنطنیہ (استنبول) پرغیر مسلموں کا قبضہ ہونا ہے، عالمی حالات پر سنجیدہ نظر ڈالنے سے کیا اس کم وقت میں یہ سب کچھ ہونا ممکن دکھ رہا ہے ؟؟! بلکہ اس وقت ترکی ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے متعارف ہے ، دنیا کی سترہویں ابھرتی ہوئی معیشت ہےاورترک فوج نیٹو کی دوسری بڑی آرمی ہےاور ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی پھر سے دنیا کا طاقتور ترین ملک بن سکتا ہے ۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل بعید میں یہی ترقی اور کمال دشمنانہ ماحول کو فروغ دے اور یہ دشمنوں کا لقمہ بن جائے۔(الامان والحفیظ)
(۳) امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور سے پہلے مسلمان اور روم کے عیسائی مل کراپنے دشمن سے جنگ کریں گے اس کے بعد عیسائیوں کا دعوی ہوگا کہ یہ فتح صلیب کی وجہ سے ملی ہے تو مسلمان کہیں گےکہ یہ فتح اللہ کے فضل سے ملی ہے، اور مسلمان صلیب کو توڑدیں گے، جس کی وجہ سے عیسائی معاہدہ توڑ کر مسلمانوں سے جنگ کریں گےاور یہ بہت ہی خطرناک جنگ ہوگی،مسلم بادشاہ کی شہادت کے بعد عیسائی ملک شام پر قبضہ کرلیں گے، اور ان کی حکومت خیبر تک پھیل جائے گی۔(ترجمان السنۃ : ۴؍۳۷۳) اب تک ایسی کوئی جنگ ہوئی نہیں اور ابھی جب کہ سب کے سب مسلمانوں کے خلاف ہی متحد ہیں، روم کے نصاری کا مسلمانوں کے ساتھ متحد ہوکر دشمن سے مقابلہ کرنا اور پھر خودان میں باہمی جنگ کا چھڑ جانا اور روم کے نصاری کا ملک شام سے خیبر تک حکومت قائم کرلینا یہ سب کچھ اب سے صرف دو سال میں کیا ممکن ہے ؟! حالات کی روشنی میں اسے عقل تو تسلیم نہیں کرتی ہے۔
(۳) اس مضمون میں امام مہدی سے پہلے پیش آنے والے واقعات کو جس ترتیب سے ذکر کیا گیا ہے اس میں غزوہ ہند کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ یہ غزوہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے قسطنطنیہ کے نکلنے سے پہلے ہوگا، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ محققین اہل علم کی رائے کے مطابق یہ غزوہ جس کی بشارت احادیث میں موجودہے صدیوں پہلے ہوچکا ہے، اور اگر بالفرض اس کا ہونا باقی بھی ہے تو حالیہ حالات گرچہ کے تکلیف دہ ہیں لیکن پھر بھی مستقبل قریب میں ایسے حالات ممکن نظر نہیں آتے۔ جب کہ ۲۰۲۵ء اب کچھ دور نہیں ہے ۔اور اگر اس غزوہ کو قسطنطنیہ پر غیر مسلموں کے تسلط سے پہلے ہونا ہے تب تو اور بھی وقت بہت کم ہے ؛ کیونکہ اگر بالفرض امام مہدی علیہ الرضوان کا ۲۰۲۵ ء میں ظہور ہے تو دو تین سال میں ہی یہ سب کچھ ہونا ہے، موجودہ حالات اور عالمی قوانین سے اتنی جلد ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا ہے۔
(۴) امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور سےقبل سفیانی بادشاہ کی حکومت ملک شام ومصر کے اطراف میں ہوگی، اس کا نام عبداللہ ہوگا، وہ حد درجہ ظالم ہوگا، مختلف علاقوں میں قتل وغارت گری مچائے گا، عورتوں کے پیٹ چاک کرے گا ، بچوں کو قتل کرے گا، اسے جب امام مہدی کے خروج کی اطلاع ملے گی تو مدینہ پہونچ کر قریش اور انصار کی نسلوں پر تلوار اٹھائے گا اور سینکڑوں لوگوں کو قتل کردے گا، اس کے خوف سے لوگ مکہ چلے جائیں گے تووہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے اپنی فوج کے ہمراہ مکہ کی طرف روانہ ہوگا، ابھی وہ راستہ میں ہوگا کہ مقام بیداء پر اسے اس کی فوج سمیت زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔( مستدرک حاکم: ۸۵۸۶) عالمی قوانین اور عالم عرب بالخصوص سعودی عرب کی جس طرح حکومت ہے اس سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ دو تین سال میں شام ومصر کے علاقے میں کوئی ایسا بادشاہ آجائے جسے سعودی عرب کے حدود میں داخل ہونے کی طاقت ہو اور وہ ہر طرف ظلم وبربریت کرتے ہوئے مدینہ پہونچ کر ظلم کا بازار گرم کرے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ امام مہدی کے ظہور کو جلد ثابت کرنے کے لئے یہ دعوی بھی کردیتے ہیں کہ سفیانی بادشاہ جس کی امام مہدی کے ظہور سے قبل حکومت ہوگی اس کی حکومت قائم ہوچکی ہے ؛ کیونکہ سفیانی کا اصل نام عبد اللہ ہوگا، اور شاہ اردن عبد اللہ الثانی الحسین کووہ مذکورہ سفیانی قرار دیتے ہیں، اس سلسلہ میں یوٹیوب پر متعدد ویڈیو موجود ہیں، لیکن یہ بات کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے ؛نہ تو احادیث میں مذکور خد وخال ان پر منطبق ہوتے ہیں اور نہ ہی اوصاف ا ورنسبی نسبت میں یہ سفیانی کے مماثل ہیں، جس سفیانی کا تذکرہ احادیث میں ہے وہ ابو سفیان بن حرب کے پوتے خالد بن یزید کی نسل سے ہوگا، اسی لئے اسے’’ سفیانی ‘‘کہا گیا ہے جب کہ شاہ اردن عبد اللہ ہاشمی ہیں اور ویکیپیڈیا کی معلومات کے مطابق ان کا سلسلہ نسب رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔(واللہ اعلم)
(۵) حضرت امام مہدی علیہ الرضوان دو سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ گزاریں گے ،اس کے بعد ان کی طبعی وفات ہوجائے گی، ان کی نماز جنازہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پڑھائیں گے اور بیت المقدس میں ان کی تدفین ہوگی۔ (التعلیق الصبیح : ۶؍ ۲۰۳) گویا امام مہدی کے ظہور کے پانچ یا سات سال کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا، روایات میں اس زمانے کی جنگوں کا جس انداز سے تذکرہ ہے اس سے معلوم ہوتا کہ اس وقت ماضی کے جیسے کے حالات ہوں گے اور آمنےسامنے کا مقابلہ ہوگا،جس سے سمجھ میں آتا کہ شاید موجودہ زمانہ کے جدید اسلحے اور آلات ختم ہوجائیں گے، کیا دو تین سالوں میں ایسا ہوتا محسوس ہوتا ہے؟ جبکہ ابھی ٹکنالوجی اپنے شباب پر ہے اور مزید تحقیقات وانکشافات روز وشب ہورہے ہیں۔’’فائیو جی‘‘ کی تیز رفتاری کا عوامی تجربہ ابھی شروع ہی ہوا ہے،اور مزید آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟!
(۶) اس مضمون میں یہ دعوی کیا گیا ہے حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب ہر سال حضرت مہدی کی تلاش کے لئے ہی مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ بات حقیقت کے خلاف ہو؛ کیونکہ جس سال یوم عاشورا کو امام مہدی کا ظہور ہوگا اس سال کےکئی واقعات خود یہ بتائیں گے کہ اسی سال امام مہدی کا ظہور ہونے والا ہے ، چناں چہ امام مہدی علیہ الرـضوان کے ظہور سے پہلے کے رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن اورنصف رمضان میں سورچ گرہن ہوگا۔اور رمضان میں دو مرتبہ چاند گرہن ہوگا۔(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ : ۱۸۳) اور اسی سال حج کے موقع پر ذی القعدہ کے مہینے میں قبائل کے درمیان میں معاہدہ شکنی اور جنگ ہوگی چنانچہ حاجیوں کو لوٹا جائے گا اور منیٰ میں خوں ریزی ہوگی، بہت زیادہ قتل عام اور خون خرابا ہوگا یہاں تک کہ جمرہ عقبہ پر بھی خون بہہ رہا ہوگا۔ ( الاشاعۃ لاشراط الساعۃ : ۱۸۳)
روایات حدیث میں منقول علامات کی روشنی میں یہ باتیں لکھی گئی ہیں، اور سول اللہ ﷺ کی بیان کردہ پیشین گوئیوں کے حق ہونے پر ہم سب کا ایمان ہے ، اور احادیث نبویہ کی من چاہی تشریح وتعبیر اور اس کے مفہوم ومراد کی ایسی تعیین جس کی الفاظ حدیث میں گنجائش نہیں ہے یقینا ناقابل قبول ہے، اس لئے امام مہدی کے ظہور پر ایمان رکھتے ہوئے اس طرح کی تعیین یا ایسی تعیین کی تشہیر سے بچنا ضروری ہے، حقیقت سے بس اللہ ہی واقف ہے ، وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین والحمد للہ رب العالمین۔

