مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
====
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال : ان اللہ تعالی یقول : یا ابن آدم تفرغ لعبادتی املأ صدر غنی وأسد فقرک ، وان لا تفعل أملأ یدیک شغلا ولم اسد فقرک (ترمذی : حدیث نمبر : ۲۴۶۶)
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : اے ابن آدم تم خود کو میری عبادت کے لئے فارغ کردو ،میں تمہارے سینہ کو غنی سے بھر دونگا اور تمہاری محتاجگی کو ختم کردونگا ، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں تمہارے ہاتھ کو مصروفیت سے بھر دونگا اور تمہاری محتاجگی کو ختم نہیں کرونگا ‘‘
تشریح :
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت ’’حدیث قدسی ‘‘ہے ، محدثین کی اصطلاح میں حدیث قدسی ذخیرۂ احادیث کی ان احادیث کو کہا جاتا ہے جن کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف ہو اور رسول اللہ ﷺ اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کریں کہ اللہ عزوجل نے یہ فرمایا۔مذکورہ حدیث میں بھی بیان کردہ مضمون رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کیا ہے ، اس لئے یہ بھی حدیث قدسی ہے ۔
اس حدیث میں انسانوں کو مخاطب بناکر اللہ عزوجل نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ تم خود کو دنیاوی مصروفیتوں اور الجھنوں سے دور کرکے میرے اطاعت وعبادت اور میری قربت کی تلاش میں لگ جاؤ ، اس کی وجہ سے میں تمہیں غنیٰ عطا کردوں گا اور تمہاری محتاجگی ختم کردونگا ، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں نہ تو تمہیں غنی عطا کرونگا اور نہ ہی تمہاری محتاجگی کو ختم کرونگا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت واطاعت اور اس کی قربت کی تلاش انسانوں کے لئے معاشی اور دنیوی پہلو کے اعتبار سے بھی مفید ہے ؛ کیونکہ ہر انسان اپنی محتاجگی کو ختم کرنا اور غنی حاصل کرنا چاہتا ہے، اور صبح سے شام تک اور اس دور روشن میں تو شام سے صبح تک بھی ہر انسان کی تمامتر کوششیں اور تگ ودو اسی لئے ہیں کہ اس کو محتاجگی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اس کی ضرورتوں کی تکمیل ہوجائے ، اور وہ غنی بن جائے۔اور اس کے لئے وہ ان تمام تر تدبیروں کو اختیار کرتا ہے جن کو وہ اپنے مقصد میں معاون سمجھتا ہے ، بلکہ مقصد براری کی خاطر تو مادیت کے اسباب میں عموما حلا ل وحرام کا امتیاز بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔جبکہ یہ حقیقت ہے کہ مقدر سے زیادہ ملنا ممکن نہیں ، گرچہ کہ انسان اپنی ناقص فہم اورعجلت پسندی کے ذریعہ اس مقدر کو حرام ذریعہ سے ہی حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ولا یحملنکم استبطاء الرزق علی ان تطلبوہ بمعاصی اللہ
’’رزق کے آنے میں تاخیر تمہیں اس رزق کو اللہ کی نافرمانیوں کے ذریعہ حاصل کرنے پر ہر گز آمادہ نہ کرے‘‘ (مصنف ابن ابی شیبه : ۳۴۳۳۲)
بہر حال ہر انسان غنٰی حاصل کرنا اور محتاجگی کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ کوشاں رہتا ہے ، اس حدیث میں اس کے حصول کا ایک اہم طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ انسان عبادات میں اپنی توجہ اور کوشش بڑھادے اور اصل رازق کو منانے اور اس کی قربت حاصل کرنے کی پیہم جستجوکو اپنی محنت کا محور بنالے ، اس کی برکت سے اس کا مقصود اسے حاصل ہوجائے گااور وہ غنی بن جائے گا؛ کیونکہ عبادت کی شان ہی کچھ ایسی ہے ، اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے انسانوں کی تخلیق عمل میں آئی ہے، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون(قرآن)
’’میں نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ‘‘
تو جب انسان مقصد تخلیق میں مصروف ہوتا ہے تو خالق کائنات اس کی کفالت فرماتا ہے اور اس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے تاکہ ضرورتیں اس کو اصل مقصد تخلیق کی تکمیل سے نہ روک سکیں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ عبادت میں مصروف ہونے کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ انسان چند مخصوص عبادتیں پابندی سے انجام دینے کا اہتمام کرلے ، بلکہ عبادت کے وسیع مفہوم کے ساتھ وہ عبادت میں مصروف ہو، اور اسلا م میں عبادت کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ انسانی زندگی کا ہر عمل عبادت بن جاتا ہے جبکہ اس عمل کا تعلق اللہ سے جوڑدیا جائے ، اور اس عمل کو اللہ کی رضاء اور اس کی اطاعت کے لئے کیا جائے ،چاہے وہ عمل ترک عمل ہو یا فعل عمل ہو۔ عبادت کو اسی وسیع مفہوم کے ساتھ اپنی زندگی میں داخل کرنے کی تعلیم اللہ نے اس آیت میں دی ہے :
قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین
’’آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میری مرنا سب کا سب صرف اس اللہ کے لئے ہے جو ساتے جہاں کا رب ہے ‘‘
جینا ،مرنا اللہ کے لئے اسی وقت ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کا رخ مکمل اللہ کی طرف موڑ دے اور زندگی کے ہر عمل کو اس کی اطاعت کے رنگ میں رنگ دے۔
اور جب انسان اس کیفیت کو اختیار کرلیتا ہے تو اس وقت اللہ کو اس دنیا وما فیہا سے بے نیاز کرکے اس کی ضرورتوں کی کفالت کا پردہ غیب سے انتظام فرمادیتے ہیں۔اور اس کے پاس بظاہر مال کی کثرت نہ ہو لیکن وہ مطمئن ومسرور زندگی کے لمحات کو گزراتا ہے ، کیونکہ اللہ کی طرف سے جو حقیقی مالداری کا تحفہ مل چکا ہوتا ہے ۔اور حقیقی مالداری مال کی کثرت نہیں هے ، اسی لئے بہت سے لوگ بہت سارے مالوں کے مالک ہونے کے بجائے امن واطمینان اور لذت حیات سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور زندگی کی ہر بے چینی ان کا مقدر ہوتی ہے ،بلکہ حقیقی مالداری دل کی بے نیازی ،طبعی سکون واطمینان ہے جو صرف اللہ کے فضل سے مل سکتی ہے ، مال کی کثرت سے نہیں۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بیان کیا ہے :
لیس الغنی عن کثرۃ العرض انما الغنی غنی النفس (بخاری)
’’ساز وسامان کی کثرت غنی نہیں ہے ، بلکہ نفس کی بے نیازی اصل غنی ہے ‘‘
اور ایک میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
اتری ان کثرۃ المال ھو الغنی ، انما الغنی غنی القلب والفقر فقر القلب، من کان الغنی فی قلبه فلا یضرہ ما لقی من الدینا ، ومن کان الفقر فی قلبه فلا یغنیه ما اکثر له فی الدینا ، وانما یضر نفسه شحها (صحیح ابن حبان )
’’کیا تمہار ا یہ خیا ل ہے کہ مال کی کثرت غنی ہے ؟! اصل غنی دل کا غنی ہونا ہے ، اور اصل فقر دل کا فقر ہے ۔ جس کا دل غنی ہوتاہے اس کے لئے دنیا کے حالات نقصان دہ نہیں ہوتے ، اور جس کے دل میں فقر ہوتا ہے اس کو دنیا کی بہت ساری چیزیں بھی غنی و بے نیاز نہیں بنا پاتیں،اور اس کی لالچ اس کے لئے نقصاندہ ہوتی ہے‘‘
تو جب اپنی زندگی کو عبادت کے رنگ میں رنگ دیتا ہے تو اللہ اس کو اصل غنی یعنی دل بے نیاز عطا کردیتے ہیں ، جس کی وجہ سے اس کی زندگی خیر وعافیت اور اطمینان وسکون سے گزرتی ہے ، اور وہ ہر لمحہ میں پر سکون رہتا ہے گرچہ کے اس کے پاس بظاہر مال ومتاع نظر نہیں آتے۔اور عموما اللہ تعالی اس کو پریشان کن احوال سے محفوظ رکھتے ہیں، اور اگر وہ کبھی ناساز گار حالات سے دوچار ہوجاتا ہے تو پھر اللہ پردہ غیب سے اس کی مدد کرکے اس کو ان حالات کی بے چینی وپریشانی سے محفوظ رکھتے ہیں۔اور اللہ پر اعتماد کی وجہ سے وہ ان پریشانیوں میں خود کو تنہا محسوس بھی نہیں کرتا ہے ۔بلکہ حقیقی مددگار کی مدد پر آس اس کے غموں کو دور کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے ۔اور اللہ پر بھروسہ اور اس کی مدد کی آس اس دنیا کاسب سے قیمتی دولت ہے ،حضرت ابوحازم سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے پاس کس قسم کے مال دولت ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے پاس ایسی دولت ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے میں فقر کے خوف سے بالکل ہی آزاد ہوں ، اور وہ دولت ہے اللہ پر بھروسہ اور لوگوں کے مالوں سے ناامیدی۔
بہر حال ہر انسان کو چاہئے کہ اپنی زندگی کو سراپا عبادت بنائے رکھے ، اور اللہ پر بھروسہ رکھ کر دل کو مال کی کثرت کی طلب سے دور رکھے اور اللہ نے اس کے لئے جو مقدر کیا ہے اور جتنا اسے دیا ہے اس پر راضی رہے ، اس سے وہ اللہ کی مدد کا مستحق بن جاتا ہے ۔اور یہی مدد ہرقسم کی تکلیف وپریشانی سے نجات کی کلید ہے ۔
Login Required to interact.

