شاعر : فَطین اشرف صدیقی (صلالہ سلطنت عُمان)
موم کے جیسے پگھل جاؤنگا میں بھی ایک روز
صورتِ پروانہ جل جاؤنگا میں بھی ایک روز
پاسِ الفت ہے نہ اس کو دوست داری کا لحاظ
وہ جو بدلا ہے ، بدل جاؤنگا میں بھی ایک روز
صحبتوں کا ہوتا ہے دیکھو اثر بے حد شدید
یار کے سانچے میں ڈھل جاؤنگا میں بھی ایک روز
وقت وہ شے ہے کہ جس کا کچھ بھروسہ ہی نہیں
ہاں ارادہ ہے سنبھل جاؤنگا میں بھی ایک روز
تم کو میری شہریت پر اب نہ ہوگا اعتراض
شہر کیا عالَم بدل جاؤنگا میں بھی ایک روز
سانس جب تک ہے چلونگا میں بھی سب کے ساتھ ساتھ
بیچ سے سب کے نکل جاؤنگا میں بھی ایک روز
لمحہ لمحہ زنـدگی کا ریـت کی ماننـد ہے
بند مُٹھّی سے پِھسَل جاؤنگا میں بھی ایک روز
رُوح تو ہے اَمرِ رَبّی جسم کے اِک خول میں
خول سے باہر نکل جاؤنگا میں بھی ایک روز
Login Required to interact.

