مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
اس وقت دنیا جن حالات سے گزر رہی ہے اس میں ہمارے معاشرہ میں اس بات کی بہت زیادہ ضرورت بڑھ چکی ہے کہ ہم اپنی ضروریات کی تکمیل کی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے قرب وجوار میں رہنے والے انسانوں کی ضرورتوں کی فکر کریں؛ کیونکہ غربت کی زندگی گزارنے والے تو پریشان ہیں ہی ، ان کے ساتھ بہت سے ایسے لوگ بھی پریشانی اور مشکل حالات سے دوچار ہیں جو پہلے اپنی ماہانہ آمدنی سے خودکفیل تھےاور دوسروں کی بھی مدد کیا کرتے تھے۔
اسلام میں دوسروں کے حالات سے بے فکر ہوکر محض اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی فکرانتہائی ناپسندیدہ ہے، اور انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور حسن سلوک کی بڑی اہمیت ہے، حتی کہ ایک مسلمان کی یہ ایمانی ذمہ داری ہے کہ وہ اگر خود پیٹ بھر رہا ہوتو یہ فکر بھی اس میں ہو کہ اس کے پڑوس میں کوئی بھوکا نہ رہے، رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے :
ليس المؤمن الذي يشبع وجاره جائع إلى جنبه. (مستدرک حاکم )
’’وہ شخص مومن کامل نہیں جو شکم سیر ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو‘‘
اس حدیث میں ’’ جار‘‘ (پڑوسی) کا لفظ ہے ، جس کا عموم یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ پڑوسی اور قرب وجوار ميں رهنے والا چاہے جو بھی ہو ، چاہے اس سے دین ومسلک اور نظریہ میں اختلاف ہو یا چاہے وہ اخلاقی اقدار کو پورا نہ کرتا ہو، پھر بھی اس کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی فکر کرے ، اس کی معاشی ضرورتوں کا خیال رکھے اور اس کا تعاون کرنا اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھے۔
ہمارا ملک ہندوستان ایک حسین گلدستہ ہے جس میں مختلف النوع افراد باہم رہتے ہیں امیر کے پڑوس میں غریب ہے ، تعلیم یافیہ کے پڑوس میں غیر تعلیم یافتہ ہے اور مسلمان کے پڑوس میں غیر مسلم ہے، تو ہمیں اس نازک وقت میں دین ومسلک سے اوپر اٹھ کر باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، زکوۃ تو ایک محدود ومتعین مال ہے جو خاص متعین مالوں پر نکالنے کا حکم ہے، لیکن نفلی صدقات میں زکوۃ جیسی تحدید نہیں اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ إِنَّ فِي المَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ (ترمذی:۶۵۹) ’’ مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے‘‘۔ تو ایسے نازک وقت میں ہمیں زکوۃ کے علاوہ بھی اپنا مال خرچ کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ نے ہمیں وسعت دی ہے تو اللہ کے بندوں تک ہمارے مال سے خوشی پہونچے۔
موجودہ حالات میں اس بات کی بھی بڑی اہمیت ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اپنے غیر مسلم بھائیوں کا بھی بھر پور خیال رکھیں، رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ بھی رہی ہے کہ آپ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی داد ودہش کیا کرتے تھے۔
حضرت صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سب سے زیادہ محمد ﷺ سے بغض تھا ، لیکن اس باوجود آپ مجھ پر دادودہش کرتے رہے، حتی کہ ان سے مجھے محبت ہوگئی اور اللہ نے میرے دل میں اسلام کو داخل کردیا۔
ایک غیر مسلم دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے اسے بہت سی بکریاں عطا فرمائی ، اس پر اسے اتنی خوشی ہوئی کہ وہ اپنی قوم میں جاکر کہنے لگا : لوگو مسلمان ہوجاؤ ؛ کیونکہ محمد(ﷺ ) بہت زیادہ دادو دہش کرتے ہیں۔(ریاض الصالحین)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ (قُتیلہ بنت الحارث) میرے پاس مدد کے لئے آئیں ، وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئی تھیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں ان کا تعاون کروں اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو (ان کی مدد کرو) (بخاری : ۲۹۴۶)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب بھی بکرا یا بکری ذبح کرتے تو اپنے غیر مسلم پڑوسی کو اس کا گوشت بھیجتے ۔(الادب المفرد)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں نفلی صدقات وتعاون بھی کرنا چاہئے اور اس میں مسلم غیر مسلم ہر ایک کا خیال رکھنا چاہئے اور ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے، قرآن کریم میں اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (سورہ ممتحنہ : ۸)
’’ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملہ میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے، اور اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘
اسلام نے مسلمانوں کو یہ مزاج دیا ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے غریبوں کا خیال رکھنا اور اپنے پسندیدہ مالوں کو خرچ کرنا ایمان والوں کا پسندیدہ وصف ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے، تو ایسے حالات میں ہمیں اس بات کا ثبوت دینا ہے کہ ہم دوسروں کا خیال رکھنے کے سلسلہ میں اسلامی ہدایات پر عمل پیرا ہیں، دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی ضرورت میں شامل کرتے ہیں اور اپنی خوشی کی فکر کے ساتھ دوسروں کی خوشی کی بھی فکر کرتے ہیں۔
اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ بغیر کسی امتیاز کے سارے انسان اللہ کی مخلوق اور عیال ہیں اور اللہ کے بندوں اور اللہ کی مخلوق وعیال کا خیال رکھنے والا کیا مقام پاتا ہے اسے ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :
الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (معجم اوسط : ۵۵۴۱)
’’ساری مخلوق اللہ کی عیال ہے اور اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو اللہ کی عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘
اس لئے اس رمضان ہم اپنے گھریلو اخراجات سے بچا کراور عید کی خریداری کو چھوڑ کر اس بات کی فکر کریں کہ ہمارے ذریعہ بہت سے گھرانوں تک روزمرہ کی ضروری چیزیں اور مریضوں کی دوائیں پہونچیں اور ان گھروں کے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹ آئے، یہ ایک قربانی اور کوشش آپ کو اللہ کا محبوب بناکر اخروی کامیابی سے ہمکنار کرے گی، اور الله کی مدد آپ کے ساتھ ہوگی کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی ( اولاد آدم ) کی مدد کرتا رہتا ہے ۔
Login Required to interact.

