مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
====
عَنْ اَنَسٍ ؓ قَال قال رسول اللہ ﷺ عَلِّمُوا نِسَاءكُمُ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فَإِنَّهَا سُورَةُ الْغِنَى (الفتح الکبیر: ۷۷۳۱، الجامع الصغیر: ۸۱۶۹)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی عورتوں کو سورۂ واقعہ سکھاؤ کیونکہ وہ غنی یعنی مالداری (لانے والی ) سورت ہے ۔
تشریح : اس حدیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ سورئہ واقعہ عورتوں کو سکھاؤ ،کیونکہ یہ مالداری لانیوالی سورۃ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جامع صفات بنایا ہے ،اس کی تلاوت سے جہاںجہالت وضلالت کے پردے چاک ہوکرہدایت کی راہیں نظر آتی ہیں ،اور روحانی وجسمانی شفا نصیب ہوتی ہے وہیں اس سے انسانوں کے آخرت بھی سنورتی ہے اور ساتھ ہی اس کی تلاوت سے بے شمار دنیوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں،جسکی ایک مثال یہ سورت ہے کہ اس کی تلاوت سے تلاوت کرنے والے کو ایک تو ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہی ہیں ساتھ اس کی تلاوت سے دنیوی فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ فقر وفاقہ سے نجات ملتی ہے ۔
اس قرآنی مفید نسخہ پر عمل کرتے ہوئے عبداللہ بن مسعودؓ روزانہ اپنی لڑکیوں کو اہتمام کے ساتھ سورئہ واقعہ پڑھوالیا کرتے تھے۔حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ابن عساکر ؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے مرض وفات میں حضرت عثمان بن عفان ؓ ان کی بیماری پرسی کے لئے تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا کہ ’’ تشتکی ؟ ‘‘ ( آپ کو کیا تکلیف ہے ؟ ) حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے جواب دیا ’’ ذنوبی ! ‘‘ ( اپنے گناہوں کے وبال کی تکلیف ہے )حضرت عثمانؓ نے فرمایا ’’ فما تشتھی ‘‘ ( آپ کی خواہش کیا ہے ؟)حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا ’’ رحمۃ ربی ‘‘ ( اپنے پروردگار کی رحمت چاہتا ہوں )حضرت عثمانؓ نے پوچھا’’ آپ کے لئے کوئی طبیب بھیج دوں ؟ ۔حضرت عبداللہ نے جواب دیا ’’ طبیب ہی نے تو مجھے بیمار کیا ہے ‘‘ ۔حضرت عثمانؓ نے فرمایا’’ تو پھر اخراجات کے لئے کچھ رقم بھجوادوں ؟ ‘‘ ۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا:’’ نہیں ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ‘‘ ۔حضرت عثمانؓ نے فرمایا:’’ یہ رقم آپ کے بعد آپ کی صاحبزادیوں کے کام آجائیگی ‘‘ ۔حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا:’’ کیا آپ کو میری بیٹیوں پر فقر وفاقہ کا اندیشہ ہے ؟ میں نے تو انھیں ہر رات سورہ واقعہ کی تلاوت کی تاکید کر رکھی ہے کیونکہ میں آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ہر رات سورئہ واقعہ پڑھے اسے کبھی فاقہ کی مصیبت نہیں آئیگی ۔(تفسیر ابن کثیر،سورہ ٔواقعہ،شعب الایمان)
لوگ آجکل پیسہ کمانے اور مالدار بننے کیلئے بہت کوششیں کرتے ہیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے نسخے پر عمل کرنے کا ارادہ ہی نہیں کرتے ۔ آج کل ہم ایسے دور سے گذر رہے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کو چھوٹوں کو بڑوں کو بچوں کو بوڑھوں کو قرآن مجید کی تلاو ت کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی، صبح ہوتی ہے ،تو سب سے پہلے ریڈیو اور اخبارات میں مشغول ہوجاتے ہیں ، گھنٹے آدھ گھنٹے کے بعد ناشتہ کر کے بناؤ سنگھار کر کے بچے اسکول کی راہ لیتے ہیں اور بڑے ملازمتوں کے لئے چل دیتے ہیں۔ عورتیں اور چھوٹے بچے ریڈیو،ٹیلی ویژن سے گانا بجانا سنتے اور دیکھتے رہتے ہیں جب اسکول والے بچے واپس آتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں،کہاں کا ذکراور کہاں کی تلاوت !سب حب دنیا میں مست رہتے ہیں ،بہت ہی کم کسی گھر سے کلام اللہ پڑھنے کی آواز آتی ہے ،ذکر اللہ اور تلاوت کلام اللہ کے لئے لوگوں کی طبیعتیں آمادہ ہی نہیں ، محلے کے محلے غفلت کدے بنے ہوئے ہیں اکا دکا کسی گھر میں کوئی نمازی ہے، اس افسوسناک ماحول کی وجہ سے اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم ہیں۔
ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، قرآن مجید پڑھے اور اپنے بچوں قرآن شریف پڑھائے اور روزانہ صبح اٹھ کر نماز سے فارغ ہو کر گھر کا ہر فرد کچھ نہ کچھ تلاوت ضرور کرے تا کہ اس کی برکت سے ظاہر وباطن درست ہو اور دنیا وآخرت کی خیر نصیب ہو۔
Login Required to interact.

